باب: سورۃ فاتحہ کی تفسیر۔
حدیث 4474–4474
باب: سورۃ الفاتحہ کے بارے میں جو آیا ہے اس کا بیان۔
باب: آیت «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کی تفسیر۔
حدیث 4475–4475
باب: سورۃ البقرہ کی تفسیر۔
حدیث 4476–4476
باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وعلم آدم الأسماء كلها» کا بیان۔
باب:۔۔۔
حدیث 4477–4477
باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد «فلا تجعلوا لله أندادا وأنتم تعلمون» کی تفسیر۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور تم پر ہم نے بادل کا سایہ کیا، اور تم پر ہم نے من و سلویٰ اتارا اور کہا کہ کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں کو جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں، ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے نے خود اپنے نفسوں پر ظلم کیا“۔
حدیث 4478–4478
باب: آیت کی تفسیر ”اور جب ہم نے کہا کہ اس بستی میں داخل ہو جاؤ اور پوری کشادگی کے ساتھ جہاں چاہو اپنا رزق کھاؤ اور دروازے سے جھکتے ہوئے داخل ہونا، یوں کہتے ہوئے کہ اے اللہ! ہمارے گناہ معاف کر دے تو ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور خلوص کے ساتھ عمل کرنے والوں کے ثواب میں ہم زیادتی کریں گے“۔
حدیث 4479–4479
باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد «من كان عدوا لجبريل» کی تفسیر۔
حدیث 4480–4480
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد «ما ننسخ من آية أو ننسأها» الآیۃ کی تفسیر۔
حدیث 4481–4481
باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وقالوا اتخذ الله ولدا سبحانه» کی تفسیر میں۔
حدیث 4482–4482
باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» کی تفسیر۔
حدیث 4483–4483
باب: آیت کی تفسیر ”اور جب ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (اور یہ دعا کرتے جاتے تھے کہ) اے ہمارے رب! ہماری اس خدمت کو قبول فرما کہ تو خوب سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے“۔
حدیث 4484–4484
باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد «قولوا آمنا بالله وما أنزل إلينا» کی تفسیر۔
حدیث 4485–4485
باب: آیت کی تفسیر ”بہت جلد بیوقوف لوگ کہنے لگیں گے کہ مسلمانوں کو ان کے پہلے قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا، آپ کہہ دیں کہ اللہ ہی کے لیے سب مشرق و مغرب ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف ہدایت کر دیتا ہے“۔
حدیث 4486–4486
باب: آیت کی تفسیر ”اور اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط (یعنی امت عادل) بنایا، تاکہ تم لوگوں پرگواہ رہو اور رسول تم پر گواہ رہیں“۔
حدیث 4487–4487
باب: آیت کی تفسیر ”اور جس قبلہ پر آپ اب تک تھے، اسے تو ہم نے اسی لیے رکھا تھا کہ ہم جان لیں رسول کی اتباع کرنے والے کو، الٹے پاؤں واپس چلے جانے والوں میں سے، یہ حکم بہت بھاری ہے مگر ان لوگوں پر نہیں جنہیں اللہ نے راہ دکھا دی ہے اور اللہ ایسا نہیں کہ ضائع ہو جانے دے، تمہارے ایمان (یعنی پہلی نمازوں) کو اور اللہ تو لوگوں پر بڑا مہربان ہے“۔
حدیث 4488–4488
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک ہم نے دیکھ لیا آپ کے منہ کا باربار آسمان کی طرف اٹھنا، سو ہم آپ کو ضرور پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جسے آپ چاہتے ہیں“ آخر آیت «عما تعملون» تک۔
حدیث 4489–4489
باب: آیت کی تفسیر ”اور اگر آپ ان لوگوں کے سامنے جنہیں کتاب مل چکی ہے، ساری ہی دلیلیں لے آئیں جب بھی یہ آپ کے قبلہ کی طرف منہ نہ کریں گے“ آخر آیت «إنك إذا لمن الظالمين» تک۔
حدیث 4490–4490
باب: آیت کی تفسیر ”جن لوگوں کو ہم کتاب دے چکے ہیں، وہ آپ کو پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بیشک ان میں کے کچھ لوگ البتہ چھپاتے ہیں حق کو“ آخر آیت «من الممترين» تک۔
حدیث 4491–4491
باب: آیت کی تفسیر ”اور ہر ایک کے لیے کوئی رخ ہوتا ہے، جدھر وہ متوجہ رہتا ہے، سو تم نیکیوں کی طرف بڑھو، تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تم سب کو پا لے گا، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے“۔
حدیث 4492–4492
باب: آیت کی تفسیر ”اور آپ جس جگہ سے بھی باہر نکلیں نماز میں اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف موڑ لیا کریں اور یہ حکم آپ کے پروردگار کی طرف سے بالکل حق ہے اور اللہ اس سے بےخبر نہیں، جو تم کر رہے ہو“۔
حدیث 4493–4493
باب: آیت کی تفسیر ”اور آپ جس جگہ سے بھی باہر نکلیں، اپنا منہ بوقت نماز مسجد الحرام کی طرف موڑ لیا کریں اور تم لوگ بھی جہاں کہیں ہو اپنا منہ اس کی طرف موڑ لیا کرو“ «ولعلكم تهتدون» تک۔
حدیث 4494–4494
باب: آیات کی تفسیر ”صفا اور مروہ بیشک اللہ کی یادگار چیزوں میں سے ہیں، پس جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کے درمیان سعی کرے اور جو کوئی خوشی سے اور کوئی نیکی زیادہ کرے سو اللہ تو بڑا قدر دان، بڑا ہی علم رکھنے والا ہے“۔
حدیث 4495–4496
باب: آیت کی تفسیر ”اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو بھی اس کا شریک بنائے ہوئے ہیں“۔
حدیث 4497–4497
باب: آیت کی تفسیر ”اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کے بارے میں بدلہ لینا فرض کر دیا گیا ہے، آزاد کے بدلہ میں آزاد اور غلام کے بدلے میں غلام“ آخر آیت «عذاب أليم» تک۔
حدیث 4498–4500
باب: آیت کی تفسیر ”اے ایمان والوں! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کئے گئے تھے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ“۔
حدیث 4501–4504
باب: آیت کی تفسیر ”یہ روزے گنتی کے چند دنوں میں رکھنے ہیں، پھر تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو اس پر دوسرے دنوں کا گن رکھنا ہے اور جو لوگ اسے مشکل سے برداشت کر سکیں ان کے ذمہ فدیہ ہے جو ایک مسکین کا کھانا ہے اور جو کوئی خوشی خوشی نیکی کرے اس کے حق میں بہتر ہے اور اگر تم علم رکھتے ہو تو بہتر تمہارے حق میں یہی ہے کہ تم روزے رکھو“۔
حدیث 4505–4505
باب: آیت کی تفسیر میں ”پس تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے اسے چاہئیے کہ وہ مہینے بھر روزے رکھے“۔
حدیث 4506–4507
باب: آیت کی تفسیر ”جائز کر دیا گیا ہے تمہارے لیے روزوں کی رات میں اپنی بیویوں سے مشغول ہونا، وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو، اللہ کو خبر ہو گئی کہ تم اپنے کو خیانت میں مبتلا کرتے رہتے تھے، پس اس نے تم پر رحمت سے توجہ فرمائی اور تم کو معاف کر دیا، سو اب تم ان سے ملو ملاؤ اور اسے تلاش کرو، جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے“۔
حدیث 4508–4508
باب: آیت کی تفسیر ”کھاؤ اور پیو جب تک کہ تم پر صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے ممتاز نہ ہو جائے، پھر روزے کو رات (ہونے) تک پورا کرو اور بیویوں سے اس حال میں صحبت نہ کرو جب تم اعتکاف کئے ہو مسجدوں میں“ آخر آیت «تتقون» تک۔
حدیث 4509–4511
باب: آیت کی تفسیر ”اور یہ تو کوئی بھی نیکی نہیں کہ تم گھروں میں ان کی پچھلی دیوار کی طرف سے آؤ، البتہ نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص تقویٰ اختیار کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پا جاؤ“۔
حدیث 4512–4512
باب: آیت کی تفسیر اور ”ان کافروں سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ (شرک) باقی نہ رہ جائے اور دین اللہ ہی کے لیے رہ جائے، سو اگر وہ باز آ جائیں تو سختی کسی پر بھی نہیں بجز (اپنے حق میں) ظلم کرنے والوں کے“۔
حدیث 4513–4515
باب: آیت کی تفسیر ”اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں نہ ڈالو اور اچھے کام کرتے رہو، اللہ اچھے کام کرنے والوں کو پسند کرتا ہے“۔
حدیث 4516–4516
باب: آیت کی تفسیر ”لیکن اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو، اس پر ایک مسکین کا کھلانا بطور فدیہ ضروری ہے“۔
حدیث 4517–4517
باب: آیت کی تفسیر ”تو پھر جو شخص حج کو عمرہ کے ساتھ ملا کر فائدہ اٹھائے“۔
حدیث 4518–4518
باب: آیت «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» کی تفسیر۔
حدیث 4519–4519
باب: آیت کی تفسیر ”پھر تم بھی وہاں جا کر لوٹ آؤ جہاں سے لوگ لوٹ آتے ہیں“۔
حدیث 4520–4521
باب: آیت کی تفسیر ”اور کچھ ان میں ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم کو دنیا میں بہتری دے اور آخرت میں بھی بہتری دے اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچائیو“۔
حدیث 4522–4522
باب: آیت کی تفسیر ”حالانکہ وہ بہت ہی سخت قسم کا جھگڑالو ہے“۔
حدیث 4523–4523
باب: آیت کی تفسیر ”کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تم کو ان لوگوں جیسے حالات پیش نہیں آئے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، انہیں تنگی اور سختی پیش آئی“ آخر آیت «قريب» تک۔
حدیث 4524–4525
باب: آیت کی تفسیر ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو تم اپنے کھیت میں آؤ جس طرح سے چاہو اور اپنے حق میں آخرت کے لیے کچھ نیکیاں کرتے رہو“۔
حدیث 4526–4528
باب: آیت کی تفسیر ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور پھر وہ اپنی مدت کو پہنچ چکیں تو تم انہیں اس سے مت روکو کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے پھر نکاح کر لیں“۔
حدیث 4529–4529
باب: آیت کی تفسیر ”اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن تک روکے رکھیں“ آخر آیت «بما تعملون خبير» تک۔
حدیث 4530–4532
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”سب ہی نمازوں کی حفاظت رکھو اور درمیانی نماز کی پابندی خاص طور پر لازم پکڑو“۔
