مضمون کے اہم نکات
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جماعت اسلامی کا نظریۂ حدیث
بقلم: مولانا محمد اسماعیل گوجرانوالہ
الحمد للہ و کفیٰ و سلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ
عرصہ ہوا مولانا مودودی صاحب نے ایک مضمون ”مسلکِ اعتدال“ کے عنوان سے لکھا جس پر عامۃ المسلمین میں مولانا اور ان کی جماعت کے متعلق کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور یہ قصہ اخبارات میں کافی دیر تک چلتا رہا کہ حجیتِ حدیث اور سنّتِ رسول پر اعتماد کے متعلق جماعت اسلامی کا موقف کیا ہے؟ بحث و نظر کا یہ سلسلہ ابھی تھمنے نہیں پایا تھا کہ مولانا مودودی جیل سے تشریف لاتے ہی مختلف مقامات پر چند تقریریں فرما دیں۔ نیت کا علم تو اللہ کو ہے مگر ان تقاریر سے فضا میں تموج اور تیزی ہی آ گئی۔
جماعت اسلامی کے جرائد نے اپنی قیادت کی حمایت میں جرأت اور تہور سے کام لے کر خاصی گرمی پیدا کر دی۔ غالباً ان حالات سے متاثر ہو کر کسی اہلِ حدیث نے کچھ سوالات کیے جن کا جواب مولانا اصلاحی کے قلم سے اکتوبر 55ء کے ترجمان القرآن میں شائع ہوا۔ مولانا اصلاحی کے لب و لہجہ میں ممکن ہے کچھ فرق ہو، مقصد کے لحاظ سے مولانا اصلاحی کے نظریات، مولانا مودودی سے چنداں مختلف نہیں۔ حدیث کے متعلق دونوں بزرگ قریباً ایک ہی طرح سے سوچتے ہیں۔
❀ جماعتِ اہل حدیث کے احساسات کا ایک خاص مقام ہے اور قریباً ایک صدی سے جس نہج پر ان حضرات نے فنِ حدیث اور سنّت کی خدمت کی ہے اس کا یہ لازمی نتیجہ ہے۔ جماعتِ اسلامی کا طریقِ فکر اس سے مختلف ہے اس لیے اہل حدیث کا اس سے ناگوار تاثر بالکل قدرتی تھا اور ایک گونہ تصادم اس کا طبعی نتیجہ ان جوابات سے اس اہل حدیث سائل کی کہاں تک تسکین ہوئی! اس کا علم نہیں ہو سکا، لیکن میرے تاثرات یہ ہیں کہ ان جوابات سے نہ کوئی اہلِ حدیث مطمئن ہو سکتا ہے نہ عامۃ المسلمین، بلکہ خود مجیب بھی شاید مطمئن نہ ہوں۔
ذہنی انتشار:
"مسلکِ اعتدال” قریباً تیرہ صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ پورا مضمون پڑھ لینے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنفِ علّام جو کچھ لکھ رہے ہیں اس پر خود بھی مطمئن نہیں۔ پورے مضمون میں ذہنی انتشار نمایاں ہے۔ اس مضمون کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
پہلا حصہ:
پہلے حصے میں مولانا منکرینِ حدیث سے اتفاق فرماتے ہیں کہ:
احادیث ظنی ہوتی ہیں اور ظنی چیز ثابت شدہ نہیں ہوتی، لیکن کسی چیز کا ثابت شدہ نہ ہونا یہ کب معنی رکھتا ہے کہ وہ ردی کر دینے کے قابل ہو۔ (تفہیمات ص 312) اس لیے حدیث کو کلیۃً رد کر دینا درست نہیں۔
ارشاد ہے:
معلوم نہیں مولانا کس زبان میں گفتگو فرما رہے ہیں؟ شرعی اصطلاح تو یہی ہے کہ غیر ثابت شدہ مسائل کو رد کر دیا جائے۔ پھر یہ ارشاد کہ ”ظنی چیز ثابت شدہ نہیں ہوتی اگر ظن بمعنی وہم ہے تو ارشاد درست ہے، لیکن قرآنِ حکیم نے ظن کو وہم کے مرادف صرف اس وقت فرمایا جب وہ حق کے مقابل ہو [اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ الۡحَقِّ شَیۡئًا] [سورۃ یونس:35]
قرآن میں ظن حقیقتِ ثابتہ کے معنی میں بھی استعمال ہوا:
❀ [وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ نُّعۡجِزَ اللّٰہَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَنۡ نُّعۡجِزَہٗ ہَرَبًا]
یہ قطعی حقیقت ہے کہ ہم زمین میں خدا تعالیٰ کو عاجز کر سکتے اور نہ ہی اس کی بارگاہ سے بھاگ سکتے ہیں۔ (الجن:12)
❀ [الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمۡ]
انہیں یقین ہے وہ اللہ سے ملیں گے۔ (البقرة:46)
❀ [وَّ ظَنَّ اَنَّہُ الۡفِرَاقُ]
اسے یقین ہوتا ہے کہ اب جدائی کا وقت ہے۔ (القيامة:28)
