بال جوڑنے، وگ لگانے اور خضاب کے احکام صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

بال جوڑنا :

عورت کا دوسرے بالوں کو جوڑ کر زینت کرنا بھی حرام ہے، خواہ بال اصلی ہوں یا نقلی (مصنوعی) یعنی جسے آج کل ”وگ“ کہا جاتا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما، سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت بیان کی ہے :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن الواصلة والمستوصلة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور بالوں کو جڑوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔“
بخاری كتاب اللباس : باب وصل الشعر ح : 5933 الی 5939، واخرجه ايضاً مسلم في كتاب اللباس والزينة : باب تحريم فعل الواصلة والمستوصلة ح : 2122 الی 2125، الا حديث أبي هريرة رضي الله عنه لأن البخاري انفرد به
اس حرمت کا اطلاق ان مردوں پر بدرجہ اولیٰ ہوتا ہے جو یہ کام انجام دیں خواہ وہ دوسروں کے سر میں بال لگانے کی خدمت انجام دیں جنہیں آج کل بیوٹی پارلر کہا جاتا ہے یا اپنے سر میں دوسرے بال لگوائیں، جیسے نوجوان زنخے (ہجڑے)۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی جعل سازی کی سخت مخالفت کی ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی عورت کو بھی دوسرے بال لگوانے کی اجازت نہیں دی جس کے بال بیماری کی وجہ سے گر گئے ہوں، خواہ وہ پہلی شب کی دلہن کیوں نہ ہو۔
سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انصار کی ایک لڑکی کی شادی اس حال میں ہوئی کہ بیماری کی وجہ سے اس کے بال گر چکے تھے۔ لوگوں نے چاہا کہ مصنوعی طور پر دوسرے بال لگائیں، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لعن الله الواصلة والمستوصلة
”اللہ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔“
بخاری كتاب اللباس : باب وصل الشعر ح : 5934 – مسلم، كتاب اللباس والزينة: باب تحريم فعل الواصلة ح : 2123
سعید بن المسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں :
قدم معاوية المدينة آخر قدمة قدمها فخطبنا، فأخرج كبة من شعر، قال: ما كنت أرى أحدا يفعل هذا غير اليهود، إن النبى صلى الله عليه وسلم سماه الزور، يعني الواصلة فى الشعر
”سیدنا معاویہ رضي اللہ عنہ مدینہ تشریف لائے اور مدینہ میں ان کی یہ تشریف آوری آخری مرتبہ تھی۔ آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور دوران خطبہ بالوں کا گچھا نکال کر فرمایا : میں نہیں سمجھتا کہ یہودیوں کے علاوہ اور کوئی یہ فیشن کرتا ہوگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زور (جھوٹ فریب) سے تعبیر فرمایا ہے یعنی بال جوڑنے کا فیشن۔“
بخاری كتاب اللباس : باب وصل الشعر ح : 5938 – مسلم، كتاب اللباس والزينة: باب تحريم فعل الواصلة ح : 2127
ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضي اللہ عنہ نے اہل مدینہ سے کہا :
أين علماؤكم؟ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن مثل هذه ويقول: إنما هلكت بنو إسرائيل حين اتخذ هذه نساؤهم
”تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کی چیزوں سے روکتے ہوئے اور یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بنی اسرائیل کی عورتوں نے جب اس فیشن کو اختیار کیا تو وہ ہلاک ہو گئیں۔“
بخاری حوالہ سابق ح : 5933 – مسلم حوالہ سابق
ميں كهتا هوں يه روايت اس بارے ميں صريح هے كه بالوں ميں كپڑا وغيره ملانا منع هے. مصنف نے جو موقف اختيار كيا هے يه حديث اس كے خلاف هے. شايد انهيں اس كا پته نه تها. سيدنا جابر بن عبد الله رضي الله عنهما سے جو حديث آتي هے وه اس كي تائيد كرتي هے جسے ميں دو احاديث كے بعد ذكر كروں گا. ان شاء الله!