حدیث 4533–4533
باب: آیت «وقوموا لله قانتين» کی تفسیر «قانتين» بمعنی «مطيعين» یعنی فرمانبردار۔
حدیث 4534–4534
باب: آیت کی تفسیر ”اگر تمہیں ڈر ہو تو تم نماز پیدل ہی (پڑھ لیا کرو) یا سواری پر پڑھ لو، پھر جب تم امن میں آ جاؤ تو اللہ کو یاد کرو جس طرح اس نے تمہیں سکھایا ہے جس کو تم جانتے نہ تھے“۔
حدیث 4535–4535
باب: آیت «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا» کی تفسیر۔
حدیث 4536–4536
باب: آیت کی تفسیر ”اس وقت کو یاد کرو، جب ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا“۔
حدیث 4537–4537
باب: آیت کی تفسیر ”کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا ایک باغ ہو“ آخر آیت «تتفكرون» تک۔
حدیث 4538–4538
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتے“۔
حدیث 4539–4539
باب: آیت «وأحل الله البيع وحرم الربا» کی تفسیر۔
حدیث 4540–4540
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے“ لفظ «يمحق» بمعنی «يذهبه» کے ہے یعنی مٹا دیتا ہے اور دور کر دیتا ہے۔
حدیث 4541–4541
باب: آیت «فأذنوا بحرب» کی تفسیر لفظ «فأذنوا» بمعنی «فاعلموا» ہے یعنی جان لو، آگاہ ہو جاؤ۔
حدیث 4542–4542
باب: آیت کی تفسیر ”اگر مقروض تنگ دست ہے تو اس کے لیے آسانی مہیا ہونے تک مہلت دینا بہتر ہے اور اگر تم اس کا قرض معاف ہی کر دو تو تمہارے حق میں یہ اور بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو“۔
حدیث 4543–4543
باب: آیت کی تفسیر ”اور اس دن سے ڈرتے رہو جس دن تم سب کو اللہ کی طرف واپس جانا ہے“۔
حدیث 4544–4544
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو خیال تمہارے دلوں کے اندر چھپا ہوا ہے اگر تم اس کو ظاہر کر دو یا اسے چھپائے رکھو ہر حال میں اللہ اس کا حساب تم سے لے گا، پھر جسے چاہے بخش دے گا اور جسے چاہے عذاب کرے گا اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے“۔
حدیث 4545–4545
باب: آیت کی تفسیر ”پیغمبر ایمان لائے اس پر جو ان پر اللہ کی طرف سے نازل ہوا“۔
حدیث 4546–4546
باب: سورۃ آل عمران کی تفسیر۔
حدیث 4547–4547
باب: آیت کی تفسیر ”بعض اس میں محکم آیتیں ہیں اور بعض متشابہ ہیں“۔
باب: آیت کی تفسیر ”مریم علیہا السلام کی ماں نے کہا اے رب! میں اس (مریم) کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں“۔
حدیث 4548–4548
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور ان کو دکھ کا عذاب ہو گا“۔
حدیث 4549–4552
باب: آیت کی تفسیر ”آپ کہہ دیں کہ اے کتاب والو! ایسے قول کی طرف آ جاؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے، وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کریں“۔
حدیث 4553–4553
باب: آیت کی تفسیر ”اے مسلمانو! جب تک اللہ کی راہ میں تم اپنی محبوب چیزوں کو خرچ نہ کرو گے، نیکی کو نہ پہنچ سکو گے“ آخر آیت «به عليم» تک۔
حدیث 4554–4555
باب: آیت کی تفسیر ”تو آپ کہہ دیں کہ توریت لاؤ اور اسے پڑھو اگر تم سچے ہو۔
حدیث 4556–4556
باب: آیت کی تفسیر ”تم لوگ بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہو تم نیک کاموں کا حکم کرتے ہو، برے کاموں سے روکتے ہو“۔
حدیث 4557–4557
باب: آیت کی تفسیر ”جب تم میں سے دو جماعتیں اس کا خیال کر بیٹھی تھیں کہ وہ بزدل ہو کر ہمت ہار بیٹھیں“۔
حدیث 4558–4558
باب: آیت کی تفسیر ”آپ کو اس امر میں کوئی دخل نہیں کہ یہ ہدایت کیوں نہیں قبول کرتے اللہ جسے چاہے اسے ہدایت ملتی ہے“۔
حدیث 4559–4560
باب: آیت کی تفسیر ”اور رسول تم کو پکارتے تھے تمہارے پیچھے سے“۔
حدیث 4561–4561
باب: آیت کی تفسیر ”تمہارے اوپر غنودگی کی شکل میں راحت نازل کی“۔
حدیث 4562–4562
باب: آیت کی تفسیر ”جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت کو قبول کر لیا بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا، ان میں سے جو نیک اور متقی ہیں ان کے لیے بہت بڑا ثواب ہے“۔
حدیث 4563–4563
باب: آیت کی تفسیر ”مسلمانوں سے کہا گیا کہ بیشک لوگوں نے تمہارے خلاف بہت سامان جنگ جمع کیا ہے، پس ان سے ڈرو تو مسلمانوں نے جواب میں حسبنا اللہ ونعم الوکیل کہا“۔
حدیث 4563–4564
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو لوگ کہ اس مال میں بخل کرتے رہتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دے رکھا ہے، وہ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ یہ مال ان کے حق میں اچھا ہے، نہیں، بلکہ ان کے حق میں بہت برا ہے، یقیناً قیامت کے دن انہیں اس کا طوق بنا کر پہنایا جائے گا، جس میں انہوں نے بخل کیا تھا اور آسمانوں اور زمین کا اللہ ہی مالک ہے اور جو تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے“۔
حدیث 4565–4565
باب: آیت کی تفسیر ”اور یقیناً تم لوگ بہت سی دل دکھانے والی باتیں ان سے سنو گے جنہیں تم سے پہلے کتاب مل چکی ہے اور ان سے بھی سنو گے جو مشرک ہیں“۔
حدیث 4566–4566
باب: آیت کی تفسیر ”جو لوگ اپنے کرتوتوں پر خوش ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو نیک کام انہوں نے نہیں کئے خواہ مخواہ ان پر بھی ان کی تعریف کی جائے، سو ایسے لوگوں کے لیے ہرگز خیال نہ کرو کہ وہ عذاب سے بچ سکیں گے“۔
حدیث 4567–4568
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے اختلاف ہونے میں عقلمندوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں“، ”اختلاف سے رات و دن کا گھٹنا بڑھنا مراد ہے، جو موسمی اثرات سے ہوتا رہتا ہے، یہ سب قدرت الٰہی کے نمونے ہیں“۔
حدیث 4569–4569
باب: آیت کی تفسیر ”جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر ہر حالت میں یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے اس کائنات کو بیکار پیدا نہیں کیا“ آخر آیت تک۔
حدیث 4570–4570
باب: آیت کی تفسیر ”اے ہمارے رب! تو نے جسے دوزخ میں داخل کر دیا، اسے تو نے واقعی ذلیل و رسوا کر دیا اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہے“۔
حدیث 4571–4571
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”اے ہمارے رب! ہم نے ایک پکارنے والے کی پکار کو سنا جو ایمان کے لیے پکار رہا تھا، پس ہم اس پر ایمان لائے“ آخر آیت تک، پکارنے والے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔
حدیث 4572–4572
باب: سورۃ نساء کی تفسیر۔
حدیث 4573–4573
باب: آیت «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» کی تفسیر۔
حدیث 4573–4574
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو شخص نادار ہو وہ مناسب مقدار میں کھا لے اور جب امانت ان یتیم بچوں کے حوالے کرنے لگو تو ان پر گواہ بھی کر لیا کرو“ آخر آیت تک۔
حدیث 4575–4575
باب: آیت کی تفسیر ”اور جب تقسیم ورثہ کے وقت کچھ عزیز قرابت دار اور بچے اور یتیم اور مسکین لوگ موجود ہوں تو ان کو بھی کچھ دے دیا کرو“ آخر آیت تک۔
حدیث 4576–4576
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی میراث) کے بارے میں وصیت کرتا ہے“۔
حدیث 4577–4577
باب: آیت کی تفسیر ”اور تمہارے لیے اس مال کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں جبکہ ان کے اولاد نہ ہو“۔
حدیث 4578–4578
باب: آیت کی تفسیر ”تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم بیوہ عورتوں کے زبردستی مالک بن جاؤ“ آخر آیت تک۔
حدیث 4579–4579
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو مال والدین اور قرابت دار چھوڑ جائیں اس کے لیے ہم نے وارث ٹھہرا دیئے ہیں“۔
حدیث 4580–4580
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک اللہ ایک ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرے گا، «مثقال ذرة» سے ذرہ برابر مراد ہے۔
حدیث 4581–4581
باب: آیت کی تفسیر ”سو اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک ایک گواہ حاضر کریں گے اور ان لوگوں پر تجھ کو بطور گواہ پیش کریں گے“۔
حدیث 4582–4582
باب: آیت کی تفسیر ”اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو اور پانی نہ ہو تو پاک مٹی پر تیمم کرے“۔
حدیث 4583–4583
باب: آیت «أولي الأمر منكم» کی تفسیر۔
حدیث 4584–4584
باب: آیت کی تفسیر ”تیرے رب کی قسم! یہ لوگ ہرگز ایماندار نہ ہوں گے جب تک یہ لوگ اس جھگڑے میں جو ان کے آپس میں ہوں، تجھ کو اپنا حکم نہ بنا لیں، پھر تیرے فیصلے کو برضا و رغبت تسلیم نہ کر لیں“۔
حدیث 4585–4585
باب: آیت «فأولئك مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين» کی تفسیر۔
حدیث 4586–4586
باب: آیت کی تفسیر ”اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرتے اور ان لوگوں کی مدد کے لیے نہیں لڑتے جو کمزور ہیں، مردوں میں سے اور عورتوں اور لڑکوں میں سے“۔
حدیث 4587–4588
باب: آیت کی تفسیر یعنی اور ”تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ ہو گئے ہو حالانکہ اللہ نے ان کے کرتوتوں کے باعث انہیں الٹا پھیر دیا“۔
حدیث 4589–4589
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”اور انہیں جب کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے تو یہ اسے پھیلا دیتے ہیں“ «أذاعوا» کا معنی مشہور کر دیتے ہیں۔
حدیث 4590–4590
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے“۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو تمہیں سلام کرے اسے یہ نہ کہہ دیا کرو کہ تو تو مسلمان ہی نہیں“۔
حدیث 4591–4591
باب: آیت کی تفسیر ”ایمان والوں میں سے (بلا عذر گھروں میں) بیٹھ رہنے والے اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے“۔
حدیث 4592–4595
