حدیث ”ہادی و مہدی“ اور ”اللہم علم معاویۃ الکتاب“ کی تحقیق: سند اور راویوں کا جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

حدیث ”ہادی ومہدی“ کی تحقیق:

امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ۔
”حضرت عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا: ”اے اللہ اسے ہادی اور مہدی بنا دے اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت عطا فرما۔““
(سنن ترمذی:3842)
اس حدیث کو محدثین میں سے امام ترمذی، الجورقانی اور ابن حجر المکی نے حسن اور امام ابن حبان، ابن عساکر، علامہ البانی اور شیخ زبیر علی زئی نے صحیح قرار دیا ہے رحمہم اللہ! جیسا کہ فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ کے بیان میں اس حدیث کے تحت بحوالہ ذکر کیا گیا۔ سند و متن میں کسی قسم کی علت موجود نہیں جس سے حدیث ساقط الاحتجاج بنتی ہو، اور تمام راوی ثقہ ہیں جسکی تفصیل پیش خدمت ہے:
1-محمد بن یحییٰ
امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ:
نے آپ کو ثقہ قرار دیا: [الجرح والتعدیل-125/8]
امام ابوزرعہ الرازی رحمہ اللہ:
آپ نے فرمایا ”امام من أئمة المسلمين“: [الجرح والتعدیل-125/8]
امام ابن حبان رحمہ اللہ:
آپ نے انہیں ”الثقات“ میں ذکر کیا: [الثقات لابن حبان-115/9]
امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ:
آپ نے کہا ”كان أحد الأئمة العارفين والحفاظ المتقنين، والثقات المأمونين“: [تاریخ بغداد-656/4]
امام ذہبی رحمہ اللہ:
آپ نے انہیں ”الحافظ“ کہا: [الکاشف-5211]، اور یہ توثیق کے کلمات میں سے ایک ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ:
آپ نے فرمایا: ”ثقة حافظ جليل“: [التقریب-ص/907]
2-ابومسہر الدمشقی
امام بخاری رحمہ اللہ:
آپ نے صحیح البخاری میں ان سے روایت لی: [صحیح بخاری-77]
امام مسلم رحمہ اللہ:
آپ نے بھی مسلم میں ان سے روایات لیں: [صحیح مسلم-1975،1548]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ:
آپ کا قول پہلے بھی گزرا ”كَانَ عِنْدَكُمْ ثَلَاثَةُ أَصْحَابِ حَدِيثٍ: مَرْوَانُ، وَالْوَلِيدُ، وأبو مسهر“۔
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ:
آپ نے ثقہ قرار دیا: [الجرح والتعدیل-29/6]
امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ:
آپ نے بھی انہیں ثقہ کہا: [الجرح والتعدیل-29/6]
امام عجلی رحمہ اللہ:
آپ نے بھی ثقہ قرار دیا: [الثقات-916]
امام ابن حبان رحمہ اللہ:
آپ نے الثقات میں ذکر کیا اور کہا: ”كان امام اهل الشام في الحفظ والاتقان“: [الثقات-408/8]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ:
”ثقة فاضل“: [تقریب التہذیب-3738]
3-سعید بن عبدالعزیز
امام مسلم رحمہ اللہ:
آپ نے صحیح مسلم میں ان سے روایات لیں: [صحیح مسلم-2577،1122،477]
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ:
آپ نے انہیں بڑے أئمہ حدیث اور حفاظ میں ذکر کیا اور کہا ”الْحُجَّةُ“: [تاریخ ابی زرعہ الدمشقی-ص/461]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ:
آپ کا قول پہلے بھی ذکر کیا گیا کہ ”شام میں اوزاعی اور سعید بن عبدالعزیز سے بڑھ کر کوئی صحیح حدیث روایت کرنے والا نہیں“: [العلل-4131]
امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ:
آپ نے ثقہ قرار دیا، اور کہا ”میں شامی راویوں میں امام اوزاعی کے بعد کسی کو سعید بن عبدالعزیز پر فضیلت نہیں دیتا“: [الجرح والتعدیل-42/4]
امام ابن حبان رحمہ اللہ:
آپ نے بھی سعید بن عبدالعزیز کی توثیق کی: [الثقات لابن حبان-369/6]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ:
آپ نے فرمایا ”ثقة امام“: [التقریب-ص/383]
لہٰذا ”سعید بن عبدالعزیز“ فی نفسہ ثقہ ہیں! آخری عمر میں یہ مختلط ہو گئے تھے، مگر ان کا اختلاط یہاں مضر نہیں ہے کیونکہ سعید بن عبدالعزیز سے یہی حدیث ایک دو نہیں بلکہ پانچ مختلف راویوں نے سن کر آگے بیان کی ہے، جیسا کہ اضطراب کی بحث میں آ رہا ہے۔ نیز یہاں ان کے شاگرد ابومسہر ہیں، جن کے متعلق امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ سعید بن عبدالعزیز کو امام اوزاعی پر فوقیت دیتے تھے۔ (الجرح والتعدیل : 42/4)۔ اہل علم اسے اس بات کا قرینہ قرار دیتے ہیں کہ ابومسہر کی سعید سے روایت قبل از اختلاط ہے، ورنہ انہیں اوزاعی جیسے ثقہ ثبت راوی سے بہتر نا کہا جاتا: (الصحیحۃ للالبانی:690/7،615/4)
4-ربیعہ بن یزید
امام بخاری رحمہ اللہ:
آپ نے صحیح بخاری میں ان سے روایت لی: [صحیح بخاری-5478]
امام مسلم رحمہ اللہ:
آپ بھی صحیح مسلم میں ان کی احادیث لائے: [صحیح مسلم-1043،1037،542]
امام ابن سعد رحمہ اللہ:
آپ نے ثقہ قرار دیا: [طبقات ابن سعد-465/7]
امام ابن حبان رحمہ اللہ:
آپ نے بھی توثیق کی: [الثقات-232/4]
امام عجلی رحمہ اللہ: آپ نے کہا ”تابعي ثقة“: [الثقات للعجلی-ص،159]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ:
آپ نے ”ثقة عابد“ قرار دیا: [التقریب-323]
5-عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ
آپ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ابن عبدالبر رحمہ اللہ کے نزدیک ان کا صحابی ہونا ثابت نہیں، اور اس بنیاد پر وہ اس حدیث کو منقطع قرار دیتے ہیں، مگر یہ درست نہیں! محدثین کی ایک بڑی جماعت نے انہیں صحابی قرار دیا ہے، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
امام بخاری رحمہ اللہ:
آپ نے ان کا شمار صحابہ میں کیا: [التاریخ الکبیر للبخاری-791]
امام ابن سعد رحمہ اللہ:
آپ نے ان کے متعلق فرمایا ”وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم“ اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے۔ [الطبقات -417/7]
امام ابن حبان رحمہ اللہ:
آپ نے انہیں طبقاتِ صحابہ میں ذکر کیا: [الثقات-252/3]
امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ:
آپ نے فرمایا ”لَهُ صُحْبَةٌ“ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے: [الجرح والتعدیل-273/5]
امام ابونعیم الاصبہانی رحمہ اللہ:
آپ نے آپ کو صحابہ میں ذکر کیا: [معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم-1836/4]
امام سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ:
آپ رحمہ اللہ نے عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ کا نام لے کر کہا: ”وكان من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم“: [ترمذی-3842، تاریخ بغداد-574/1]
امام ترمذی رحمہ اللہ:
آپ نے جناب عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ کی زیر بحث حدیث کو امام سعید کے قول ”وكان من اصحاب رسول الله“ کے ساتھ نقل کیا ہے، اور اس کی کوئی تردید نہیں کی، بلکہ اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کے نزدیک بھی عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ صحابی ہیں: [سنن ترمذی:3842]
ابوالحسین عبدالباقی بن قانع رحمہ اللہ:
آپ نے حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کا شمار صحابہ میں کیا: [معجم الصحابۃ لابن قانع-621]
