قیامت کی نشانی : عیسائیوں سے مل کر مسلمان تیسرے دشمن سے لڑیں گے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : عیسائیوں سے مل کر مسلمان تیسرے دشمن سے لڑیں گے پھر عیسائیوں اور مسلمانوں میں جنگ عظیم ہوگی

وعن ذى مخمر رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: تصالحون الروم صلحا آمنا فتغزون أنتم وهم عدوا من ورائكم فتسلمون وتغنمون ثم تنزلون بمرج ذى تلول فيقوم رجل من الروم فيرفع الصليب، فيقول: غلب الصليب، فيقوم إليه رجل من المسلمين فيقتله فعند ذلك تغدر الروم وتكون الملاحم فيجتمعون إليكم ويأتونكم فى ثمانين غاية مع كل غاية عشرة آلاف
حضرت ذی مخمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم رومیوں کے ساتھ امن والی صلح کرو گے پھر تم اور وہ (رومی) اپنے علاوہ کسی اور (تیسرے) دشمن سے لڑو گے اور (تم کامیاب رہو گے) سلامت رہو گے اور غنیمت حاصل کرو گے پھر تم ایک ٹیلوں والی سرزمین پر پڑاؤ کرو گے۔ (ایک روایت میں ہے کہ تم رومیوں سے مال غنیمت وصول کر کے الگ ایک ٹیلوں والی سرزمین پر جا کر پڑاؤ کرو گے) تو وہاں ایک رومی آئے گا اور صلیب بلند کر کے کہے گا : صلیب غالب آگئی۔ اس بات پر غضبناک ہوکر ایک مسلمان اس کی طرف بڑھے گا اور اسے قتل کر دے گا۔ اس بنیاد پر رومی تم سے دھوکہ کریں گے اور امن معاہدہ توڑ دیں گے پھر جنگیں چھڑ جائیں گی اور وہ اسی (80) جھنڈوں کے ساتھ تمہاری طرف پیش قدمی کریں گے جبکہ ہر جھنڈے تلے دس (10) ہزار کا لشکر ہوگا۔
احمد (128/4) (461/5) ابو داؤد (2767) کتاب الفتن والملاحم (4292) ابن ماجہ (4140) حاکم (467/4)
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت سے پہلے چھ علامتیں یاد رکھو… تمہارے اور بنو اصفر (رومیوں) کے درمیان صلح ہوگی پھر وہ غدر کریں گے اور وہ اسی جھنڈوں میں تمہاری طرف پیش قدمی کریں گے جبکہ ہر جھنڈے تلے بارہ (12) ہزار کا لشکر ہوگا۔
بخاری : کتاب الجزیۃ : باب ما یحذر من الغدر (3176) ابو داؤد (5000) ابن ماجہ (4091) حاکم (466/4) شرح السنہ (430/7)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیت المقدس کی آبادی مدینے کی خرابی (کا پیش خیمہ) ہے، مدینے کی خرابی جنگوں کے آغاز (کا نقارہ) ہے، جنگوں کے آغاز (کا انجام) قسطنطنیہ کی فتح ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کے خروج (کا اعلان) ہے۔
ابو داؤد : کتاب الفتن و الملاحم (4298)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ رومی اعماق یا دابق (ملک شام کے مقام) پر پڑاؤ کریں گے ان کی طرف مدینے سے ایک لشکر (بغرض قتال) نکلے گا اور وہ روئے زمین کے سب سے بہترین لوگوں کا لشکر ہوگا۔ جب وہ مقابلے پر آئیں گے تو رومی انہیں کہیں گے تم ہمارے اور ہمارے ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جو بے دین ہو (کر) تمہارے پاس آگئے ہیں۔ مسلمان کہیں گے : خدا کی قسم! ہم ہرگز ایسا نہیں کر سکتے کہ اپنے (نو) مسلم بھائیوں کو تمہارے حوالے کر دیں۔ پھر وہ ان سے لڑائی شروع کر دیں گے اور ان کا تہائی حصہ پیٹھ پھیر جائے گا جن کی توبہ اللہ تعالیٰ کبھی قبول نہیں کریں گے جبکہ ایک تہائی لوگ شہید ہو جائیں گے جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل شہید ہوں گے اور آخری تہائی لوگ فتح حاصل کریں گے جو کبھی فتنے کا شکار نہیں ہوں گے۔