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک ان لوگوں کی جان جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کر رکھا ہے۔ (جب) فرشتے قبض کرتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ تم کس کام میں تھے، وہ بولیں گے ہم اس ملک میں بیبس کمزور تھے، فرشتے کہیں گے کہ کیا اللہ کی سر زمین فراخ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے“۔
حدیث 4596–4596
باب: آیت کی تفسیر ”سوائے ان لوگوں کے جو مردوں اور عورتوں بچوں میں سے کمزور ہیں کہ نہ کوئی تدبیر ہی کر سکتے ہیں اور نہ کوئی راہ پاتے ہیں کہ ہجرت کر سکیں“۔
حدیث 4597–4597
باب: آیت کی تفسیر ”تو یہ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ انہیں معاف کر دے گا اور اللہ تو بڑا ہی معاف کرنے والا اور بخش دینے والا ہے“۔
حدیث 4598–4598
باب: آیت کی تفسیر ”اور تمہارے لیے اس میں کوئی حرج نہیں کہ اگر تمہیں بارش سے تکلیف ہو رہی ہو یا تم بیمار ہو تو اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دو“۔
حدیث 4599–4599
باب: آیت کی تفسیر ”لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں مسئلہ معلوم کرتے ہیں، آپ کہہ دیں کہ اللہ تمہیں عورتوں کی بابت حکم دیتا ہے اور وہ حکم وہی ہے جو تم کو قرآن مجید میں ان یتیم لڑکیوں کے حق میں سنایا جاتا ہے جن کو تم پورا حق نہیں دیتے“۔
حدیث 4600–4600
باب: آیت کی تفسیر ”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے ظلم زیادتی یا بے رغبتی کا خوف ہو تو ان کو باہمی صلح کر لینے میں کوئی گناہ نہیں کیونکہ صلح بہتر ہے“۔
حدیث 4601–4601
باب: آیت کی تفسیر ”بلا شک منافقین دوزخ کے سب سے نچلے درجہ میں ہوں گے“۔
حدیث 4602–4602
باب: آیت کی تفسیر ”یقیناً ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی ایسی ہی وحی جیسی ہم نے نوح اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف بھیجی تھی اور یونس اور ہارون اور سلیمان پر“ آخر آیت تک۔
حدیث 4603–4604
باب: آیت کی تفسیر ”لوگ آپ سے کلالہ کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیں کہ اللہ تمہیں خود کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص مر جائے کہ اس کے کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے ایک بہن ہو تو اس سے بہن کو اس کے ترکہ کا آدھا ملے گا اور وہ مرد وارث ہو گا اس (بہن کے کل ترکہ) کا اگر اس بہن کے کوئی اولاد نہ ہو“۔
حدیث 4605–4605
باب: سورۃ المائدہ کی تفسیر۔
حدیث 4606–4606
باب: آیت کی تفسیر یعنی آج میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا۔
باب: آیت کی تفسیر ”پھر اگر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو“۔
حدیث 4607–4608
باب: آیت کی تفسیر ”سو آپ خود اور آپ کا رب جہاد کرنے چلے جاؤ اور آپ دونوں ہی لڑو بھڑو، ہم تو اس جگہ بیٹھے رہیں گے“۔
حدیث 4609–4609
باب: آیت کی تفسیر ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے ہیں اور ملک میں فساد پھیلانے میں لگے رہتے ہیں ان کی سزا بس یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی دیئے جائیں“ آخر آیت «أو ينفوا من الأرض» تک یعنی یا وہ جلا وطن کر دیئے جائیں۔
حدیث 4610–4610
باب: آیت کی تفسیر ”اور زخموں میں قصاص ہے“۔
حدیث 4611–4611
باب: آیت «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك» کی تفسیر۔
حدیث 4612–4612
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ تم سے تمہاری فضول قسموں پر پکڑ نہیں کرتا“۔
حدیث 4613–4614
باب: آیت کی تفسیر ”اے ایمان والو! اپنے اوپر ان پاک چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں از خود حرام نہ کر لو“۔
حدیث 4615–4615
باب: آیت کی تفسیر ”شراب اور جوا اور بت اور پانسے یہ سب گندی چیزیں ہیں بلکہ یہ شیطانی کام ہیں“۔
حدیث 4616–4619
باب: آیت کی تفسیر ”جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے رہتے ہیں ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو انہوں نے پہلے کھا لیا ہے“ آخر آیت «والله يحب المحسنين» تک، یعنی شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے پہلے جن لوگوں نے شراب پی ہے اور اب وہ تائب ہو گئے، ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
حدیث 4620–4620
باب: آیت کی تفسیر ”اے لوگو! ایسی باتیں نبی سے مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں وہ باتیں ناگوار گزریں“۔
حدیث 4621–4622
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ نے نہ بحیرہ کو مقرر کیا ہے، نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو“۔
حدیث 4623–4624
باب: آیت کی تفسیر ”اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا (جب سے) تو ہی ان پر نگراں ہے اور تو تو ہر چیز پر گواہ ہے“۔
حدیث 4625–4625
باب: آیت کی تفسیر ”تو اگر انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بھی تو زبردست حکمت والا ہے“۔
حدیث 4626–4626
باب: سورۃ انعام۔
حدیث 4627–4627
باب: آیت کی تفسیر ”اور اس ہی کے پاس ہیں غیب کے خزانے، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا“۔
باب: آیت کی تفسیر ”آپ کہہ دیں کہ اللہ اس پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے کوئی عذاب بھیج دے“ آخر آیت تک۔
حدیث 4628–4628
باب: آیت کی تفسیر ”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے خلط ملط نہیں کیا“ یہاں ظلم سے شرک مراد ہے۔
حدیث 4629–4629
باب: آیت کی تفسیر ”اور یونس اور لوط علیہما السلام کو اور ان میں سے سب کو ہم نے جہاں والوں پر فضیلت دی تھی“۔
حدیث 4630–4631
باب: آیت کی تفسیر ”یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی، سو آپ بھی ان کی ہدایت کی پیروی کریں“۔
حدیث 4632–4632
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو لوگ کہ یہودی ہوئے ان پر ناخن والے کل جانور ہم نے حرام کر دیئے تھے اور گائے اور بکری میں سے ہم نے ان پر ان دونوں کی چربیاں حرام کی تھیں“ آخر آیت تک۔
حدیث 4633–4633
باب: آیت «ولا تقربوا الفواحش ما ظهر منها وما بطن» کی تفسیر۔
حدیث 4634–4634
حدیث 4635–4635
باب: آیت کی تفسیر ”آپ کہئے کہ اپنے گواہوں کو لاؤ“۔
باب: آیت کی تفسیر ”کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا“۔
حدیث 4635–4636
باب: سورۃ اعراف۔
حدیث 4637–4637
باب: آیت کی تفسیر ”آپ کہہ دیں کہ میرے پروردگار نے بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے، ان میں سے جو ظاہر ہوں (ان کو بھی) اور جو چھپے ہوئے ہوں (ان کو بھی)۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر (کوہ طور) پر آ گئے اور ان سے ان کے رب نے کلام کیا، موسیٰ بولے، اے میرے رب! مجھے تو اپنا دیدار کرا دے (کہ) میں تجھ کو ایک نظر دیکھ لوں (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے، البتہ تم (اس) پہاڑ کی طرف دیکھو، سو اگر یہ اپنی جگہ پر قائم رہا تو تم (مجھ کو بھی دیکھ سکو گے، پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو (تجلی نے) پہاڑ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے، پھر جب انہیں ہوش آیا تو بولے اے رب! تو پاک ہے، میں تجھ سے معافی طلب کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں“۔
حدیث 4638–4638
باب: آیت کی تفسیر ”ہم نے تمہارے کھانے کے لیے من اور سلویٰ اتارا“۔
حدیث 4639–4639
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! آپ کہہ دیں کہ اے انسانو! بیشک میں اللہ کا سچا رسول ہوں، تم سب کی طرف اسی اللہ کا جس کی حکومت آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی جلاتا اور وہی مارتا ہے، سو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے امی رسول و نبی پر جو خود ایمان رکھتا ہے اللہ اور اس کی باتوں پر اور اس کی پیروی کرتے رہو تاکہ تم ہدایت پا جاؤ“۔
حدیث 4640–4640
باب: آیت کی تفسیر ”اور کہتے جاؤ کہ یا اللہ! گناہوں سے ہماری توبہ ہے“۔
حدیث 4641–4641
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! معافی اختیار کر اور نیک کاموں کا حکم دیتے رہو اور جاہلوں سے منہ موڑیو «العرف»، «المعروف» کے معنی میں ہے جس کے معنی نیک کاموں کے ہیں۔
حدیث 4642–4644
باب: سورۃ الانفال کی تفسیر۔
حدیث 4645–4645
باب: آیت کی تفسیر ”یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیں کہ غنیمتیں اللہ کی ملک ہیں پھر رسول کی، پس اللہ سے ڈرتے رہو اور اپنے آپس کی اصلاح کرو“۔
باب: آیت کی تفسیر ”بدترین حیوانات اللہ کے نزدیک وہ بہرے، گونگے لوگ ہیں جو ذرا بھی عقل نہیں رکھتے“۔
حدیث 4646–4646
باب: آیت کی تفسیر ”اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہو جبکہ وہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخشنے والی چیز کی طرف بلائیں اور جان لو کہ اللہ حائل ہو جاتا ہے انسان اور اس کے دل کے درمیان اور یہ کہ تم سب کو اسی کے پاس اکٹھا ہونا ہے“۔
حدیث 4647–4647
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! ان کو وہ وقت بھی یاد دلاؤ جب ان کافروں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ (کلام) تیری طرف سے واقعی برحق ہے ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا پھر (کوئی اور ہی) عذاب درد ناک لے آ“۔
حدیث 4648–4648
باب: آیت کی تفسیر ”اور اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ انہیں عذاب کرے اس حال میں کہ اے نبی! آپ ان میں موجود ہوں اور نہ اللہ ان پر عذاب لائے گا اس حالت میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں“۔
حدیث 4649–4649
باب: آیت کی تفسیر ”اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہ جائے“۔
حدیث 4650–4651
