مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْرَى باب: قیدیوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 10003
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي : يَا أَبَتِ كَيْفَ أَسَرَكَ أَبُو الْيُسْرِ ، وَلَوْ شِئْتَ لَجَعَلْتَهُ فِي كَفِّكَ ؟ قَالَ : يَا بُنَيَّ ، لَا تَقُلْ ذَاكَ لَقَدْ لَقِيتُنِي وَهُوَ أَعْظَمُ فِي عَيْنِي مِنَ الْخَنْدَمَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : اے ابا جان ! سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ نے آپ کو قید کیسے کر لیا تھا ؟ اگر آپ چاہتے تو آپ انہیں اپنی ایک ہتھیلی کے ساتھ پکڑ سکتے تھے ، انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم ایسا نہ کہو ، میرے سامنے ایک ایسا فرد آیا تھا ، جو میری نظر میں خندمہ ( نامی پہاڑ ) سے زیادہ بڑا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