امام ابوالقاسم عبداللہ بن محمد البغوی رحمہ اللہ:
نے بھی آپ کو ”معجم الصحابہ“ میں ذکر فرمایا: [معجم الصحابۃ للبغوي-1946]
امام خطیب بغدادی رحمہ اللہ:
آپ رحمہ اللہ نے کہا ”لَهُ صُحْبَةٌ“: [تالی تلخیص المتشابہ-539/2]
امام جمال الدین المزی رحمہ اللہ:
نے آپ کے بارے میں فرمایا ”لَهُ صُحْبَةٌ“: [تہذیب الکمال فی اسماء الرجال-321/17]
امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ:
آپ نے انہیں صحابی قرار دیا: [الکاشف-638/1]
اور ایک جگہ فرمایا ”وَالْأَظْهَرُ أَنَّهُ صحابي“: [تاریخ الاسلام-541/2]
علامہ التقی الفاسی رحمہ اللہ:
آپ نے بھی جناب عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ کو صحابی کہا: [العقد الثمین -92/6]
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ:
آپ کا ایک قول بھی یہی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ صحابی ہیں، اور آپ نے اس پر مدلل بحث کی۔ پھر آپ نے دیگر محدثین سے بھی یہ قول نقل کیا، آپ فرماتے ہیں:
قال أبو حاتم وابن السكن: له صحبة. ذكره البخاري، وابن سعد، وابن البرقي، وابن حبان، وعبد الصمد بن سعيد في الصحابة۔ وذكره أبو الحسن بن سميع في الطبقة الأولى من الصحابة۔
”امام ابوحاتم اور ابن السکن نے کہا کہ آپ صحابی ہیں، اور امام بخاری، ابن سعد، ابن البرقی، ابن حبان اور عبدالصمد بن سعید رحمہم اللہ نے انہیں صحابہ میں ذکر کیا، اور ابوالحسن بن سمیع نے ان کا ذکر صحابہ کے پہلے طبقے میں کیا۔“ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: 287/4)
علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ:
آپ نے حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے متعلق کہا: وهو صحابي: [الصحیحۃ -690/7]
اتنے محدثین کی تصریحات کے باوجود انجینئر مرزا صاحب یہ جھوٹ بولتے ہیں (اور جھوٹ بولنا ان کے لیے عام سی بات ہے) کہ عبدالرحمٰن کو [کئی محدثین] صحابی نہیں تابعی کہتے ہیں، وہ صحابی ہے ہی نہیں۔ اور جناب محترم اس وجہ سے روایت کو مرسل و منقطع قرار دے کر اسے مشکوک ٹھہراتے ہیں۔ (علمی وتحقیقی مجلس نمبر26، دورانیہ-1:55:00)
اور یہ بھی یاد رہے کہ ان کے پلیٹ فارم سے ہر بات بحوالہ اور دلیل کے ساتھ ہوتی ہے۔

کیا سند میں اضطراب ہے؟

اگر کوئی کہے کہ یہ حدیث ولید بن مسلم اور عمر بن عبد الواحد عن سعید بن عبدالعزیز عن یونس بن میسرۃ عن عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ کی سند سے بیان کرتے ہیں جبکہ ابومسہر اسے عن سعید بن عبدالعزیز عن ربیعہ بن یزید عن عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، لہٰذا سند میں اضطراب ہے۔
تو عرض ہے کہ اول تو یہ اضطراب نہیں اگر مان بھی لیں پھر بھی ایسا نہیں کہ موجب ضعف بن جائے، کیوں کہ سند یا متن میں اضطراب کا حکم اس وقت لگتا ہے کہ جب جمع یا ترجیح ممکن نا ہو، اور درست بات معلوم نا ہوتی ہو۔ جیسا کہ محدثین نے صراحت کی ہے:
أَمَّا إِذَا تَرَجَّحَتْ إِحْدَاهُمَا بِحَيْثُ لَا تُقَاوِمُهَا الْأُخْرَى بِأَنْ يَكُونَ رَاوِيهَا أَحْفَظَ. أَوْ أَكْثَرَ صُحْبَةً لِلْمَرْوِيِّ عَنْهُ. أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ مِنْ وُجُوهِ التَّرْجِيحَاتِ الْمُعْتَمَدَةِ. فَالْحُكْمُ لِلرَّاجِحَةِ. وَلَا يُطْلَقُ عَلَيْهِ حِينَئِذٍ وَصْفُ الْمُضْطَرِبِ وَلَا لَهُ حُكْمُهُ۔
