نمازِ عید سے قبل قربانی ذبح کرنے کا کفارہ
جو شخص نمازِ عید سے قبل قربانی ذبح کر لے، اس پر اس کے عوض دوسرا جانور ذبح کرنا لازم ہے۔
① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ذبح قبل الصلاة فليعد
”جو شخص نماز (عید) سے قبل (قربانی) ذبح کرلے وہ دوبارہ قربانی کرے۔“
صحیح بخاری، کتاب الأضاحی، باب من ذبح قبل الصلاة أعاد: 5561 – صحیح مسلم، کتاب الأضاحی، باب وقتہا: 1962
② سیدنا جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ضحينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أضحاة ذات يوم، فإذا أناس قد ذبحوا ضحاياهم قبل الصلاة، فلما انصرف رآهم النبى صلى الله عليه وسلم أنهم قد ذبحوا قبل الصلاة، فقال: من ذبح قبل الصلاة فليذبح مكانها أخرى، ومن كان لم يذبح حتى صلينا فليذبح على اسم الله
”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ایک روز (روزِ عید) قربانیاں ذبح کیں تو ناگاہ کچھ لوگ نماز (عید) سے قبل اپنی قربانیاں ذبح کر چکے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عید سے واپس پلٹے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ لوگ نماز سے پہلے (قربانیاں) ذبح کر چکے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز سے قبل قربانی ذبح کی ہے وہ اس کی جگہ اور قربانی ذبح کرے اور جس نے ہماری نماز پڑھنے تک قربانی نہیں کی وہ اللہ کا نام لے کر قربانی ذبح کرے۔“
صحیح بخاری، کتاب الذبائح والصید، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم فلیذبح علی اسم اللہ 5500 – صحیح مسلم، کتاب الأضاحی، باب وقتہا: 1960 – سنن نسائی، کتاب الضحایا، باب ذبح الضحیة قبل الإمام: 4403
③ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ذبح أبو بردة قبل الصلاة، فقال له النبى صلى الله عليه وسلم أبدلها
”سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے نمازِ عید سے قبل قربانی ذبح کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اس کے بدلے (اور) قربانی زبح کرو۔“
صحیح بخاری، کتاب الأضاحی، باب قول النبی لأبی بردة: ضح بالجذع من المعز: 5557 – صحیح مسلم، کتاب الأضاحی، باب وقتہا: 1961، مسند احمد: 302/4 – سنن بیہقی: 277/9
فوائد:
① احادیثِ الباب دلیل ہیں کہ نمازِ عید سے قبل قربانی ذبح کرنا ممنوع اور خلافِ سنت فعل ہے، نیز اس فعل کی مخالفت کرنے والے پر دوبارہ قربانی کرنا لازم ہے۔ ابن بطال شارحِ صحیح بخاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
وأجمع العلماء أن من ذبح قبل الصلاة فعليه الإعادة، لأنه ذبح قبل وقته
”علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ جس نے نمازِ عید سے پہلے قربانی ذبح کی اس پر دوبارہ قربانی کرنا لازم ہے، کیونکہ اس نے قربانی کے وقت سے پہلے جانور ذبح کیا ہے۔“
شرح ابن بطال: 20/11
② نمازِ عید کے بعد اور امام کے قربانی کرنے سے قبل قربانی کرنا جائز ہے۔ ابو حنیفہ، سفیان ثوری اور لیث بن سعد رحمہم اللہ اسی مذہب کے قائل ہیں۔
شرح ابن بطال: 20/11
احادیثِ الباب اسی موقف کی تائید کرتی ہیں۔ نیز حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ قربانی کا ابتدائی وقت کے تحت بیان کردہ حدیثِ براء بن عازب رضی اللہ عنہ دلیل ہے کہ قربانی کا وقت نمازِ عید ادا کرنے کے بعد شروع ہو جاتا ہے اور امام کی قربانی ذبح کرنے تک قربانی مؤخر کرنا صحتِ قربانی کے لیے مشروط نہیں۔
نیز یہ عقلی دلیل بھی اسی موقف کی تائید کرتی ہے کہ اگر امام قربانی نہ کرے تو عوام الناس سے قربانی ذبح کرنے کی مشروعیت ساقط نہیں ہوتی، پھر اگر امام نماز سے قبل قربانی ذبح کر دے تو اسے یہ قربانی ناکافی ہوگی، سو معلوم ہوا کہ امام اور مقتدیان قربانی کے وقت میں یکساں حیثیت کے حامل ہیں۔
فتح الباری: 28/10
جس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے کہ امام کی قربانی ذبح کرنے کے بعد قربانی کرنا شرط ہے وہ خاصہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے، عام امام اس حکم میں شامل نہیں، یہ مفہوم نصِ حدیث سے عیاں ہے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
صلى بنا النبى صلى الله عليه وسلم يوم النحر، فتقدم رجال فنحروا، وظنوا أن النبى صلى الله عليه وسلم قد نحر، فأمر النبى صلى الله عليه وسلم من كان نحر قبله، أن يعيد بنحر آخر، ولا ينحروا حتى ينحر النبى صلى الله عليه وسلم
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحیٰ کے دن ہمیں نماز پڑھائی تو کچھ لوگوں نے پہلے جا کر قربانیاں ذبح کر لیں اور ان کا خیال تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانور ذبح کر چکے ہیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے قربانی کی ہے وہ ایک اور قربانی کرے اور جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی ذبح نہ کریں لوگ قربانیاں ذبح نہ کریں۔“
صحیح مسلم، کتاب الأضاحی، باب سن الأضاحی: 1964 – مسند أحمد: 2/ 294