مضمون کے اہم نکات
پچھلی تحریر میں ہم نے فقہ حنفی کہ وہ مسائل بیان کیے تھے جو قرآن و سنت کے متصادم تھے۔ اور اب ہم فقہ حنفی کہ وہ مسائل بیان کریں گے جو قرآن و سنت کے موافق ہیں۔
فقہ حنفی کا باب دوم:
اس باب میں وہ مسائل درج ہیں جو قرآن اور صحیح حدیث کے مطابق ہیں اور حنفی فقہ کی کتابوں میں درج ہیں، ان کی تعداد چھ سو سے اوپر ہے، اختصار کی خاطر یہاں کم درج کیے جا رہے ہیں۔
قرآن و حدیث ایک مکمل دین:
[1] کتاب و سنت میں سب کچھ موجود ہے۔ (مقدمہ عالمگیری:117/1)
[2] [اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ] [المائدۃ:3] سے دین قرآن و حدیث میں مکمل ہو چکا ہے۔ (مقدمہ عالمگیری:32/1)
[3] کتاب و سنت کے موافق عمل کرنے اور تعصب، باطل اور کجروی سے بچنے اور یہ مراد نہیں کہ جو کہے میں حنفی ہوں اس کی مغفرت ہو جائے گی۔
(درمختار:40/1)
[4] فتویٰ میں یہ نہ لکھا کرو کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں بلکہ یوں لکھا کرو کہ اس واقعہ میں اللہ و رسول کا حکم تم کو کیونکر معلوم ہے؟ (مقدمہ عالمگیری:14/1)
[5] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول خلافِ کتاب و سنت کے معتبر نہ ہوگا۔ (درمختار:709/2)
حجیت حدیث:
[6] حدیث وحیِ خفی ہے۔ (مقدمہ ہدایہ:110/1)
[7] حدیث حجت ہے۔ (در مختار:45/1)
[8] حدیث بھی قطعی ہے، اس لیے کہ موزہ کا مسح حدیث سے ہے، بلا تامل اس کا منکر کافر ہے۔ (ہدایہ:201/1)
[9] حدیث کا رد کرنے والا گمراہ ہے۔ (مقدمہ ہدایہ:30/1)
[10] جو بات رسول اللہ ﷺ کے بال برابر خلاف ہو اس کو ترک کر دے۔ (مالابد:10)
[11] رسول اللہ ﷺ کی محبت محض زبان کے کہنے سے نہیں ہوتی بلکہ اتباع سے ہوتی ہے۔ (شرح وقایہ:97)
[12] حدیث امام کے قول پر مقدم ہے۔ (ہدایہ:502/1)
[13] موضوع حدیث سے استدلال کرنا حرام ہے اور عمل کرنا بھی حرام ہے۔ (درمختار:73/1-مقدمہ ہدایہ:116/1)
اقوالِ امام ابو حنیفہ اور مقامِ حدیث:
[14] فرمایا جب حدیث صحیح مل جاوے وہی میرا مذہب ہے۔ (مقدمہ عالمگیری:129/1)
[15] فرمایا چھوڑ دو میرے قول کو حدیث کے سامنے۔ (شرح وقایہ:10)
کتبِ احادیث کے متعلق:
[16] اجماع ہے کہ بعد قرآن کے بخاری پھر مسلم۔ (مقدمہ ہدایہ:113/1) بخاری و مسلم دونوں میں موجود حدیث متفق علیہ کہلاتی ہے۔ یہ حدیث سب سے مقدم ہے۔ پھر جو تنہا صحیح بخاری میں پھر جو تنہا صحیح مسلم میں۔ (مقدمہ ہدایہ:115/1-شرح وقایہ:5)
[17] طبقہ اول میں بخاری، مسلم اور مؤطا امام مالک ہیں۔ طبقہ ثانی میں ترمذی، نسائی اور ابوداؤد ہیں۔ ان کا مرتبہ بخاری و مسلم سے کم ہے۔ طبقہ ثالث میں مسند شافعی، مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، سنن ابن ماجہ، دار قطنی، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم، کتب بیہقی، کتب طحاوی، کتب طبرانی۔ ان کتابوں کی احادیث بغیر تنقید اعتبار کے قابل نہیں ہیں۔ طبقہ رابعہ میں باقی حدیث کی کتابیں آتی ہیں۔ (مقدمہ ہدایہ:114/1، 115) حیرانی کی بات ہے کہ صاحبِ ہدایہ نے حنفی فقہ کی کتابوں کا اس درجہ بندی میں کہیں ذکر تک نہیں کیا۔ شاید یہ کتابیں اس قابل نہیں تھیں کہ کسی طبقہ میں آ سکیں۔