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! مومنوں کو قتال پر آمادہ کیجئے، اگر تم میں سے بیس آدمی بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے اور اگر تم میں سے سو ہوں گے تو ایک ہزار کافروں پر غالب آ جائیں گے اس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے“۔
حدیث 4652–4652
باب: آیت کی تفسیر ”اب اللہ نے تم پر تخفیف کر دی اور معلوم کر لیا کہ تم میں کمزوری آ گئی ہے“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «والله مع الصابرين» تک۔
حدیث 4653–4653
باب: سورۃ برات کی تفسیر۔
حدیث 4654–4654
باب: آیت کی تفسیر ”اعلان بیزاری ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین سے جن سے تم نے عہد کر رکھا ہے (اور اب عہد کو انہوں نے توڑ دیا ہے)“۔
باب: آیت کی تفسیر ”(اے مشرکو!) زمین میں چار ماہ چل پھر لو اور جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ ہی کافروں کو رسوا کرنے والا ہے“ «سيحوا» یعنی «سيروا» یعنی چلو پھرو۔
حدیث 4655–4655
باب: آیت کی تفسیر ”اور اعلان (کیا جاتا ہے) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کے سامنے بڑے حج کے دن کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بیزار ہیں، پھر بھی اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر تم منہ پھیرتے ہی رہے تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو اور کافروں کو عذاب درد ناک کی خوشخبری سنا دیجئیے“ «آذنهم أعلمهم» یعنی ان کو آگاہ کیا۔
حدیث 4656–4656
باب: آیت «إلا الذين عاهدتم من المشركين» کی تفسیر۔
حدیث 4657–4657
باب: آیت کی تفسیر ”کفر کے سرداروں سے جہاد کرو عہد توڑ دینے کی صورت میں اب ان کی قسمیں باطل ہو چکی ہیں“۔
حدیث 4658–4658
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی اور جو لوگ کہ سونا اور چاندی زمین میں گاڑ کر رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے! آپ انہیں ایک درد ناک عذاب کی خبر سنا دیں“۔
حدیث 4659–4660
باب: آیت کی تفسیر ”اس دن کو یاد کرو جس دن (سونے چاندی) کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے (جنہوں نے اس خزانے کی زکوٰۃ نہیں ادا کی) ان کی پیشانیوں کو اور ان کے پہلوؤں کو اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا۔ (اور ان سے کہا جائے گا) یہی ہے وہ مال جسے تم نے اپنے واسطے جمع کر رکھا تھا سو اب اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو“۔
حدیث 4661–4661
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک مہینوں کا شمار اللہ کے نزدیک کتاب الٰہی میں بارہ ہی مہینے ہیں، جس روز سے کہ اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں“ «قیم» بمعنی «القائم» جس کے معنی درست اور سیدھے کے ہیں۔۔
حدیث 4662–4662
باب: آیت کی تفسیر ”جب کہ دو میں سے ایک وہ تھے دونوں غار میں (موجود) تھے جب وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھا کہ فکر نہ کر اللہ پاک ہمارے ساتھ ہے“۔
حدیث 4663–4666
باب: آیت کی تفسیر ”نیز ان (نومسلموں کا بھی حق ہے) جن کی دلجوئی منظور ہے“۔
حدیث 4667–4667
باب: آیت «الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين» کی تفسیر۔
حدیث 4668–4669
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی استغفار کریں گے (جب بھی اللہ انہیں نہیں بخشے گا)“۔
حدیث 4670–4671
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! اگر ان میں سے کوئی مر جائے تو آپ اس پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھئیے اور نہ اس کی (دعائے مغفرت کے لیے) قبر پر کھڑے ہوئیے، بیشک انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ فاسق مرے ہیں“۔
حدیث 4672–4672
باب: آیت کی تفسیر ”عنقریب یہ لوگ تمہارے سامنے جب تم ان کے پاس واپس لوٹو گے اللہ کی قسم کھائیں گے تاکہ تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑے رہو، سو تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑے رہو بیشک یہ گندے ہیں اور ان کا ٹھکا نا دوزخ ہے، بدلہ میں ان افعال کے جو وہ کرتے رہے ہیں“۔
حدیث 4673–4673
باب: آیت کی تفسیر ”اور کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا، انہوں نے ملے جلے عمل کئے (کچھ بھلے اور کچھ برے) قریب ہے کہ اللہ ان پر نظر رحمت فرمائے، بیشک اللہ بہت ہی بڑا بخشش کرنے والا اور بہت ہی بڑا مہر بان ہے“۔
حدیث 4674–4674
باب: آیت کی تفسیر ”نبی اور جو لوگ ایمان لائے، ان کے لیے اجازت نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں اگرچہ وہ ان کے قرابت دار ہوں جبکہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ وہ دوزخی ہیں“۔
حدیث 4675–4675
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک اللہ نے نبی پر مہاجرین و انصار پر رحمت فرمائی، وہ لوگ جنہوں نے نبی کا ساتھ تنگی کے وقت (جنگ تبوک) میں دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل پیدا ہو گیا تھا۔ پھر (اللہ نے) ان لوگوں پر رحمت کے ساتھ توجہ فرما دی، بیشک وہ ان کے حق میں بڑا ہی شفیق بڑا ہی رحم کرنے والا ہے“۔
حدیث 4676–4676
باب: آیت کی تفسیر ”اور ان تینوں پر بھی اللہ نے (توجہ فرمائی) جن کا مقدمہ پیچھے کو ڈال دیا گیا تھا، یہاں تک کہ جب زمین ان پر باوجود اپنی فراخی کے تنگ ہونے لگی اور وہ خود اپنی جانوں سے تنگ آ گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اسی کی طرف کے، پھر اس نے ان پر رحمت سے توجہ فرمائی تاکہ وہ بھی توبہ کر کے رجوع کریں۔ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا بڑا ہی مہربان ہے“۔
حدیث 4677–4677
باب: آیت کی تفسیر ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہا کرو“۔
حدیث 4678–4678
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک تمہارے پاس ایک رسول آئے ہیں جو تمہاری ہی جنس میں سے ہیں، جو چیز تمہیں نقصان پہنچاتی ہے وہ انہیں بہت گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری (بھلائی) کے انتہائی حریص ہیں اور ایمان والوں کے حق میں تو بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں“ «روف»، «رأفة» سے نکلا ہے۔
حدیث 4679–4679
باب: سورۃ یونس کی تفسیر۔
حدیث 4680–4680
باب: آیت کی تفسیر ”اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار کر دیا، پھر فرعون اور اس کے لشکر نے ظلم کرنے کے (ارادہ) سے ان کا پیچھا کیا۔ (وہ سب سمندر میں ڈوب گئے اور فرعون بھی ڈوبنے لگا تو وہ بولا) میں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی خدا نہیں سوائے اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی مسلمان ہوتا ہوں“۔
باب: سورۃ ہود کی تفسیر۔
حدیث 4681–4681
باب: آیت کی تفسیر ”خبردار ہو، وہ لوگ جو اپنے سینوں کو دہرا کئے دیتے ہیں، تاکہ اپنی باتیں اللہ سے چھپا سکیں وہ غلطی پر ہیں، اللہ سینے کے بھیدوں سے واقف ہے۔ خبردار رہو! وہ لوگ جس وقت چھپنے کے لیے اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں (اس وقت بھی) وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ (ان کے) دلوں کے اندر (کی باتوں) سے خوب خبردار ہے“۔
حدیث 4681–4683
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ کا عرش پانی پر تھا“۔
حدیث 4684–4684
باب: آیت کی تفسیر ”اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا)“۔
حدیث 4685–4685
باب: آیت کی تفسیر ”اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا، خبردار رہو کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر“۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے جو (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی دکھ دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے“۔
حدیث 4686–4686
باب: آیت کی تفسیر ”اور تم نماز قائم کرو، دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں، بیشک نیکیاں مٹا دیتی ہیں بدیوں کو، یہ ایک نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لیے“۔
حدیث 4687–4687
باب: سورۃ یوسف کی تفسیر۔
حدیث 4688–4688
باب: آیت کی تفسیر ”اور اپنا انعام تمہارے اوپر اور اولاد یعقوب پر پورا کرے گا جیسا کہ وہ اسے اس سے پہلے پورا کر چکا ہے، تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر“۔
باب: آیت «لقد كان في يوسف وإخوته آيات للسائلين» کی تفسیر۔
حدیث 4689–4689
باب: آیت کی تفسیر ”یعقوب نے کہا، تم نے اپنے دل سے خود ایک جھوٹی بات گھڑ لی ہے“۔
حدیث 4690–4691
باب: آیت کی تفسیر ”اور جس عورت کے گھر میں وہ تھے وہ اپنا مطلب نکالنے کو انہیں پھسلانے لگی اور دروازے بند کر لیے اور بولی کہ بس آ جا“۔
حدیث 4692–4693
باب: آیت کی تفسیر ”پھر جب قاصد ان کے پاس پہنچا تو یوسف علیہ السلام نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ چھری سے زخمی کر لیے تھے۔ بیشک میرا رب ان عورتوں کے فریب سے خوب واقف ہے (بادشاہ نے) کہا (اے عورتو!) تمہارا کیا واقعہ ہے جب تم نے یوسف علیہ السلام سے اپنا مطلب نکالنے کی خواہش کی تھی، وہ بولیں حاشاللہ! ہم نے یوسف علیہ السلام میں کوئی عیب نہیں دیکھا“۔
حدیث 4694–4694
باب: آیت کی تفسیر ”یہاں تک کہ جب پیغمبر مایوس ہو گئے کہ افسوس ہم لوگوں کی نگاہوں میں جھوٹے ہوئے“ آخر تک۔
حدیث 4695–4696
باب: سورۃ الرعد کی تفسیر۔
حدیث 4697–4697
باب: آیت کی تفسیر ”یعنی اللہ کو علم ہے اس کا جو کچھ کسی مادہ کے حمل میں ہوتا ہے اور جو کچھ ان کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے“۔
باب: سورۃ ابراہیم کی تفسیر۔
حدیث 4698–4698
باب: آیت «كشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين» کی تفسیر۔
