کیا بیت المقدس کا پتھر ہوا میں معلق ہے؟

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے عقیدہ سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ فضیلۃ الشیخ مولانا محمد یاسر عرفات حفظہ اللہ نے کیا ہے۔

22- اس قول کی حیثیت کہ بیت المقدس کا پتھر ہوا میں معلق ہے؟

زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی اپنی جگہ پر قائم ہے اور بیت المقدس کے پتھر یا چٹان کا بھی یہی حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ [الفاطر: 41]
”بے شک اللہ ہی آسمانوں کو اور زمین کو تھامے رکھتا ہے، اس سے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹیں اور یقیناً اگر وہ ہٹ جائیں تو اس کے بعد کوئی ان دونوں کو نہیں تھامے گا۔“
ایک اور مقام پر یوں فرمایا:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ [الروم: 25]
”اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔“
لہٰذا بیت المقدس کا پتھر چاروں طرف سے ہوا میں معلق نہیں ہے، بلکہ پہاڑ سے متصل ہے۔ دونوں ہی اللہ تعالیٰ کے نظام کائنات کے مطابق اپنی جگہ قائم ہونے میں برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار نہیں ہوسکتا کہ وہ کائنات کی کسی چیز کو فضا میں بغیر کسی سہارے کے کھڑا کر دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ذریعے سے بنی اسرائیل پر طور پہاڑ کو فضا میں کھڑا کر دیا، جب انھوں نے موسیٰ کی شریعت کو ماننے سے انکار کیا۔ فرمان ربانی ہے:
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ [البقرة: 63]
”اور جب ہم نے تمھارا پختہ عہد لیا اور تمھارے اوپر پہاڑ کو بلند کیا۔ پکڑو قوت کے ساتھ جو ہم نے تمھیں دیا ہے اور جو اس میں ہے اسے یاد کرو، تاکہ تم بچ جاؤ۔“
ایک اور مقام پر فرمایا:
وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ وَظَنُّوا أَنَّهُ وَاقِعٌ بِهِمْ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ [الأعراف: 171]
”اور جب ہم نے پہاڑ کو ہلا کر ان کے اوپر اٹھایا، جیسے وہ ایک سائبان ہو اور انھوں نے یقین کر لیا کہ بے شک وہ ان پر گرنے والا ہے۔ جو کچھ ہم نے تمھیں دیا ہے اسے قوت کے ساتھ پکڑو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو، تاکہ تم بچ جاؤ۔“
خلاصہ کلام یہ ہے کہ بیت المقدس کا پتھر پہاڑ سے الگ اور جدا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی متصل ہے۔ (اللجنة الدائمة: 782)