کتبِ فقہ کتبِ حدیث کے مقابل:
[18] فقہ کے لیے اصل کتاب و سنت ہے۔ (مقدمہ عالمگیری:26/1)
[19] ہدایہ کے مصنف کا شغل حدیث سے کم تر رہا ہے۔ (مقدمہ عالمگیری: 140/1)
[20]درمختار بوجہ ایجاز قابلِ افتاء نہیں۔ (مقدمہ ہدایہ:107)
[21] فقہ میں جو احادیث ہیں ان پر اعتماد کلی نہیں ہو سکتا (جب تک کہ کتبِ حدیث سے تصحیح نہ کر لی جائے) حالانکہ فقہ میں احادیثِ موضوع بھی ہیں۔ (مقدمہ ہدایہ:107/1)
اجماع:
[22] اسی واسطے بعض اکابرین نے ہر ایسے قول و فعل سے انکار کر دیا ہے جو عہدِ اول میں نہ تھا۔ (مقدمہ عالمگیری:30/1)
اہلِ سنت کی تعریف:
[23] افضل جاننا ابوبکرؓ و عمرؓ کو، محبت رکھنا عثمانؓ و علیؓ سے، موزوں پر مسح کرنا۔ (ابوحنیفہ) (درمختار:144/1)
تقلید اور کتبِ فقہ:
[24] ائمہ اربعہ آپس میں کسی کے مقلد نہ تھے۔ (درمختار:43/1)
[25] آفت تقلید سے پڑی ہے۔ (درمختار:62/1-ہدایہ:14/1)
[26] [فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ] [النحل:43] سے مراد قرآن و حدیث کا حکم دریافت کرنا ہے، لوگوں کی باتیں مان لینے کا حکم نہیں ہے۔ (مقدمہ عالمگیری:14/1)
[27] یہود و نصاریٰ اپنے مولویوں اور درویشوں کا کہنا مانتے تھے، اس لیے اللہ نے مشرک فرمایا۔ مومنوں کو حکم کیا کہ لوگوں کے قول مت پوچھو بلکہ پوچھو اللہ و رسول کا کیا حکم ہے۔ (عالمگیری:14/1)
بدعت اور اہل بدعت:
[28]،[29] تعریفِ اہل بدعت یہ ہے جو لوگ دین میں خواہ اصول میں ہو یا فروع میں بدون دلیل شرعی کے کوئی نئی بات پیدا کرے ان کو اہل ہوا بھی کہتے ہیں۔ (عالمگیری :1/196، 197)
[30]،[31] اہل ہوا وہ ہے کہ مخالفِ سنت ہو۔ (درمختار:317/3)
عقائد کا بیان:
[32] آیت:[مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ یَّسۡتَغۡفِرُوۡا] [التوبہ:113] اور آیت: [اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ] [القصص:56] ابوطالب کے حق میں ہیں۔ (ہدایہ:29/1-شرح وقایہ:146/1) (فقہ اکبر) اس کے لیے احمد رضا صاحب کا قرآنی ترجمہ مع تفسیر دیکھیں۔
[33] سوائے انبیاء اور عشرہ مبشرہ کے اولیاء صاحبِ کرامات اور علماء اصفیاء کو قطعی جنتی نہیں کہہ سکتے۔ (مقدمہ ہدایہ:28/1)
علم غیب کا بیان:
[34] علمِ غیب سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی مخلوق کو نہیں ہے۔ (درمختار:25/1-ہدایہ:59/1)
[35] عقائد و اعمالِ کفریہ کے لیے سابقہ ابواب دیکھیں۔
مسائل متفرقہ:
[36] سلفِ صالحین سے مراد خصوصاً صحابہ ہیں اور عموماً صحابہ و تابعین۔ (مقدمہ عالمگیری:92/1)
[37] معجزہ وہ ہے جو نبی کے ہاتھ پر ہو، کرامت وہ ہے جو متقی کے ہاتھ پر ہو، استدراج وہ ہے جو فاسق کے ہاتھ پر ہو۔ (درمختار:269/1)
[38]پیرانِ پیر عبدالقادر جیلانی حنبلی تھے۔ (ہدایہ:573/1، 690)
وضو کے متعلق:
[39] نیت دل کے ارادہ کو کہتے ہیں نہ کہ زبان کے بولنے کو۔ (درمختار:46/1-ہدایہ:29-درمختار:69/1)
[40] نیت زبان سے کرنا بدعت ہے۔ (درمختار:61/1-ہدایہ:26/1)
[41] سر کے مسح میں ہاتھ آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے لے جانا چاہیے۔ (ہدایہ:29/1-درمختار:69/1)
[42] گردن کا مسح بدعت ہے۔ (ہدایہ:20/1، 21)
مسح کے متعلق:
[43] گاڑھی جرابوں پر مسح جائز ہے۔ (درمختار، عالمگیری، شرح وقایہ:60/1-قدوری:69/1)
پانی کے متعلق:
[44] مسئلہ دہ در دہ کی اصل مذہب میں نہیں ہے۔ (عالمگیری:1/103-مقدمہ ہدایہ:100/1)
اوقاتِ نماز کے متعلق:
[45] ظہر کا وقت ایک مثل تک ہے۔ (صاحبین) امام ابو حنیفہ سے بھی ایک روایت ہے۔ یہی مذہب زفر اور امام شافعی اور امام مالک اور امام احمد کا ہے۔
(در مختار، کنز، عالمگیری:10/1، ہدایہ:1/329، شرح وقایہ:73)
[46] عصر کا وقت ایک مثل سے شروع ہوتا ہے۔ (مذہبِ صاحبین) (درمختار:182/1، ہدایہ: 329/1)
اذان و نماز کے متعلق:
[47] صحیح حدیث سے اذان کے کلمے دو دو بار اور تکبیر کے ایک ایک بار ہیں۔ (شرح وقایہ:79/1)
[48] جب منہ کعبہ کی طرف ہے تو کعبہ کی نیت کرنی جائز نہیں۔ (منیہ:66)
[49] نمازِ فرض میں نیت تعدادِ رکعات کی فرض نہیں۔ (شرح وقایہ:82)
[50] قیام فرض ہے۔ (شرح وقایہ:83/1، قدوری:101/1)
[51] ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی حدیث باتفاقِ ائمہ محدثین ضعیف ہے۔ (ہدایہ:449/1، 450)
[52] مرزا مظہر جانِ جاناں مجددی حنفی سینے پر ہاتھ باندھنے کی حدیث کو بسبب قوی ہونے کے ترجیح دیتے تھے اور خود سینے پر ہاتھ باندھتے تھے۔ (ہدایہ: 450/1)
[53] [لا صلٰوة الا بفاتحة الکتاب] یہ حدیث بسندِ صحیح صحاح ستہ و ابنِ حبان و سنن دار قطنی وغیرہ میں مروی ہے۔ (ہدایہ:464/1)
[54] ابنِ ہمام نے [ثقلت القرآن] والی حدیث کے راوی کو ثقہ بتا کر کہا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جہری نماز میں امام کے پیچھے فاتحہ پڑھے۔ (ہدایہ:1/ 549، 550، 555)
[55] امام کے پیچھے فاتحہ نہ پڑھنے کی احادیث ضعیف ہیں۔ (شرح وقایہ:98-99)
[56] فاتحہ خلف الامام مقتدی کو مستحسن ہے، بطورِ احتیاط کے۔ (محمد رحمۃ اللہ علیہ) (ہدایہ:550/1)
[57] رفع الیدین کرنے کی حدیثیں بہ نسبت ترکِ رفع کے قوی ہیں۔ (ہدایہ:499/1)
[58] حق یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے رفع الیدین ثابت ہے۔ (ہدایہ:496/1)
[59] رفع الیدین اکثر فقہاء اور محدثین اس کو سنت ثابت کرتے ہیں۔ (مالابد:43)
[60] عصام ابن یوسف امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کے شاگردانِ شاگرد ہیں، رفع الیدین کرتے تھے۔ (عالمگیری: 54/1)
[61] امیر کاتب العمید متعصب حنفی تھا، جس کو رفع الیدین کرتا دیکھتا نماز باطل ہونے کا فتویٰ دیتا۔ فاضل لکھنوی نے تردید کر کے کہا کہ رفع الیدین کی روایات صحیح بکثرت موجود ہیں، اس میں امام ابوحنیفہ سے کچھ مروی نہیں۔ (مقدمہ عالمگیری:87/1)
