حدیث 5: ابراہیم علیہ السلام کا تین جھوٹ بولنا
ابراہیم علیہ السلام کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے تین جھوٹ بولے تھے جبکہ جھوٹ بولنا انبیاء علیہم السلام کے شایان شان نہیں۔
صحيح البخاري ، أحاديث الأنبياء، باب قول الله تعالى: واتخذ الله إبراهيم خليلا ، حديث: 3358
❀ پہلا جھوٹ: ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کو توڑا تو ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:
بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ
”بلکہ ان کے بڑے نے یہ کیا ہے۔“
(21-الأنبياء:63)
❀ دوسرا جھوٹ: قوم نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنے تہوار میں شرکت کی دعوت دی تو انہوں نے فرمایا:
إِنِّي سَقِيمٌ
”میں بیمار ہوں۔“
(37-الصافات:89)
❀ تیسرا جھوٹ: انہوں نے اپنی اہلیہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ میری بہن ہے۔
جواب :
ان میں سے دو کا ذکر تو قرآن کریم میں ہے، منکرین حدیث صرف حدیث پر کیوں اعتراض کرتے ہیں؟ وہ قرآن کریم میں مذکور دو کا جو جواب دیتے ہیں وہی جواب تیسری بات کے متعلق ہے جو حدیث میں مذکور ہے۔
عربی محاورے میں کذب کا اطلاق کبھی توریہ کرنے پر بھی ہوتا ہے اور توریہ یہ ہے کہ بات کرنے والا ایسے الفاظ میں بات کرتا ہے جس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں، سننے والا اس کے ظاہری مفہوم کو لے لیتا ہے جبکہ بات کرنے والے کے ذہن میں اس بات کا دوسرا مفہوم مراد ہوتا ہے تو یہ کذبات اس توریہ کے معنی پر محمول ہیں، اور ان کو کذبات پھر اس وجہ سے کہتے ہیں کہ سامع کے مراد کردہ مفہوم کے خلاف ہیں، یعنی سامع کے مفہوم کے لحاظ سے جھوٹ ہیں۔ علاوہ ازیں جھوٹ کی دو قسمیں ہیں ایک مذموم، دوسری قسم وہ جو کہ مستحسن ہے اور بعض اوقات اس کا بولنا واجب ہے تو ابراہیم علیہ السلام کے جھوٹ مذموم جھوٹ نہیں ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ مذمت بیان فرماتے یہ مستحسن جھوٹ ہیں ان میں سے پہلے دو تو ایسے جھوٹ ہیں جو مشرکین پر حجت قائم کرنے اور کلمہ حق کو سر بلند کرنے کے لیے آپ نے بولے ہیں جبکہ تیسرا وہ ہے جو آپ نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے بولا ہے اور یہ کوئی مذموم جھوٹ نہیں بلکہ مستحسن اور واجب ہے۔