اللہ کی خاطر محبت کرنے کے فضائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

اللہ کی خاطر محبت کرنے کے فضائل

اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت کرنا بڑا عظیم عمل ہے۔ بلکہ ایک حدیث میں تو اسے افضل الایمان قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ معاذ بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افضل الایمان کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
أفضل الإيمان ان تحب لله، وتبغض فى الله
”افضل الایمان یہ ہے کہ آپ اللہ کی خاطر محبت کریں، اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے ناراضگی رکھیں۔“
مسند احمد : 247/5 ۔ شیخ شعیب نے اسے ”صحیح لغیرہ“ قرار دیا ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
أن رجلا زار أخا له فى قرية أخرى ، فأرصد الله على مدرجته ملكا، فلما أتى عليه قال: أين تريد؟ قال: أريد أحا لي هذه القرية ، قال: هل لك عليه من نعمة تربها عليه؟ قال: فإني رسول الله إليك بان الله قد أحبك كما أحببته فيه
”ایک آدمی کسی دوسری بستی میں اپنے بھائی کی زیارت کے لیے گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتہ بٹھا دیا جو اس کا انتظار کرتا تھا، جب وہ شخص اس کے پاس سے گزرا تو فرشتے نے پوچھا، تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا: اس بستی میں میرا بھائی رہتا ہے، اس کے پاس جا رہا ہوں۔ فرشتے نے پوچھا: کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے؟ جس کی وجہ سے تم یہ تکلیف اٹھا رہے ہو اور اس کا بدلہ اتارنے جا رہے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ صرف اس لیے جا رہا ہوں کہ میں اس سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں، فرشتے نے کہا: میں تیری طرف اللہ کا فرشتہ ہوں (اور یہ بتانے کے لیے آیا ہوں کہ) اللہ تعالیٰ (بھی) تجھ سے محبت کرتا ہے، جیسے تو اس سے صرف اللہ کے لیے محبت کرتا ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب البر والصلة ، باب فضل الحب في الله، رقم: 6549.
مزید برآں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
إن الله تعالى يقول يوم القيامة: أين المتحابون بجلالي؟ اليوم أظلهم فى ظلي يوم لا ظل إلا ظني
”اللہ تعالیٰ قیامت والے دن فرمائے گا، میری عظمت و جلالت کے لیے باہم محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں ان کو اپنے سائے میں جگہ دوں گا، جس دن میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہے۔“
مسلم، كتاب البر والصلة، باب فضل الحب فى الله تعالى، رقم: 6548 .
رضائے الہی کی خاطر آپس میں محبت کرنے والوں کو روز قیامت ایسا نور عطا کیا جائے گا کہ انبیاء شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
قال الله عز وجل: المتحابون فى جلالي ، لهم منابر من نور يغبطهم النبيون والشهداء
”اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میرے جلال کے پیش نظر جو لوگ آپس میں محبت رکھتے ہیں، ان کے لیے ایسے نور ہوں گے جن پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے۔“
سنن ترمذي، أبواب الزهد، باب ماجاء في الحب في الله ، رقم: 2390 – علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ المشكاة، رقم : 5011 ـ التعليق الرغيب : 47/4 .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ثلات من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان: من كان الله ورسوله احب إليه مما سواهما ، و من أحب عبدا لا يحبه إلا لله ، ومن يكره أن يعود فى الكفر بعد إذ أنقذه الله منه كما يكره أن يلقى فى النار
”تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں اس نے ایمان کی حلاوت کو پالیا۔ اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں۔ دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے۔ تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو یوں برا جانے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو برا سمجھتا ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الایمان، رقم: 21 .
سیدنا مقداد بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
إذا أحب أحدكم أخاه فليعلمه إياه
”جب کسی کے دل میں اپنے بھائی (مسلمان )کے لیے خلوص و محبت کے جذبات ہوں تو اسے چاہیے کہ اپنے دوست کو بھی ان جذبات سے آگاہ کر دے اور اسے بتادے کہ وہ اس سے محبت رکھتا ہے۔“
سنن ترمذی، کتاب الزهد، باب ماجاء في اعلام الحب رقم: 2392 ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 2515/417
ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا تو میری نگاہ ایک شخص پر پڑی جس کے دانت خوبصورت چمک دار تھے۔ لوگ اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ جب ان میں کسی چیز کے بارے میں اختلاف ہوتا تو اس کی طرف رجوع کرتے، اور اس کی رائے پر عمل کرتے۔ میں نے اس کے متعلق دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ جب اگلا دن ہوا تو میں صبح سویرے ہی (مسجد میں) جا پہنچا، میں نے دیکھا کہ وہ مجھ سے بھی پہلے آ چکے تھے اور نماز پڑھ رہے تھے۔ چنانچہ میں ان کے انتظار میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنی نماز ختم کر لی۔ پھر میں ان کے سامنے سے ان کے پاس آیا، اور انہیں سلام کیا، اور کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: کیا اللہ کے لیے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے لیے۔ انہوں نے پھر فرمایا: کیا اللہ کے لیے؟ میں نے ان سے عرض کیا: ہاں، اللہ کے لیے۔ انہوں نے میری چادر کا کنارہ پکڑا اور مجھے اپنی طرف کھینچا۔ پھر فرمایا: تمہارے لیے خوشخبری ہے۔ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، جو لوگ میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور میرے لیے ایک دوسرے کے پاس بیٹھے ہیں، اور میرے لیے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں، اور میرے لیے مال خرچ کرتے ہیں ان سے محبت کرنا مجھ پر واجب ہے۔
مؤطا، كتاب الشعر، رقم: 16 – مسند احمد: 229/5 – شیخ شعیب نے اسے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے۔