[62] انکساری کے لیے سر کھول کر نماز پڑھنا درست ہے۔ (درمختار:337/1، عالمگیری: 169/1، ہدایہ:655/1)
[63] سات جگہوں میں نماز مکروہ ہے: حمام، راستہ، اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ، قبرستان، نجاست ڈالنے کی جگہ، کمیلہ وغیرہ۔ (درمختار:192/1)
[64] چار رکعت قبل عشاء کے مستحب ہیں نہ سنت۔ (ہدایہ: 696/1)
[65] تین میل تک کی مسافت میں قصر جائز ہے۔ (شرح وقایہ:132)
امامت کے متعلق:
[66] جو امامت مزدوری لے کر کرے تو اس کی امامت مکروہ ہے۔ (درمختار:293/1)
[67] اجرت پر حافظ مقرر کرنا مکروہ ہے۔ (ہدایہ:725/1)
[68] بدعتی کی امامت مکروہ ہے۔ (درمختار:292، شرح وقایہ: 101/1)
[69] امام مقتدیوں کو حکم کرے کہ ایک دوسرے سے ملے رہیں اور بیچ کی جگہ بند کر دیں۔ (درمختار: 296/1، شرح وقایہ: 103/1)
[70] صف میں جگہ چھوڑنا ثواب فوت کرنا ہے۔ (درمختار: 296/1)
وتر کا بیان:
[71] وتر ایک رکعت بھی ہے، اس پر مسلمانوں کا اجماع ہو چکا ہے۔ (ہدایہ:1/ 675، 676)
[72] سجدہ سہو دونوں طرف سلام پھیرنے کے بعد کرے اور سلام سے پہلے بھی جائز ہے۔ (درمختار:381/1، ہدایہ: 750/1)
[73] سجدہ سہو میں ایک سلام پھیرنے والا بدعتی ہے۔ (ہدایہ: 750/1)
نماز کے متعلق:
[74] نماز کا منکر کافر ہے، بے نمازی کو نزدیک امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ قید رکھنا واجب ہے۔
امام شافعیؒ کے نزدیک قتل کیا جائے۔ امام شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک ایک نماز ترک کرنے والا کافر ہے۔ (در مختار: 180/1، ہدایہ:324/1- مالابد:14)
[75] صبح کی فرض کے بعد سنت پڑھ سکتا ہے۔ (ہدایہ: 694/1)
[76] التحیات میں مٹھی باندھ کر انگلی اٹھاوے۔ (ہدایہ: 502/1- شرح وقایہ)
[77] جلسہ استراحت میں مضائقہ نہیں۔ (در مختار: 259/1)
[78] صبح کی سنت پڑھنے کے بعد داہنی کروٹ پر لیٹے۔ (درمختار: 55/1- ہدایہ: 694/1)
[79] ظہر احتیاطی نہ پڑھنا بہتر ہے۔ (در مختار: 412/1)
[80] جس نے نمازِ فجر یا مغرب تنہا شروع کی اور پھر تکبیر کہی گئی تو نماز توڑ دے، اگرچہ ایک رکعت پڑھ چکا ہو۔ (شرح وقایہ: 123- ہدایہ: 28/1- کنز:159)
[81] حدیثِ صحیح ہے کہ اقامت ہونے کے بعد سوا فرض کے کوئی نماز نہیں۔ (ہدایہ: 694/1)
[82] سنت کو جماعت کے درمیان پڑھنا مکروہ ہے اور مغرب سے پہلے دو رکعت ثابت ہیں۔ نماز تحیۃ المسجد بیٹھنے سے پہلے پڑھے اور مستحب ہے وضو کے بعد دو رکعت کا پڑھنا سوائے وقتِ کراہت کے۔ (در مختار: 1 /352تا356)
[83] بعد نمازِ فجر و عصر قضا نماز پڑھ سکتا ہے۔ (ہدایہ: 367/1)
تراویح کے متعلق:
[84] تراویح میں 20 رکعت کی حدیث ضعیف ہے۔ (ہدایہ: 722/1- در مختار: 367/1- شرح وقایہ:121)
[85] تراویح 8 رکعت کی حدیث صحیح ہے۔ (شرح وقایہ:121)
[86] تراویح صحیح حدیث سے مع وتر کے 11 رکعت ثابت ہیں۔ (ہدایہ: 722/1- شرح وقایہ:122)
[87] مع وتر کے تراویح 11 رکعت سنتِ رسول اللہ ﷺ ہیں اور نہیں سنتِ خلفائے راشدین۔ (ایضاً)
جمعہ کے متعلق:
[88] جمعہ کو زوال کے وقت نفل پڑھنے جائز ہیں۔ (درمختار: 427/1، شرح وقایہ)
[89] ابوبکرؓ کا قبل زوال کے خطبہ پڑھنا ثابت ہے۔ (شرح وقایہ)
[90] جمعہ کو ایک اذان رسول اللہ ﷺ، ابوبکرؓ اور عمرؓ کے زمانہ میں تھی اور دوسری اذان عثمانؓ کے زمانہ میں شروع ہوئی۔ (درمختار: 1/424- ہدایہ)
[91] خطیب سے رسول اللہ ﷺ کا نام سن کر اپنے جی میں درود پڑھے۔ (درمختار: 1/424)
[92] خطبہ کے وقت نہ کلام ہے نہ سبحان اللہ، یہ سب سامع کو حرام ہے۔ (درمختار: 1/424)
عیدین کے متعلق:
[93] عیدین میں تکبیر جہر سے کہے یہی سنت ہے، راستہ میں اور عیدگاہ میں۔ (در مختار، ہدایہ)
[94] نمازِ عیدین میں بارہ تکبیروں کی حدیث صحیح ہے۔ (ہدایہ: 1/850- شرح وقایہ:138)
[95] مصافحہ بعد عید کے مکروہ ہے، یہ طریقہ رافضیوں کا ہے۔ معانقہ بھی بعد عید کے بے اصل اور مکروہ ہے۔ (درمختار: 1/430)
دفن کے متعلق:
[96] قبروں پر قرآن پڑھنا مکروہ اور بدعت ہے۔ (عالمگیری: 9/81- ہدایہ: 4/314)
[97] پختہ قبر نہ بنائی جائے۔ (در مختار: 1 /468، 469- کنز:192)
[98] عمارت بنانا قبر پر زینت کے لیے حرام ہے۔ (درمختار: 1/469)
[99] اولیاء اللہ کی قبروں پر بلند مکان بنانا اور چراغ جلانا بدعت ہے، حرام ہے۔ (ہدایہ: 4/315- درمختار: 4/270- مالابد:78)
[100] انبیاء اور اولیاء کی قبروں کو سجدہ کرنا اور طواف کرنا اور مراد مانگنا اور نذریں چڑھانا حرام ہیں اور کفر ہیں۔ (مالابد:82)
[101] قبر پر اذان دینا بدعت ہے۔ (بہشتی گوہر:126)
[102] قبر کو بوسہ دینا جائز نہیں کہ نصاریٰ کی عادت ہے۔ (درمختار: 4/270)
[103] تین دن سے زیادہ سوگ حرام ہے۔ (مالابد:80)
[104] اہل مصیبت کے گھر سے کھانا کھانا حرام ہے۔ (ہدایہ: 1/925)
[105] فرش بچھانا یعنی موت پر دریاں وغیرہ زمین پر بچھانا بری حرکت ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری: 1/265 -ہدایہ: 1/923)
[106] سنت سے قبر کی زیارت اور صاحبِ قبر کے لیے دعا کے علاوہ کچھ ثابت نہیں۔ (عالمگیری: 1/264)
[107] تیجا، دسواں، چالیسواں نہایت مذموم اور بدعت ہے۔ (بہشتی زیور:89/6)
[108] فاتحہ مروجہ بدعت ہے۔ (بہشتی زیور: حصہ6 ص80)
روزوں کے متعلق:
[109] شک کے دن کا روزہ نہ رکھے۔ (درمختار:553/1- شرح وقایہ: 167/1)
[110] شک کے دن کا روزہ مکروہِ تحریمی ہے، اہل کتاب کی مشابہت ہے۔ (درمختار:553/1)
نکاح کے متعلق:
[111] جو اللہ اور رسول ﷺ کو نکاح میں گواہ کرے تو نکاح درست نہیں بلکہ وہ کافر ہے۔ (درمختار:14/2- مالابد: 139)
طلاق کے متعلق:
[112] بعضوں کے نزدیک تین طلاق ایک جلسہ میں ایک طلاق ہوگی۔ (شرح وقایہ:34/2)
گم شدہ کے متعلق:
[113] زوجہ مفقود الخبر کو قاضی چار برس کے بعد تفریق کرا دے، عمرؓ، علیؓ اور عثمانؓ کا یہی فیصلہ ہے، بلکہ اس پر اجماعِ صحابہ ہے۔ (ہدایہ: 736/2)
ذبح کے متعلق:
[114] جس جانور پر نام غیراللہ کا پکارا گیا ہو اگرچہ وقتِ ذبح کے بسم اللہ اللہ اکبر کہا ہو، ذبیحہ حرام ہے۔ (درمختار: 195/4)