❀ [اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِکَ اَنَّہُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ]
کیا انہیں یقین نہیں کہ وہ اٹھائے جائیں گے۔ (المطففين:4)
❀ [وَ ظَنَّ اَہۡلُہَاۤ اَنَّہُمۡ قٰدِرُوۡنَ]
ان کو یقین ہو گیا کہ وہ اس پر قادر ہیں۔ (يونس:24)
راغب نے ظن کے متعلق ایک قاعدہ ذکر فرمایا ہے:
[الظن اسم لما يحصل عن امارة ومتى قويت الدت الى العلم ومتى ضعفت جدا لم يتجاوز حد التوهم ومتى قوی او تصور القوی استعمل معه ان المشددة وان المخففة الخ]
ظن اس (علم) کا نام ہے جو علامات اور قرائن سے حاصل ہو جب یہ قرائن پختہ ہوں تو ان سے علم و یقین حاصل ہوتا ہے، کمزور ہوں تو وہم سے کم نہیں، جب یہ قرائن قوی ہوں یا ان کے قوی ہونے کا خیال ہو تو ان کے اُن مشددہ اور مخففہ استعمال ہوتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ ظن کو علیٰ الاطلاق غیر ثابت شدہ کہنا قطعاً غلط ہے اور اس نظریہ پر جو نتائج مرتب ہوں گے وہ بھی غلط ہی ہوں گے۔ اصل حکم ان امارات اور قرائن پر ہو گا جن سے ظن حاصل ہوا۔
مظنونات کو من حیث الکل قبول کر لینا جس درجہ کی غلطی ہے اسی درجہ کی غلطی میں حیث الکل رد کر دینا بھی ہے۔ [تفہیمات: ص 314]
مصنف کی وضاحتی تعلیق:
ائمہ حدیث کی اصطلاح میں ظن، علم کے ایک خاص مرتبہ کا نام ہے۔ متواتر سے بدیہی علم حاصل ہوتا ہے۔ احادیث میں جب قرائنِ صدق موجود ہوں۔ ان قرائن کے قوت و ضعف کے پیشِ نظر جو علم حاصل ہوا اسے وہ ظن سے تعبیر کرتے ہیں۔ ائمہ نے اس علم کے متعلق فرمایا کہ یہ موجبِ عمل ہے پھر جن ائمہ نے تواتر میں عدد کے علاوہ اوصافِ رواۃ کو بھی ملحوظ رکھا ہے یا جن روایات کو تلقی بالقبول کا مقام حاصل ہو ان سے علمِ نظری حاصل ہونا بھی مسلم ہے۔ گویا یہ ایسا ظن ہے جس سے علمِ نظری حاصل ہو سکتا ہے۔ مولانا غور فرمائیں آیا غیر ثابت شدہ چیز موجبِ عمل ہو سکتی ہے یا اسے علمِ نظری حاصل ہو سکتا ہے؟ عام اہل قرآن ظن کو وہم کے مرادف سمجھ کر اسے غیر ثابت شدہ تصور کرتے ہیں۔ مولانا نے ذراسی ذهول یا مسامحت سے اسی غلط استعمال کی بنا پر ہر ظن کو غیر ثابت شدہ فرما دیا۔ جب اس کے نتائج پر نظر پڑی تو غیر ثابت شدہ کو قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ [صلت علی الاسد و بلت عن النقد] ائمہ فن کی اصطلاح کے مطابق ظن علم کے اس مرتبہ کا نام ہے جو ہدایت سے کم، بو علمِ نظری اور اس کے جملہ مراتب اس میں شامل ہیں۔ ان قرائن کی بنا پر محدثین نے قوۃ اور ضعف کے مراتب متعین فرمائے ہیں۔
مولانا کا مشورہ یہ ہے کہ منکرینِ حدیث کو پورے ذخیرہ کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ (میرا خیال ہے منکرینِ حدیث سے پرویز پارٹی شاید مولانا کی تجویز سے اتفاق کر لے)
✿ اس کے بعد مولانا فرماتے ہیں کہ: آحاد کو رد کرنے سے دین میں جامعیت نہیں رہے گی، قرآن سے متواتر احادیث سے اسلام کا مکمل نظامِ حیات نہیں مل سکتا، صرف آحاد ہی ہیں جو ہم تک ہدایات کا عظیم الشان ذخیرہ بہم پہنچاتی ہیں۔ [تفہیمات ص 316]
یہ اندازِ بیان کتنا ہی معذرت خواہانہ کیوں نہ ہو مگر درست ہے۔ طریقِ ادا میں کتنی مسکنت اور کمزوری ہو مگر مجاراتِ مع الخصم کے طریق پر مولانا نے جو فرمایا مناسب ہے۔ طریقِ ادا سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر جو فرمایا کافی حد تک صحیح ہے۔
دوسرا حصہ:
دوسرے حصے میں مولانا ائمہ حدیث اور ان کی خدمات کی تعریف فرماتے ہیں۔
حدیث کی حفاظت کے ذرائع کو بھی قرآن کی غیر معمولی حفاظت کے ذرائع کی طرح بے نظیر کہتے ہیں، اصولِ محدثین کی تعریف فرماتے ہیں لیکن اس پر بے اطمینانی کا اظہار فرماتے ہیں۔
چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