”اگر ان دونوں (مضطرب اسناد) میں سے ایک راجح جبکہ دوسری اس کے ہم پلہ نا ہو، بصورت یہ کہ اس (راجح سند) کا راوی زیادہ حافظے والا ہو، یا استاد کے ساتھ اس کی صحبت زیادہ ہو یا اس کے علاوہ ترجیحات کی کوئی صورت ہو تو اس وقت حکم (یعنی اعتبار) راجح (سند) کا ہوگا اور اس (ترجیح) کی صورت میں اس پر وصفِ اضطراب کا اطلاق نا ہوگا اور نا ہی اس پر اضطراب کا حکم لگے گا!“
(مقدمۃ ابن الصلاح:ص 94)
أَمَّا إِنْ رَجَحَ بَعْضُ الْوُجُوهِ لَمْ يَكُنْ مُضْطَرِبًا وَالْحُكْمُ لِلرَّاجِحِ مِنْهَا وُجُوبًا۔
”اگر بعض وجوہات کی بنیاد پر (اسناد میں سے کسی کو) ترجیح حاصل ہو تو (سند) مضطرب نہیں ہوگی اور راجح پر حکم لازم ہوگا۔“ (فتح المغیث بشرح الفیۃ الحدیث:290/1)
اور یہاں بھی ترجیح ممکن ہے، کیوں کہ ولید بن مسلم (1) اور عمر بن عبد الواحد (2) ہی عن سعید عن ربیعہ کے واسطے سے بھی اسے روایت کرتے ہیں:
1-حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا- الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ – حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ الْأَزْدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ: "اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، وَاهْدِ بِهِ”۔ (مسند احمد:17895)
2-وأما حديث عمر بن عبد الواحد فأخبرناه أبو محمد بن الأكفاني حدثنا أبو محمد الكتاني أنا تمام بن محمد أبو عبد الله بن مروان نا أبو بكر أحمد بن المعلى أنا محمود نا- عمر بن عبد الواحد- عن سعيد يعني ابن عبد العزيز عن ربيعة بن يزيد…….. (تاریخ دمشق:83/59)
اس کے علاوہ مروان بن محمد (1) اور محمد بن سلیمان (2) بھی یہ حدیث عن سعید عن ربیعہ کے واسطے ہی سے روایت کرتے ہیں۔
1-حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، نا – مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ – وَأَبُو مُسْهِرٍ قَالَا: نا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ………
(الآحاد والمثانی لابن ابی عاصم:1129)
2-وأما حديث محمد بن سليمان فأخبرناه أبو القاسم زاهر وأبو بكر وجيه ابنا طاهر بن محمد وأبو الفتوح عبد الوهاب بن شاه بن أحمد قالوا أنا أحمد بن الحسن بن محمد الأزهري أنا الحسن بن أحمد المخلدي نا أبو بكر عبد الله بن محمد بن مسلم الإسفرايني نا محمد بن غالب الأنطاكي نا- محمد بن سليمان- نا سعيد بن عبد العزيز عن ربيعة بن يزيد عن عبد الرحمن ابن أبي عميرة المزني……. (تاریخ دمشق:83/59)
اور یہ تینوں (ابومسہر، مروان بن محمد اور محمد بن سلیمان) بغیر کسی شک کے سعید عن ربیعہ کہتے ہیں، لہٰذا اسے ترجیح حاصل ہوگی، اور ولید بن مسلم اور عمر بن عبدالواحد نے جو ربیعہ کی جگہ یونس کہا ہے، اس کی بجائے جو انہوں نے سعید بن عبدالعزیز عن ربیعہ بن یزید کے واسطے سے روایت بیان کی وہی راجح کہلائے گی، اور سند اضطراب سے پاک ہوگی۔
امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے بھی اس اختلاف کو ذکر کیا اور پھر پہلے ولید بن مسلم کی دوسرے اصحاب کے موافق سند ذکر کی، پھر اسی کی روایت کہ جس میں ولید نے عن سعید عن یونس کہا ہے کو ذکر کر کے فرمایا: ”وقول الجماعة هو الصواب“ یعنی اس کی بجائے وہی درست روایت ہے جو جماعت نے (عن سعید عن ربیعہ کے طرق سے) بیان کی: [تاریخ دمشق-84/59]
اسی طرح علامہ البانی رحمہ اللہ نے امام ابن عساکر رحمہ اللہ کا قول بیان کر کے ان کی موافقت کی، اور اضطراب کے دعوے کی تردید کی: [سلسلۃ الصحیحۃ-617/4]
لہٰذا جب ترجیح ممکن ہے تو سند پر اضطراب کا حکم نہیں لگ سکتا!