مسلم : کتاب الفتن : باب فی فتح قسطنطنیۃ وخروج الدجال و نزول عیسی ابن مریم (2897)
اسیر بن جابر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں سرخ طوفان آیا تو ایک آدمی جو ادب و آداب سے بے بہرہ تھا، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگا : قیامت آگئی! اسیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ٹیک لگائے ہوئے تھے (یہ سن کر) بیٹھ گئے اور فرمایا : قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ وراثت تقسیم نہیں کی جائے گی اور حصول غنیمت میں کوئی خوشی نہیں ہوگی۔ پھر ملک شام کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا : دشمن مسلمانوں کے خلاف اور مسلمان اپنے دشمن کے خلاف (یہاں) جمع ہو جائیں گے۔ (راوی) میں نے کہا: آپ کی مراد رومی (دشمن) ہیں؟ فرمایا: ہاں! پھر اس لڑائی میں (بہت سے مسلمان) مرتد ہوں گے۔ باقی مسلمان موت کی بیعت کریں گے (اور کہیں گے) ہم غالب ہوئے بغیر واپس نہیں پلٹیں گے۔ پھر وہ لڑائی کریں گے حتی کہ رات ان کے درمیان حائل ہو جائے گی اور دونوں گروہ بلا غلبہ واپس پلٹ جائیں گے اور (موت کی شرط بھی ختم ہو جائے گی) پھر (دوسرے دن) مسلمان موت کی شرط لگائیں گے کہ بلا فتح ہم واپس نہیں جائیں گے اور لڑائی کریں گے حتی کہ رات ان کے درمیان حائل ہو جائے گی اور دونوں گروہ (مسلمان اور رومی) بلا فتح واپس ہو جائیں گے اور شرط بھی ختم ہو جائے گی پھر (تیسرے دن) مسلمان موت اور فتح کی شرط پر نکلیں گے اور شام تک لڑیں گے پھر دونوں گروہ بلا فتح واپسی اختیار کریں گے اور شرط بھی ختم ہو جائے گی پھر چوتھے دن باقی مسلمان ان (رومیوں) کی طرف پیش قدمی کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے دشمن کو مغلوب کریں گے اور وہ ایسی لڑائی لڑیں گے کہ اس جیسی کبھی کسی نے سنی یا دیکھی نہ ہوگی حتی کہ پرندہ ان کے ٹکڑوں (لاشوں) سے گزرے گا مگر وہ مر کر گر جائے گا ان (کی لاشوں) سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ ایک باپ کے اگر سو (100) بیٹے ہوں گے تو واپسی پر ان میں سے ایک ہی باقی بچے گا۔ پھر کس غنیمت پر خوشی حاصل ہوگی اور کونسی وراثت تقسیم کی جائے گی؟ اسی اثناء وہ اس سے بڑی بات سنیں گے کہ ایک منادی (شیطان) ندا لگائے گا کہ دجال تمہارے اہل و عیال میں آچکا ہے تو وہ لوگ سب کچھ وہیں چھوڑ کر اس طرف متوجہ ہو جائیں گے اور دس گھڑ سواروں کو تفتیش کے لئے بھیجیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ان کے اور ان کے آباؤ اجداد کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگ (اچھی طرح) پہچانتا ہوں اور یہ (گھڑ سوار) اس دن روئے زمین کے سب سے بہترین گھڑ سوار ہوں گے۔
مسلم : کتاب الفتن : باب اقبال الروم فی کثرۃ القتل عند خروج الدجال (2899) احمد (544/1) حاکم (524/4)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ حضرت نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جزیرۃ العرب (والوں) سے لڑو گے اور اللہ تمہیں اس کا فاتح بنادے گا، پھر تم فارس (ایران) سے لڑو گے اور اللہ تمہیں اس کا فاتح بنادے گا، پھر تم روم سے لڑو گے اور اللہ تمہیں فاتح بنادے گا پھر تم دجال سے لڑو گے اور اللہ تمہیں اس پر بھی فتح عطا فرمائے گا۔ پھر نافع رضی اللہ عنہ نے کہا : اے جابر! ہمارے علم کے مطابق دجال اس وقت تک نہیں نکلے گا جب تک روم فتح نہ ہو جائے۔