وہ بہرحال تھے تو انسان ہی، انسانی علم کے لیے جو حدیں فطرۃ اللہ نے مقرر کر رکھی ہیں ان سے آگے تو وہ نہیں جا سکتے تھے۔ انسانی کاموں میں جو نقص فطری طور پر رہ جاتا ہے اس سے تو ان کے کام محفوظ نہ تھے۔ [تفہیمات ص 318]
اس کے بعد تتبعینِ حدیث پر تنقید فرماتے ہیں کہ:
ان (محدثین) کی نگاہ میں احادیث کے معتبر یا غیر معتبر ہونے کا جو معیار ہے ٹھیک ٹھیک اسی معیار کی ہم (اہلِ حدیث) بھی پابندی کریں۔ مثلاً مشہور کو شاذ پر، مرفوع کو مرسل اور مسلسل کو منقطع پر لازم ترجیح دیں۔ [تفہیمات ص 318]
✿ بالکل بجا، مگر سوال یہ ہے کہ تواتر کی صورت میں جو یقین کا سرمایہ موجود ہے وہ بھی تو آخر انسان ہی ہیں، ان کے لیے بھی فطری حدود متعین ہیں۔ اگر یہ تنقید درست ہے تو قرآن اور سنّتِ متواترہ کے یقین کو بھی ظن ہی کے مرادف سمجھنا چاہیے۔ گویا انسان کی فطری حدود کے اندر یقین کا وجود ناپید ہے۔ مولانا کے ذاتی خیالات یقیناً یہ نہیں ہونگے مگر ان کے استدلال کی انتہا یہی ہے۔ ائمہ حدیث اور ان کی مساعی اور فنِ حدیث کے متعلق مولانا نے جو کچھ ایک ہاتھ سے دیا تھا اسے دوسرے ہاتھ سے واپس لے لیا، بلکہ ان کے نزدیک انسانیت کی لغت میں یقین کا لفظ ایک بے معنی لفظ ہے۔
اصولِ حدیث کے متعلق اہل حدیث اور متبعینِ حدیث کی ترجمانی مولانا نے جس طرح فرمائی ہے وہ قطعاً غلط ہے۔ ائمہ حدیث اور متبعینِ حدیث نے کبھی یہ دعویٰ نہیں فرمایا کہ یہ اصول تنقید آخری ہیں، ان پر اضافہ ناممکن ہے، بلکہ ہماری نظر میں اصولِ حدیث ایک متحرک فن ہے، وہ بتدریج اس حد تک پہنچا جہاں وہ آج موجود ہے۔ اگر کسی معقول اصل کا اس میں اضافہ فرمایا جائے تو فن میں اس کی گنجائش ہے۔ البتہ یہ شکایت بجا ہے کہ آج تک اس میں اضافہ کی جو کوشش کی گئی اس کی بنیادیں ازبس کمزور ہیں اور اسے اصول کی حیثیت سے قبول کرنا سخت مشکل ہے ان میں تعمیر کے بجائے تخریب ہے ۔ آپ نے اور آپ سے پہلے بھی بعض بزرگوں نے ”درایت“ کا نام لیا مگر اس کی اساسی حیثیت کیا ہے اس کا تذکرہ نہ ان حضرات نے کیا نہ آپ نے۔ بلکہ آپ خود بھی اس پر مطمئن نظر نہیں آتے۔ غرض حدیث اور فنِ حدیث کی مولانا نے جس قدر حوصلہ افزائی ازراہِ عنایت فرمائی تھی اس کی عمارت آپ ہی کے مبارک ہاتھوں سے پیوندِ خاک ہو گئی اور جناب ہی کے قلم سے منکرینِ حدیث کا کیس مضبوط ہو گیا۔ [وماہی بادل قارددة كسرت]
تیسرا حصہ:
اس حصے میں مولانا نے فقہائے اسلام کی بہت تعریف فرمائی، ان کو حق دیا کہ محدثین کے اصول کا تقاضا چاہے کچھ ہو مگر فقہاء کو حق پہنچتا ہے کہ وہ ضعیف پر عمل کریں، مرسل کو ترجیح دیں، منقطع کو قبول کریں۔ مولانا یہاں قادیانی شاعری کا لبادہ زیبِ تن فرماتے ہیں۔ فقیہ کا تعارف اس انداز سے کراتے ہیں کہ:
اس کی روح روحِ محمدی میں گم ہو جاتی ہے، اس کی نظر بصیرتِ نبوی کے ساتھ متحد ہو جاتی ہے، اس کا دماغ اسلام کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ [تفہیمات ص324]
پھر فرماتے ہیں:
اس مقام پر پہنچ جانے کے بعد انسان استاد کا زیادہ محتاج نہیں رہتا، وہ استاد سے مدد ضرور لیتا ہے مگر اس کے فیصلے کا مدار استاد پر نہیں ہوتا۔ وہ بسا اوقات ایک غریب، ضعیف، منقطع السند، مطعون فیہ حدیث کو بھی لے لیتا ہے، اس لیے کہ اس کی نظر اس افتادہ پتھر کے اندر ہیرے کی جوت دیکھ لیتی ہے۔۔۔۔۔ الخ (ص324)
❀ فقہائے اسلام کے مقام کی رفعت میں کلام نہیں لیکن "مسلکِ اعتدال” کے آخری صفحات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے قطعی بے دلیل ہے اور محض شاعری، معاملہ صرف طریقِ فکر کے اختلاف کا ہے، نہ کوئی ہیرا ہے نہ جوت۔ مگر یہ محل جو شاعرانہ پرواز سے تعمیر ہوا تھا اسے بھی پیوندِ خاک فرماتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے:
”یہ چیز چونکہ سراسر ذوقی ہے اور کسی ضابطہ کے تحت نہیں آتی، نہ آ سکتی ہے اس لیے اس میں اختلاف کی گنجائش پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔“۔۔۔۔۔ الخ [تفہیمات: ص324]