تنبیہ :

امام سيوطي رحمه الله نے جامع ميں يه حديث كه ”نبي صلى الله عليه وسلم نے جهوٹ سے منع كيا هے“ تنها نسائي كي نسبت كي هے كه انهوں نے امير معاويه رضى الله عنه سے بيان كي هے، اس ميں جو كوتاهي هے وه كسي سے مخفي نهيں.
حديث ”جس نے هميں دهوكه ديا وه هم ميں سے نهيں“ يه حديث صحيح هے. اسے مسلم اور ان كے علاوه سنن اور مسانيد كتابوں والوں نے صحابه كرام رضي الله عنهم كي ايك جماعت سے بيان كيا هے. يه ارواء، صفحه نمبر 1319 ميں بيان كي گئي هے. يه حديث رقم 340 ميں اپنے سبب كے ساته ذكر كي جائے گي. ان شاء الله!
(حديث نمبر 102) ابن مسعود رضى الله عنه والي حديث هے كه الله تعالىٰ كي مخلوقات كو تبديل كرنے والياں هيں، يه صحيح هے. يه جو پهلے ميں نے ابن مسعود رضى الله عنه والي حديث بيان كي هے اس كے آخر ميں آچكي هے.
(حديث نمبر 103) سيدنا سعيد بن جبير رحمه الله فرماتے هيں : توامل لگانے ميں كوئي حرج نهيں.
ابن حجر رحمه الله فتح الباري ميں فرماتے هيں اسے ابو داود نے صحيح سند كے ساته بيان كيا هے.
مگر يه ضعيف هے. اسے ابو داود نے شريك كي سند سے، پهر سالم سے، پهر سعيد بن جبير سے بيان كيا هے. (رقم : 4171)
ميں كهتا هوں يه شريك بن عبدالله قاضي نخعي هے. ذهبي رحمه الله نے اسے ضعفاء ميں ذكر كيا هے اور قطان رحمه الله نے كها هے كه يه خلط ملط هو گيا تها، اور ابو حاتم رحمه الله كهتے هيں يه بهت غلطياں كرتا هے جب سے يه كوفه ميں قاضي مقرر هوا تو اس كا حافظه خراب هو گيا تها.
ميں كهتا هوں يه سند ضعيف هونے كے ساته ساته پهلے مذكوره سيدنا معاويه رضى الله عنه والي حديث كے بهي خلاف هے. (رقم: 100) سيدنا معاويه رضى الله عنه سے بعض صحيح روايات ميں آتا هے كه ايك آدمي ايك لاٹهي لے كر آيا اس كے سرے پر اس نے كپڑا بانده ركها تها. سيدنا معاويه رضى الله عنه نے فرمايا : خبردار يه جهوٹ ميں شامل هے. سيدنا قتاده رحمه الله فرماتے هيں : مقصد يه تها كه زياده تر عورتيں اپنے بال ان كپڑے كے ٹكڑوں سے بڑهاتي هيں. اسے مسلم اور احمد نے بيان كيا هے.
ميں كهتا هوں يه اثر سعيد بن جبير رحمه الله والے اثر كے خلاف هے اس سے مؤلف كا پهلو تهي كرنا اور اس اثر پر اعتماد كرنا مناسب نهيں، شايد كتابت كے وقت يه ياد نه رها هو. ابن حجر رحمه الله نے فتح الباري ميں اسے ذكر كرنے كے بعد كها هے يه حديث جمهور كي حجت هے كه بالوں كو كسي دوسري چيز سے ملانا نهيں چاهيے بال هوں يا كوئي اور چيز هو. (315/10) (ناصر الدين الباني رحمه الله)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل (فیشن) کو زور (جھوٹ) سے تعبیر فرمایا ہے جس سے تحریم کی اہمیت و مصلحت واضح ہوتی ہے۔ یہ ایک قسم کا فریب، جعلسازی اور تصنع ہے۔ اسلام فریب کاری کو سخت ناپسند کرتا ہے اور تمام معاملات کو خواہ وہ مادی ہوں یا معنوی، کھوٹ سے پاک دیکھنا چاہتا ہے چنانچہ فرمایا :
من غشنا فليس منا
”جس نے ہمارے ساتھ فریب دہی کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
مسلم كتاب الإيمان : باب قول النبي صلى الله عليه وسلم من غشنا فليس منا ح : 101
امام خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں : ان چیزوں کے بارے میں سخت وعید اس لیے وارد ہوئی ہے کہ ان میں کھوٹ جانب اور فریب ہے۔ اگر ان کو ناجائز نہ کیا جاتا تو کھوٹ اور فریب کی دوسری صورتیں بھی جائز ہوتیں، نیز ان چیزوں میں قدرتی ساخت میں رد و بدل کا پہلو بھی ہے۔ ابن مسعود رضي اللہ عنہ کی حدیث المغيرات خلق الله (اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں ردو بدل کرنے والیاں) سے اس طرف اشارہ نکلتا ہے۔
فتح الباري باب وصل الشعر ، بخاری كتاب اللباس : باب الموصولة ح : 5943 – مسلم، كتاب اللباس والزينة: باب تحريم فعل الواصلة ح : 2125
