روایت نمبر:8
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ: لَا تَغْسِلُوا عَنِّي دَمًا، وَلَا تُطْلِقُوا عَنِّي قَيْدًا، وَادْفِنُونِي فِي ثِيَابِي فَإِنَّا نَلْتَقِي غَدًا بِالْجَادَّةِ۔
”محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ جناب حجر بن عدی نے کہا: تم میرا خون مت دھونا، اور نہ ہی میری بیڑیاں اتارنا اور مجھے میرے انہی کپڑوں میں دفن کرنا، کیونکہ کل ہماری ملاقات اپنے نظریئے پر قائم رہتے ہوئے ہو گی۔“ (مستدرک للحاکم: 5979)
یہ روایت اس سند کے ساتھ تو ضعیف ہے، اس میں ایک راوی اشعث ہے جو کہ ضعیف ہے۔ (تقریب التہذیب: 524)۔ لیکن ”مسائل الامام احمد“ میں یہ ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے، جس کے تمام راوی ثقہ ہیں (مسائل احمد روایۃ ابی الفضل صالح:331/2)۔ وہ تفصیلی روایت آگے آ رہی ہے، اور وہ بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں ہے۔
روایت نمبر:9
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر فرماتے ہیں:
مَا وَفَدَ جَرِيرٌ قَطُّ إِلَّا وَفَدْتُ مَعَهُ، وَمَا دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ إِلَّا دَخَلْتُ مَعَهُ، وَمَا دَخَلْنَا مَعَهُ عَلَيْهِ إِلَّا ذَكَرَ قَتْلَ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ۔
”حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جب بھی وفد کی صورت میں سفر پر گئے میں ہمیشہ ان کے ساتھ گیا۔ اور وہ جب بھی جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، میں بھی ہمیشہ ان کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ اور ہم جب بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت حجر بن عدی کے قتل کا تذکرہ کرتے۔“ (مستدرک للحاکم:5980)
یہ روایت صحیح ہے، لیکن اس میں بھی ایسی کسی بات کا کوئی وجود نہیں جو مرزا صاحب نے بیان کی ہیں۔ بلکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تو اس امر کے متعلق صحابہ کرام سے مشاورت کرتے رہتے تھے۔ لیکن حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بالکل ایسا نہیں کہا کہ یہ تو قتلِ ناحق ہے، یا آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ٹسل میں انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اگر جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ غلط ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ضرور ان کی مخالفت کرتے۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ تو اس قتل کے ذکر سے بھی روکتے نہ کہ بار بار جا کر ایک ناحق قتل کے متعلق کچھ سنتے۔
روایت نمبر:10
عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ زِيَادًا، أَطَالَ الْخُطْبَةَ، فَقَالَ حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ: الصَّلَاة! فَمَضَى فِي خُطْبَتِهِ، فَقَالَ لَهُ: الصَّلَاة، وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى الْحَصَى، وَضَرَبَ النَّاسُ بِأَيْدِيهِمْ إِلَى الْحَصَى، فَنَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ كَتَبَ فِيهِ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ: أَنْ سَرِّحْ بِهِ إِلَيَّ فَسَرَّحَهُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنَا؟ إِنِّي لَا أُقِيلُكَ، وَلَا أَسْتَقِيلُكَ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهِ، فَلَمَّا انْطَلَقُوا بِهِ طَلَبَ مِنْهُمْ أَنْ يَأْذَنُوا لَهُ، فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، فَأَذِنُوا لَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: لَا تُطْلِقُوا عَنِّي حَدِيدًا، وَلَا تَغْسِلُوا عَنِّي دَمًا، وَادْفِنُونِي فِي ثِيَابِي فَإِنِّي مُخَاصِمٌ۔
”محمد بن سیرین فرماتے ہیں: جب زیاد نے خطبہ لمبا کر دیا تو حضرت حجر بن عدی نے کہا: نماز! لیکن زیاد نے اپنا خطبہ جاری رکھا، حجر نے اسے دوبارہ کہا: نماز! اور ساتھ اپنا ہاتھ زمین پر مارا، ساتھ ہی دوسرے لوگوں نے بھی ہاتھ زمین پر مارے/کنکریوں کی طرف اشارہ کیا۔ زیاد منبر سے نیچے اترا اور نماز پڑھائی، اور حجر کے بارے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب خط لکھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ ان کو میرے پاس بھیج دو، زیاد نے ان کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، جب حضرت حجر بن عدی جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو کہا: السلام علیک یا امیر المومنین، معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں امیر المومنین ہوں؟ میں تم سے نہ کوئی بات کروں گا اور نہ ہی کچھ سنوں گا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ جب ان کو قتل کے لئے لے کر جایا گیا تو انہوں نے دو رکعت نماز پڑھنے کے لئے مہلت کا مطالبہ کیا، تو انہیں مہلت دے دی گئی، آپ نے دو رکعت نماز پڑھی پھر فرمایا: میری بیڑیاں مجھ سے نہ اتارنا اور نہ ہی میرے جسم سے میرا خون دھونا، اور مجھے میرے انہی کپڑوں میں دفنا دینا، کیونکہ (قیامت کے دن) میں جھگڑا کرنے والا ہوں گا۔“ (مستدرک للحاکم:5981)
اس کی سند ضعیف ہے، اس میں ایک راوی ”ہشام بن حسان“ مدلس ہیں، جسے علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے مدلسین کے تیسرے طبقے میں شمار کیا ہے۔ (طبقات المدلسین:110)
خود تو مرزا صاحب نے رٹ لگا رکھی ہوتی ہے: مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے، مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے، لیکن چونکہ اب صحابہ پر اعتراضات کرنے ہیں لہٰذا سب کچھ صحیح ہے۔
اس ضعیف روایت میں بھی آپ کے لیے کوئی دلیل نہیں، انجینئر صاحب کے الفاظ ہیں: ”وہ تیرہ حدیثیں آپ پڑھیں آپ کے آنسو نہیں رکیں گے، کس ظلم کے ساتھ حجر ابن عدی کو قتل کروایا گیا۔ صرف اس بات پہ کہ یہ جمعہ کی نماز لیٹ کر دیتے تھے، منبروں پہ سب وشتم حضرت علی پہ کرتے تھے، یہ (حجر بن عدی) مخالفت کرتے تھے“۔ یعنی اپنے سننے والے جہلاء کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت ان کے گورنر جمعہ کی نماز لیٹ کیا کرتے تھے، حالانکہ اس میں تو صرف زیاد کا نام ہے۔ اور وہ بھی روٹین وائز نہیں بلکہ صرف ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ اور پھر اس بات کا تو کوئی نام ونشان تک نہیں کہ وہ خطبے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر سب وشتم کر رہا تھا۔
روایت نمبر:11
مُخَشِّيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ، فَقَالَ: أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ قَالُوا: يَوْمٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ قَالُوا: الْبَلَدُ الْحَرَامُ، قَالَ: فَأَيُّ شَهْرٍ؟ قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ، قَالَ: فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا كَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا، لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔
”مخشی بن حجر بن عدی اپنے والد حجر بن عدی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا دن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا شہر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: حرمت والا مہینہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے تمہارے اس دن کی حرمت ہے، جیسے تمہارے اس مہینے کی حرمت ہے، اور جس طرح تمہارے اس شہر کی حرمت ہے۔ تم میں سے جو یہاں حاضر ہیں وہ ان لوگوں تک پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں۔ میرے بعد کفر میں مت لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔“ (مستدرک للحاکم:5982)
اس سے شاید یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ حضرت حجر بن عدی صحابی ہیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث کا سماع بھی کیا ہے۔ لیکن اس سے یہ استدلال محل نظر ہے، کیونکہ یہاں امام حاکم رحمہ اللہ سے سہو ہوا ہے۔ اصل میں یہ روایت ”مخشی بن حجیر“ نامی راوی نے اپنے والد ”حجیر رضی اللہ عنہ“ سے بیان کی ہے، لیکن آپ رحمہ اللہ سے خطا ہوئی اور آپ نے اسے مخشی بن حجر عن حجر بن عدی سمجھ لیا۔
امام ابن ابی عاصم، امام طبرانی اور امام ابن مندہ رحمہم اللہ نے یہ حدیث ”مخشی بن حجیر عن ابیہ حجیر“ کے ساتھ روایت کی ہے۔ (الآحاد والمثانی:302/3، المعجم الکبیر:34/4، معرفۃ الصحابۃ لابن مندہ:ص 435)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی یہ حدیث حضرت حجیر بن ابی حجیر الہلالی رضی اللہ عنہ کے باب کے تحت: عكرمة بن عمار، أخبرني مخشي بن حجير عن أبيه کے طریق سے نقل فرمائی ہے۔ (الاصابۃ:36/2)
علامہ مقبل بن ہادی و جناب محمد ضیاء الرحمٰن الاعظمی نے بھی اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ یہاں صحیح ”مخشی بن حجیر عن ابیہ حجیر“ ہے، اور امام حاکم کو اس معاملے میں وہم ہوا ہے۔ (رجال الحاکم:318/2، الجامع الکامل:374/9)
مزید یہ کہ مخشی بن حجیر کو امام ہیثمی رحمہ اللہ نے مجہول قرار دیا ہے۔ (مجمع الزوائد:270/3)
روایت نمبر:12
ابراہیم بن یعقوب بیان کرتے ہیں:
قَدْ أَدْرَكَ حُجْرُ بْنُ عَدِيٍّ الْجَاهِلِيَّةَ، وَأَكَلَ الدَّمَ فِيهَا، ثُمَّ صَحِبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ مِنْهُ، وَشَهِدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْجَمَلَ، وَصِفِّينَ، وَقُتِلَ فِي مُوَالَاةِ عَلِيٍّ
”حضرت حجر بن عدی نے زمانہ جاہلیت بھی پایا، اور اس زمانے میں خون بھی کھایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی اور آپ سے سماع بھی کیا اور جناب علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ جمل اور صفین میں شریک بھی ہوئے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے محبین میں شہید ہوئے۔“ (مستدرک للحاکم: 5983)
روایت نمبر:13
عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: يَا مُعَاوِيَةُ، قَتَلْتَ حُجْرًا وَأَصْحَابَهُ، وَفَعَلْتَ الَّذِي فَعَلْتَ، وَذَكَرَ الْحِكَايَةَ بِطُولِهَا۔
”مروان بن حکم کا بیان ہے کہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا، تو آپ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے معاویہ! آپ نے حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا اور ان کے ساتھ اور جو کچھ کیا، اور راوی نے مکمل واقعہ بیان کیا۔“ (مستدرک للحاکم:5984)
یہ مختصر روایت ہے، اس کے ساتھ انجینئر صاحب مسند احمد کی روایت پیش کیا کرتے ہیں جس میں تفصیل موجود ہے۔ اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حجر بن عدی کو ناحق شہید کروایا، اور اس پر صحابہ آپ رضی اللہ عنہ کے سخت مخالف تھے، اور حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کے اس عمل سے سخت ناراض تھیں۔ لیکن یہ سب سو فیصد جھوٹ ہے، یہ روایت سخت ضعیف ہے۔
امام نورالدین الہیثمی رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرمایا: وفيه علي بن زيد، وهو ضعيف ”اس (کی سند) میں علی بن زید راوی ہے جو کہ ضعیف ہے۔“ (مجمع الزوائد:96/1)
امام ابوالعباس البوصیری رحمہ اللہ اس روایت کے تحت لکھتے ہیں: هذا إسناد ضعيف، لضعف علي بن زيد بن جدعان ”یہ سند علی بن زید بن جدعان کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔“ (اتحاف الخیرۃ المہرۃ:127/1)
اس کی مزید تفصیلات آگے آ رہی ہیں، لہٰذا جب روایت ثابت ہی نہیں ہے تو اس سے استدلال کرنا باطل ہے۔
تو جو باتیں مرزا صاحب نے ان روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کی ہیں وہ ذہن میں دوڑائیں، اور وہ تیرہ کی تیرہ روایات آپ کے سامنے ہیں جن کا ریفرنس سکرین پر دکھایا گیا۔ کیا کسی ایک روایت میں بھی ان باتوں میں سے کسی ایک بات کا سراغ ملتا ہے جو انجینئر صاحب نے کی ہیں؟ تو کیا یہ دھوکے بازی نہیں؟ اور حوالوں کے نام پر آنکھوں میں دھول جھونکنا نہیں؟ مرزا صاحب کے اندھے مقلدین سے جب بھی بات کی جائے ان کا فرمان یہی ہوتا ہے کہ استاد محترم تو ہر بات ریفرنس دے کر کیا کرتے ہیں۔ تو یہ لیں ریفرنسز کا حال دیکھ لیں!
حیرت ہے کہ مرزا صاحب کے فالوورز کس قدر اندھے ہیں کہ اس سب کے بعد بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ انجینئر صاحب اکثر طنز کے ساتھ کہا کرتے ہیں کہ بھئی میری بخاری ایران سے نہیں چھپی وغیرہ وغیرہ، لیکن یہاں پر یہ اشکال بھی دور ہو جاتا ہے۔ اگرچہ آپ انہی کتب سے بیان کرتے ہیں ایرانی (شیعہ) کتب سے نہیں، لیکن ان ایران والوں کی صحابہ کے خلاف بنائی گئی فلمیں تو ضرور آپ کے دماغ میں چل رہی ہوتی ہیں، حوالہ کسی کتاب کا دے دیتے ہیں لیکن جو بیان کرتے ہیں وہ سب اسی فلم کا مرکزی خیال پیش کیا جا رہا ہوتا ہے۔ اور اندھے مقلدین سمجھتے ہیں کہ جی یہاں تو ہر بات ریفرنس سے بیان ہوتی ہے۔ لیکن مجال ہے کہ کبھی وہ خود بھی کتاب کھول کر دیکھ لیں کہ جو ہمیں بتایا جا رہا ہے اس کی کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں۔
پھر جو ریفرنس دیا گیا ہے اس کی حالت بھی آپ کے سامنے ہی ہے، کسی میں ضعیف ومتروک راوی ہے، کسی میں کذاب، یا کسی میں مجہول، اور کچھ تو تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہیں اور کچھ سخت منقطع ہیں۔ مگر اس کے باوجود مرزا صاحب دعوی کرتے ہیں کہ ہمارا مدعا صرف صحیح الاسناد روایات پر مشتمل ہوتا ہے۔ جناب حجر بن عدی کے قتل کے متعلق اگر ان روایات کا حال ایسا ہے تو سوچیں تاریخی روایات کا حال کیسا ہوگا؟ لہٰذا اس حوالے سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کرتے ہوئے جو باتیں بھی بیان کی جاتی ہیں وہ سب جھوٹ ہے، ان کی رتی برابر بھی حقیقت نہیں۔ اور نہ ہی انجینئر صاحب ہی اپنا یہ جھوٹا مدعا کسی صحیح روایت سے پیش کر سکتے ہیں۔ بلکہ مرزا صاحب اس مقام پر بھی ان شیعہ ذاکرین کے طرزِ عمل پر ہیں جن کے متعلق آپ خود کبھی فرمایا کرتے تھے کہ یہ بعض جاہل ذاکرین ہیں جو کہ صحابہ پر اعتراضات کرنے کے لیے جھوٹی روایات بیان کرتے رہتے ہیں۔ چلیں وہ تو ٹھہرے جاہل، مرزا صاحب آپ تو پڑھے لکھے ہیں نا! پھر آپ کیوں پڑھے لکھے جاہل بن جاتے ہیں؟ اور کیوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جھوٹے الزامات لگاتے اور ان کی نشر واشاعت کرتے ہیں؟