مسلم : کتاب الفتن : باب ما یکون من فتوحات المسلمین قبل الدجال (2900)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنگ (عظیم) کے دن مسلمانوں کا خیمہ (کیمپ) غوطہ مقام پر ہوگا جو اس شہر کے پاس ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے۔
احمد (252/5)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب جنگیں چھڑ جائیں گی تو اللہ تعالیٰ دمشق (شام) سے ایک لشکر بھیجیں گے جو آزاد کردہ غلاموں پر مشتمل ہوگا مگر وہ سارے عرب کے بہترین گھڑ سوار اور بہترین ہتھیاروں سے لیس ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے دین کی مدد فرمائیں گے۔
ابن ماجہ : کتاب الفتن : باب الملاحم (4089) حاکم (548/4) ابن عساکر (258/1)

فوائد :

➊ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان امن و صلح کا معاہدہ ہوگا۔
➋ اس معاہدے کے مطابق مسلمان اور عیسائی مل کر کسی تیسرے دشمن کے خلاف نبرد آزما ہوں گے اور فتح حاصل کریں گے۔
➌ عیسائی مسلمانوں سے غدر کریں گے اور نو لاکھ ساٹھ ہزار (960000) کا ٹڈی دل لشکر لے کر حملہ آور ہوں گے۔
➍ اس جنگ عظیم کے دو بنیادی محرک ہوں گے اول تو کسی مسلمان کے ہاتھوں ایک عیسائی کا قتل ہونا اور دوسرا کچھ عیسائیوں کا مسلمان ہو جانا جنہیں عیسائی طلب کریں گے کہ ہمارے لوگ واپس کرو مگر مسلمان ان نو مسلم لوگوں سے دست بردار نہیں ہوں گے۔
➎ یہ جنگ عظیم سرزمین شام پر لڑی جائے گی۔
➏ اس جنگ عظیم میں مسلمانوں کا یہ کیمپ شہر دمشق میں غوطہ نامی مقام پر ہوگا۔
➐ اس جنگ میں مسلمانوں کے لشکر کا بڑا حصہ مدنی مجاہدوں پر مشتمل ہوگا۔
➑ اس جنگ عظیم کا آخری مرحلہ چار دنوں پر محیط ہوگا اور بالآخر چوتھے روز فیصلہ کن مرحلہ ہوگا۔
➒ اس جنگ میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد شہادت سے سرفراز ہوگی جبکہ کچھ لوگ (ایک تہائی حصہ) کافروں سے جاملیں گے جن کی توبہ قبول نہیں ہوگی یا انہیں توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوگی اور عیسائی بھی لاکھوں کی تعداد میں واصل جہنم ہوں گے۔
➓ اس جنگ میں شہید ہونے والے مسلمان اعلی درجہ شہادت پر فائز ہوں گے۔
⓫ اس جنگ عظیم میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوگی۔
⓬ یہ جنگ کئی مراحل پر مشتمل ہوگی اس لئے اس کے لئے جمع کے صیغے (ملاحم) بھی استعمال کئے گئے ہیں۔
⓭ اس جنگ میں عیسائیوں کا کلی استیصال نہیں ہوگا البتہ ایک بڑی تعداد کے ہلاک ہو جانے کے بعد باقی ماندہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا کر مسلمان ہو جائیں گے اور کچھ دجال سے جاملیں گے۔
⓮ اس پیش گوئی کا ظہور تاحال سامنے نہیں آیا مگر اس کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ایسے حالات میں اسلام اور سچے مسلمانوں کا ساتھ دیں، جہادی تیاریاں بھرپور کریں، عیسائیوں بلکہ تمام غیر مسلموں پر اعتبار و انحصار کی پالیسی ختم کریں اور ایمان پر زندہ رہنے اور اسلام پر جان دینے کا عزم مصمم کر لیں۔
مذکورہ احادیث کو بعض لوگوں نے طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ افغانستان پر منطبق کرنے کی کوشش کی ہے لیکن فی الحقیقت ان احادیث کا اطلاق کسی طرح بھی جنگ افغانستان پر نہیں ہوتا۔ تفصیلات کے لئے راقم کی کتاب پیش گوئیوں کی حقیقت (زیر طبع) کا مطالعہ مفید رہے گا۔