[115] سید احمد کبیر کی گائے، شیخ سدو کا بکرا اور اجالا شاہ کا مرغا حرام ہے۔ (درمختار: 196/3، شرح وقایہ: 49/4)
[116] نبی اور ولی کے نام سے ذبح کرنا حرام ہے۔ (شرح وقایہ:46/4)
قربانی کے متعلق:
[117] میت کی طرف سے قربانی جائز ہے۔ (درمختار، بہشتی زیور)
[118] ابوحنیفہؒ گھوڑے کو حرام جانتے تھے، مرنے سے پہلے آپ نے رجوع کیا۔ (درمختار:191/4)
شہادت کے متعلق:
[119] تارک جمعہ کی گواہی قبول نہیں، زکوٰۃ نہ دینے والے، یتیم کا مال کھانے والے، گانے والی عورت، راگ سننے والے، نشہ باز، چوسر کھیلنے والے، رنڈی باز، لونڈے باز، کبوتر باز، مرغ باز، شطرنج کھیلنے والا، سود خور، صحابہ کی بدگوئی کرنے والا ان سب کی گواہی قبول نہیں۔ (ہدایہ: 3/402- درمختار:3/ 326تا333- عالمگیری: 5/272)
قاضی کے متعلق:
[120] نص قرآنی کے خلاف جو مسئلہ ہو قاضی اس کو باطل کر دے اور نص حدیث کے خلاف جو مسئلہ ہو قاضی اس کو باطل کر دے۔ (درمختار:2/ 709-710)
حلال وحرام کے متعلق:
[121] علم راگ حرام ہے۔ (درمختار:1/25- مالابد:125)
[122] نے کا راگ، باجوں اور بانسری کی آواز سننا حرام ہے۔ (درمختار:3/ 222- ہدایہ:4/ 246- مالابد:126)
[123] پہلا گانے والا شیطان ہے۔ (درمختار:4/ 222- ہدایہ: 4/246)
[124] گانا نفاق اگاتا ہے۔ (درمختار: 4/ 222- ہدایہ:4/ 246)
[125] گانا حرام ہے اور سننا معصیت، اسی طرح قوالی۔ (عالمگیری:9/ 83- ہدایہ:3/ 316)
[126] گانا، قوالی، رقص جو ہمارے زمانہ کے صوفی لوگ کرتے ہیں، حرام ہے۔ (عالمگیری:9/ 84- ہدایہ:4/ 316)
[127] اس زمانے میں عورتوں کا ڈھول بجانا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مکروہ ہے۔ (عالمگیری:9/ 84)
[128] دعوت ولیمہ میں ناچ گانا اگر دسترخوان کے پاس ہو تو ہر ایک کو واپس آنا چاہیے۔ (درمختار: 4/ 221- ہدایہ:4/ 245- شرح وقایہ:4/ 55- کنز:379- مالابد:125)
[129] اگر جانے سے پہلے ناچ گانے کا علم ہو جائے تو وہاں نہ جائے۔ (درمختار: 4/ 221- ہدایہ:4/ 245)
[130] مولود میں راگنی سے اشعار سننا اور پڑھنا حرام ہے۔ (ہدایہ:4/247)
[131] لحن و کنگری کے ساتھ قرآن سننا معصیت اور پڑھنے والے اور سننے والے دونوں گنہگار ہیں۔ (ہدایہ:4/ 246)
[132] قرآن سے فال نکالنا حرام ہے۔ (مقدمہ ہدایہ:1/57)
[133] نقش اور طلسم حرام ہیں۔ (در مختار:1/25)
[134] تعویذ بیچنا حلال نہیں۔ (ہدایہ:4/ 313)
[135] تعویذ قرآن یا حدیث یا عربی زبان میں ہو اور اس کو متاثر حقیقی نہ جانا جائے تو جائز ہے اور جس کے معنی معلوم نہ ہوں تو جائز نہیں۔ فرشتہ یا ولی یا مخلوقات عرش کے نام ہوں تو ترک کرنا بہتر ہے۔ (در مختار:1/ 103)
[136] قرآن اگر گر جائے تو اس کے برابر اناج تولنا کوئی شرع کا حکم نہیں ہے۔ (بہشتی زیور:10/ 79)
[137] قرآن اونچی جگہ پر ہو تو اس کی طرف پاؤں پھیلانا مکروہ نہیں۔ (درمختار:1/ 344)
[138] مصحف (قرآن) بوسیدہ ہو جائے تو دفن کیا جائے۔ (درمختار:1/ 102)
[139] قرآن اگر دور رکھا ہو تو اس طرف پاؤں پھیلانا مکروہ نہیں۔ (درمختار:1/ 344)
