حدیث نمبر: 10002
وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ قَالَ : نَظَرْتُ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّهُ صَنَمٌ ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ ، فَلَمَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ : جَزَاكَ اللَّهُ مِنْ ذِي رَحِمٍ شَرًّا ، أَتُقَاتِلُ ابْنَ أَخِيكَ مَعَ عَدُوِّهِ ؟ قَالَ : مَا فَعَلَ ؟ وَهَلْ أَصَابَهُ الْقَتْلُ ؟ قُلْتُ : اللَّهُ أَعَزُّ لَهُ وَأَنْصَرُ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ : مَا يُرِيدُ إِلَيَّ ؟ قُلْتُ : إِسَارًا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ قَتْلِكَ . قَالَ : لَيْسَتْ بِأَوَّلِ صِلَتِهِ ، فَأَسَرْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن میں نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ کھڑے ہوئے تھے ، یوں جیسے بت ہوں ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، میں نے ان کی طرف دیکھا تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو رشتے داروں کی طرف سے برا بدلہ دے ، کیا آپ ، اُس کے دشمن کے ساتھ مل کر ، اپنے بھتیجے کے ساتھ جنگ کرنے لگے ہیں ؟ انہوں نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ کیا وہ قتل ہو گئے ہیں ؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ ان کے لئے اس سے زیادہ غلبے والا ہے اور ان کے لئے زیادہ مددگار ہے ، انہوں نے دریافت کیا : تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا: میں آپ کو قیدی بنانا چاہتا ہوں ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : یہ اُن کی پہلی صلہ رحمی نہیں ہے ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے انہیں قیدی بنا لیا اور میں انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10002
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (370/19)»