پھر یہ ہیرے کی جوت کیسے ہوئی؟ یعنی فقہائے اسلام کا طریقِ فکر بھی ذوقی ہے کوئی اصول نہیں۔
اب کوئی بتائے ان تیرہ صفحات میں مولانا نے ہمیں کیا دیا یا اور کون سی اعتدال کی راہ بتائی؟ منکرینِ حدیث دریافت کرتے ہیں کہ حضرت نے اس قدر ملامت کے بعد ہمیں کیا عنایت فرمایا؟ آپ اور ہم میں نقطۂ امتیاز کیا ہے۔
مولانا اصلاحی:
مولانا اصلاحی مستند اور پختہ کار عالم ہیں، مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ جیسے صاحبِ فکر سے انہوں نے استفادہ فرمایا ہے۔ آپ نے اپنے ارشادات میں قریباً وہی سب کچھ فرمایا ہے جو مسلکِ اعتدال میں کہا گیا ہے۔ مگر ذہن اور خیالات کی پراگندگی کو الفاظ کی سطح پر نمایاں نہیں ہونے دیا۔ لیکن فضا کی گرمی اور اخبارات کی تیز تنقیدات سے ذہن متاثر ہے۔ بعض مقامات پر لہجہ خاصا تند ہو گیا ہے۔ طبعی متانت اور فطری سنجیدگی کے باوجود مولانا بعض ایسی چیزیں فرما گئے کہ اگر نہ فرماتے تو بہتر ہوتا۔ ایک متین آدمی کے لیے اس قدر نیچے آ جانا کوئی اچھی مثال نہیں۔
ایک ضروری وضاحت:
زیرِ قلم گزارشات سے مقصد کچھ اپنے مسلک کی وضاحت ہے اور کچھ ان بزرگوں کے ارشادات اور ان کے مضر اثرات کی نشاندہی، تاکہ یہ ظاہر ہو سکے کہ حدیث اور سنت کی حمایت میں وہ راہ صحیح ہے جسے جماعتِ اسلامی کی قیادت نے اختیار فرمایا، یا وہ مسلکِ درست ہے جس کی نشاندہی ائمہ حدیث اور سلفِ امت نے فرمائی ہے۔ اسلام کی وسعت اور ہمہ گیری ان حضرات کے طریقِ فکر سے ظاہر ہوتی ہے یا اہل حدیث کے طریقِ فکر سے جن مقاصد کی تحصیل اور تکمیل آپ حضرات برسوں سے فرما رہے ہیں اس کی کفالت اہل حدیث کا مسلک کر سکتا ہے یا آپ کے یہ محتاط اور منقبض خیالات۔
جہاں تک مولانا اصلاحی اور مولانا مودودی کی ذات کا تعلق ہے یا ان کی اصلاحی مساعی کا، میرے دل میں ان کے لیے پورا احترام ہے۔ گذشتہ ایام میں بعض اخباری اندازِ تحریر سے فضا میں جو تمازت پیدا ہو گئی تھی میں طبعاً اسے ناپسند کرتا ہوں۔ دین پسند جماعتوں کے تخاطب میں یہ ترشی بھی نہیں آنی چاہیے اور موجودہ ظروف و احوال تو اس کے لیے قطعاً ناسازگار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دین پسند جماعتیں جس قدر بھی باہم دست و گریبان ہونگی باطل کو اسی قدر فائدہ پہنچے گا۔
"مسلکِ اعتدال” اور مولانا اصلاحی کے ارشادات پر کئی وجوہ سے گفتگو کی جا سکتی ہے، لیکن میں نے کوشش کی ہے کہ زیرِ قلم گزارشات، حدیث اور اس کے متعلقات تک محدود رہیں تا کہ اس موضوع پر ہم ایک دوسرے کو قریب سے سمجھ سکیں۔
"مسلکِ اعتدال” آج سے کئی سال پہلے بھی پڑھا تھا، اب پھر پڑھا ہے، اس میں نہ کوئی علمی اور فنی خوبی ہے اور نہ کوئی اصلاحی نکتہ۔ مولانا اصلاحی نے کئی سال کے بعد اس کی نوک پلک کچھ درست فرمانے کی کوشش فرمائی ہے، قصورِ علم کے اعتراف کے ساتھ عرض ہے کہ اس میں بھی اطمینان کا کوئی سامان نہیں اور بے حد مناسب ہو گا کہ یہ بےمضمون تفہیمات سے بالکل قلم زد کر دیا جائے۔
حدیث اور سنت:
ائمہ حدیث اور فقہاء رحمہم اللہ نے حدیث اور سنت کو خاص معانی میں بھی استعمال فرمایا ہے، لیکن جہاں وہ اصول اور ادلہ کا ذکر فرماتے ہیں وہ انہیں ہم معنی اور مرادف سمجھتے ہیں۔ عنوان اور ابواب میں تو بعض اوقات "خبر” کا لفظ بھی استعمال فرماتے ہیں جو ان دونوں سے عام ہے مگر مقصد وہی ہوتا ہے جسے عرفِ عام میں سنت یا حدیث کہا جاتا ہے۔ منکرینِ حدیث اسی معنی سے حدیث کا انکار کرتے ہیں۔ سنت پر جرح اور اعتراض کرتے ہیں۔ اصولِ حدیث اور اصولِ فقہ کی مختصرات اور مطولات پر ایک نظر ڈالئے، وہ ان الفاظ کے مصطلح مفہوم میں نہ سکیڑ پیدا کرتے ہیں نہ اپنے موقف سے سرِ مو انحراف۔ [شکر اللہ مساعیہم] لیکن مولانا اصلاحی صاحب نے سنت کے مفہوم کو بالکل سکیڑ دیا ہے۔