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”اللہ ایمان والوں کو اس کی پکی بات کی برکت سے مضبوط رکھتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی“۔
حدیث 4699–4699
باب: آیت کی تفسیر ”کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کے بدلے کفر کیا“۔
حدیث 4700–4700
باب: سورۃ الحجر کی تفسیر۔
حدیث 4701–4701
باب: آیت کی تفسیر ”ہاں مگر کوئی بات چوری چھپے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک جلتا ہوا انگارہ لگ جاتا ہے“۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور بالیقین حجر والوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا“۔
حدیث 4702–4702
باب: آیت کی تفسیر ”اور تحقیق ہم نے آپ کو (وہ) سات (آیتیں) دی ہیں (جو) باربار (پڑھی جاتی ہیں) اور وہ قرآن عظیم ہے“۔
حدیث 4703–4704
باب: آیت کی تفسیر ”جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر رکھے ہیں“۔
حدیث 4705–4706
باب: آیت کی تفسیر ”اپنے پروردگار کی عبادت کرتا رہ یہاں تک کہ تجھ کو یقین (موت) آ جائے“۔
حدیث 4707–4707
باب: سورۃ النحل کی تفسیر۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور تم میں سے بعض کو نکمی عمر کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے“۔
باب: سورۃ بنی اسرائیل کی تفسیر۔
حدیث 4708–4708
باب: آیت کی تفسیر ”ہم نے بنی اسرائیل کو مطلع کر دیا تھا کہ آئندہ وہ فساد کریں گے“۔
حدیث 4709–4709
باب: آیت «أسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام» کی تفسیر۔
حدیث 4709–4710
باب: آیت «ولقد كرمنا بني آدم» کی تفسیر۔
حدیث 4711–4711
باب: آیت «إذا أردنا أن نهلك قرية أمرنا مترفيها» کی تفسیر۔
باب: آیت کی تفسیر ”ان لوگوں کی نسل والو! جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا، وہ (نوح) بیشک بڑا ہی شکر گزار بندہ تھا“۔
حدیث 4712–4712
باب: آیت کی تفسیر ”اور ہم نے داود کو زبور دی“۔
حدیث 4713–4713
باب: آیت کی تفسیر ”آپ کہئے تم جن کو اللہ کے سوا معبود قرار دے رہے ہو، ذرا ان کو پکارو تو سہی، سو نہ وہ تمہاری کوئی تکلیف ہی دور کر سکتے ہیں اور نہ وہ (اسے) بدل ہی سکتے ہیں“۔
حدیث 4714–4714
باب: آیت کی تفسیر ”یہ لوگ جن کو یہ (مشرکین) پکار رہے ہیں وہ (خود ہی) اپنے پروردگار کا تقرب تلاش کر رہے ہیں“۔
حدیث 4715–4715
باب: آیت کی تفسیر ”یعنی (معراج کی رات میں) ہم نے جو جو مناظر دکھلائے تھے، ان کو ہم نے ان لوگوں کی آزمائش کا سبب بنا دیا“۔
حدیث 4716–4716
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”بیشک صبح کی نماز (فرشتوں کی حاضری) کا وقت ہے“۔
حدیث 4717–4717
باب: آیت کی تفسیر ”قریب ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو مقام محمود میں اٹھائے گا“۔
حدیث 4718–4719
باب: آیت کی تفسیر ”اور آپ کہہ دیں کہ حق (اب تو غالب) آ ہی گیا اور باطل مٹ ہی گیا، بیشک باطل تو مٹنے والا ہی تھا“ «يزهق» کے معنی ہلاک ہوا۔
حدیث 4720–4720
باب: آیت کی تفسیر ”اور آپ سے یہ لوگ روح کی بابت پوچھتے ہیں“۔
حدیث 4721–4721
باب: آیت کی تفسیر ”اور آپ نماز میں نہ تو بہت پکار کر پڑھیں اور نہ (بالکل) چپکے ہی چپکے پڑھیں“۔
حدیث 4722–4723
باب: سورۃ الکہف کی تفسیر۔
حدیث 4724–4724
باب: آیت کی تفسیر ”اور انسان سب چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے“۔
باب: آیت «وإذ قال موسى لفتاه لا أبرح حتى أبلغ مجمع البحرين أو أمضي حقبا» کی تفسیر۔
حدیث 4725–4725
باب: آیت کی تفسیر ”اور جب وہ دونوں دو دریاؤں کے ملاپ کی جگہ پر پہنچے تو دونوں اپنی مچھلی بھول گئے، مچھلی نے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا“۔
حدیث 4726–4726
باب: آیت کی تفسیر ”پس جب وہ دونوں اس جگہ سے آگے بڑھ گئے تو موسیٰ نے اپنے ساتھی سے فرمایا کہ ہمارا کھانا لاؤ سفر سے ہمیں اب تو تھکن ہونے لگی ہے“ لفظ «عجبا» تک۔
حدیث 4727–4727
باب: آیت کی تفسیر ”کیا ہم تم کو خبر دیں ان بدبختوں کے متعلق جو اپنے اعمال کے اعتبار سے سراسر گھاٹے میں ہیں“۔
حدیث 4728–4728
باب: آیت کی تفسیر ”یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی نشانیوں کو اور اس کی ملاقات کو جھٹلایا، پس ان کے تمام نیک اعمال الٹے برباد ہو گئے“۔
حدیث 4729–4729
باب: سورۃ کھٰیٰعص کی تفسیر۔
حدیث 4730–4730
باب: آیت کی تفسیر ”اے رسول! ان کافروں کو حسرت ناک دن سے ڈرائیے“۔
باب: آیت کی تفسیر ”ہم فرشتے نہیں اترتے مگر تیرے رب کے حکم سے“۔
حدیث 4731–4731
باب: آیت کی تفسیر ”بھلا تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جو ہماری آیتوں سے کفر کرتا ہے“۔
حدیث 4732–4732
باب: آیت کی تفسیر ”کیا وہ غیب پر آگاہ ہوتا ہے یا اس نے خدائے رحمن سے کوئی عہد نامہ حاصل کر لیا ہے“۔
حدیث 4733–4733
باب: آیت کی تفسیر ”ہرگز نہیں ہم اس کا کہا ہوا اس کے اعمال نامے میں لکھ لیتے ہیں اور ہم اس کو عذاب میں بڑھاتے ہی چلے جائیں گے“۔
حدیث 4734–4734
باب: آیت کی تفسیر ”اور اس کی کہی ہوئی باتوں کے ہم ہی وارث ہیں اور وہ ہمارے پاس تنہا آئے گا“۔
حدیث 4735–4735
باب: سورۃ طہٰ کی تفسیر۔
حدیث 4736–4736
باب: آیت کی تفسیر ”اے موسیٰ! میں نے تجھ کو اپنے لیے منتخب کر لیا“۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو راتوں رات یہاں سے نکال کر لے جا، پھر ان کے لیے سمندر میں (لاٹھی مار کر) خشک راستہ بنا لینا تم کو نہ پکڑے جانے کا خوف ہو گا اور نہ تم کو (اور کوئی) ڈر ہو گا، پھر فرعون نے بھی اپنے لشکر سمیت ان کا پیچھا کیا تو دریا جب ان پر آ ملنے کو تھا آ ملا اور فرعون نے تو اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا اور سیدھی راہ پر نہ لایا“۔
حدیث 4737–4737
باب: آیت کی تفسیر ”(وہ شیطان) تم کو جنت سے نہ نکلوا دے پس تم کم نصیب ہو جاؤ“۔
حدیث 4738–4738
باب: سورۃ انبیاء کی تفسیر۔
حدیث 4739–4739
باب: آیت کی تفسیر ”ہم نے انسان کو شروع میں جیسا پیدا کیا تھا اسی طرح اس کو ہم دوبارہ پھر لوٹائیں گے“۔
حدیث 4740–4740
باب: سورۃ الحج کی تفسیر۔
حدیث 4741–4741
باب: آیت کی تفسیر ”اور لوگ تجھے نشہ میں دکھائی دیں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہے“۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور انسانوں میں سے بعض آدمی ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کی عبادت کنارہ پر (کھڑا ہو کر یعنی شک اور تردد کے ساتھ کرتا ہے۔) پھر اگر اسے کوئی نفع پہنچ گیا تو وہ اس پر جما رہا اور اگر کہیں اس پر کوئی آزمائش آ پڑی تو وہ منہ اٹھا کر واپس چل دیا۔ یعنی مرتد ہو کر دنیا و آخرت دونوں کو کھو بیٹھا۔ ”اللہ تعالیٰ کے ارشاد“ یہی تو ہے انتہائی گمراہی سے یہی مراد ہے۔
حدیث 4742–4742
باب: آیت کی تفسیر ”یہ دو فریق ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا“۔
حدیث 4743–4744
باب: سورۃ مومنون کی تفسیر۔
حدیث 4745–4745
باب: سورۃ النور کی تفسیر۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگائیں اور ان کے پاس سوائے اپنے (اور) کوئی گواہ نہ ہو تو ان کی شہادت یہ کہ وہ (مرد) چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ میں سچا ہوں“۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور پانچویں بار مرد یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں“۔
حدیث 4746–4746
باب: آیت کی تفسیر ”اور عورت سزا سے اس طرح بچ سکتی ہے کہ وہ چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ بیشک وہ مرد جھوٹا ہے، پانچویں دفعہ کہے کہ اگر وہ مرد سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو“۔
حدیث 4747–4747
باب: آیت کی تفسیر ”اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو اگر وہ مرد سچا ہے“۔
حدیث 4748–4748
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک جن لوگوں نے (عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر) تہمت لگائی ہے وہ تم میں سے ایک چھوٹا سا گروہ ہے تم اسے اپنے حق میں برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہی ہے، ان میں سے ہر شخص کو جس نے جتنا جو کچھ کیا تھا گناہ ہوا اور جس نے ان میں سے سب سے بڑھ کر حصہ لیا تھا اس کے لیے سزا بھی سب سے بڑھ کر سخت ہے“۔
حدیث 4749–4749
باب: آیت کی تفسیر ”جب تم لوگوں نے یہ بری خبر سنی تھی تو کیوں نہ مسلمان مردوں اور عورتوں نے اپنی ماں کے حق میں نیک گمان کیا اور یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ تو صریح جھوٹا طوفان لگانا ہے، یہ بہتان باز، نزدیک اللہ اپنے قول پر چار گواہ کیوں نہ لائے، سو جب یہ لوگ گواہ نہیں لائے تو بس یہ لوگ اللہ کے نزدیک سر بسر جھوٹے ہی ہیں“۔
حدیث 4750–4750
باب: آیت کی تفسیر ”اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی تو جس شغل (تہمت) میں تم پڑے تھے اس میں تم پر سخت عذاب نازل ہوتا“۔
حدیث 4751–4751
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ کا بڑا بھاری عذاب تو تم کو اس وقت پکڑتا جب تم اپنی زبانوں سے تہمت کو منہ در منہ بیان کر رہے تھے اور اپنی زبانوں سے وہ کچھ کہہ رہے تھے جس کی تمہیں کوئی تحقیق نہ تھی اور تم اسے ہلکا سمجھ رہے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات تھی“۔
حدیث 4752–4752
باب: آیت کی تفسیر ”اور تم نے جب اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہم کیسے ایسی بات منہ سے نکالیں (پاک ہے تو یا اللہ!) یہ تو سخت بہتان ہے“۔
حدیث 4753–4754
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ خبردار پھر اس قسم کی حرکت کبھی نہ کرنا“۔
حدیث 4755–4755
باب: آیت کی تفسیر ”اور اللہ تم سے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے اور اللہ بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے“۔
