عید کا معنی و مفہوم :۔
عید کا لغوی معنی اور وجہ تسمیہ :۔
لفظ عید کی لغوی تشریح اور اس کے نام رکھنے کی وجوہات کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال درج ذیل ہیں:
امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
➊ لفظ عید العود (لوٹنا) سے مشتق ہے اور عید کو عید اس لیے کہا جاتا ہے کہ ہر عید خوشی اور سرور لے کر لوٹتی ہے اور اس کی جمع اعياد آتی ہے۔
➋ لفظ عید اصل میں عود تھا، پھر اس قاعدہ کے تحت کہ واؤ ساکن ماقبل مکسور يا ہو جاتا ہے، کی رو سے واؤ کو یا سے بدل دیا گیا اور عود سے عيد بن گیا۔“
➌ خلیل نحوی کا قول ہے کہ ہر تہوار کو عید کہا جاتا ہے کیونکہ لوگ عید میں شامل ہونے کے لیے اس دن لوٹ کر گھر آتے ہیں۔
ابن انباری کہتے ہیں: عید کو عید اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں ہر انسان اپنے مقام و مرتبہ کی طرف لوٹتا ہے۔ چنانچہ میزبان اپنی حیثیت کے مطابق ضیافت کرتا ہے اور مہمان کی اس کی حیثیت کے مطابق مہمانی کی جاتی ہے۔ صاحبِ حیثیت و مالدار بقدر استطاعت لطف و اکرام کرتے ہیں اور نادار و فقیر لوگوں کی خوب مالی معاونت کی جاتی ہے۔ (نیل الاوطار: 1/400)
➎ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عید کے معنی و مفہوم کی تعیین کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں:
1. اس دن کے بار بار لوٹ کر آنے کے سبب اسے عید کہا جاتا ہے۔
2. عید کے دن خوشی اور فرحت لوٹتی ہے اس لیے اس دن کو عید سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
3. اس سے نیک شگون لیا جاتا ہے کہ عید کی خوشی میں شریک لوگوں پر یہ دن دوبارہ لوٹ کر آئے، جیسے بطورِ نیک شگون قافلہ کو ”سالمہ“ کہا جاتا ہے کہ یہ راستے میں ڈاکوؤں اور حادثات سے محفوظ رہے۔ (شرح النووی: 2/411)
عید ایک مذہبی تہوار: ۔
ہر قوم، مذہب اور ملت کا خاص مذہبی تہوار ہوتا ہے جس میں وہ جشن مناتے ہیں، اپنے دینی شعار کا اظہار کرتے اور خوشی و فرحت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اہل اسلام کو عید الفطر اور عید الاضحیٰ دو مذہبی تہوار منانے کی ترغیب دی گئی ہے اور انہیں اغیار کے تہوار، قومی جشن، سالِ نو کا جشن، جشنِ آزادی اور جشنِ میلاد جیسے عیدین کے سوا کسی بھی قسم کا تہوار منانے سے اجتناب کی تلقین کی گئی ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
لِكُلِّ أُمَّةٍ مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّكَ إِنَّكَ لَعَلَى هُدًى مُسْتَقِيمٍ (الحج: 67)
”ہر امت کے لیے ہم نے عبادت کا ایک خاص طریقہ مقرر کیا ہے جس کے مطابق وہ عبادت کرنے والے ہیں، سو وہ اس معاملہ (دین) میں تم سے ہرگز جھگڑا نہ کریں اور تو اپنے رب کی طرف دعوت دے، یقیناً آپ سیدھے راستے پر ہیں۔“
اس آیت میں جیسے اس بات کی وضاحت ہے کہ گزشتہ شریعتیں ، ان کی عبادات کے طریقے منسوخ ہو چکے ہیں اسی طرح ان کے مذہبی تہوار بھی منسوخ ہیں اور مسلمانوں کو اپنی عبادات اور مذہبی تہوار اختیار کرنے اور اغیار کی نقالی سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے سو جیسے انھیں اپنے مذہبی تہوار (عیدین) کو پر جوش منانے کا حکم ہے، اسی طرح غیر مسلموں کی عیدوں میں شرکت سے انھیں روکا گیا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
دخل أبو بكر وعندي جاريتان من جواري الأنصار، تغنيان بما تقاولت الأنصار يوم بعاث قالت: وليستا بمغنيتين فقال أبو بكر: أمزامير الشيطان فى بيت رسول الله ﷺ؟ وذلك فى يوم عيد فقال رسول الله ﷺ: يا أبا بكر! إن لكل قوم عيدا، وهذا عيدنا
”ابوبکر رضی اللہ عنہ (ہمارے گھر) داخل ہوئے جبکہ میرے پاس انصار قبیلہ کی لڑکیاں بہادری کے وہ اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے جنگِ بعاث میں کہے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ لڑکیاں پیشہ ور گلوکارائیں نہیں تھیں۔ (ان کے اشعار سن کر) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ کے گھر میں شیطانی ساز؟ اور یہ عید کے دن کا واقعہ ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! بلاشبہ ہر قوم کی عید ہے اور یہ ہماری (مسلمانوں کی) عید ہے۔“
(بخاری: 952، مسلم: 892، ابن ماجہ: 1898، مسند احمد: 6/99)
یہ حدیث دلیل ہے کہ مسلمانوں کو اپنے مذہبی تہوار منانے کی مکمل آزادی ہے۔ عیدین ہی مسلمانوں کے مذہبی تہوار ہیں اور غیر مسلم اقوام کی عیدوں اور غیر شرعی تہوار سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔
اسلام اور عید: (کتنی عیدیں)
