سیدہ عائشہ کی قتلِ حجر بن عدی کے حوالے سے جناب معاویہ کی مخالفت؟
سیدنا معاویہ حضرت عائشہ کی نظر میں رضی اللہ عنہم:
مرزا صاحب کی زیرِ بحث ویڈیو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب ایک واقعہ سے شروع ہوتی ہے۔ اس ویڈیو کے پہلے parts میں مرزا صاحب نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دو بھائیوں سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اور محمد بن ابی بکر کے قتل کا ذکر کیا، اور ان دونوں کے قتل کا جھوٹا الزام جناب معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگایا ہے۔ جس کی حقیقت ہم اگلے باب میں بیان کرنے والے ہیں۔ بہر حال ان دونوں کے قتل کا الزام سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگانے کے بعد جناب انجینئر صاحب کہتے ہیں:
”اس پورے context میں اب آپ کو وہ حدیث سمجھ آئے گی جو مسند امام احمد میں موجود ہے، المستدرک للحاکم کے اندر موجود ہے اور شعیب الأرنووط جو مسند امام احمد کی تحکیم کرنے والے ہیں انہوں نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے، امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ بڑی ڈیٹیل حدیث ہے، اس میں آتا ہے کہ حضرت معاویہ اپنے دور میں حضرت عائشہ سے ملنے کے لیے آئے، سیدہ عائشہ نے کہا کہ اے معاویہ! تجھے اللہ کا خوف نہیں آتا جو کچھ تو نے حجر ابن عدی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا………… اور تجھے ڈر نہیں لگتا کہ میں ایک بندہ مقرر کروں جو چھپ کے تیرے اوپر وار کرے اور تجھے قتل کر دے۔ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا غصہ کس Level کا تھا کہ میں گوریلا وار کروا کے تجھے مروا نہ دوں! تو انہوں نے کہا کہ ام المومنین! ہم آپ سے یہ expect نہیں کرتے کہ آپ ایسا کریں گی، کیونکہ ہم نے نبی علیہ السلام سے سنا ہے کہ: مومن کبھی چھپ کے وار نہیں کرتا…. پھر کہا کہ اماں یہ بتائیں، آپ کا جو میں نے خرچہ پانی لگایا ہوا ہے اس معاملے میں تو کوئی… آپ کو شکایت نہیں ہے؟ تو انہوں نے کہا: مجھے اس معاملے میں کوئی شکایت نہیں، یہ شکایت تھی جو میں نے تمہیں کی ہے۔ تو انہوں نے کہا: اماں یہ کام چھوڑیں ہمیں اپنے کام دنیاوی چلانے دیں، ہمارا معاملہ اور اللہ کا معاملہ ہے، ہمیں ہماری سیاست والے معاملات میں آپ دخل نہ دیں۔ آپ اندازہ کریں! اور یہ ہمیں تاریخ سے روایتیں لا کے دیتے ہیں کہ جی وہ جناب جی! حضرت عائشہ کہتی تھیں: میری زندگی بھی معاویہ کو لگ جائے۔ (پھر انجینئر صاحب اور ان کے سامنے بیٹھے صم بکم عمی بھی ہنسے، تو اس پر کہا:) یہ تو تم لوگوں کی ہنسیاں بتا رہی ہیں کہ یہ روایات کس نے گھڑی ہیں، کیونکہ حدیثیں کچھ اور بتا رہی ہیں! یہ کوئی شخص کہے گا جس کے بھائی قتل ہوئے ہوں؟ جس نے اتنا قتلِ عام دیکھا ہو؟“
مرزا صاحب کی بیان کردہ روایت ضعیف ہے:
جو روایت انجینئر صاحب نے یہاں مسند احمد اور مستدرک للحاکم کے حوالے سے بیان کی ہے یہ انہی تیرہ روایات میں سے ایک آخری روایت ہے جن کی تفصیل آپ پڑھ چکے۔ اور خیر سے یہ روایت بھی ضعیف ہے جسے بیان کر کے انجینئر صاحب غلط تاثر دے رہے ہیں۔
علامہ نورالدین ہیثمی رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرمایا:
”وفيه علي بن زيد، وهو ضعيف“ اس (کی سند) میں علی بن زید راوی ہے جو ضعیف ہے۔ (مجمع الزوائد:96/1)
امام ابوالعباس البوصیری رحمہ اللہ اس کے متعلق لکھتے ہیں: ”هذا إسناد ضعيف، لضعف علي بن زيد بن جدعان“ یہ سند علی بن زید بن جدعان کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ (اتحاف الخیرۃ المہرۃ:127/1)
اور یاد رہے اصل روایت میں یہ بات بالکل بھی نہیں کہ: ”ہمیں اپنے دنیاوی کام چلانے دیں، ہمارا معاملہ اور اللہ کا معاملہ ہے، ہماری سیاست والے معاملات میں آپ دخل نہ دیں“۔ بلکہ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ”فَدَعِينَا وَإِيَّاهُمْ حَتَّى نَلْقَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ“ آپ ہمارا اور ان کا معاملہ چھوڑ دیں یہاں تک کہ ہم اپنے رب عزوجل سے جا ملیں۔ یعنی ان کی مراد یہ ہے کہ یہ معاملہ جب اللہ کے حضور پیش ہوگا تو وہاں حق کے ساتھ فیصلہ ہو جائے گا۔ اب ان دونوں باتوں میں کتنا فرق ہے کہ جو مرزا صاحب نے بیان کی اور جو اس ضعیف روایت میں ہے؟
اور بھئی یہ ”خرچہ پانی“ کیسا لہجہ ہے؟ مرزا صاحب جان بوجھ کر اپنی بازاری اور روایتی زبان استعمال کرتے ہوئے ایسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جن سے ممکنہ حد تک صحابہ کے متعلق غلط تاثر دینے کی کوشش کی جا سکے۔ اصل عبارت میں ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”كَيْفَ أَنَا فِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَكِ، وَفِي حَوَائِجِكِ“ یعنی میں آپ کے معاملے میں اور آپ کی حاجات وضروریات کی دیکھ بھال کے حوالے سے کیسا ہوں؟
امام حاکم وشعیب الأرنؤوط کے نام پر انجینئر صاحب کا سفید جھوٹ:
ایک تو ضعیف روایت بیان کی، اوپر سے اس جعلی روایت کو اپنی تحریفات کے ذریعے مزین کیا، پھر ظلم کے اوپر ظلم یہ کہ یہ دعویٰ بھی بالکل بے خوف اور مطمئن ہو کر مکمل یقین کے ساتھ کیا جا رہا ہے کہ اس روایت کو امام حاکم اور علامہ شعیب الأرنووط نے صحیح قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہ سفید جھوٹ ہے! امام حاکم نے قطعاً اس روایت کو صحیح نہیں کہا، جسے شوق ہو وہ مستدرک حاکم کھول کر دیکھ سکتا ہے۔ رہا جناب شعیب الأرنووط کا اسے صحیح کہنا تو یہ بھی درست نہیں، آپ رحمہ اللہ نے مسند احمد کی اس مکمل روایت کو نہیں بلکہ فقط اس میں موجود حدیث کے ٹکڑے کو صحیح کہا ہے، جو انجینئر صاحب نے اس مفہوم سے بیان فرمائی ہے کہ: ”مومن کبھی چھپ کر وار نہیں کرتا۔“ مراد یہ ہے کہ یہ مرفوع حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ جس کی بنیاد پر علامہ صاحب نے اس ٹکڑے کو صحیح کہا۔
چنانچہ یہ روایت مسند احمد میں حدیث نمبر: 16832 کے تحت موجود ہے، جناب شعیب الأرنووط صاحب نے اس روایت کی تخریج میں لکھا ہے: ”صحیح لغیرہ“۔ صحیح کے ساتھ لفظ ”لغیرہ“ بھی ہے جناب صاحب! یعنی کہ یہ حدیث کسی دوسری روایت کی وجہ سے صحیح ہے، نہ کہ لذاتہ۔
اور وہ شاھد کون سا ہے جس کی بنا پر آپ نے اس حدیث کو صحیح لغیرہ کہا ہے؟ تو اس کی نشاندہی بھی آپ رحمہ اللہ نے فرمائی ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:
وأورده الهيثمي في مجمع الزوائد 96/1، وقال: رواه أحمد والطبراني في الكبير….وفيه علي بن زيد، وهو ضعيف. قلنا: ويشهد له حديث الزبير بن العوام السالف برقم (1426) و(1433)، وإسناده حسن في الشواهد، فيصح به۔
”اور اس حدیث کو علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے مجمع الزوائد میں ذکر کر کے فرمایا: اور اس (کی سند) میں علی بن زید ہے جو کہ ضعیف ہے۔ ہم کہتے ہیں: حضرت زبیر بن عوام کی حدیث جو کہ 1426 اور 1433 نمبر کے تحت گزری ہے اس روایت کے لیے شاھد ہے اور اُس کی سند شواھد کے ساتھ حسن ہے، پس اس شاھد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے۔“ (مسند احمد، الرسالۃ: ج28 ص45،44)
اور جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ بھی ملاحظہ فرمائیں:
1426_جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَقَالَ: أَلَا أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا؟ قَالَ: لَا، وَكَيْفَ تَقْتُلُهُ وَمَعَهُ الْجُنُودُ؟ قَالَ: أَلْحَقُ بِهِ، فَأَفْتِكُ بِهِ، قَالَ: لَا، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ”إِنَّ الْإِيمَانَ قَيَّدَ الْفَتْكَ، لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ“۔
1433_عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلزُّبَيْرِ: أَلَا أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا؟ قَالَ: كَيْفَ تَقْتُلُهُ؟ قَالَ: أَفْتِكُ بِهِ، قَالَ: لَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ، لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ“۔
”یعنی کسی آدمی نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر آپ کہیں تو میں جناب علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دوں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ایمان نے دھوکے کے قتل سے روک دیا ہے، مومن کسی کو دھوکے سے قتل نہیں کرتا۔“
لیجیے! جس روایت کی بنا پر وہ اس روایت کو صحیح کہہ رہے ہیں اس میں حضرت عائشہ ومعاویہ رضی اللہ عنہما کا دور دور تک کوئی ذکر تک نہیں۔ لہٰذا علامہ صاحب کی تصحیح کا دارومدار صرف اور صرف اس روایت میں موجود مرفوع حدیث پر ہے، نہ کہ اس میں موجود واقعہ پر۔ اور یہ واقعہ ان کے نزدیک بھی ضعیف ہی ہے، کیونکہ انہوں نے یہاں پر بھی اور مسند احمد کی تخریج میں کئی مقامات پر اس روایت کی سند میں موجود راوی ”علی بن زید“ کو ضعیف قرار دیا ہے۔
تو آپ نے دیکھا کہ کس طرح مرزا صاحب نے بڑی صفائی کے ساتھ اپنی من گھڑت کہانی کو تقویت دینے کے لیے اس روایت کو صحیح بنا دیا ہے، جو کہ سخت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ”علی بن زید“ ہے جو سخت ضعیف ہے، محدثین کے اقوال پیشِ خدمت ہیں۔