غلاموں سے درگزر کرنا
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں خادم سے کس قدر درگزر کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اعف عنه كل يوم سبعين مرة
”ہر روز اس سے ستر مرتبہ درگزر کرو۔“
ابو داؤد، کتاب الأدب 5164، ترمذی، کتاب البر والصلة 1949، روایت حسن ہے۔
نظر پست رکھنے کے احکامات
① سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إياكم والجلوس فى الطرقات
”راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس میں تو ہم مجبور ہیں وہی تو ہماری بیٹھنے اور بات چیت کرنے کی جگہیں ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فإذا أبيتم إلا الجلوس فأعطوا الطريق حقه
”اچھا پھر اگر ایسی ہی کوئی مجبوری ہے تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
غض البصر وكف الأذى ورد السلام والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر
”نگاہیں پست رکھنا، تکلیف نہ پہنچانا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا“۔
بخاری، کتاب المظالم وغضب 2465. مسلم، کتاب الباس والزینۃ 2121.
کثرت و بہتات کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المؤمن غر كريم والفاجر خب لئيم
”مومن سادہ لوح شریف ہوتا ہے جبکہ فاجر دھوکہ باز ذلیل ہوتا ہے“۔
ابو داؤد، کتاب الأدب 4790، ترمذی، کتاب البر والصلة 1964، روایت حسن ہے۔
مسلمان کی ضرورتیں پوری کرنا
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه، من كان فى حاجة أخيه كان الله فى حاجته، ومن فرج عن مسلم كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة، ومن يسر على معسر يسر الله عليه فى الدنيا والآخرة، ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة
”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے ظلم کے سپرد کرتا ہے۔ جو شخص اپنے کسی بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں مصروف ہوتا ہے تو اللہ اس کی ضرورت پوری کرنے میں ہوتا ہے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی دنیا کی کوئی مصیبت دور کرتا ہے تو اللہ اس سے قیامت کے دن کی کوئی تکلیف دور کرے گا۔ جو شخص کسی تنگ دست کو آسانی فراہم کرتا ہے تو اللہ اسے دنیا و آخرت میں آسانی فراہم کرے گا۔ جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا“۔
بخاری، کتاب المظالم وغضب 2442، مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2580، ابو داؤد، کتاب الأدب 4893۔