شریعتِ اسلامیہ میں دو ہی عیدیں (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) ہیں، اس کے علاوہ کسی تیسری عید یا مذہبی تہوار منانے کی اجازت نہیں ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قدم رسول الله ﷺ المدينة ولهم يومان يلعبون فيهما فقال: ما هذان اليومان؟ قالوا: كنا نلعب فيهما فى الجاهلية فقال رسول الله ﷺ: إن الله أبدلكم بهما خيرا منهما: يوم الأضحى ويوم الفطر
”رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کے دو دن (مقرر) تھے جن میں وہ کھیل کود اور تفریح کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ دو دن کیا ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: ہم جاہلیت میں ان دو دنوں میں کھیل کود کرتے تھے۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے دو بہترین دن (عید الاضحیٰ اور عید الفطر) دیے ہیں۔“
(سنن ابوداؤد: 1134، سنن نسائی: 1557، مسند احمد: 3/250، صحیحہ: 2021، اسناد صحیح)
حميد الطویل مدلس راوی ہے، لیکن مسند احمد میں سماع کی صراحت موجود ہے، جس سے تدلیس کی علت کا ازالہ ہو گیا ہے۔
فوائد: ۔
شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
➊ دور جاہلیت میں اہل جاہلیت کے خوشی کے دو دن (ایک نیروز اور دوسرا مہرجان) تھے قاموس میں ہے کہ نیروز سال نو کا پہلا دن ہے اور یہ فارسی کے لفظ نوروز (نیا دن) سے معرب ہے۔ نوروز پہلا دن ہے، جس میں سورج برج حمل میں منتقل ہوتا ہے اور یہ شمسی سال کا پہلا دن ہے۔ ماہ محرم میں نئے چاند کا طلوع ہونا قمری سال کا پہلا دن ہے۔ مہرجان نوروز کے مقابل دن ہے اور یہ میزان (معتدل موسم) کا پہلا دن ہے۔
یہ دونوں دن نوروز اور مہرجان، آب و ہوا اور سردی گرمی کے لحاظ سے نہایت معتدل ہوتے ہیں اور ان میں دن رات کے اوقات برابر ہوتے ہیں۔ گویا حکمائے متقدمین ، جو علم افلاک سے وابستہ تھے، انھوں نے یہ دو دن عید کے لیے منتخب کیے ہوئے تھے اور ان ادوار کے لوگوں نے اس اعتقاد سے کہ یہ حکماء، عقل کل رکھتے ہیں، اس معاملہ میں ان کی تقلید کی اور ان ایام کو تہوار اور جشن کا درجہ دیا۔ پھر انبیاء علیہم السلام کی بعثت ہوئی اور انہوں نے حکماء کے یہ بناوٹی تہوار اور خود ساختہ عیدیں منسوخ قرار دیں۔
➋ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (اس حدیث کی ترتیب میں) عید الاضحیٰ کو عید الفطر سے اس لیے مقدم کیا گیا ہے کہ یہ بڑی عید ہے۔
➌ نیروز اور مہرجان (جاہلیت کی عیدوں میں) تفریح کرنا اور خوشی و فرحت کا اظہار نا جائز ہے۔
➍ عیدین میں انتہائی خوشی کا اظہار اور عبادت بجالانے کا حکم ہے، کیونکہ یہ حقیقی خوشی کے دن ہیں: فرمان باری تعالیٰ ہے:
قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَ بِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا (يونس: 58)
”آپ کہہ دیجیے اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے لوگوں کو خوش ہونا چاہیے۔“
➎ مظہرکا قول ہے یہ حدیث دلیل ہے کہ نیروز ، مہرجان اور کفار کی دیگر عیدوں اور تہواروں کی تعظیم ممنوع و حرام ہے، اس مسئلہ میں ابو حفص الکبیر حنفی رحمہ اللہ نے مبالغہ آرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس نے نیروز کی تعظیم میں اس دن کسی مشرک کو انڈاہد یہ کیا تو وہ کافر ہو جائے گا اور اس کے اعمال غارت ہو جائیں گے۔
اور قاضی ابوالمحاسن حسن بن منصور حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جس نے نیروز کے دن عام معمول سے ہٹ کر غیر معمولی خرید و فروخت کی یا معمول کے برخلاف اس دن کسی کو ہدیہ دیا۔ اگر اس نے یہ کام اس دن کی تعظیم میں کیے ہیں جیسے کفار و مشرکین اس دن کی تعظیم کرتے ہیں تو وہ کافر ہو جائے گا اور اگر اس نے خرید و فروخت آسودہ حالی اور تعیش کے لیے کی اور معمول کے مطابق اسی دن ہدیے دیئے تو وہ کافر نہیں ہو گا لیکن کفار کی مشابہت کی وجہ سے یہ کام مکروہ ہیں اور ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (عون المعبود: 20/4)
➏ ابن تیمیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کفار کی عیدوں کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی اور عید الفطر کو اہل جاہلیت کی عیدوں کے دن نیروز اور مہرجان پر برقرار نہیں رکھا اور نہ ہی اہل اسلام کو ان دنوں میں خوشی منانے اور کھیل کی اجازت دی۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان دو دنوں کے عوض خوشی کے اور دو دن عطاء کئے ہیں، اور یہ عوض (عیدین منجملہ جاہلیت کی عیدوں) کے ترک کا متقاضی ہے۔ (فيض القدير: 669/4)
➐ کتب سیرت میں مذکور ہے کہ اسلام میں پہلی عید الفطر تھی اور اس کا آغاز دو ہجری کو ہوا تھا۔
➑ عیدین میں خوشی و فرحت کا اظہار مستحب عمل ہے اور اس شریعت کا حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر نافذ کی ہے۔ (سبل السلام: 497/2)