مزید یہ کہ زیر بحث حدیث اسی سند (عن سعید عن ربیعہ) ہی سے معروف ہے، جیسا کہ کتبِ تراجم اور متون الحدیث میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اور پھر اکثر رواۃ اسے اسی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں، حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ایک درجن سے زائد اسانید سے ذکر کیا ہے، جو تمام کی تمام عن سعید بن عبدالعزیز عن ربیعہ بن یزید کے طریق سے ہیں، لہٰذا ائمہ محدثین کی تصریحات، ان کے اسلوب اور دیگر قرائن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سند اضطراب سے بالکل محفوظ ہے۔
خلاصہ کلام یہی ہے کہ یہ حدیث بلحاظ سند و متن صحیح ہے! اور ہم نے تمام راویوں کے متعلق أئمہ جرح و تعدیل کے اقوال پیش کر دیے ہیں، تو ہمیں بتایا جائے کہ آخر کس راوی نے یہ حدیث گھڑی ہے؟ جو آپ بتاتے ہیں کہ ”انہوں (جناب علی رضی اللہ عنہ کے دشمنوں) نے یہ احادیث گھڑیں ہیں“۔

حدیث ”اللهم علِّم معاوية الكتاب“ کی تحقیق:

عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اَللّٰهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ۔
”حضرت عرباض بن ساریہ السلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے اللہ معاویہ کو کتاب (قرآن مجید) اور حساب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے محفوظ رکھ۔““
(مسند احمد:17152)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ اور ابن حبان نے صحیح اور امام ابن عساکر، علامہ البانی، شیخ زبیر علی زئی اور مولانا غلام مصطفیٰ ظہیر رحمہم اللہ نے حسن قرار دیا ہے، جیسا کہ پہلے بحوالہ بیان کیا گیا۔
مسند احمد میں اس حدیث کی سند یوں ہے:
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي رُهْمٍ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ۔
راویوں کی مختصراً توثیق درج ذیل ہے:
1-عبدالرحمٰن بن مہدی
آپ امام شافعی، احمد بن حنبل، علی بن مدینی رحمہم اللہ اور ان جیسے کئی بڑے بڑے أئمہ و محدثین کے استاد اور جرح و تعدیل اور حدیث کے امام ہیں، صحیح بخاری و مسلم میں بھی آپ سے بہت سی احادیث مروی ہیں، آپ کی توثیق بیان کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔
2-معاویہ بن صالح
امام عبدالرحمٰن بن مہدی رحمہ اللہ:
نے آپ کی توثیق کی: [الجرح والتعدیل-382/8]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ:
نے ثقہ قرار دیا: [الجرح والتعدیل-382/8]
امام مسلم رحمہ اللہ:
نے صحیح مسلم میں ان سے روایات لیں: [صحیح مسلم-963،542،454،307]
امام ابوزرعہ الرازی رحمہ اللہ:
نے ”ثقة محدث“ قرار دیا: [الجرح والتعدیل-383/8]
امام عجلی رحمہ اللہ:
نے ثقہ کہا: [الثقات للعجلی-1594]
امام ابن حبان رحمہ اللہ:
نے ”الثقات“ میں ذکر کیا: [الثقات-470/7]
امام ابن سعد رحمہ اللہ:
نے کہا ”ثقة كثير الحديث“: [طبقات الکبریٰ-521/7]
امام ذہبی رحمہ اللہ:
آپ نے فرمایا ”صدوق“: [الکاشف-276/2]
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ: نے بھی ”صدوق“ قرار دیا: [تقریب-ص/955]
3-یونس بن سیف
امام دارقطنی رحمہ اللہ:
نے انہیں ثقہ قرار دیا: [سوالات البرقانی-ص146]
امام ابن حبان رحمہ اللہ:
نے ”الثقات“ میں ذکر فرمایا: [الثقات-555/5]
