مضمون کے اہم نکات
گیارہواں شبہ: منافقین کی عدم معرفت
اگرچہ احادیث صحابہ کرام سے مروی ہیں لیکن اس وقت مدینہ اور گردو نواح میں منافق لوگ بھی تھے اور کسی کو معلوم بھی نہیں تھا کہ فلاں شخص مخلص ہے یا منافق تو اس بنا پر احادیث کی دینی حجیت مشکوک بن جاتی ہے۔
جواب:
قرآن کریم کی بہت سی سورتوں میں مومنوں اور منافقوں کی صفات کا ذکر ہے جن کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ مومن کون ہیں اور منافق کون ہیں۔
مومن کی صفات
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٣﴾ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ﴿٤﴾
”جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے جو کچھ انہیں دے رکھا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور وہ آپ پر نازل کی گئی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور جو آپ سے پہلے کتابیں نازل کی گئیں ان پر بھی ایمان لاتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔“
(2-البقرة:3-4)
وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ﴿١٧٧﴾
”لیکن نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر، روز آخرت پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے اور اللہ کی محبت میں قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوال کرنے والوں اور غلاموں کے آزاد کرانے کے لیے مال دے اور نماز کی پابندی کرتا رہے اور زکاۃ دیتا رہے اور ایسے لوگ عہد کر کے اسے پورا کرنے والے ہیں، تنگ دستی، تکلیف اور جنگ کے وقت ثابت قدم رہنے والے ہیں، یہی لوگ حق و صداقت پر ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔“
(2-البقرة:177)
التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ﴿١١٢﴾
”تو بہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد و ثنا کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم کرنے والے، برائی سے روکنے والے، اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں اور (ایسے) مومنوں کو خوش خبری سنادیجیے۔“
(9-التوبة:112)
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ﴿١﴾ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ﴿٢﴾ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ﴿٣﴾ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ ﴿٤﴾ وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ﴿٥﴾ إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ﴿٦﴾ فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ﴿٧﴾ وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ ﴿٨﴾ وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ ﴿٩﴾
”بلاشبہ مومنوں نے فلاح پائی، جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں، وہ بے ہودہ باتوں سے کنارہ کش رہتے ہیں، جو زکاۃ ادا کرنے والے ہیں، جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، مگر اپنی بیویوں یا اپنی لونڈیوں سے نہیں کیونکہ (ان سے مباشرت کرنے میں) ان پر کوئی ملامت نہیں، پس جو شخص اس کے علاوہ (برائی کا) خواہاں ہو تو ایسے لوگ حد سے نکل جانے والے ہیں اور وہ جو اپنی امانتوں اور معاہدوں کو ملحوظ رکھتے ہیں اور وہ جو اپنی نمازوں کی پابندی و حفاظت کرتے ہیں۔“
(23-المؤمنون:1-9)
وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا
”اور رحمن کے بندے تو وہ ہیں جو آہستگی کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ سلام کہہ دیتے ہیں۔“
(25-الفرقان:63)
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ
”محمد رسول اللہ کا رسول ہے اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں نہایت رحم دل ہیں، تو انہیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدہ کرنے والے ہیں اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں میں موجود ہے، سجدے کرنے کے اثر سے۔“
(48-الفتح:29)
إِلَّا الْمُصَلِّينَ ﴿٢٢﴾ الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ ﴿٢٣﴾
” مگر نماز پڑھنے والے جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی کرنے والے ہیں۔ “
(70-المعارج:22، 23)
ان آیات کریمہ کا پہلا مصداق صحابہ کرام بھی اہم تھے۔ ان آیات کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں مومنوں کی صفات بیان کی گئی ہیں، ان آیات پر غور و فکر کرنے سے مخلص مومن اور کامل مسلمان کا پتا چل جاتا ہے اور ان صفات کو پہچان کر انسان فیصلہ کر سکتا ہے کہ فلاں شخص مومن ہے۔
منافق کی صفات
قرآن کریم نے منافقوں کی علامتیں بھی بیان کی ہیں جن کے مطالعے سے منافقوں کا پتا چل جاتا ہے اور ان علامتوں کی وجہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلاں شخص منافق ہے۔
➊ (2-البقرة:8-16)
➋ (3-آل عمران:118-120، 153، 168)
➌ (4-النساء:61، 77، 78، 82، 91، 97، 107، 114، 137، 143)
➍ (9-التوبة:38، 101، 107، 125، 126)
➎ اسی طرح سورۂ نور، احزاب، محمد، فتح، مجادلہ، حشر، منافقون اور ماعون میں بھی منافقوں کی علامتیں بیان کی گئی ہیں۔ یہ تقریباً 203 آیات کریمہ ہیں، ان آیات پر غور کرنے سے منافق شخص کا پتا چل سکتا ہے۔
قرآن کریم نے مومنوں کی جو صفات بیان کی ہیں وہ صحابہ کرام رضي اللہ عنہم میں موجود تھیں اور منافقین کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ اس وقت کے منافقوں میں موجود تھیں۔ ان صفات کی روشنی میں ایک عام شخص بھی مومن اور منافق میں فرق کر سکتا ہے۔ اب صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اور تابعین جو فہم و فراست کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے، وہ تو مومن اور منافق میں واضح فرق سمجھتے تھے۔ انہوں نے مومنوں سے روایات لی ہیں اور جہاں تک منافقوں کا تعلق ہے، انہوں نے ان سے دنیوی معاملات کرنے سے بھی اجتناب کیا ہے، لہذا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ دنیوی معاملات میں تو ان سے اجتناب کریں اور دین کے معاملے میں ان سے روایات نقل کریں۔
اللہ تعالیٰ نے زمانہ نبوت میں صحابہ کرام رضي اللہ عنہم کو مختلف مصائب اور پریشانیوں کے ذریعے سے آزمایا جس کی وجہ سے صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اور منافقین کے درمیان فرق واضح ہو گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ
”اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم اس وقت ہو، یہاں تک کہ وہ پاک کو ناپاک سے علیحدہ کر دے۔“
(3-آل عمران:179)
اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کے سوال کا جواب دیا ہے جو اعتراض کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے غزوہ احد میں مومنوں کو اس پریشانی سے کیوں دوچار کیا کہ 70 صحابہ کرام رضي اللہ عنہم شہید کر دیے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک بھی شہید کر دیے گئے۔ اس سارے واقعے میں اللہ تعالیٰ کی یہی حکمت تھی کہ وہ مومنوں اور منافقوں کے درمیان فرق ظاہر کر دے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس آزمائش کے ذریعے سے مومنوں اور منافقوں کے درمیان فرق کر دیا تو پھر کیسے ممکن ہے کہ کوئی صحابی یا کوئی تابعی منافق شخص سے روایت کرے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿١٦٦﴾ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا
”اور احد کے دن جب دونوں لشکر باہم ٹکرائے تو تمہیں جو (نقصان) پہنچا وہ اللہ کے حکم سے تھا اور اس لیے تھا کہ اللہ جان لے کہ مومن کون ہیں اور یہ بھی جان لے کہ منافق کون ہیں۔“
(3-آل عمران:166-167)
علاوہ ازیں یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی ہیں اور وحی کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے:
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
”ہم نے ہی ذکر (قرآن) نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔“
لہذا دین (حدیث) محفوظ طریقے سے صحابہ کرام رضي اللہ عنہم کے ذریعے سے ہم تک پہنچا ہے۔
سوال :
سورۂ انفال اور سورۂ توبہ کی درج ذیل آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضي اللہ عنہم بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی منافقوں کو نہیں جانتے تھے، چنانچہ اللہ نے فرمایا:
”تم انہیں نہیں جانتے، اللہ انہیں جانتا ہے۔“
(8-الأنفال:60)
نیز فرمایا:
نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ ان (منافقوں) کو نہیں جانتے ، ہم انھیں جانتے ہیں۔
(9-التوبة:101)
جواب :
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منافقین کے متعلق ایسے علم کا اثبات فرمایا ہے جس کا تعلق علامتوں کے ساتھ ہے، جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ
”آپ ان کے طرز کلام سے انہیں پہچان لیں گے۔“
(47-محمد:30)
پس منافقوں کی جو علامتیں بیان کی گئی ہیں ان کے ذریعے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں پہچان سکتے ہیں اور صحابہ کرام رضي اللہ عنہم بھی، جبکہ سورۂ انفال اور سورۂ توبہ میں جس علم کی نفی کی گئی ہے وہ علم یقینی اور علم تفصیلی ہے۔ جبکہ سورۂ محمد کی آیت میں جو اثبات کا ذکر ہے وہ علامتوں کے ذریعے سے حاصل ہونے والا علم اجمالی ہے، لہذا ان دونوں قسم کی آیات میں کوئی تعارض نہیں۔