عورت کے لیے اظہارِ زینت کس حد تک جائز اور کس حد تک ناجائز ہے
عورتوں سے متعلق مزید ہدایات درج ذیل ہیں :
وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا
”اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، بجز اس کے جو ظاہر ہو جائے۔“
سورة النور : 31
عورت کی زینت میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اسے آراستہ کرنے والی اور اس میں جمال پیدا کرنے والی ہو خواہ وہ خلقی زینت ہو جیسے چہرہ، بال اور جسم کے دوسرے محاسن یا اکتسابی جیسے کپڑے، زیور، سرخی وغیرہ۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی زینت چھپائیں اور اس کو ظاہر نہ کریں۔ اور اس سے مستثنیٰ صرف مَا ظَهَرَ مِنْهَا (زینت میں سے جو ظاہر ہو جائے) کو کر دیا۔
مَا ظَهَرَ مِنْهَا کے معنی کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ آیا اس کے معنی ضرورتاً بغیر کسی قصد کے ظاہر ہو جانے کے ہیں، مثلاً : جو ہوا کے جھونکے سے کھل جائے۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ چیز جو عادۃً اور قدرتی طور پر ظاہر ہوتی ہے اور جس کی اصل حقیقت ظاہر ہونا ہی ہے؟
اکثر سلف سے جو کچھ منقول ہے اس سے دوسری رائے کی تائید ہوتی ہے۔
چنانچہ سیدنا ابن عباس رضي اللہ عنہما نے مَا ظَهَرَ مِنْهَا کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے مراد سرمہ اور انگوٹھی ہے۔
تفسير الطبري : 18/118 ، والبيهقي في السنن الكبرى : 7/94
سیدنا انس رضي اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے۔
در المنشور : 6/179
سرمہ اور انگوٹھی کے اظہار سے ان کے اعضاء کا اظہار بھی لازم آتا ہے، یعنی چہرہ اور ہتھیلیاں۔ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ، عطا رحمہ اللہ اور اوزاعی رحمہ اللہ وغیرہ سے صراحت کے ساتھ یہ منقول ہے۔
تفسير الطبري : 18/118-119
سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہا اور قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے جو روایتیں ہیں ان میں کنگنوں کا اضافہ ہے۔
تفسير الطبري : 18/118-119 ، والدر المنثور : 6/180
جس سے معلوم ہوتا ہے ہتھیلی کے علاوہ ہاتھ کا مزید کچھ حصہ بھی مستثنیٰ ہے۔ اس کی حد بہ اختلافِ آراء ایک مشت سے لے کر نصف ہاتھ تک ہو سکتی ہے۔ اس توسیع کے برخلاف سیدنا عبداللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ اور نخعی رحمہ اللہ وغیرہ کا مسلک ہے۔ انہوں نے مَا ظَهَرَ مِنْهَا سے چادر وغیرہ ظاہری کپڑے مراد لیے ہیں۔
مستدرك حاكم : 2/397 ، وتفسير الطبري : 18/117-118
لیکن ان چیزوں کو چھپانا ممکن ہی نہیں ہے۔
میرے خیال میں قابل ترجیح یہ ہے کہ مَا ظَهَرَ مِنْهَا کو چہرہ اور ہتھیلیوں تک محدود رکھا جائے اور زینت کی جو چیزیں عادۃً بغیر کسی غلو یا اسراف کے ان اعضاء سے متعلق ہوتی ہیں، اُن کو ان میں شامل سمجھا جائے۔ مثلاً ہاتھ کی انگوٹھی، آنکھ کا سرمہ وغیرہ جس کی صراحت صحابہ رضي اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ کے ایک گروہ نے کی ہے۔
سرخی اور پاؤڈر کا مسئلہ اس سے مختلف ہے۔ ان چیزوں کو موجودہ زمانہ کی عورتیں رخسار، ہونٹ اور ناخن کے لیے استعمال کرتی ہیں، لیکن یہ سخت ناپسندیدہ غلو ہے۔ ان چیزوں کو بس گھر ہی میں استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن آج کل عورتیں گھر سے باہر نکلتے وقت مردوں کے لیے کشش پیدا کرنے کی غرض سے استعمال کرتی ہیں، بہرحال یہ حرام ہے۔