سنت ائمہ سنت کی نظر میں:
[1] [السنۃ وہی تطلق على قول الرسول عليه السلام وعلى فعله والحديث مختص بقوله] سنت کا اطلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل دونوں پر ہوتا ہے، جبکہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے ساتھ مخصوص ہے۔ [تلویح علی التوضیح ص30 قولِ کشور]
[2] [يطلق لفظ السنۃ على ما جاء منقولا عن رسول الله ﷺ من قول او فعل او تقرير] سنت کا لفظ اس چیز پر بولا جاتا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے قول، فعل یا تقریر کی صورت میں منقول ہو۔ [اصول الفقه للخضری: ص257]
[3] [السنۃ فى عرف المحدثین وجمهور اهل الشرع كل ما صدر عن الرسول ﷺ من قول او فعل او تقرير سواء صدر عنه باعتباره رسولا ام باعتباره انسانا من البشر] محدثین اور جمہور اہلِ شرع کی اصطلاح میں سنت سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے صادر ہوئیں، خواہ وہ قول ہو، فعل ہو یا تقریر؛ اور خواہ وہ آپ ﷺ سے بحیثیتِ رسول صادر ہوئی ہوں یا بحیثیتِ انسان۔ [فقه الاسلام حسن احمد خطیب: ص69]
[4] [(السنۃ) اما شرعا فهى قول النبى ﷺ وفعله وتقريره] شرعی اصطلاح میں سنت سے مراد نبی کریم ﷺ کا قول، فعل اور تقریر ہے۔ [حصول المامول: ص22]
[5] [اما السنۃ فتطلق فى الاكثر على ما اضيف الى النبى ﷺ من قول او فعل او تقرير فهى مرادفة للحديث عند علماء الاصول] سنت کا لفظ زیادہ تر اس چیز پر بولا جاتا ہے جو نبی کریم ﷺ کی طرف قول، فعل یا تقریر کی صورت میں منسوب ہو، لہٰذا اصولیین کے نزدیک سنت حدیث کے مترادف ہے۔ [توجیه النظر للجزائری: ص3]
[6] [اما السنۃ فهى لغۃ الطريقۃ واصطلاحا مرادفة لحديث بالمعنى المتقدم الذى هو كل ما اضيف الى النبى ﷺ] سنت کے لغوی معنی طریقے کے ہیں، جبکہ اصطلاح میں یہ حدیث کے مترادف ہے، اور حدیث سے مراد وہ سب کچھ ہے جو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کیا جائے۔ [لقط الدرر: ص4]
[7] [والسنۃ ههنا ما صدر عن النبى ﷺ غير القرآن من قول ويسمى الحديث او فعل او تقرير] یہاں سنت سے مراد وہ چیز ہے جو نبی کریم ﷺ سے قرآن کے علاوہ صادر ہوئی ہو، خواہ قول ہو — جسے حدیث کہا جاتا ہے — یا فعل ہو یا تقریر۔ [القول المامول فى فن الاصول: ص78]
[8] [والسنۃ هى المرويۃ عن رسول الله قولا وفعلا] سنت وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ سے قول یا فعل کی صورت میں روایت کی گئی ہو۔ [رسالہ اصول لزین الدین الحلبی 808ھ ص16]
[9] [والسنۃ ما ورد عن النبى ﷺ من قول غير القرآن او فعل او تقرير] سنت سے مراد وہ چیز ہے جو نبی کریم ﷺ سے منقول ہو، خواہ قرآن کے علاوہ کوئی قول ہو، یا فعل ہو، یا تقریر۔ [قواعد الاصول لصفى الدين حنبلی 684ھ ص91]
[10] [والسنۃ لغة العادۃ وشريعۃ مشترك بين ما صدر عن النبى ﷺ من قول او فعل او تقرير وبين ما داظب عليه النبى ﷺ بلا وجوب] لغت میں سنت کے معنی عادت کے ہیں، جبکہ شرعی اصطلاح میں اس کا اطلاق نبی کریم ﷺ سے صادر ہونے والے قول، فعل یا تقریر پر بھی ہوتا ہے اور اس عمل پر بھی جس پر نبی کریم ﷺ نے وجوب کے بغیر پابندی کے ساتھ عمل فرمایا ہو۔ [تعريفات للجر جانی: ص82]
[11] [والسنۃ لغۃ العادۃ وههنا ما صدر عن رسول الله ﷺ غير القرآن من قول او فعل او تقرير كذا فى شرح المختصر] لغت میں سنت کے معنی عادت کے ہیں، اور یہاں اس سے مراد وہ چیز ہے جو رسول اللہ ﷺ سے قرآن کے علاوہ قول، فعل یا تقریر کی صورت میں صادر ہوئی ہو۔ شرح المختصر میں بھی اسی طرح مذکور ہے۔ [ص66، ج:2، مسلم الثبوت]
[12] [السنۃ هى قول الرسول ﷺ او فعله] سنت رسول اللہ ﷺ کے قول یا آپ ﷺ کے فعل کو کہتے ہیں۔ [منہاج للبیضاوی 685ھ ص61]