[140] عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دعائے استعاذہ اپنی اولاد کو سکھاتے اور صغیر کے گلے میں لکھ کر ڈال دیتے تھے۔ (ہدایہ: 4/ 323)
[141] ایک روز میں قرآن ختم کرنا مکروہ ہے اور قرآن کی تعظیم کے واسطے تین روز سے کم میں ختم نہ کرے۔ (عالمگیری:9/ 21)
[142] تین دن سے کم قرآن پڑھنا مکروہ ہے۔ (شرح وقایہ:102)
[143] ادیب کا شعر پڑھنا جس میں ذکر فسق و شراب و امر دکا ہے مکروہ ہے۔ (ہدایہ:4/ 316)
[144] حکمت یونان (فلسفہ) رمل، نجوم، شعبدہ، کہانت سیکھنا حرام ہے۔ (درمختار:1/ 25)
[145] منطق سیکھنا حرام ہے (مگر مخالفین کے جواب کے لیے)۔ (در مختار:1/25)
[146] کیمیا حرام ہے۔ (در مختار:1/25)
[147] ریشمی کپڑا اور زیور بچے کو پہنانا حرام ہے۔ (درمختار:1/ 343)
[148] نوحہ کرنا اور پیٹنا اور کپڑے پھاڑنا حرام ہے۔ (مالابد:80)
[149] سلام کے وقت جھکنا مکروہ ہے، اس کی حدیث میں ممانعت آئی ہے۔ (ہدایہ:4/ 320)
[150] سلطان وغیرہ کے سامنے جھکنا ممنوع ہے کہ یہ مجوس کے ساتھ مشابہت ہے۔ (عالمگیری:9/112)۔(ہدایہ:4/ 320)
[151] مصافحہ داہنے ہاتھ سے کرنے پر اتفاق ہے۔ (ہدایہ:4/ 320)
[152] مصافحہ ایک ہاتھ سے کرنا اکثر روایات صحیحہ سے ثابت ہے۔ (ہدایہ:4/ 320)
[153] بیعت میں عورت سے مصافحہ کرنا جائز نہیں۔ (ہدایہ:4/ 267)
[154] دوست سے ملاقات کے وقت اپنا ہاتھ چومنا، جیسا جاہل لوگ کیا کرتے ہیں، بالاجماع مکروہ ہے۔ (عالمگیری:9/ 113)
[155] انگلیوں اور رکابی کا چاٹنا سنت ہے۔ (درمختار:4/ 216)
[156] برہنہ سر کھانے میں مضائقہ نہیں۔ (درمختار:4/ 216)
[157] شطرنج حرام ہے اور گنجفہ اور چوسر بالا جماع حرام ہے۔ (ہدایہ:4/ 318)
[158] کبوتر بازی اور مرغ بازی حرام ہے۔ (شرح وقایہ: 4/ 64- مالابد:129)
[159] کشتی کرنا حصولِ قوت اور جہاد جائز ہے اور بقصد بازی مکروہ۔ (شرح وقایہ:4/ 64)
[160] ننگے ہو کر نہانا اگر پردہ ہو، خواہ کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر، غسل خانہ کی چھت پڑی ہو یا نہیں، جائز ہے۔ (بہشتی زیور:1/ 44)
[161] خشک منی رگڑ ڈالنے سے پاک ہے۔ (بہشتی زیور:2/ 51)
[162] طاعون و ہیضہ وغیرہ میں اذان دینا بے وقوفی ہے۔ (ہدایہ:4/ 375)
[163] فجر کی اذان آدھی رات سے دینی درست ہے۔ (شرح وقایہ:78)
[164] اذان اور اقامت پر اور تعلیم فقہ اور دیگر عبادات پر مزدوری لینی جائز نہیں۔ (ابوحنیفہ) (درمختار:2/ 38- ہدایہ:1/ 573- شرح وقایہ:2/ 20)
[165] چغل خوروں کی امامت مکروہ ہے۔ (شرح وقایہ:1/ 10)
[166] اصل ہر شے میں اباحت ہے۔ (درمختار:1/ 60)
[167] تمباکو کی حرمت پر کوئی دلیل نہیں لیکن ترک اولیٰ ہے۔ (مقدمہ عالمگیری:1/ 126)
[168] بلی کا جوٹھا مکروہ نہیں۔ (ابویوسف رحمہ اللہ- ہدایہ:1/ 158)
[169] جوان مرد اپنی بیوی کا دودھ پی لے تو بیوی حرام نہیں ہوتی۔ (بہشتی زیور:4/ 14)
[170] خواجہ سرا سے عورت کو پردہ کرنا چاہیے۔ (در مختار:4/ 234)