حدیث 4756–4756
باب: آیت کی تفسیر ”یقیناً جو لوگ چاہتے ہیں کہ مومنین کے درمیان بےحیائی کا چرچا رہے ان کے لیے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی درد ناک سزا ہے اللہ علم رکھتا ہے اور تم علم نہیں رکھتے اور اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق بڑا رحیم ہے (تو تم بھی نہ بچتے)“۔ تشیع بمعنی تظھر ہے یعنی ظا ہر ہو۔ آیت کی تفسیر ”یعنی اور جو لوگ تم میں بزرگی والے اور فراخ دست ہیں وہ قرابت والوں کو اور مسکینوں کو اور اللہ کے راستہ میں ہجرت کرنے والوں کو امداد دینے سے قسم نہ کھا بیٹھیں، بلکہ ان کو چاہئے کہ وہ ان کی لغزشیں معاف کرتے رہیں اور درگزر کرتے رہیں کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہارے قصور معاف کرتا رہے۔ بیشک اللہ بڑا مغفرت کرنے والا بڑا ہی رحمت والا ہے“۔
حدیث 4757–4757
باب: آیت «وليضربن بخمرهن على جيوبهن» کی تفسیر۔
حدیث 4758–4759
باب: سورۃ الفرقان کی تفسیر۔
حدیث 4760–4760
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف چلائے جائیں گے، یہ لوگ دوزخ میں ٹھکانے کے لحاظ سے بدترین ہوں گے اور یہ راہ چلنے میں بہت ہی بھٹکے ہوئے ہیں“۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس (انسان) کی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے وہ قتل نہیں کرتے، مگر ہاں حق پر اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اسے سزا بھگتنی ہی پڑے گی“ «أثاما» کے معنی عقوبت و سزا ہے۔
حدیث 4761–4764
باب: آیت کی تفسیر ”قیامت کے دن اس کا عذاب کئی گنا بڑھتا ہی جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ کے لیے ذلیل ہو کر پڑا رہے گا“۔
حدیث 4765–4765
باب: آیت کی تفسیر ”مگر ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرتا رہے، سو ان کی بدیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ تو ہے ہی بڑا بخشش کرنے والا بڑا ہی مہربان ہے“۔
حدیث 4766–4766
باب: آیت کی تفسیر ”پس عنقریب یہ (جھٹلانا ان کے لیے) باعث وبال دوزخ بن کر رہے گا“ «لزاما» یعنی ہلاکت۔
حدیث 4767–4767
باب: سورۃ الشعراء کی تفسیر۔
حدیث 4768–4768
باب: آیت کی تفسیر ”ابراہیم نے یہ بھی دعا کی تھی کہ یا اللہ! مجھے رسوا نہ کرنا اس دن جب حساب کے لیے سب جمع کئے جائیں گے“۔
حدیث 4768–4769
باب: آیت کی تفسیر «واخفض جناحك» یعنی اپنا بازو نرم رکھے۔
حدیث 4770–4771
باب: سورۃ النمل کی تفسیر۔
حدیث 4772–4772
باب: سورۃ القصص کی تفسیر۔
باب: آیت کی تفسیر ”جس کو تم چاہو ہدایت نہیں کر سکتے، البتہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جس کے لیے وہ ہدایت چاہتا ہے“۔
باب: آیت کی تفسیر ”جس رب نے آپ پر قرآن کو فرض (یعنی نازل) کیا ہے“ آخر آیت تک۔
حدیث 4773–4773
باب: سورۃ العنکبوت کی تفسیر۔
حدیث 4774–4774
باب: سورۃ الروم کی تفسیر۔
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ کی بنائی ہوئی فطرت «خلق الله» میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں“۔
حدیث 4775–4775
باب: سورۃ لقمان کی تفسیر۔
حدیث 4776–4776
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ کا شریک نہ ٹھہرا، بیشک شرک کرنا بہت بڑا ظلم ہے“۔
باب: آیت کی تفسیر ”قیامت (کے واقع ہونے کی تاریخ) کی خبر صرف اللہ پاک ہی کو ہے“۔
حدیث 4777–4778
باب: سورۃ تنزیل السجدہ کی تفسیر۔
حدیث 4779–4779
باب: آیت کی تفسیر ”کسی مومن کو علم نہیں جو جو سامان (جنت میں) ان کے لیے پوشیدہ کر کے رکھے گئے ہیں جو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں گے“۔
حدیث 4779–4780
باب: سورۃ الاحزاب کی تفسیر۔
حدیث 4781–4781
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں“۔
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”ان (آزاد شدہ غلاموں کو) ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کیا کرو“۔
حدیث 4782–4782
باب: آیت کی تفسیر ”سو ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی نذر پوری کر چکے اور کچھ ان میں سے وقت آنے کا انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے عہد میں ذرا فرق نہیں آنے دیا“۔
حدیث 4783–4784
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! آپ اپنی بیویوں سے فرما دیجئیے کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زیب و زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دنیوی اسباب دے دلا کر خوبی کے ساتھ رخصت کر دوں“۔
حدیث 4785–4785
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی کی بیویو! اگر تم اللہ کو، اس کے رسول کو اور عالم آخرت کو چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک عمل کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا ثواب تیار رکھا ہے“۔
حدیث 4786–4786
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! آپ اپنے دل میں وہ بات چھپاتے رہے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا ہی تھا اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ ہی اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے“۔
حدیث 4787–4787
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! ان (ازواج مطہرات) میں سے آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے نزدیک رکھیں اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا ہو ان میں سے کسی کو پھر طلب کر لیں جب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں“۔
حدیث 4788–4789
باب: آیت کی تفسیر یعنی اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ سوائے اس وقت کے جب تمہیں کھانے کے لیے (آنے کی) اجازت دی جائے، ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ بیٹھے رہو، البتہ جب تم کو بلایا جائے تب جایا کرو۔ پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور وہاں باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو۔ اس بات سے نبی کو تکلیف ہوتی ہے سودہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ صاف بات کہنے سے (کسی کا) لحاظ نہیں کرتا اور جب تم ان (رسول کی ازواج) سے کوئی چیز مانگو تو ان سے پردے کے باہر سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے اور تمہیں جائز نہیں کہ تم رسول اللہ کو (کسی طرح بھی) تکلیف پہنچاؤ اور نہ یہ کہ آپ کے بعد آپ کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو، بیشک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے“۔
حدیث 4790–4795
باب: آیت کی تفسیر ”اے مسلمانو! اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو گے یا اسے (دل میں) پوشیدہ رکھو گے تو اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے، ان (رسول کی بیویوں) پر کوئی گناہ نہیں، سامنے آنے میں اپنے باپوں کے اور اپنے بیٹوں کے اور اپنے بھائیوں کے اور اپنے بھانجوں کے اور اپنی (دینی بہنوں) عورتوں کے اور نہ اپنی باندیوں کے اور اللہ سے ڈرتی رہو، بیشک اللہ ہر چیز پر (اپنے علم کے لحاظ سے) موجود اور دیکھنے والا ہے“۔
حدیث 4796–4796
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھتیجے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی آپ پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو“۔
حدیث 4797–4798
باب: آیت کی تفسیر ”اے مسلمانو! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو تکلیف پہنچائی تھی“۔
حدیث 4799–4799
باب: سورۃ سبا کی تفسیر۔
حدیث 4800–4800
باب: آیت کی تفسیر ”یہاں تک کہ جب ان فرشتوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ آپس میں پوچھنے لگتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے وہ کہتے ہیں کہ حق اور (واقعی) بات کا حکم فرمایا ہے اور وہ عالیشان ہے سب سے بڑا ہے“۔
باب: آیت کی تفسیر ”یہ رسول تو تم کو بس ایک سخت عذاب (دوزخ) کے آنے سے پہلے ڈرانے والے ہیں“۔
حدیث 4801–4801
باب: سورۃ الملائکہ کی تفسیر۔
حدیث 4802–4802
باب: سورۃ یٰسین کی تفسیر۔
باب: آیت «والشمس تجري لمستقر لها ذلك تقدير العزيز العليم» کی تفسیر۔
حدیث 4802–4803
باب: سورۃ الصافات کی تفسیر۔
حدیث 4804–4804
باب: آیت کی تفسیر میں ”بلاشبہ یونس رسولوں میں سے تھے“۔
حدیث 4804–4805
باب: سورۃ ص کی تفسیر۔
حدیث 4806–4807
باب: آیت کی تفسیر میں ”اور مجھے ایسی سلطنت دے کہ میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو، بیشک تو بہت بڑا دینے والا ہے“۔
حدیث 4808–4808
باب: آیت کی تفسیر میں ”اور نہ میں تکلف کرنے والوں سے ہوں“۔
حدیث 4809–4809
باب: سورۃ الزمر کی تفسیر میں۔
حدیث 4810–4810
باب: آیت کی تفسیر ”آپ کہہ دو کہ اے میرے بندو! جو اپنے نفسوں پر زیادتیاں کر چکے ہو، اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، بیشک اللہ سارے گناہ بخش دے گا، بیشک وہ بہت ہی بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے“۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور ان لوگوں نے اللہ کی قدر و عظمت نہ پہچانی جیسی کہ اس کی قدر و عظمت پہچاننی چاہئے تھی“۔
حدیث 4811–4811
باب: آیت «والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه» کی تفسیر۔
حدیث 4812–4812
باب: آیت کی تفسیر میں ”اور صور پھونکا جائے گا تو سب بیہوش ہو جائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوا اس کے جس کو اللہ چاہے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو پھر اچانک سب کے سب دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے“۔
حدیث 4813–4814
باب: سورۃ المومن۔