[13] [وانما اختار لفظ السنۃ دون لفظ الخبر كما ذكره غيرہ لان لفظ السنۃ شامل لقول الرسول وفعله عليه السلام] دوسروں کی طرح لفظ ‘خبر’ کے بجائے لفظ ‘سنت’ اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ سنت کا لفظ رسول اللہ ﷺ کے قول اور فعل دونوں کو شامل ہے۔ [كتاب التحقيق شرح الحسامى: ص147]
[14] [السنۃ شرعا ما نقل عن رسول الله ﷺ قولا او فعلا او اقرارا على فعل] شرعی اصطلاح میں سنت سے مراد وہ چیز ہے جو رسول اللہ ﷺ سے قول، فعل یا کسی فعل پر اقرار کی صورت میں منقول ہو۔ [نزہت الخاطر العاطر: ص236 ج1]
[15] [السنۃ تطلق على قول الرسول وفعله وسكوته وعلى اقوال الصحابۃ وافعالهم الخ] سنت کا اطلاق رسول اللہ ﷺ کے قول، فعل اور سکوت پر ہوتا ہے، نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال و افعال پر بھی ہوتا ہے، وغیرہ۔ [نور الانوار: ص173]
[16] [السنن تنقسم ثلثۃ اقسام قول من النبى ﷺ وفعل منه عليه السلام او شیء رآه فعلمه فاقر عليه] سنن کی تین قسمیں ہیں: نبی کریم ﷺ کا کوئی قول، آپ ﷺ کا کوئی فعل، یا کوئی ایسا عمل جسے آپ ﷺ نے دیکھا اور اس سے باخبر ہوئے، پھر اسے برقرار رکھا اور اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ [احكام لابن حزم: ص2،6]
[17] [يطلق لفظ السنۃ على ما جاء منقولا عن النبى ﷺ على الخصوص مما لم ينص عليه فى الكتاب العزيز] سنت کا لفظ خصوصاً اس چیز پر بولا جاتا ہے جو نبی کریم ﷺ سے منقول ہو اور جس کی صراحت قرآنِ عزیز میں نہ آئی ہو۔ [موافقات: ج4 ص3]
اس مفہوم کا ذکر اہل علم کی مصنفات میں بکثرت موجود ہے۔ ائمہ اسلام قرآن کے بعد سنت کو حجتِ شرعی سمجھتے ہیں اور سنت کا یہی مفہوم سمجھتے ہیں جو اوپر کے حوالوں میں مرقوم ہے۔ بعض تعریفات میں معمولی تغایر ہے، اس کا مفہوم اہل علم سمجھتے ہیں۔ ان تعریفات میں حدیث اور سنت کو ہم معنی ظاہر کیا گیا ہے اور آنحضرت کے قول و فعل اور تقریر سب کو شامل سمجھا گیا ہے اور اس معنی سے اسی کی حجیت محلِ نزاع ہے۔
ائمہ حدیث نے جو کتابیں سنت کے متعلق لکھی ہیں ان میں بھی قولی، فعلی اور تقریری سنت کا ذکر فرمایا ہے۔ تمام کتبِ سنن شاہد ہیں کہ ان میں سنت کو اسی متعارف اور مصطلح معنی میں ذکر فرمایا گیا ہے اور معلوم ہے کہ سنت کے یہ دفاتر اور ان کے مصنفین کا علم و فضل امت میں مسلم ہے۔ سنت کے متعلق ان کا نقطۂ نظر وہی ہے جس کا ذکر اوپر کی عبارات میں ہوا۔
سنت مولانا اصلاحی کی نظر میں:
جن حالات سے متاثر ہو کر مولانا اصلاحی نے [ترجمان القرآن، اکتوبر 55ء] میں زیرِ تنقید مقالہ سپردِ قلم فرمایا ہے، اہل حدیث، اہل قرآن وغیرہ جماعتیں سب مولانا کے پیشِ نظر ہیں اور ان سب پر مولانا اپنا تفوق ظاہر فرمانا چاہتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:
حدیث اور سنت کا دین میں اصلی مقام واضح کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ مختصر طور پر وہ فرق واضح کر دوں جو حدیث اور سنت کے درمیان میں سمجھتا ہوں لیکن عام طور پر لوگ اس کو ملحوظ نہیں رکھتے۔
حدیث تو ہر وہ قول یا فعل یا تقریر ہے جس کی روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کے ساتھ کی جائے، لیکن سنت سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف ثابت شدہ اور معلوم طریقہ ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار عمل کیا ہو جس کی آپ نے محافظت فرمائی ہو، جس کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر پابند رہے ہوں۔ [ترجمان القرآن، اکتوبر 55ء ص137]
مولانا کی یہ تعریف منطقی ہے نہ عرفی و تاہم:
[1] مولانا نے جو فرمانا تھا کھل کر فرمایا ہے۔ ان کی نظر میں جو اہمیت سنت کو حاصل ہے وہ حدیث کو نہیں۔
[2] اور اہمیت بھی سنت کے اسی مفہوم کو جسے مولانا نے اپنے لیے متعین فرمایا ہے یا جس کی تعلیم جماعت اسلامی کو دینا اس وقت پیشِ نظر ہے۔
