نا معلوم تیر لگنے سے شہید جنت الفردوس کا راہی بنا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

عن قتادة حدثنا أنس بن مالك أن الربيع بنت البراء وهى أم حارثة بن سراقة أتت النبى صلى الله عليه وسلم فقالت يا نبي الله ألا تحدثني عن حارثة وكان قتل يوم بدر أصابه سهم غرب فإن كان فى الجنة صبرت وإن كان غير ذلك اجتهدت عليه فى البكاء قال يا أم حارثة إنها جنان فى الجنة وإن ابنك أصاب الفردوس الأعلى.
”قتادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہمیں انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ام الربیع بنت البراء جو کہ حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: ”اے اللہ کے نبی! کیا آپ مجھے حارثہ کے بارے میں نہیں بتلاتے؟“ اور یہ حارثہ رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں شہید ہو گئے تھے، انہیں نامعلوم سمت سے ایک تیر آ لگا تھا، ”اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں اور اگر کہیں اور ہے تو میں اس پر خوب روؤں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام حارثہ! جنت میں کئی جنتیں (درجات) ہیں اور بیشک تیرا بیٹا فردوس اعلیٰ میں ہے۔ “
(صحیح بخاری و مسلم) (رواہ البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب من أتاہ سہم غرب فقتلہ، الرقم: 2809)

تشریح

روایت میں اگرچہ ام الربیع کو براء کی بیٹی کہا گیا مگر یہ راوی کا وہم ہے صحیح یہ ہے کہ یہ نضر کی بیٹی ہیں اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی پھوپھی ہیں۔ ام الربیع ہی کو بیٹے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پوچھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ان کا بیٹا حارثہ رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں لڑتے ہوئے شہید نہیں ہوا تھا بلکہ نامعلوم سمت سے آنے والے تیر کے لگنے سے شہید ہوا تھا، انہوں نے سمجھا کہ حارثہ دشمن کے ہاتھوں قتل نہیں ہوا شاید اسے جنت نہ ملے؟ جب نبوی زبان سے اسے یہ بشارت ملی کہ ان کا بیٹا جنت الفردوس میں ہے تو انہیں اطمینان ہوا۔