حدیث 4815–4815
باب: سورۃ حم السجدۃ کی تفسیر۔
حدیث 4816–4816
باب: آیت کی تفسیر ”اور تم اس بات سے اپنے کو چھپا ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری جلدیں گواہی دیں گی، بلکہ تمہیں تو یہ خیال تھا کہ اللہ کو بہت سی ان چیزوں کی خبر ہی نہیں ہے جنہیں تم کرتے رہے“۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور یہ تمہارا گمان ہے“ آخر آیت تک۔
حدیث 4817–4817
باب: آیت کی تفسیر ”پس یہ لوگ اگر صبر ہی کریں تب بھی دوزخ ہی ان کا ٹھکانا ہے“۔
باب: سورۃ حم عسق کی تفسیر۔
حدیث 4818–4818
باب: آیت کی تفسیر ”قرابتداری کی محبت کے سوا میں تم سے اور کچھ نہیں چاہتا“۔
باب: سورۃ حم زخرف کی تفسیر۔
حدیث 4819–4819
باب: آیت کی تفسیر ”جہنمی کہیں گے اے داروغہ جہنم! تمہارا رب ہمیں موت دیدے، وہ کہے گا تم اسی حال میں پڑے رہو“۔
باب: آیت «أفنضرب عنكم الذكر صفحا أن كنتم قوما مسرفين» کی تفسیر۔
حدیث 4820–4820
باب: سورۃ الدخان کی تفسیر۔
باب: آیت کی تفسیر ”پس آپ انتظار کریں اس دن کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو“۔
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”ان سب لوگوں پر چھا جائے گا، یہ ایک عذاب درد ناک ہو گا“۔
حدیث 4821–4821
باب: آیت «ربنا اكشف عنا العذاب إنا مؤمنون» کی تفسیر۔
حدیث 4822–4822
باب: آیت کی تفسیر ”ان کو کب اس سے نصیحت ہوتی ہے حالانکہ ان کے پاس پیغمبر کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ آ چکا ہے“۔
حدیث 4823–4823
باب: آیت «ثم تولوا عنه وقالوا معلم مجنون» کی تفسیر۔
حدیث 4824–4824
باب: آیت کی تفسیر ”اس دن کو یاد کرو جب کہ ہم بڑی سخت پکڑ پکڑ یں گے، ہم بلا شک اس دن پورا پورا بدلہ لیں گے“۔
حدیث 4825–4825
باب: سورۃ الجاثیہ کی تفسیر۔
حدیث 4826–4826
باب: آیت کی تفسیر ”اور ہم کو تو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے“۔
باب: سورۃ الاحقاف کی تفسیر۔
حدیث 4827–4827
باب: آیت کی تفسیر ”اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ افسوس ہے تم پر، کیا تم مجھے یہ خبر دیتے ہو کہ میں قبر سے پھر دوبارہ نکالا جاؤں گا، مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں اور وہ دونوں والدین اللہ سے فریاد کر رہے ہیں (اور اس اولاد سے کہہ رہے ہیں) ارے تیری کم بختی تو ایمان لا بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ تو اس پر وہ کہتا کیا ہے کہ یہ بس اگلوں کے ڈھکوسلے ہیں“۔
باب: آیت کی تفسیر ”پھر جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کے اوپر آتے دیکھا تو بولے کہ واہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا، نہیں بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے، یعنی ایک آندھی جس میں درد ناک عذاب ہے“۔
حدیث 4828–4829
باب: سورۃ محمد کی تفسیر۔
حدیث 4830–4830
باب: آیت کی تفسیر ”تم ناطہٰ رشتہ توڑ ڈالو گے“۔
حدیث 4830–4832
باب: سورۃ الفتح کی تفسیر۔
حدیث 4833–4833
باب: آیت کی تفسیر ”ہم نے تجھ کو کھلی ہوئی فتح دی ہے“۔
حدیث 4833–4835
باب: آیت کی تفسیر ”تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دے اور آپ پر احسانات کی تکمیل کر دے اور آپ کو سیدھے راستہ پر لے چلے“۔
حدیث 4836–4837
باب: آیت «إنا أرسلناك شاهدا ومبشرا ونذيرا» کی تفسیر۔
حدیث 4838–4838
باب: آیت کی تفسیر ”وہ اللہ وہی تو ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکینت (سکون و اطمینان) پیدا کیا“۔
حدیث 4839–4839
باب: آیت کی تفسیر ”وہ وقت یاد کرو جب کہ وہ درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے“۔
حدیث 4840–4844
باب: سورۃ الحجرات کی تفسیر۔
حدیث 4845–4845
باب: آیت کی تفسیر ”اے ایمان والو! نبی کی آواز سے اپنی آوازوں کو اونچا نہ کیا کرو“۔
حدیث 4845–4846
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارا کرتے ہیں ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے“۔
حدیث 4847–4847
باب: آیت کی تفسیر ”اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ ان کی طرف خود نکل کر جاتے تو یہ صبر کرنا ان کے لیے بہتر ہوتا“۔
حدیث 4848–4848
باب: سورۃ ق کی تفسیر۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور وہ جہنم کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟“۔
حدیث 4848–4850
باب: آیت کی تفسیر ”اور اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے رہئیے سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے چھپنے سے پہلے“۔
حدیث 4851–4852
باب: سورۃ الذاریات کی تفسیر۔
حدیث 4853–4853
باب: سورۃ الطور کی تفسیر۔
حدیث 4853–4854
باب: سورۃ النجم کی تفسیر۔
حدیث 4855–4855
باب: آیت کی تفسیر ”اتنا فاصلہ رہ گیا تھا جتنا کمان سے چلہ (یعنی تانت) میں ہوتا ہے“۔
حدیث 4856–4856
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف وحی کی جو بھی وحی کی“۔
حدیث 4857–4857
باب: آیت کی تفسیر ”تحقیق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھا“۔
حدیث 4858–4858
باب: آیت کی تفسیر ”بھلا تم نے لات اور عزیٰ کو بھی دیکھا ہے“۔
حدیث 4859–4860
باب: آیت کی تفسیر ”اور تیسرے بت منات کے (حالات بھی سنو)“۔
حدیث 4861–4861
باب: آیت کی تفسیر ”پس خاص اللہ کے لیے سجدہ کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو“۔
حدیث 4862–4863
باب: سورۃ اقتربت الساعۃ کی تفسیر۔
حدیث 4864–4864
باب: آیت «وانشق القمر وإن يروا آية يعرضوا» کی تفسیر۔
حدیث 4864–4868
باب: آیت «تجري بأعيننا جزاء لمن كان كفر* ولقد تركناها آية فهل من مدكر» کی تفسیر۔
حدیث 4869–4869
باب: آیت کی تفسیر ”اور ہم نے آسان کر دیا ہے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے، سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟“۔
حدیث 4870–4870
باب: آیت کی تفسیر ”(وہ ہلاک شدہ کافر) گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے تھے سو دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا رہا“۔
حدیث 4871–4871
باب: آیت کی تفسیر ”سو وہ (ثمود) ایسے ہو گئے جیسے کانٹوں کی باڑ جو چکنا چور ہو گئی ہو اور ہم نے قرآن کو آسان کر دیا ہے، کیا کوئی ہے قرآن مجید سے نصیحت حاصل کرنے والا؟ جو قرآن مجید سے نصیحت حاصل کرے“۔
حدیث 4872–4872
باب: آیت کی تفسیر ”اور صبح سویرے ہی ان پر عذاب دائمی آ پہنچا اور ان سے کہا گیا کہ پس میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو“۔
حدیث 4873–4873
باب: آیت کی تفسیر ”اور ہم تمہارے جیسے لوگوں کو ہلاک کر چکے ہیں سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟“۔
حدیث 4874–4874
باب: آیت کی تفسیر ”کافروں کی عنقریب ساری جماعت شکست کھائے گی اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے“۔
حدیث 4875–4875
باب: آیت کی تفسیر ”بلکہ ان کا اصل وعدہ تو قیامت کے دن کا ہے اور قیامت بڑی سخت اور تلخ ترین چیز ہے“۔
حدیث 4876–4877
باب: سورۃ الرحمن کی تفسیر۔
حدیث 4878–4878
باب: آیت کی تفسیر ”اور ان باغوں سے کم درجہ میں دو اور باغ بھی ہیں“۔
باب: آیت «حور مقصورات في الخيام» کی تفسیر۔
حدیث 4879–4880
باب: سورۃ الواقعہ کی تفسیر۔
حدیث 4881–4881
باب: آیت کی تفسیر ”اور جنت کے درختوں کا بہت ہی لمبا سایہ ہو گا“۔
باب: سورۃ الحدید کی تفسیر۔
حدیث 4882–4882
باب: سورۃ المجادلہ کی تفسیر۔
باب: سورۃ الحشر کی تفسیر۔
حدیث 4882–4883
باب: آیت کی تفسیر ”جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹے“۔
حدیث 4884–4884
باب: قول ”اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے بطور فے دلوایا“ کی تفسیر۔
حدیث 4885–4885
باب: آیت کی تفسیر ”اے مسلمانو! اور رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لیا کرو اور جس سے آپ روکیں اس سے رک جایا کرو“۔
حدیث 4886–4887
باب: آیت کی تفسیر ”اور ان لوگوں کا (بھی حق ہے) جو دارالسلام اور ایمان میں ان سے پہلے ہی ٹھکانا پکڑے ہوئے ہیں“، آیت میں انصار مراد ہیں۔
حدیث 4888–4888
باب: آیت کی تفسیر ”اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں“ آخرت آیت تک۔
حدیث 4889–4889
باب: سورۃ الممتحنہ کی تفسیر۔
حدیث 4890–4890
باب: آیت کی تفسیر ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ“۔
باب: آیت کی تفسیر ”جب تمہارے پاس ایمان والی عورتیں ہجرت کر کے آئیں“۔
حدیث 4891–4891
باب: آیت کی تفسیر ”(اے رسول!) جب ایمان والی عورتیں آپ کے پاس آئیں تاکہ وہ آپ سے بیعت کریں“۔
حدیث 4892–4895
باب: سورۃ الصف کی تفسیر۔
حدیث 4896–4896
باب: آیت کی تفسیر ”عیسیٰ نے فرمایا کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا جس کا نام احمد ہو گا“۔
باب: سورۃ الجمعہ کی تفسیر۔
حدیث 4897–4897
باب: آیت کی تفسیر ”اور دوسروں کے لیے بھی ان میں سے (آپ کو بھیجا) جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں“۔
حدیث 4897–4898
باب: آیت کی تفسیر ”اور جب کبھی انہوں نے اموال تجارت دیکھا“ آخر تک۔
حدیث 4899–4899
باب: سورۃ منافقین کی تفسیر۔
حدیث 4900–4900
باب: آیت کی تفسیر ”جب منافق آپ کے پاس آتے تو کہتے ہیں کہ بیشک ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں“ «لَكَاذِبُونَ» تک۔
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے یعنی جس سے وہ اپنے نفاق کی پردہ پوشی کرتے ہیں“۔
حدیث 4901–4901
باب: آیت کی تفسیر ”یہ اس سبب سے ہے کہ یہ لوگ ظاہر میں ایمان لے آئے پھر دلوں میں کافر ہو گئے سو ان کے دلوں میں مہر لگا دی گئی پس اب یہ نہیں سمجھتے“۔
حدیث 4902–4902