امام بزار رحمہ اللہ:
نے ”صالح الحدیث“ قرار دیا: [مسند بزار-4202]
علامہ ذہبی رحمہ اللہ:
نے آپ کو ثقہ کہا: [الکاشف-403/2]
4-الحارث بن زیاد
امام ابن حبان رحمہ اللہ:
نے آپ کو ”الثقات“ میں ذکر کیا: [الثقات-2148]
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ:
آپ نے حارث بن زیاد کی حدیث صحیح ابن خزیمہ میں ذکر کی: [صحیح ابن خزیمہ- 1938] جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ آپ کے نزدیک ثقہ ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ اسے صرف ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ کہا ہے درست نہیں! بلکہ آپ کے استاد ابن خزیمہ کی توثیق بھی موجود ہے جن کا شمار معتدل أئمہ جرح و تعدیل میں ہوتا ہے، آپ رحمہ اللہ کا متساہل ہونا ثابت نہیں!
امام ذہبی رحمہ اللہ نے ثقہ راویوں کے مختلف طبقات کے بیان میں فرمایا: وإن صحح له مثل الترمذي وابن خزيمة، فجيد أيضا…..! ”اگر کسی راوی کی حدیث کو امام ترمذی یا ابن خزیمہ جیسے ائمہ نے صحیح کہا ہو تو وہ بھی جید (عمدہ) ہے۔“ [الموقظۃ-ص78]
اور شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے فرمایا ”امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کا متساہل ہونا ثابت نہیں۔“ [فتاویٰ علمیہ-جلد دوم، ص/304]
اس کے علاوہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس راوی کو ”لین الحدیث“ کہا ہے، مگر یاد رہے یہ مراتب جرح میں بہت ہلکا کلمہ ہے، اس سے راوی ساقط الاحتجاج نہیں ہوتا جبکہ اس کے برعکس توثیق بھی منقول ہو۔
محدث العصر مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے اس کی وضاحت میں فرمایا:

”اصطلاحاً ”لین الحدیث“ کے یہ معنی قطعاً نہیں کہ وہ (راوی) حدیث میں ضعیف ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب التہذیب کے مقدمہ میں الفاظ جرح و تعدیل کے مراتب بیان کرتے ہوئے ”لین الحدیث“ کو چھٹے اور ”ضعیف“ کو آٹھویں مرتبہ میں ذکر کیا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی یہ تفریق خود اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک ”لین الحدیث“ راوی ”ضعیف“ کے مرتبہ کا نہیں ہوتا۔ اسی طرح جن حضرات نے بھی الفاظ جرح و تعدیل کے مراتب بیان کیے ہیں، انہوں نے ان دونوں الفاظ کو علیحدہ علیحدہ مرتبوں میں ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو (الرفع والتکمیل ص110،119،129،130، میزان الاعتدال: ج1 ص3، الجرح والتعدیل: ج1 ص37) وغیرہ……“

[مولانا سرفراز صفدر اپنی تصانیف کے آئینہ میں-36]
نیز یہ راوی منفرد نہیں ہے، علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس حدیث کا ایک قوی شاہد ہے۔“ [السیر:124/3]
5-ابورہم:
نام احزاب بن اسید ہے، ثقات تابعین میں سے ہیں بعض محدثین نے صحابہ میں شمار کیا ہے۔ واللہ اعلم
امام ابن حبان رحمہ اللہ:
آپ نے انہیں ”الثقات“ میں تابعین کے طبقے میں ذکر کیا: [الثقات-1822]
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ:
نے اپنی ”صحیح“ میں ان سے حدیث لی: [صحیح ابن خزیمہ-1938]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ:
آپ نے ثقہ قرار دیا: [تقریب-ص121]
6-عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