[3] اور یہ بھی ظاہر ہے کہ سنت کے متعلق یہ مولانا کی اصطلاح ہے، عام طور پر لوگ اسے ملحوظ نہیں رکھتے۔
[4] مولانا کی نگاہ میں کسی دوسرے مفہوم پر سنت کا اطلاق درست نہیں، سنت کا منطوق ’صرف‘ یہی ہے (حالانکہ مولانا اس مفہوم میں پوری امت سے مختلف ہیں)۔
جہاں تک میرا یقین ہے مولانا نہ منکرِ حدیث ہیں نہ ان کو سنت سے انکار، لیکن مولانا نے جس انداز سے بحث کا آغاز فرمایا ہے اس سے چور دروازے کھل سکتے ہیں اور منکرینِ حدیث کو اس سے کافی مدد مل سکتی ہے۔
[5] مولانا نے سنت کی تعریف کو اس قدر سکیڑ دیا ہے کہ اس کا تعلق چند اعمال سے ہی ہو گا جن کا ثبوت آنحضرت ﷺ سے علیٰ سبیل الاستمرار ہے جیسے نماز کے بعض ارکان، لیکن اقدارِ زکوٰۃ وغیرہ کے لیے شاید پھر خبرِ واحد ہی کا سہارا لینا پڑے۔
[6] ہزار دفعہ فرمایا جائے کہ:
”اگر کوئی شخص اس (سنت) کو ماخذِ دین تسلیم نہیں کرتا تو میں اس کو مسلمان تسلیم نہیں کرتا۔“
سوال یہ ہے کہ اس ’سنت‘ کی پہنائی ہے کہاں تک؟ اس کا احاطہ چند اعمال سے آگے نہیں بڑھے گا۔ پورا اسلام تو کسی دوسری جگہ ہی سے ثابت کرنا ہو گا۔ پھر اس ادعا کی ضرورت ہی کیا ہے؟
[7] دعویٰ یہ ہے کہ اسلام زندگی کے تمام گوشوں میں رہنمائی کے فرائض انجام دیتا ہے لیکن جناب کی پیش کردہ تعریف کے لحاظ سے تو اس کا دائرہ اس قدر تنگ ہو گا کہ زندگی کے بعض اہم گوشے بھی شاید اس کی رہنمائی سے خالی رہیں۔ سیاسی اور معاشی امور میں رہنمائی تو بڑی بات ہے، عبادات اور معاملات میں بھی اسلام کی رہنمائی سے محروم ہونا پڑے گا۔ اخبارِ آحاد کے ساتھ معتزلہ کی طرح اگر سوتیلی ماں کا سلوک جاری رہا تو جہاد، تقسیمِ غنائم، جزیہ، محاربات ایسے اہم مسائل اور اسی قسم کے اکثر بین الاقوامی مسائل میں ہم اسلام کی رہنمائی سے محروم ہو جائیں گے۔ تکمیلِ دین ایک ایسا خواب ہو کر رہ جائے گا جس کی کوئی تعبیر نہیں۔ قرآنِ عزیز اور سنن متواترہ کے ساتھ اہل القرآن کی طرح اگر ضروری احکام کشید کرنے کی کوشش کی گئی تو استدلال کا جو انداز اختیار کرنا پڑے گا اس کی حیثیت سیاسی جوڑ توڑ سے زیادہ بہتر نہیں ہو گی۔
ادارۂ طلوعِ اسلام کے بعد ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ:
انکارِ حدیث کے بعد ملک میں دو جماعتیں آپ کے سامنے ہیں۔ ان کا طریقِ استدلال نمایاں ہے ادارۂ طلوعِ اسلام کراچی اور ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ لاہور۔ ان میں اکثریت منکرینِ حدیث کی ہے، ان میں جو حضرات کھلے طور پر حدیث کا انکار نہیں کرتے ان کا ذہنی رجحان انکار ہی کی طرف ہے۔ وہاں اسلام کے بنیادی حقائق کی تشریحات اس انداز سے کی گئی ہیں جس سے اسلام کے ارکان تک محفوظ نہیں رہ سکے۔ نہ نماز موجود ہے نہ روزہ، نہ حج ہے نہ زکوٰۃ، نہ توحید سلامت ہے نہ رسالت، نہ قیامت ہے نہ جزا اور سزا۔ پورا اسلام قریباً دنیا پرستی کا دوسرا نام ہو گیا ہے۔ ملاحظہ ہو [رسالہ ”اسلام کی بنیادی حقیقتیں“ مصنفہ خلیفہ عبد الحکیم]،[مقامِ حدیث، از سید جعفر شاہ]،[نظامِ ربوبیت، از پرویز] وغیرہ۔
آج سے صدیوں پیشتر سنت اور حدیث کی حمایت میں ہم جہاں کھڑے تھے ائمہ حدیث نے معتزلہ، خوارج اور دوسرے مبتدع فرقوں کو شکستِ پرشِکست دی تھی۔ ہمارے اسلاف کی تعمیری اور تخریبی مساعی نے اہل بدعت کو ناکام کرایا تھا۔ مولانا نے تعریف میں جو سکیڑ اور انقباض پیدا فرمایا ہے اس کا مطلب تو یہ ہو گا کہ ہم اپنے دعوٰی کے بہت سے حصوں سے خود ہی دست بردار ہو گئے۔ اگر ہماری ان فکری قیادتوں کی گریز پائی کا یہی حال رہا تو ہمیں اپنی شکست کا اعتراف کرنا چاہیے۔ ہم آحاد کے قیمتی ذخیرے سے خود بخود دستکش ہو گئے۔ یہ غیر محتاط احتیاط، قلتِ مطالعہ کا نتیجہ ہے یا جبن اور بزدلی کا؟ [اللھم انی اعوذ بک من الجبن]
