حدیث 21: جہنم کے سانس لینے سے سردی اور گرمی کا موسم بدلنا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی: اے میرے رب! میرے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھا لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی۔ ایک سانس جاڑے میں اور دوسرا گرمی میں، پس تم جو سخت گرمی اور سردی دیکھتے ہو تو یہ جہنم کا سانس ہے۔
اس میں منکرین حدیث کی طرف سے دو اعتراض سامنے آئے ہیں:
➊ گرمی اور سردی دونوں موسم زمین کے سارے حصوں میں نہیں ہوتے، بعض میں ہمیشہ گرمی، بعض میں ہمیشہ سردی اور بعض جگہ موسم معتدل رہتا ہے۔
➋ گرمی اور سردی کے موسم بدلنے کا تعلق تو سورج کے ساتھ ہوتا ہے جو حصہ زمین سورج کے زیادہ قریب ہوتا ہے وہاں گرمی ہے اور جو دور ہے وہاں سردی ہے۔ موسم کی تبدیلی کا جہنم کے ساتھ کیا تعلق ہے؟
صحيح البخاري ، مواقيت الصلاة، باب الإبراد بالظهر في شدة الحر، حديث : 537 ، و مقام حدیث، ص : 329
جواب :
قرآن و سنت میں وارد جہنم کے ذکر اور اس کی تمام تر کیفیات اور حالات کا ماننا ایمان بالغیب میں داخل ہے جو ایمان والوں کی پہلی صفت ہے، فرمایا:
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ
”یہ وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔“
(2-البقرة:3)
لہذا اس حدیث میں جس حالت کا ذکر ہے اس پر ایمان لانا مومن پر فرض ہے، خواہ اس کی حقیقت سمجھ و عقل میں آئے یا نہ آئے تو جہنم کا سانس لینا اور اس کی تاثیر سے دنیا میں گرمی اور سردی پیدا ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اذن کے تحت ماننا ضروری ہے، البتہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی اسباب پیدا کیے ہیں۔ ان کی تاثیر بھی اللہ تعالیٰ کے اذن کے تحت موجود ہوتی ہے تو خطہ ارضی پر گرمی اور سردی پیدا ہونے کے لیے دو اسباب ہیں ایک باطنی، یعنی جہنم کا سانس لینا اور دوسرا ظاہری، یعنی سورج کا قریب اور دور ہونا۔ صحیح جواب یہ ہے کہ حرارت سورج سے ہے اور سورج آگ، یعنی جہنم سے ہے تو سورج سے حاصل شدہ گرمی اصل میں جہنم سے آتی ہے، دوسرا جواب یہ ہے کہ موسم گرما کی حرارت سورج سے ہے اور سورج کی حرارت جہنم سے منتسب ہے اور جہنم سے آتی ہے، اس لحاظ سے اگر کہا جائے کہ حرارت جہنم سے ہے تو کوئی حرج نہیں۔