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! تو ان کو دیکھتا ہے تو تجھے ان کے جسم حیران کرتے ہیں، جب وہ باتیں کرتے ہیں تو تو ان کی بات سنتا ہے گویا وہ بہت بڑی لکڑی کے کھمبے ہیں جن کے ساتھ لوگ تکیہ لگاتے ہیں، ہر ایک زور دار آواز کو اپنے ہی برخلاف جانتے ہیں پس تم اے نبی! ان دشمنوں سے بچتے رہو، ان پر اللہ کی مار ہو کہاں کو بہکے جاتے ہیں“۔
حدیث 4903–4903
باب: آیت کی تفسیر ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے لیے استغفار فرما دیں تو وہ اپنا سر پھیر لیتے ہیں اور آپ انہیں دیکھیں گے کہ تکبر کرتے ہوئے وہ کس قدر بےرخی برت رہے ہیں“۔
حدیث 4904–4904
باب: آیت کی تفسیر ”ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں اللہ تعالیٰ انہیں کسی حال میں نہیں بخشے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ایسے نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا“۔
حدیث 4905–4905
باب: آیت کی تفسیر ”یہی لوگ تو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو رہے ہیں، ان پر خرچ مت کرو، یہاں تک کہ (بھوکے رہ کر) وہ آپ ہی خود تتر بتر ہو جائیں حالانکہ اللہ ہی کے قبضے میں آسمان اور زمین کے خزانے ہیں لیکن منافقین یہ نہیں سمجھتے“۔
حدیث 4906–4906
باب: آیت کی تفسیر ”(منافقوں نے کہا کہ) اگر ہم اب مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال کر باہر کر دے گا، حالانکہ عزت تو بس اللہ ہی کے لیے اور اس کے پیغمبر کے لیے اور ایمان والوں کے لیے ہے البتہ منافقین علم نہیں رکھتے“۔
حدیث 4907–4907
باب: سورۃ التغابن کی تفسیر۔
حدیث 4908–4908
باب: سورۃ الطلاق کی تفسیر۔
باب: آیت کی تفسیر ”سو حمل والیوں کی عدت ان کے بچے کا پیدا ہو جانا ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرے اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا“۔
حدیث 4909–4910
باب: سورۃ التحریم کی تفسیر۔
حدیث 4911–4911
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے اسے آپ اپنے لیے کیوں حرام قرار دے رہے ہیں، محض اپنی بیویوں کی خوشی حاصل کرنے کے لیے حالانکہ یہ آپ کے لیے زیبا نہیں ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑی ہی رحمت کرنے والا ہے“۔
حدیث 4911–4912
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! آپ اپنی بیویوں کی خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں اللہ نے تمہارے لیے قسموں کا کفارہ مقرر کر دیا ہے“۔
حدیث 4913–4913
باب: آیت کی تفسیر ”اور جب نبی نے ایک بات اپنی بیوی سے فرما دی پھر جب آپ کی بیوی نے وہ بات کسی اور بیوی کو بتا دی اور اللہ نے نبی کو اس کی خبر دی تو نبی نے اس کا کچھ حصہ بتلا دیا اور کچھ سے اعراض فرمایا، پھر جب نبی نے اس بیوی کو وہ بات بتلا دی تو وہ کہنے لگیں کہ آپ کو کس نے اس کی خبر دی ہے آپ نے فرمایا کہ مجھے علم رکھنے والے اور خبر رکھنے والے اللہ نے خبر دی ہے“۔
حدیث 4914–4914
باب: آیت کی تفسیر ”اے دونوں بیویو! اگر تم اللہ کے سامنے توبہ کر لو گی تو بہتر ہے تمہارے دل اس (غلط بات کی) طرف جھک گئے ہیں“۔
حدیث 4915–4915
باب: آیت کی تفسیر ”اور اگر نبی تمہیں طلاق دیدے تو اس کا پروردگار تمہارے بدلے انہیں تم سے بہتر بیویاں دیدے گا، وہ اسلام لانے والیاں، پختہ ایمان والیاں، فرمانبرداری کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں، رانڈ بیوہ بھی ہوں گی اور کنواریاں بھی ہوں گی“۔
حدیث 4916–4916
باب: سورۃ الملک کی تفسیر۔
حدیث 4917–4917
باب: سورۃ ن کی تفسیر۔
باب: آیت کی تفسیر یعنی وہ کافر ”سخت مزاج ہے، اس کے علاوہ بدذات بھی ہیں“۔
حدیث 4917–4918
باب: آیت کی تفسیر ”یعنی وہ دن یاد کرو جب پنڈلی کھولی جائے گی“۔
حدیث 4919–4919
باب: سورۃ الحاقہ کی تفسیر۔
حدیث 4920–4920
باب: سورۃ سأل کی تفسیر۔
باب: سورۃ نوح کی تفسیر۔
باب: آیت کی تفسیر ”ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر“۔
باب: سورۃ الجن کی تفسیر۔
حدیث 4921–4921
باب: سورۃ المزمل کی تفسیر۔
حدیث 4922–4922
باب: سورۃ المدثر کی تفسیر۔
باب: آیت «قم فأنذر» کی تفسیر۔
حدیث 4923–4923
باب: آیت «وربك فكبر» کی تفسیر۔
حدیث 4924–4924
باب: آیت کی تفسیر ”اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھئیے“۔
حدیث 4925–4925
باب: آیت کی تفسیر ”اور بتوں سے الگ رہیئے“۔
حدیث 4926–4926
باب: سورۃ القیامہ کی تفسیر۔
حدیث 4927–4927
باب: آیت کی تفسیر ”آپ اس کو (یعنی قرآن کو) جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان نہ ہلایا جلایا کریں“۔
باب: آیت «إن علينا جمعه وقرآنه» کی تفسیر۔
حدیث 4928–4928
باب: آیت «فإذا قرأناه فاتبع قرآنه» کی تفسیر۔
حدیث 4929–4929
باب: سورۃ دھر کی تفسیر۔
حدیث 4930–4930
باب: سورۃ المرسلات کی تفسیر۔
حدیث 4930–4931
باب: آیت کی تفسیر ”وہ دوزخ بڑے بڑے محل جیسے آگ کے انگارے پھینکے گی“۔
حدیث 4932–4932
باب: آیت کی تفسیر ”گویا کہ وہ انگارے پیلے پیلے رنگ والے اونٹ ہیں“۔
حدیث 4933–4933
باب: آیت کی تفسیر ”آج وہ دن ہے کہ اس میں یہ لوگ بول ہی نہیں سکیں گے“۔
حدیث 4934–4934
باب: سورۃ «عم يتساءلون» کی تفسیر۔
حدیث 4935–4935
باب: آیت کی تفسیر ”وہ دن کہ جب صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ ہو کر آؤ گے، «أفواجا» کے معنی «زمرا» یعنی گروہ گروہ کے ہیں“۔
باب: سورۃ والنازعات کی تفسیر۔
حدیث 4936–4936
باب: سورۃ عبس کی تفسیر۔
حدیث 4937–4937
باب: سورۃ «إذا الشمس كورت» کی تفسیر۔
حدیث 4938–4938
باب: سورۃ «إذا السماء انفطرت» کی تفسیر۔
باب: سورۃ «ويل للمطففين» کی تفسیر۔
باب: سورۃ «إذا السماء انشقت» کی تفسیر۔
حدیث 4939–4939
باب: آیت کی تفسیر کہ ”تم ضرور ہی ایک حالت سے دوسری حالت کو چڑھتے جاؤ گے“۔
حدیث 4940–4940
باب: سورۃ البروج کی تفسیر۔
حدیث 4941–4941
باب: سورۃ الطارق کی تفسیر۔
باب: سورۃ الاعلی کی تفسیر۔
باب: سورۃ الغاشیہ کی تفسیر۔
حدیث 4942–4942
باب: سورۃ الفجر کی تفسیر۔
باب: سورۃ «لا أقسم» کی تفسیر۔
باب: سورۃ «والشمس وضحاها» کی تفسیر۔
باب: سورۃ «والليل إذا يغشى» کی تفسیر۔
حدیث 4943–4943
باب: آیت کی تفسیر ”اور قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہو جائے“۔
باب: آیت کی تفسیر ”اور قسم ہے اس کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا“۔
حدیث 4944–4944
باب: آیت کی تفسیر ”سو جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا اور اس نے اچھی باتوں کی تصدیق کی“۔
حدیث 4945–4945
باب: آیت کی تفسیر ”اور اس نے نیک باتوں کی تصدیق کی“۔
باب: آیت کی تفسیر ”سو ہم اس کے لیے نیک کاموں کو عمل میں لانا آسان کر دیں گے“۔
حدیث 4946–4946
باب: آیت «وأما من بخل واستغنى» کی تفسیر۔
حدیث 4947–4947
باب: آیت «وكذب بالحسنى» کی تفسیر۔
حدیث 4948–4948
باب: آیت کی تفسیر ”سو ہم اس کے لیے سخت برائی کے کاموں کو عمل میں لانا آسان کر دیں گے“۔
حدیث 4949–4949
باب: سورۃ الضحیٰ کی تفسیر۔
حدیث 4950–4950
باب: آیت «ما ودعك ربك وما قلى» کی تفسیر۔
حدیث 4951–4951
باب: سورۃ «ألم نشرح» کی تفسیر۔
حدیث 4952–4952
باب: سورۃ «وَالتِّينِ» کی تفسیر۔
باب: سورۃ اقراء کی تفسیر۔
حدیث 4953–4953
حدیث 4953–4954
باب: آیت کی تفسیر ”انسان کو اللہ نے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا“۔
حدیث 4955–4955
باب: آیت کی تفسیر ”آپ پڑھا کیجئے اور آپ کا رب بڑا ہی مہربان ہے“۔
حدیث 4956–4956
باب: آیت کی تفسیر ”وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا“۔
حدیث 4957–4957
باب: آیت کی تفسیر ”ہاں ہاں اگر یہ (کم بخت) باز نہ آیا تو ہم اسے پیشانی کے بل پکڑ کر گھسیٹیں گے جو پیشانی جھوٹ اور گناہوں میں آلودہ ہو چکی ہے“۔
حدیث 4958–4958
باب: سورۃ «القدر» کی تفسیر۔
حدیث 4959–4959
باب: سورۃ «لم يكن» کی تفسیر۔
حدیث 4959–4961
باب: سورۃ «إذا زلزلت الأرض زلزالها» کی تفسیر۔
حدیث 4962–4962
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”جو کوئی ذرہ بھر بھی نیکی کرے گا اسے بھی وہ دیکھ لے گا“۔
باب: آیت کی تفسیر ”جو کوئی ایک ذرہ برابر برائی کرے گا اسے بھی وہ دیکھ لے گا“۔
حدیث 4963–4963
باب: سورۃ «والعاديات» کی تفسیر۔
حدیث 4964–4964
باب: سورۃ «القارعة» کی تفسیر۔
باب: سورۃ «التکاثر» کی تفسیر۔
باب: سورۃ «والعصر» کی تفسیر۔
باب: سورۃ «ويل لكل همزة» کی تفسیر۔
باب: سورۃ «الفيل» کی تفسیر۔
باب: سورۃ «لإيلاف قريش» کی تفسیر۔
باب: سورۃ «أرأيت» کی تفسیر۔
باب: سورۃ «إنا أعطيناك الكوثر» کی تفسیر۔
حدیث 4964–4966
باب: سورۃ «قل يا أيها الكافرون» کی تفسیر۔
حدیث 4967–4967
باب: سورۃ «إذا جاء نصر الله» کی تفسیر۔
حدیث 4968–4968
باب: آیت کی تفسیر ”اور آپ اللہ کے دین میں لوگوں کو جوق در جوق داخل ہوتے ہوئے خود دیکھ رہے ہیں“۔
حدیث 4969–4969
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! اب تم اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کیا کرو اور اس سے بخشش چاہو بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے“۔
حدیث 4970–4970
باب: سورۃ «لہب» کی تفسیر۔
حدیث 4971–4971
باب: آیت کی تفسیر ”وہ ہلاک ہوا نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ جو کچھ اس نے کمایا وہ کام آیا“۔
حدیث 4972–4972
باب: آیت کی تفسیر ”عنقریب وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گا“۔
حدیث 4973–4973
باب: آیت کی تفسیر ”اور اس کی بیوی بھی جو لکڑیوں کا گٹھا اٹھانے والی ہے“۔
حدیث 4974–4974
باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان «قل هو الله أحد» کی تفسیر۔
باب: آیت «الله الصمد» کی تفسیر۔
حدیث 4975–4975
باب: سورۃ «الفلق» کی تفسیر۔
حدیث 4976–4976
باب: سورۃ «الناس» کی تفسیر۔
حدیث 4977–4977
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