رہی مَا ظَهَرَ مِنْهَا کی یہ تفسیر کہ اس سے چادر وغیرہ جیسے خارجی کپڑے مراد ہیں تو یہ قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ ان کپڑوں کا ظاہر ہونا قدرتی امر ہے جس کی ممانعت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ مستثنیٰ کرنے کی ضرورت پیش آئے۔
اسی طرح یہ تفسیر بھی قابل قبول نہیں ہے کہ اس سے مراد ہوا کے جھونکے وغیرہ سے چادر کا کھل جانا ہے کیونکہ یہ انسان کے بس میں نہیں ہوتا لہذا اسے مستثنیٰ کرنا اور نہ کرنا بالکل یکساں ہے۔ استثناء سے تو جو بات متبادر (قابل مفہوم) ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جو چیزیں چھپائی جا سکتی ہیں ان کو ظاہر کرنے کے سلسلہ میں یہ استثناء ہے اور یہ مومن خواتین کے حق میں رخصت اور تخفیف ہے۔ اور معقول بات یہ ہے کہ رخصت چہرے اور ہتھیلیوں کے بارے میں ہونی چاہیے۔
چہرے اور ہتھیلیوں کے بارے میں یہ رعایت اس لیے کر دی گئی ہے کہ ان کو چھپانا عورت کے لیے باعث حرج ہے خاص طور سے ایسی صورت میں جبکہ اسے جائز ضرورت سے باہر نکلنا پڑے مثلاً بیواؤں کو اپنی اولاد کی ضروریات کے لیے اور غریب عورتوں کو اپنے شوہروں کی معاونت کے لیے باہر نکلنا پڑے۔ ایسی صورت میں نقاب ڈالنے اور ہتھیلیاں چھپانے کی پابندی ان کے لیے مشکلات اور دشواریوں کا باعث ہوگی۔
امام قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
عام طور سے چہرہ اور ہتھیلیاں عادةً نیز نماز حج وغیرہ عبادت کے مواقع پر کھل جاتی ہیں تو صحیح بات یہی ہے کہ استثناء ان ہی اعضا کے سلسلہ میں سمجھا جائے۔ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث دلالت کرتی ہے جسے امام ابو داود رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے :
أن أسماء بنت أبى بكر دخلت على رسول الله وعليها ثياب رقاق، فأعرض عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال لها : يا أسماء إن المرأة إذا بلغت المحيض لم يصلح أن يرى منها إلا هذا وهذا وأشار إلى وجهه وكفيه
اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، ان کے جسم پر ایک باریک کپڑے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا اور فرمایا : ”اے اسماء عورت جب بالغ ہو جائے تو اس کے لیے روا نہیں ہے کہ اس کے جسم کا کوئی حصہ دکھائی دے سوائے اس کے اور اس کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔“
ابو داؤد کتاب اللباس : باب فيما تبدى المرأة من زينتها ح : 4104 ـ واسناده ضعيف وعلته تقدم قبل اربع صفحات تفسیر قرطبی : 12-229
اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی اس پر دلالت کرتا ہے :
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ
”مؤمنوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔“
سورہ النور : 30
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے چہروں پر نقاب پڑی ہوئی نہیں ہوتی تھی اگر عورت کا جسم اور چہرہ سب ڈھکا ہوا ہوتا تو غض بصر کا حکم دینے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ جب دیکھنے کے لیے کوئی چیز موجود نہ ہو تو نگاہوں کو نیچا کرنے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔
معاشرے ميں صرف مسلم خواتين هي نهيں هوتيں غير مسلم بهي هوتي هيں، جن كے هاں چهره ننگا ركهنا تو كجا ديگر محاسن كهلے ركهنا بهي معيوب نهيں هوتے. (ابو الحسن مبشر احمد رباني رحمه الله)
اس کے باوجود عورت کے لیے اکمل اور مناسب ترین صورت یہ ہے کہ وہ اپنی زینت کو پوری طرح چھپانے کی کوشش کرے اور جہاں تک ہو سکے اپنا چہرہ بھی چھپائے کیونکہ ہمارے زمانہ میں بگاڑ عام ہو گیا اور فسق کی گرم بازاری ہے۔ خاص طور سے ایسی صورت میں اس کا اہتمام ضرور کرنا چاہیے جبکہ عورت اس قدر حسین ہو کہ اس پر کسی کے فریفتہ ہو جانے کا اندیشہ ہو۔
وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَ
اور وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہیں۔“
سورہ النور : 31
مسلمان عورت پر واجب ہے کہ وہ اپنا سر اوڑھنی سے ڈھانک رکھیں اور اس سے اپنے سینہ گلے اور گردن کو چھپائے تا کہ آنے جانے والوں کی نظریں اس پر نہ پڑیں :
وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ
”وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر ان لوگوں کے سامنے شوہر باپ، شوہروں کے باپ اپنے بیٹے شوہروں کے بیٹے بھائی بھتیجے بھانجے اپنی عورتیں اپنے مملوک وہ زیر دست مرد جو کوئی غرض نہ رکھتے ہوں اور وہ بچے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف نہ ہوئے ہوں۔“
سورہ النور : 31
اس آیت میں مومن عورتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی پوشیدہ زینت مثلاً : کان بال گردن سینہ اور پنڈلی کی زینت اجنبی مردوں کے سامنے نہ کھولے۔ ان کے سامنے صرف چہرہ اور ہتھیلیاں کھولنے کی اجازت ہے۔
اس ممانعت سے بارہ اصناف کو مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔
➊ ان کے شوہر : چنانچہ مرد اپنی بیوی کے جسم کا کوئی بھی حصہ دیکھ سکتا ہے۔ اس طرح عورت اپنے شوہر کے جسم کا کوئی بھی حصہ دیکھ سکتی ہے۔
حدیث میں ہے :
احفظ عورتك إلا من زوجتك
”اپنے ستر کو چھپاؤ بجز اپنی بیوی کے۔“
ابو داود كتاب الحمام باب في التعرى ح : 4017 ، ترمذی کتاب الحمام باب ما جاء في حفظ العورة ح : 2769 ، ابن ماجه كتاب النکاح باب التستر عند الجماع ح : 1920
➋ ان کے آباء : باپ کے علاوہ دادا اور نانا بھی۔
➌ ان کے شوہروں کے باپ : یہ بھی گویا ان ہی کے باپ کے حکم میں ہیں۔
➍ ان کے بیٹے : اسی طرح ان کی اولاد کے بیٹے یعنی پوتے اور نوا سے۔
➎ شوہر کے بیٹے : کیونکہ ان کے ساتھ رہنا ہوتا ہے اور وہ ان کے لیے ماں کی جگہ ہوتی ہے۔
➏ ان کے بھائی : خواہ سگے ہوں یا علاقی یا اخیافی۔
➐ ان کے بھتیجے : اس وجہ سے کہ پھوپھی کا رشتہ ابدی حرمت کا رشتہ ہوتا ہے۔
➑ ان کے بھانجے : اس وجہ سے کہ خالہ کا رشتہ ابدی حرمت کا رشتہ ہوتا ہے۔
➒ ان کی عورتیں : یعنی وہ عورتیں جن سے نسب یا دین کے تعلق سے ربط ہو۔ رہیں غیر مسلم عورتیں تو ان کے سامنے زینت کا اظہار جائز نہیں، بجز اس کے جس کا اظہار مردوں کے سامنے جائز ہے۔
➓ ان کے مملوک : یعنی ان کی لونڈیاں اور غلام کہ اسلام نے انہیں ارکان خاندان کا سا درجہ دیا۔ البتہ بعض ائمہ نے صرف لونڈیاں مراد لی ہیں۔
⓫ وہ مرد جو زیر دست ہوں اور جن کو کچھ غرض نہ ہو۔ یہ اجیر اور تابع لوگ ہیں جنہیں بدنی یا عقلی سبب سے شہوت نہیں ہوتی۔ ان لوگوں میں یہ دونوں باتیں وافر طور پر موجود ہونی چاہئیں، یعنی ان کا گھر میں تابع کی حیثیت سے ہونا۔ اور شہوت کا فقدان۔
⓬ وہ بچے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف نہیں ہوئے۔ یہ چھوٹے بچے وہ ہیں جن کے اندر ابھی جنسی شعور پیدا نہیں ہوا۔ لیکن جب یہ شعور پیدا ہو جائے تو ان کے سامنے پوشیدہ زینت کا اظہار نہیں ہوگا، اگر چہ کہ وہ نابالغ ہوں۔
آیت میں چچا اور ماموں کا ذکر نہیں ہے کیونکہ عرفاً باپ کے درجہ میں ہیں۔
حدیث میں ہے :
عم الرجل صنو آبيه
”آدمی کا چچا بمنزلہ والد کے ہوتا ہے۔“
مسلم كتاب الزكوة : باب في تقديم الزكوة منعها ح : 983