عورت کا ستر، جلباب اور پردہ کے احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

عورتوں کا ستر

گزشتہ بحث سے معلوم ہو گیا کہ جسم کا وہ حصہ جس کا کھولنا عورت کے لیے جائز نہیں ہے، وہ ستر ہے جس کا چھپانا واجب اور کھولنا حرام ہے۔
عورت کا ستر اجنبی مرد اور غیر مسلم عورتوں کے لحاظ سے اس کا پورا جسم ستر ہے بجز چہرے اور ہتھیلیوں کے کہ ان دونوں کا کھولنا جیسا کہ امام رازی رحمہ اللہ نے کہا ہے معاملات اور لین دین کی ضرورتوں کے پیش نظر جائز ہے۔ جس حصہ جسم کو کھولنے کی واقعی ضرورت نہیں ہے اسے چھپانے کا حکم دیا گیا ہے اور جو حصہ جسم معمولاً کھلا رہتا ہے اور ضرورتاً اس کو کھولنا ہی پڑتا ہے اس کو کھولنے کی اجازت انہیں دی گئی ہے۔ کیونکہ اسلام کے شرعی احکام حنیفیت اور وسعت پر مبنی ہیں۔
امام رازی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
چونکہ چہرہ اور ہتھیلیوں کا کھلا رہنا ایک ضروری سی بات ہے اس لیے فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ منتر میں داخل نہیں ہیں۔ رہے قدم تو ان کا کھلا رہنا کچھ ضروری نہیں ہے اس لیے اس بارے میں اختلاف ہوا کہ وہ ستر میں داخل ہیں یا نہیں۔“
تفسير الرازي – ج 23 ص 205-206
اور عورت کا ستر مذکورہ بالا بارہ اصناف کے تعلق سے باطنی زینت کی جگہوں مثلاً کان بال گردن سینہ ہاتھ اور پنڈلیوں کے سوا بقیہ حصہ جسم ستر ہے۔ کیونکہ آیت کی رو سے مذکورہ بالا اصناف کے سامنے اظہار زینت جائز ہے۔ لیکن بقیہ حصہ جسم مثلاً پیٹھ پیٹ، شرمگا ہیں اور رانیں تو ان کا کھولنا کسی بھی عورت یا مرد کے سامنے جائز نہیں ہے، بجز شوہر کے۔
آیت کا یہ مفہوم بعض ائمہ کے اس مسلک سے قریب تر ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ عورت کا ستر محرموں کے لیے صرف ناف اور گھٹنے کے درمیان کا حصہ ہے اور عورت کا ستر عورت کے لیے بھی اسی حد تک ہے۔ بلکہ آیت کا مدلول بعض علماء کے اس قول سے قریب تر ہے کہ عورت کا ستر محرم کے لیے جسم کا وہ حصہ ہے جو کام کاج کے وقت کھلا نہیں رہتا، لیکن جو جسم کا حصہ گھر میں کام کاج کے وقت معمولاً کھل جایا کرتا ہے اس کا دیکھنا محرم کے لیے جائز ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ باہر نکلتے وقت اپنے اوپر بڑی چادر ڈال لیا کریں تاکہ وہ کافر اور فاجر قسم کی عورتوں کے مقابلہ میں ممتاز ہوسکیں۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اس پیغام الہی کو امت تک پہنچا دیں۔
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ
”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادر ڈال لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تا کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں پریشان نہ کیا جا سکے۔“
سورۃ الاحزاب : 59
جلابیب یہ جلباب کی جمع ہے، جس کے معنی کشادہ کپڑے کے ہیں، جیسے برقع جسے عورتیں پردہ کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
بعض خواتین جاہلیت جب گھروں سے نکلتیں تو اپنے بعض محاسن، سینہ گردن اور بال وغیرہ کھلے رکھتیں، فاسق اور بے کار لوگ ان کے پیچھے پڑ جاتے۔ ان حالات میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس نے مؤمن خواتین کو حکم دیا کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر ڈال لیا کریں، تاکہ جسم کے یہ حصے ڈھک جائیں اور ظاہری ہیئت سے وہ پہچان لی جائیں کہ مومنہ عفیفہ ہیں، لہذا کوئی منافق یا بے حیاء آدمی انہیں ایذاء پہنچانے کی جرات نہ کر سکے۔
آیت میں پردہ کرنے کی جو علت بیان کی گئی ہے اس سے واضح ہے کہ یہ حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ فاسقوں کی طرف سے اذیت اور بے حیاء لوگوں کی طرف سے نظر بازی کا اندیشہ تھا وزنہ فی الواقع خود ان خواتین کی طرف سے کوئی اندیشہ نہیں تھا اور نہ ان پر اعتماد میں کوئی کمی تھی، لیکن جو عورت اپنی زینت اور کپڑے دکھاتی پھرتی ہے یا ناز نخرے سے چلتی ہے یا نرم و نازک باتیں کرتی ہے، وہ ہمیشہ مردوں کے اندر اکساہٹ پیدا کرتی ہے اور چھیڑ خوانی کرنے والوں کے دلوں میں بُری خواہش پیدا کرتی ہے بمصداق اس آیت کریمہ :
فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ
” دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ بری خواہش کرنے لگے۔“
سوره الاحزاب : 32
یہ حقیقت ہے کہ اسلام نے مسلم خواتین کے پردہ اور تحفظ کے معاملہ میں شدت برتی ہے اور اس میں رخصت نہیں دی سوائے اس کے کہ بوڑھی عورتوں کے لیے احکام میں قدرے تخفیف کر دی ہے۔ فرمان الہی ہے :
وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَن يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ ۖ وَأَن يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
”اور بوڑھی عورتیں جو نکاح کی امید نہ رکھتی ہوں، وہ اگر اپنی چادریں اتار کر رکھ دیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہے بشرطیکہ وہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ لیکن اگر وہ اس سے احتیاط برتیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔“
سوره النور : 60