عقائد اہل السنۃ والجماعۃ
سوال: قرآن مجید میں بنی اسرائیل کے بارے میں آیا ہے کہ وہ کافروں کے خلاف فتح کی دعا کیا کرتے تھے؛ کیا اس آیت سے نبی کریم ﷺ کا واسطہ دے کر دعا کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہے؟
جواب: یہ آیت (البقرۃ:89) نبی کریم ﷺ کا واسطہ دے کر دعا کرنے کی دلیل نہیں ہے۔ اس آیت میں یہود کا ذکر ہے کہ وہ نبی آخر الزمان ﷺ کی آمد سے پہلے کافروں کے مقابلے میں فتح کی امید رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ جب آخری نبی آئیں گے تو ہم ان کے ساتھ مل کر تم پر غالب آئیں گے۔
اس آیت میں کہیں یہ بات موجود نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یوں دعا کرتے تھے کہ ’’اے اللہ! فلاں کے واسطے سے ہماری مدد فرما۔‘‘ لہٰذا اس آیت کو نبی کریم ﷺ کا واسطہ دے کر دعا کرنے کی دلیل بنانا درست نہیں۔
سوال: کیا سورۃ النساء کی آیت 64 وفاتِ نبوی ﷺ کے بعد قبرِ نبوی پر جا کر مغفرت طلب کرنے کی دلیل ہے؟
جواب:[جَاءُوْكَ] سے آپ ﷺ کے پاس آنا مراد ہے، یہاں قبرِ نبوی مراد نہیں ہے۔ اس آیت میں بھی [جَاءُوْكَ] کا لفظ ہے: [وَ اِذَا جَآءُوۡکَ حَیَّوۡکَ بِمَا لَمۡ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ] اور جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے اللہ نے آپ کو دعا نہیں دی اس سے آپ کو دعا دیتے ہیں۔ (المجادلة:8)
دونوں آیتوں سے مراد آپ کی زندگی کا وقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی صحابی، تابعی یا امام سے یہ ثابت نہیں کہ کسی نے قبر پر آ کر آپ کے وسیلہ سے استغفار کیا ہو۔
سوال: کیا عتبی کے واقعے سے قبرِ نبوی پر جا کر سفارش یا وسیلہ طلب کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہے؟
جواب: اس سلسلے میں عتبی کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک اعرابی قبرِ نبوی پر آیا، سلام کیا، سورۃ النساء کی آیت 64 پیش کی، اور کہا کہ میں اپنے رب کے حضور آپ کی سفارش لینے آیا ہوں۔ پھر عتبی کے خواب میں رسول اللہ ﷺ آئے اور اعرابی کو مغفرت کی خوشخبری سنانے کا کہا۔ (ابن کثیر) یہ قصہ من گھڑت ہے۔ عتبی کی توثیق کسی نے نہیں کی اور اس کی سند میں محمد بن حرب الہلالی ہے، نامعلوم کون ہے، کہیں اس کا ذکر نہیں۔ جب سند کا حال معلوم نہ ہو تو اس مجهول روایت کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