جو حدیثیں حرمت پر دلالت کرتی ہیں ان میں بالوں کو جوڑنے کا حکم بیان ہوا ہے خواہ وہ اصلی ہوں یا مصنوعی۔ اس میں جعل سازی اور فریب دہی کا پہلو ہے لیکن اگر بال نہ جوڑے جائیں بلکہ کپڑے کی دھجی یا دھاگا وغیرہ جوڑ دیا جائے تو یہ چیز ممانعت کے حکم میں شامل نہیں ہوگی، اس سلسلہ میں سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں :
لا بأس بالتوامل
”توامل لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
ابوداود كتاب الترجل : باب في صلة الشعر ح : 4171 وإسناده ضعيف
توامل سے ریشم، اون وغیرہ کے دھاگے (پونیاں) مراد ہیں جن کو عورتیں بالوں میں جوڑ کر چوٹیاں بنا لیتی ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ اس کے جواز کے قائل ہیں۔
ابو داود حوالہ سابق وهو صحيح
خضاب لگانا زینت کے موضوع سے متعلق سر اور داڑھی کو خضاب لگانے کا مسئلہ بھی ہے۔ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ خضاب لگا کر بالوں کا رنگ بدل دینے کے قائل نہیں تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ زیب و زینت، دینداری اور عبادت الہیٰ کے امور کے منافی ہے چنانچہ راہبوں اور دین میں غلو کرنے والے زاہدوں کا یہی شعار رہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی تقلید کرنے اور ان کے طریقے اپنانے سے منع فرمایا تاکہ مسلمان ظاہر و باطن میں اپنی مستقل امتیازی حیثیت کو برقرار رکھ سکیں کریں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن اليهود والنصارى لا يصبغون فخالفوهم
”یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے لیکن تم ان کے خلاف طرز عمل اختیار کرو۔“
بخاری کتاب اللباس : باب الخضاب 5899 – مسلم کتاب اللباس: باب في مخالفة اليهود في الصبغ ح : 2103
یہ حکم یعنی خضاب لگانا مستحب ہے جیسا کہ صحابہ کرام رضي اللہ عنہم کے عمل سے واضح ہے۔ چنانچہ بعض صحابہ مثلاً سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر رضي اللہ عنہما وغیرہ خضاب لگایا کرتے تھے۔ لیکن بعض صحابہ مثلاً سیدنا علی، سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا انس رضي اللہ عنہم نہیں لگایا کرتے تھے۔
مسلم كتاب الفضائل : باب شيبه ح : 2341 – طبقات ابن سعد : 25/3 – مستدرك حاكم : 302/3 – طبقات ابن سعد :449/3 – في طبقات ابن سعد (24، 23/7) خلافه والله اعلم
لیکن سوال یہ ہے کہ خضاب کس قسم کا ہو؟ سیاہ یا کسی بھی رنگ کا خضاب استعمال کیا جاسکتا ہے؟ یا سیاہ خضاب سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جو شخص بہت بوڑھا ہو گیا ہو اور اس کے سر اور داڑھی کے بال بالکل سفید ہو گئے ہوں، اس کو سیاہ خضاب نہیں لگانا چاہیے۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے والد ابو قحافہ کو فتح مکہ کے دن اٹھا کر لائے تھے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بٹھا دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر کہ ان کے سر کے بال بالکل سفید ہو گئے ہیں فرمایا :
غيروا هذا وجنبوه السواد
”ان بالوں کا رنگ بدل دو لیکن سیاہ خضاب سے پرہیز کرنا۔“
مسلم کتاب اللباس باب استحباب خضاب الشيب بصفرة ح : 2102
لیکن جس کا حال ابوقحافہ جیسا نہ ہو اور نہ وہ ان کی عمر کا آدمی ہو تو اس کے سیاہ خضاب لگانے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
جب تک ہمارا چہرہ تروتازہ تھا ہم سیاہ خضاب استعمال کرتے تھے لیکن جب سے چہرے اور دانتوں میں تغیر آ گیا ہے لہذا ہم نے اس کا استعمال ترک کر دیا ہے۔
مقطوع مسند احمد 209/2 قال معمر : وكان الزهرى يخضب بالسواد رقم الحديث : 8083 طبقات ابن سعد ذكر صفة على بن ابی طالب رضی اللہ عنہ 3/ 25
ميں كهتا هوں يه روايت مقطوع هے لهذا يه بالكل صحت كے قابل نهيں. مصنف رحمه الله نے اسے سابقه حديث ميں جو حكم هے اس پر بطور تائيد وارد كيا هے.
”اسے سياهي سے بچاؤ“ يه حكم اس بوڑهے كے ساته خاص هے جو بهت هي عمر رسيده هو جس كے سر اور داڑهي پر مكمل بڑهاپا اور سفيدي چها جائے. اس كے بعد فرماتے هيں : اور جو ابو قحافه كي مانند يا هم عمر نه هو وه اگر سياهي سے رنگ لے تو كوئي حرج نهيں، اسي كے بارے ميں زهري رحمه الله قائل تهے اور اسے ذكر كيا هے. يه قابل حجت نه هونے كے ساته جو مؤلف اختيار كيا هے اور تفصيل بيان كي هے اس بارے ميں يه دلالت نهيں كرتي. زهري رحمه الله كي رائے تهي كه سفيد بالوں والا سياهي سے نه رنگے يه حرام هے.
يه خالي خبر هے. اس كا مطلب سياهي رنگ چهوڑنا بهي نكلتا هے اور كرنا بهي نكلتا هے. اس سے حرام قرار دينے كي دلالت نهيں. بلكه ظاهر نهيں هے كه زهري رحمه الله كے پاس اسے حرام قرار دينے كي بالكل حديث نه تهي. وه اس معاملے كو اپنے ذوق كے مطابق ليتے تهے. جب سر ابهي نيا نيا سفيدي اختيار كرتا تو خضاب لگا لينے كے حكم پر عمل كرتے اور اس كے بعد چهوڑ ديتے.
معمر بيان كرتے هيں جو كه زهري رحمه الله كے شاگرد هيں كه زهري رحمه الله سياه رنگ كا خضاب لگاتے. انهوں نے مطلق كها هے نه تو تخصيص كي هے اور نه هي تفصيل بيان كي هے. اسے امام احمد رحمه الله نے بيان كيا هے (2/309) سند صحيح هے. مجهے يه معلوم نهيں كه ابن ابي عاصم كي سند زهري رحمه الله تك درست هے يا نهيں.
بهر حال رسول الله صلى الله عليه وسلم كے بعد كسي كے عمل اور قول ميں حجت نهيں. اور پهلے گزري هوئي حديث زهري رحمه الله وغيره كے خلاف حجت هے جو شروع كي سفيدي اور بزرگي والي سفيدي ميں تفريق كرتے هيں، كيونكه آپ صلى الله عليه وسلم كا يه فرمان كه اسے سياه رنگ سے دور ركهو اس سے يه تفريق ثابت نهيں هوتي. خصوصا جبكه يهاں دو حديثيں اور بهي موجود هيں جو عموم پر دلالت كرتي هيں.
سيدنا ابن عباس رضي الله عنهما سے روايت هے كه رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا : آخر زمانه ميں لوگ هوں گے جو سياه رنگ سے بال وغيره رنگين كريں گے جيسا كه كبوتروں كے حلقے هوتے هيں. يه جنت كي خوشبو نه پائيں گے.
(ابو داؤد ، نسائی ، احمد اور ضیاء مقدسی نے اسے مختارہ میں بیان کیا ہے ح : 234)
ان كے علاوه بهي محدثين نے بيان كيا هے (2/149) اس كي سند ميں كمزوري هے جيسا كه حافظ ابن حجر رحمه الله نے فتح الباري (10/300) ميں بيان كيا هے اور اسے طبراني اور ابن ابي عاصم كي جانب منسوب كيا هے. اور ابن ابي عاصم نے اپنے باپ سے بيان كيا هے كه يه حديث موضوع هے.
يهاں ايك تيسري حديث بهي هے ليكن وه بهت هي كمزور هے جسے ابو الحسن خميني نے اپني كتاب (صفحه 11، ج 2) ميں عمر بن قيس كي حديث سے، جو انهوں نے رجاء بن ابي حارث سے، انهوں نے مجاهد سے اور انهوں نے عبد الله بن عمر رضي الله عنهما سے مرفوعا بيان كيا هے، جس كے الفاظ يه هيں :
ميري امت ميں سے زمانه كے آخر ميں كچه لوگ هوں گے جو سياهي استعمال كريں گے، روز قيامت الله تعالىٰ انهيں ديكهيں گے بهي نهيں.
اس كي سند ميں عمر بن قيس جو كه ابو جعفر المعروف سندل هے، يه متروك راوي هے. (تقريب)
مصنف رحمه الله نے جو تفريق كا طريقه اپنايا هے اگرچه ان كا تنها نظريه نهيں، مگر يه دليل كے لحاظ سے قوي نهيں، كيونكه يه بخاري و مسلم ميں وارد ابو قحافه رضى الله عنه اور سيدنا ابن عباس رضي الله عنهما كي دو حديثوں كے خلاف هے.
ابن ابي عاصم رحمه الله نے پهلي حديث كي تاويل كي هے كه يه اس آدمي كے حق ميں هے جس كے سر كے بال كلي طور پر سفيد هوں، يه هر ايك كے بارے ميں مناسب نهيں. اور دوسري حديث كا انهوں نے يه جواب ديا هے كه اس ميں سياه رنگ كرنے كي كراهت پر دلالت نهيں، جبكه اس ميں ايك قوم كي اطلاع دي گئي هے جس كي يه حالت هوگي. يه بات حافظ ابن حجر رحمه الله نے فتح الباري (صفحه 300، ج 10) پر نقل كي هے. پهر اس كا تعاقب كيا هے كه ابن ابي عاصم رحمه الله كا يه قول ان دو حديثوں كے منشاء كے خلاف هے. (تعليق از ناصر الدين الباني رحمه الله)
سلف کا ایک گروہ جن میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ وغیرہ شامل ہیں سیاہ خضاب کے جواز کا قائل ہے۔ لیکن علماء کے دوسرے گروہ کے نزدیک سیاہ خضاب لگانا جائز نہیں ہے الا یہ کہ جہاد کے موقع پر دشمن کو مرعوب کرنے کی غرض سے لگایا جائے تاکہ دشمن جب اسلام کے لشکر کو دیکھے گا کہ وہ تمام تر نوجوانوں پر مشتمل ہے تو اس کی دھاک دلوں میں بیٹھ جائے گی۔
(فتح الباری : 10/355)
اور ابو درداء رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے :
إن احسن ما غيرتم به الشيب الحناء والكتم
”بہترین چیز جس سے تم سفید بالوں کا رنگ بدل سکتے ہو وہ حناء اور کتم ہے۔“
ابو داؤد کتاب الترجل : باب في الخضاب ح : 4205 – ترمذی کتاب اللباس : باب ماجاء في الخضاب ح : 1753 – نسائی کتاب الزينة : باب الخضاب بالحناء والكتم ح : 5081 – ابن ماجہ کتاب اللباس : باب الخضاب بالحناء ح : 3622
کتم (وسمہ) یمن کی نباتات سے ہے جس کا رنگ سیاہی مائل بہ سرخ ہوتا ہے اور حناء کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حناء اور کتم کا خضاب لگایا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خالص حناء کا۔
مسلم كتاب الفضائل : باب شيبه ح : 2341