کتب حدیث › صحيح البخاري › ابواب › باب: آیت کی تفسیر ”تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دے اور آپ پر احسانات کی تکمیل کر دے اور آپ کو سیدھے راستہ پر لے چلے“۔
❮
❯
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ هُوَ ابْنُ عِلَاقَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ ، يَقُولُ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، انہیں ابن عیینہ نے خبر دی ، ان سے زیاد نے بیان کیا اور انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں رات بھر کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں سوج گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی تمام خطائیں معاف کر دی ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4836
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، سَمِعَ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : " أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا " ، فَلَمَّا كَثُرَ لَحْمُهُ صَلَّى جَالِسًا ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَقَرَأَ ، ثُمَّ رَكَعَ .
مولانا داود راز
´ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن یحییٰ نے بیان کیا ، انہیں حیوہ نے خبر دی ، انہیں ابوالاسود نے ، انہوں نے عروہ سے سنا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ اتنی زیادہ مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا پھر میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں ۔ عمر کے آخری حصہ میں ( جب طویل قیام دشوار ہو گیا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر رات کی نماز پڑھتے اور جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو جاتے ( اور تقریباً تیس یا چالیس آیتیں اور پڑھتے ) پھر رکوع کرتے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4837
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة