31- اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق اہل سنت والجماعت کا موقف
اہل سنت والجماعت (اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان میں شامل فرما دے) اللہ تعالیٰ کی تعظیم ساری دنیا سے زیادہ کرتے ہیں اور پوری کائنات میں کتاب و سنت کے دلائل کا احترام بھی سب سے زیادہ کرتے ہیں۔ قرآن و حدیث سے ثابت ہونے والے اسماء وصفات سے تجاوز نہیں کرتے اور ان صفات کو مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ثابت کی ہیں، اگرچہ عقل اسے تسلیم نہ کرے۔ اسی طرح جس چیز کی اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق نفی فرما دی ہے اس کی نفی کرتے ہیں، اگرچہ عقل اس کے ثابت ہونے کا تقاضا کرتی ہو۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ازل و ابد ہی سے ہر چیز سے بلند ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر مستوی ہے۔ آسمان سے بھی اوپر اور تمام مخلوقات سے بھی اوپر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
« إِنَّهُ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِيْنَ يَبْقٰى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرِ » (صحيح البخاري، رقم الحديث [7494]، صحيح مسلم [758/186])
”رات کے تہائی حصے میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر تشریف لاتے ہیں اور نزول فرماتے ہیں۔“
شیطان انسان کے دل میں وسوسہ پیدا کرتا ہے کہ علو (بلند ہونا) تو اللہ تعالیٰ کی لازمی صفت ہے تو وہ نیچے کیسے آ جاتا ہے؟ ہمارا اس کے متعلق جواب یہ ہے کہ عقل اگرچہ اسے محال تسلیم کرتی ہے لیکن ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اس کو تسلیم کر لیں اور اس کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں۔ ہم اس کو تسلیم اس لیے کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے اور اس لیے بھی مانتے ہیں کہ کوئی مخلوق بھی صفات میں اللہ تعالیٰ کے مشابہ نہیں ہے۔
اسی وجہ سے تو کسی کہنے والے نے کہا ہے:
”کتاب و سنت میں ایسی چیزیں تو ہیں جو عقل کو حیران کر دیتی ہیں لیکن ایسی کوئی چیز نہیں جسے عقل تسلیم ہی نہ کرے۔“
لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کو تسلیم کریں۔ اہل سنت والجماعت کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر وہ نام اور صفت جو قرآن یا حدیث میں ثابت ہے، اس کو ماننا اور اس کی تصدیق کرنا اور اس پر ایمان لانا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا [الفجر: 22]
”اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔“
شیطان انسان کے دل میں وسوسہ پیدا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آنے کی کیا کیفیت ہوگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ویسے ہی تشریف لائیں گے جیسے اس کے شایان شان ہے۔ کیفیت کا تو ہمیں علم نہیں لیکن آنے پر ہمارا ایمان ہے۔ ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہر حال میں ماننا ہے، چاہے عقل تسلیم کرے یا نہ کرے۔ وہ قومیں گمراہی کا شکار ہوگئیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے مسئلے میں عقلوں کو حاکم بنا لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے ثابت شدہ اسماء و صفات کا انکار کر دیا اور قرآن اور حدیث کے دلائل میں تحریف سے کام لیا۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ [يونس: 3] کا معنی عرش پر غالب ہوا کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ پاک ہے۔ اللہ تو فرما رہے ہیں:
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ [الأعراف: 54]
”بے شک تمھارا رب اللہ ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔“
کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے پہلے اسے غلبہ حاصل نہیں تھا؟ یہ تو ایسی بات ہے جسے عام انسان بھی قبول نہیں کرتا، چہ جائیکہ ایک دین کی سمجھ رکھنے والا ایسی بات کرے۔ ہاں یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنی عقل کو ان معاملات میں حاکم تسلیم کر لے جن کا تعلق وحی سے ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں گمراہی و تباہی نصیب ہوتی ہے۔ اس لیے ہم ان لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں جن کا خیال ہے کہ ”استویٰ“ کا معنی ”غلبہ“ ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور یہ عقیدہ بنا لیں کہ ”استویٰ“ کا معنی عرش پر مستوی ہونا ہے، جیسا کہ اس کے شایان شان ہے اور یہ جان لیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے سوال کریں گے کہ میرے متعلق تمھارے عقیدے کی بنیاد کتاب و سنت تھی یا تمھاری عقلیں؟ لہٰذا ہماری یہی نصیحت ہے کہ کتاب و سنت کے دلائل پر ایمان اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق رکھیں۔
اسی طرح وہ لوگ بھی توبہ کریں جن کا یہ نظریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے مخلوقات کے اوپر نہیں ہے، حالانکہ ان کی حالت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں تو ان کے دل اوپر کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اور ہاتھ بھی اوپر ہی کو اٹھتے ہیں، لہٰذا گمراہ کرنے والے اوہام کو ترک کر دو۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کے علو کا انکار کرو اور یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ ذات کے لحاظ سے ہر جگہ موجود ہے تو کیا یہ ممکن ہے؟ کیا یہ قرین قیاس ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی تنگ مکان میں ہوں؟ خبردار! ایسے لوگ اللہ سے ڈر جائیں اور اپنے اس غلط عقیدے کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں۔ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ان کی موت اس غلط عقیدہ پر واقع ہو اور قیامت کے دن انھیں خسارہ اٹھانا پڑے۔ (ابن عثیمین: نور علی الدرب: 2/7)