مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْرَى باب: قیدیوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 10001
وَعَنِ الْبَرَاءِ وَغَيْرِهِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِالْعَبَّاسِ قَدْ أَسَرَهُ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ هَذَا أَسَرَنِي ، أَسَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنْزِعُ مِنْ هَيْئَتِهِ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلرَّجُلِ : " قَدْ آزَرَكَ اللَّهُ بِمَلَكٍ كَرِيمٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ ، اور دیگر حضرات بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر آیا اس نے انہیں قیدی بنایا ہوا تھا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے مجھے قیدی نہیں بنایا ہے ، مجھے کسی اور نے قیدی بنایا ہے ، میں الگ تھا مجھے قیدی بنانے والے کا حلیہ اس ، اس طرح کا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا : اللہ تعالی نے ایک معزز فرشتے کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