یہ حدیث سعید بن عبدالعزیز عن ربیعہ بن یزید عن عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ کے طرق سے بھی مروی ہے:
أَبُو مُسْهِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اَللّٰهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ (التاریخ الکبیر للبخاری- 327/7، تاریخ دمشق-230/35)
اس سند کی مفصل تحقیق ہادی و مہدی والی حدیث کے تحت بیان کی گئی تھی،
امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسے قوی شاہد قرار دیا ہے: [السیر:124/3]
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کے متعلق فرمایا: وهذا إسناد جيد عندي، وشاهد قوي، رجاله ثقات رجال مسلم، غير ابن أبي عميرة وهو صحابي ”اور یہ سند میرے نزدیک جید (عمدہ) ہے، اور قوی شاہد ہے، اس کے راوی ثقہ اور صحیح مسلم کے راوی ہیں، ماسوائے ابن ابی عمیرہ کے اور وہ صحابی ہیں“: [الصحیحۃ:690/7]
اس کے دوسرے شواہد بھی موجود ہیں:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ ثنا صَفْوَانُ قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِمُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ "اَللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ، وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ” (فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل:1749)
اس کے تمام راوی ثقہ ہیں مگر یہ ”مرسل“ ہے، علامہ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا: وهذا إسناد شامي مرسل صحيح، رجاله ثقات، وشريح بن عبيد هو الحضرمي الحمصي تابعي ثقة۔ ”یہ سند شامی ہے اور مرسل صحیح ہے، اس کے تمام رجال ثقہ ہیں اور شریح بن عبید ثقہ تابعی ہیں۔“ [السلسلۃ الصحیحۃ-692/7]
اور علامہ البانی رحمہ اللہ زیر تحقیق حدیث کی تخریج میں فرماتے ہیں: روى من حديث العرباض بن سارية، وعبد الله بن عباس، وعبد الرحمن ابن أبي عميرة المزني، ومسلمة بن مُخَلَّد، ومرسل شُرَيح بن عُبيد، ومرسل حَرِيز بن عثمان۔ ”یہ حدیث عرباض بن ساریہ، عبداللہ بن عباس، عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ، مسلمہ بن مخلد (وغیرہ سے متصلاً)، اور شریح بن عبید اور حریز بن عثمان سے مرسلاً مروی ہے۔“ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (الصحیحۃ – حدیث نمبر:3227)
مرزا صاحب کے مقلدین کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ جب مرزا صاحب علامہ البانی و زبیر علی زئی کی تحقیق پر بڑا اعتماد کرتے ہیں اور ہر حدیث کو بیان کر کے ان دونوں کا حوالہ دیتے ہیں کہ اسے شیخ البانی اور شیخ زبیر علی زئی نے صحیح کہا ہے، تو ان احادیث کو بھی جب دیگر اہل علم سمیت انہوں نے بھی صحیح قرار دیا ہے، تو کیا وجہ ہے کہ انجینئر صاحب اس موقع پر ان حضرات کی بات سننے کے لیے تیار نہیں؟ اور یہاں وہاں کی باتیں کرتے ہیں، اور بجائے علت بیان کرنے کے جن اقوال کا سہارا لیتے ہیں وہ خود صحیح سند سے ثابت نہیں، پھر آپ دعوے دار بھی ہیں کہ جی ہم بابی نہیں علمی کتابی ہیں، اور حدیث کو مختلف حیلوں سے جھٹلانے والوں پر تنقید بھی آپ کرتے ہیں، تو جو طرز عمل مرزا صاحب یہاں اختیار کیے ہوئے ہیں کیا یہ حدیث کو جھٹلانا نہیں؟ أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (البقرۃ: 44)