مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْرَى باب: قیدیوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ الَّذِي أَسَرَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ أَبُو الْيُسْرِ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو أَحَدُ بَنِي سَلَمَةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ أَسَرْتَهُ يَا أَبَا الْيُسْرِ ؟ " . قَالَ : لَقَدْ أَعَانَنِي عَلَيْهِ رَجُلٌ مَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ وَلَا قَبْلُ هَيْئَتُهُ كَذَا هَيْئَتُهُ كَذَا قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ أَعَانَكَ عَلَيْهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ " . وَقَالَ لِلْعَبَّاسِ : يَا عَبَّاسُ ، افْدِ نَفْسَكَ وَابْنَ أَخِيكَ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ ، وَحَلِيفَكَ عُتْبَةَ بْنَ جَحْدَمٍ ، أَحَدَ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ " . قَالَ : فَإِنِّي كُنْتُ مُسْلِمًا قَبْلَ ذَلِكَ ، وَإِنَّمَا اسْتَكْرَهُونِي قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِشَأْنِكَ ، إِنْ يَكُ مَا تَدَّعِي حَقًّا فَاللَّهُ يَجْزِيكَ بِذَلِكَ ، فَأَمَّا ظَاهِرُ أَمْرِكَ فَقَدْ كَانَ عَلَيْنَا ; فَافْدِ نَفْسَكَ " . وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَخَذَ مَعَهُ عِشْرِينَ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، احْسِبْهَا لِي مِنْ فِدَائِي قَالَ : " لَا ذَلِكَ شَيْءٌ أَعْطَانَا اللَّهُ مِنْكَ " . قَالَ : فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ قَالَ : " فَأَيْنَ الْمَالُ الَّذِي وَضَعْتَهُ بِمَكَّةَ حِينَ خَرَجْتَ عِنْدَ أُمِّ الْفَضْلِ وَلَيْسَ مَعَكُمَا غَيْرَكُمَا أَحَدٌ ؟ فَقُلْتُ : إِنْ أَصَبْتُ فِي سَفَرِي هَذَا فَلِلْفَضْلِ كَذَا ، وَلِقُثَمَ كَذَا ، وَلِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا " . قَالَ : فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عَلِمَ بِهِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ غَيْرِي وَغَيْرُهَا ، وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو جس نے قید کیا تھا ، وہ سیدنا ابوالیسر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ان کا نام کعب بن عمرو ہے ان کا تعلق بنو سلمہ سے تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : اے ابوالیسر ! تم نے انہیں کیسے قید کیا ہے ، تو انہوں نے بتایا : ان کے خلاف میری مدد ایک ایسے شخص نے کی تھی کہ میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد اس حلیے کا شخص کبھی نہیں دیکھا ، اس کا حلیہ اس ، اس طرح کا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک معزز فرشتے نے ، ان کے خلاف تمہاری مدد کی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے عباس ! آپ اپنا اور اپنے بھتیجے عقیل بن ابوطالب کا اور نوفل بن حارث کا اور اپنے حلیف عتبہ بن جحدم کا فدیہ دیں ، جس کا تعلق بنو حارث بن فہر سے ہے ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا انہوں نے کہا: میں اس سے پہلے مسلمان ہو چکا تھا ، وہ لوگ مجھے زبردستی لے کر آئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ کے معاملے کے بارے میں اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے ، آپ جس بات کا دعویٰ کر رہے ہیں ، اگر وہ حق ہوئی ، تو اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے خرچ کی جزا دے گا ، لیکن آپ کی جو ظاہری صورت حال ہے ، اس حوالے سے ہم پر ( احکام لاگو ہوتے ہیں ، تو آپ اپنا فدیہ دیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے سونے کے بیس اوقیہ لیے تھے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے فدیے میں سے اس کا حساب کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! یہ ایک ایسی چیز ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کی طرف سے عطا کی ہے انہوں نے کہا: میرے پاس مال نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ مال کہاں ہے ؟ جو آپ نے مکہ میں نکلتے وقت اُم فضل کے پاس رکھوایا تھا ، اور اس وقت آپ دونوں کے ساتھ آپ دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ، اور آپ نے یہ کہا: تھا اگر اس سفر کے دوران میں مر گیا ، تو فضل کو اتنا ملے گا ، قسم کو اتنا ملے گا ، عبداللہ کو اتنا ملے گا ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اس مال کے بارے میں ، میرے اور میری بیوی کے علاوہ اور کسی کو پتہ نہیں تھا ، اور مجھے یہ بات پتہ ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