[171] چھینکنے والا (الْحَمْدُ لِلہِ) کہے تو سننے والا (یَرْحَمُکَ اللہ) کہے اگرچہ دس دفعہ۔ (درمختار:1/ 401)
[172] فطرت کی دس چیزوں میں سے داڑھی بڑھانا اور مونچھیں کترانا ہے۔ (ہدایہ:1/ 71)
[173] مونچھیں کترانا سنت ہے۔ (درمختار:4/ 262)
[174] داڑھی منڈوانا اور کتروانا حرام ہے، کفار اور مجوس کی رسم ہے، عورتوں سے تشبیہ ہے۔ (درمختار:4/ 262)
[175] داڑھی ایک مشت سے کم کتروانی حرام ہے اور بڑھانی سنت ہے۔ (مالابد:130)
[176] کسی نے عمداً یا خطا داڑھی مونڈ دی اگر پوری مونڈ دی ہو تو پوری دیت اور آدھی مونڈ دی تو آدھی دیت لی جائے۔ (عالمگیری:9/ 333)
(ضرور لی جائے تاکہ نائیوں کو عبرت ہو)
[177] سر کچھ منڈانا اور کچھ چھوڑنا مکروہ ہے۔ (ہدایہ:4/ 325)
[178] لنگوری بال جو پیشانی پر بڑھائے جاتے ہیں جائز نہیں۔ (بہشتی گوہر:109)
[179] ازار آدھی پنڈلی سے لے کر ٹخنوں تک جائز ہے، ٹخنوں سے نیچے حرام ہے۔ (مالابد:110)
[180] دعا بحق ولی مانگنا مکروہ ہے، اس لیے کہ مخلوق کا کچھ حق اللہ پر نہیں ہے۔ (درمختار:4/ 255- عالمگیری:9/ 23- ہدایہ:4/ 357)
[181] شرعی احکام کا مدار خواب پر نہیں ہو سکتا۔ (درمختار: 1/ 472)
[182] شرط یک طرفہ درست ہے۔ (درمختار: 4/ 515)
[183] مردہ بدعتی کی برائی کرنا درست ہے تاکہ اور لوگ بدعت سے باز رہیں۔ (درمختار: 1/ 407)
[184] اعلانیہ گناہ کرنے والے اور بد عقیدہ کی غیبت جائز ہے۔ (درمختار: 4/ 263)
[185] رات کے وقت درخت سوتے ہیں، یہ بات غلط ہے۔ (بہشتی زیور: 10/ 89)
[186] جو بھنگ کو حلال جانے وہ ملحد اور بدعتی ہے، اس کا قتل مباح ہے۔ (درمختار: 4/ 298)
[187] جس نے مولود پڑھوانے یا مزار پر چادر چڑھوانے یا عبدالحق کا توشہ یا سید کبیر کی گائے یا مسجد میں گلے چڑھانے یا اللہ میاں کے طاق بھرنے یا بڑے پیر کی گیارہویں، مولا مشکل کشا کا روزہ، یا آس بی بی کا کونڈا کرنے کی منت مانی ہو تو اس کو پورا کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ سب واہیات وخرافات ہیں اور روزہ ماننا تو شرک ہے۔ (بہشتی زیور:3/ 37)
[188] مولود مروجّہ بدعت ہے۔ (بہشتی زیور:6/ 61)
[189] بسم اللہ کی رسم بے اصل اور لغو ہے۔ (بہشتی زیور:6/ 15)
[190] شبِ برات کا حلوہ اور دیگر رسومات اور رسوماتِ محرم سب بدعت ہیں۔ (بہشتی زیور:6/ 68)
[191] غیراللہ کی قسم کھانا قسم نہیں بلکہ شرک ہے۔ (بہشتی زیور:3/ 38)
[192] غیراللہ کی منت ماننا شرک ہے اور اس چیز کا کھانا حرام ہے۔ (بہشتی زیور:3/ 37)
حاصل بحث فقہ حنفی:
پچھلی دو بحثوں کا ماحصل یہ ہے کہ فقہ حنفی میں حق (آسمانی ہدایت یعنی قرآن وحدیث) میں باطل (یعنی خود ساختہ مسائل) شامل کر دیے گئے ہیں۔ یہ خطرناک بات ہے۔ تحقیق کی ضرورت ہے، احتیاط کی ضرورت ہے۔ کتاب حقیقۃ الفقہ کا تحقیق کے لیے ضرور مطالعہ فرمائیں، جو حافظ محمد یوسف صاحب جے پوری کی تحریر ہے اور 1340 ہجری میں لکھی گئی ہے، اب 1424ھ ہے آج تک کوئی حنفی بریلوی یا حنفی دیوبندی اس کتاب کا جواب نہیں دے سکا، حالانکہ 84 سال گزر گئے ہیں۔

