سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی نبی نہیں
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أنا أولى الناس بابن مريم، والأنبياء أولاد علات، ليس بيني وبينه نبي .
”میرا تعلق ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ سب سے زیادہ ہے، انبیاء علاتی بھائی ہیں، میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں۔“
(صحيح البخاري : 3442 ، صحیح مسلم : 2365)
صحیح مسلم کے الفاظ ہیں :
ليس بيني وبين عيسى نبي .
”میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں۔“
فائدہ : درمیانی وقفے سے مراد ؟
اس حدیث کا تعلق سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت سے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے درمیانی وقفے سے ہے، اس دوران کوئی نبی نہیں آیا، جس روایت میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان نبی کا ذکر ہے، وہ ضعیف ہے۔
بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور نزول مسیح کے درمیان کوئی نبی نہیں، لیکن یہ بات درست نہیں، کوئی دلیل اس پر دلالت نہیں کرتی، امت کا اجماع اس مفہوم کے مخالف ہے۔ بالفرض ہم مان لیں کہ اس حدیث کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر مسیح موعود علیہ السلام کے نزول تک ہے، تب بھی اس سے مسئلہ ختم نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا، کیوں کہ :
◈ حدیث میں وضاحت موجود ہے کہ مسیح موعود سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہی ہیں، لہٰذا ان کے نزول سے پہلے کسی کا دعویٰ نبوت مبنی بر جھوٹ ہوگا۔
◈ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قرب قیامت آسمان سے نزول حق ہے۔ یہی بات قرآن، متواتر احادیث اور اجماع امت سے ثابت ہے۔
◈ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ روز قیامت شفاعتِ کبریٰ کے لیے جہاں دیگر انبیاء علیہم السلام کے پاس جائیں گے، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی جائیں گے اور کہیں گے : اے عیسیٰ! اپنے رب کے ہاں ہمارے فیصلے کی سفارش کیجیے، وہ فرمائیں گے کہ اس وقت میں آپ کے کام نہیں آسکتا، ایسا کریں کہ :
لٰكن ائتوا محمدا صلى الله عليه وسلم، فإنه خاتم النبيين .
”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، وہ آخری نبی ہیں۔“
وہ آج موجود ہیں، ان کے پہلے اور بعد کے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے : بھلا آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر کسی برتن میں سامان رکھ کر مہر لگادی گئی ہو تو کیا مہر توڑے بغیر اس سامان تک رسائی ممکن ہے؟ لوگ کہیں گے نہیں، تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے :
إن محمدا صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين .
”یقیناً محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 248/3 وسنده صحيح)
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بڑی پیاری مثال دے کر بات سمجھائی ہے کہ جس طرح مہر توڑے بغیر سامان کا حصول ناممکن ہے، اسی طرح اس کام کے لیے مہر والی ہستی کے پاس جانا ہوگا، جو کہ آخری نبی ہیں۔