[9] اس تعریف سے شاید وہ مقصد بھی حاصل نہ ہو جس کے لیے یہ سکیڑ اور انقباض اختیار کیا گیا۔ میرا خیال ہے کہ اہل القرآن سے پرویز پارٹی شاید وقتی طور پر کسی قدر الفاظ کے ہیر پھیر سے آپ کے ساتھ اتفاق کرے، غالباً ان کے انکارِ حدیث اور آپ کے اقرارِ حجیتِ سنت پر، اس تعریف کے بعد کوئی نمایاں اثر نہیں پڑتا، کچھ اعتباری سا امتیاز رہ جائے گا۔
مقامِ بحث سے انحراف:
[10] اس قسم کی تعریف مقامِ بحث سے ایک گونہ انحراف ہے۔ محلِ نزاع سنت کا وہی مفہوم ہے جس کا ذکر مختلف اہل علم کی مصنفات سے اوپر کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم نے سنت کی حمایت کا وہ مقام بدل لیا جس پر ہم قرونِ خیر سے آج تک قائم تھے۔ اس انحراف اور حِیدَہ کی جناب سے امید نہ تھی۔
[11] آنحضرت ﷺ کا عمل اور اس پر استمرار ثابت کرنے کے لیے تواتر کا ذخیرہ تو بہت ہی مختصر ہے، اگر آحاد پر اعتماد کیا جائے تو مولانا کے نقطۂ نظر سے اثبات الظن بالظن ہوگا اور بصورتِ اول زندگی کے عام گوشوں میں اس کا نتیجہ انکارِ حدیث ہو گا، کیونکہ دفاترِ سنت میں جو کچھ ملتا ہے یہ تعریف اس پر صادق نہیں آتی۔ نیز مولانا کی یہ تعلیق ایسی ہے جیسے کوئی کہے کہ میں سنت کو حجتِ قطعی سمجھتا ہوں لیکن سنت کی تعریف یہ ہے کہ امام شافعی یا امام احمد کی حیثیت کے آدمی از اول تا آخر اسے روایت کریں۔ سنگین شروط کا نتیجہ معنیٰ انکار ہی ہوگا۔
[12] اس تعریف کے مطابق صومِ عاشورا جو غالباً آنحضرت ﷺ نے ایک ہی دفعہ رکھا، نمازِ تراویح جسے حضرت ﷺ نے رمضان میں صرف تین دن باجماعت ادا فرمایا۔ دعاء استفتاح کے مختلف صیغے جن پر مختلف اوقات میں عمل فرمایا، ایسے ہی دوسری عملی سنتیں جن پر استمرار ثابت نہیں یا جو زیرِ بحث ہے، اس تعریف میں کیسے شامل ہوں گی، ان کی سنّیت سے انکار اس تعریف کے مطابق دشوار نہیں ہو گا۔
[13] سنت کی تعریف میں بعض اہل علم کچھ قیود کے ساتھ عادات اور عبادات دونوں کو شامل سمجھتے ہیں، بعض صرف تعبدی امور ہی کو سنت میں داخل جانتے ہیں۔ یہ بحث اپنی جگہ محلِ نظر و غور ہے لیکن مولانا کی تعریف اس باب میں بھی خاموش ہے۔ عاداتِ مستمرہ کو خارج کرنے کے لیے تعریف میں کوئی فصل نہیں۔ آپ کی اس تعریف کو زیادہ سے زیادہ اتنی اہمیت دی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی عمل ان شرائط سے ثابت ہو جائے تو وہ بھی سنت ہو گا۔
[14] اصطلاحات کے تعین کا ہر شخص کو حق حاصل ہے لیکن ان کو ائمہ کی متعینہ اصطلاحات کی جگہ نہیں دی جا سکتی۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میرے نزدیک صلواۃ کا مفہوم ربوبیت کبریٰ ہے اور آخرت سے مراد یوم الحساب نہیں بلکہ اسی دنیا میں کل کی فکر اور زندگی میں مستقبل کی فکر ہے اور ملائکہ سے مراد قدرت کے وہ کرشمے ہیں وہ اسی دنیا میں انسان کے لیے مسخر فرمائے گئے ہیں، صوم سے مراد جذبات پر صرف انضباط اور کنٹرول ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اپنی جگہ یہ چیزیں کتنی ہی مفید کیوں نہ ہوں مگر اس سے صوم وصلواۃ، ایمان بالآخرۃ اور ایمان بالملائکہ کے متعلق متعارف اور مصطلح مفہوم ثابت نہیں ہو گا۔ اسی طرح سنت کے متعلق ایک جدید اصطلاح کی حد تک تو اس پر غور ہو سکتا ہے لیکن وہ مابہ النزاع مسئلہ جس پر گفتگو چل رہی ہے اس سے حل نہیں ہو گا۔ جہاں تک میرا خیال ہے مولوی احمد دین امرتسری قریباً اسی نقطۂ نگاہ سے اعمالِ متعارفہ اور معمول بہا سنن کا انکار نہیں کرتے تھے، اذان، نماز، نکاح میں اسی متعارف طریق پر عمل کرتے تھے۔ برہان القرآن اور ان کی تفسیر میں اس کا ذکر بار بار ملتا ہے، حالانکہ مولوی احمد دین مسلمہ طور پر منکرِ حدیث تھے۔ امید ہے مولانا اس طریقِ بحث پر نظرِ ثانی فرمائیں گے، کیونکہ اس انحراف سے اصل مسئلہ حل نہیں ہو گا۔