کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ باغی تھے؟
مرزا صاحب نے اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر“ میں جا بجا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا گروہ، باغی گروہ تھا۔ اور وہ صرف انہیں باغی کہنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اپنے کتابچے کے پانچویں باب بعنوان ” حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکومت مل جانے کے بعد بتدریج اس امت پر کیسی ملوکیت مسلط ہوئی اور اس کا بھیانک نتیجہ کیا نکلا؟“ میں، ص 25 پر، صحیح مسلم کی یہ حدیث بھی نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کچھ نالائق لوگ جانشین بنیں گے، وہ زبان سے جو کہیں گے، وہ کریں گے نہیں اور جو ان سے ہاتھ سے جہاد کرے گا تو وہ مومن ہے، جو ان سے زبان سے جہاد کرے گا تو وہ مومن ہے، اور جو ان سے دل سے جہاد کرے گا تو وہ مومن ہے، اور اس کے بعد تو رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔
اب یہ بدیانت اور خائن لوگ کس طرح سے وہ حدیثیں جو اپنے مفہوم میں عام ہیں، کھینچ تان کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر چسپاں کرتے ہیں! ایک طرف انہیں رضی اللہ عنہ لکھ رہے ہیں اور صحابی مان رہے ہیں، دوسری طرف ان کی گردن اڑانے کو جہاد قرار دے رہے ہیں۔ بس ان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ چونکہ فلاں صحابیِ رسول ہے، لہذا اس کی گردن اڑانے سے پہلے بس ”رضی اللہ عنہ“ پڑھ لینا تاکہ پورے ادب اور احترام سے گردن اڑائی جا سکے، معاذ اللہ، ثم معاذ اللہ۔ اور یہی کام مرزا صاحب اور ان کے فالوورز کر رہے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو معاذ اللہ، شرابی، حرام خور، سود خور، بدعتی، باغی اور واجب القتل ثابت کرنے کے لیے پورا زور لگانے کے بعد بس استدعا یہ کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ سب کچھ ماننے اور کہنے سے پہلے ان کے نام کے ساتھ ”رضی اللہ عنہ“ پڑھ لیا جائے، فيا للعجب!
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی ثابت کرنے کے لیے مرزا صاحب نے صحیح بخاری کی ایک روایت کو دلیل بنایا ہے کہ جس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدِ نبوی کی تعمیر کے موقع پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا:
ويح عمار، تقتله الفئة الباغية، يدعوهم إلى الجنة، ويدعونه إلى النار
”عمار کی کم بختی! اسے ایک باغی گروہ قتل کرے گا، عمار تو انہیں جنت کی طرف بلا رہا ہو گا اور وہ عمار کو آگ کی طرف بلا رہے ہوں گے۔“
(صحيح البخاري، كِتَابُ الصَّلاةِ، بَابُ التَّعَاوُنِ فِي بِنَاءِ المَسْجِدِ، 97/1)
صحیح بخاری کی اس روایت کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ الفاظ تقتله الفئة الباغية کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، اپنی صحیح بخاری میں درج نہیں کیے تھے، یہ صحیح بخاری میں راویوں کا ادراج اور اضافہ ہے۔
ابو مسعود الدمشقی رحمہ اللہ متوفی 401ھ نے اپنی کتاب ”أطراف الصحیحین“ میں کہا ہے کہ یہ الفاظ کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل نہیں کیے ہیں۔ أن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: وَنَح عمار، تقتله الفئة الباغية، يَدعُوهُم إِلَى الْجِنَّة ويدعونه إِلَى النَّار. قَالَ أَبُو مَسْعُود الدِّمَشْقِي من كتابه: لم يذكر البُخَارِيَ هَذِه الزَيَادَة (الحميدي، محمد بن فتوح، الجمع بين الصحيحين البخاري ومسلم دار ابن حزم، بيروت، الطبعة الثانية، 1423هـ، 462/2) امام بیہقی رحمہ اللہ متوفی 458ھ اپنی کتاب ”دلائل النبوۃ“ میں کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو تقتله الفئة الباغية کے الفاظ کے بغیر نقل کیا ہے۔ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيح ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِلَّا إِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ. (البيهقي، أحمد بن الحسين بن علي، دلائل النبوة، دار الكتب العلمية، بيروت، الطبعة الأولى، 1408 هـ، 546/2) امام حمیدی رحمہ اللہ متوفی 488ھ نے اپنی کتاب ”الجمع بین الصحیحین“ میں کہا ہے کہ یہ الفاظ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں درج نہیں کیے تھے، یا اگر کیے بھی تھے تو انہیں حذف کر دیا تھا۔ فِي هَذَا الحَدِيث زِيَادَة مَشْهُورَة لم يذكرهَا البُخَارِيَ أصلا في طريقي هَذَا الحَدِيث، ولعلها لم تقع إِلَيْهِ فيهما، أو وقعت فحذفها لغرض قصده في ذَلِك (الجمع بين الصحيحين: 462/2) ابن الاثیر الجزری رحمہ اللہ متوفی 606ھ اپنی کتاب ”جامع الأصول فی أحادیث الرسول“ میں کہتے ہیں کہ میں نے صحیح بخاری کے ایک نسخے میں، وہ بھی متن میں نہیں بلکہ حواشی میں یہ الفاظ دیکھے ہیں جبکہ بقیہ نسخوں میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ قلت أنا والذي قرأته في كتاب البخاري – من طريق أبي الوقت عبد الأول السجزي – رحمه الله – من النسخة التي قرئت عليه عليها خَطُّه: أما في متن الكتاب، فبحذف الزيادة، وقد كتب في الهامش هذه الزيادة، وصحح عليها وجعلها في جملة الحديث، وأنها من رواية أبي الوقت هكذا، بإضافتها إلى الحديث، وذلك في موضعين من الكتاب، أولهما: في «باب التعاون في بناء المسجد» من «کتاب الصلاة» والثاني: فى «باب مسح الغبار عن الناس في السبيل» في «كتاب الجهاد» وما عدا هذه النسخة، فلم أجد الزيادة فيها، كما قاله الحميدي ومن قبله والله أعلم. (ابن الأثير الجزري، أبو السعادات المبارك بن محمد بن محمد، جامع الأصول في أحاديث الرسول، مكتبة دار البيان، الطبعة الأولى، 1392هـ، 43/9)امام مزی رحمہ اللہ متوفی 742ھ اپنی کتاب ”تحفة الأشراف بمعرفة الأطراف“ میں في الصلاة عن مسدَّد، عن عبد العزيز بن المختار – وفي الجهاد عن إبراهيم بن موسى، عن عبد الوهاب الثقفي – كلاهما عن خالد الحذَاء ، عنه به – وليس فيه تقتل عماراً الفئة الباغية. (جمال الدين المزي، يوسف بن عبد الرحمن تحفة الأشراف بمعرفة الأطراف، المكتب الإسلامي، الطبعة الثانية 1403هـ، 427/3) اور امام ذہبی رحمہ اللہ متوفی 748ھ اپنی کتاب ”تاریخ الإسلام ووفیات المشاہیر والأعلام“ میں کہتے ہیں کہ یہ الفاظ صحیح بخاری کی روایت میں نہیں ہیں۔
أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيَ دُونَ قَوْلِهِ: "تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ” (الذهبي، محمد بن أحمد بن عثمان، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام المكتبة التوفيقية، 9/2)
تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ صحیح بخاری کی روایت صرف اتنی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدِ نبوی کی تعمیر کے موقع پر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کہا تھا کہ عمار تو انہیں جنت کی طرف بلا رہے ہیں اور وہ عمار کو آگ کی طرف بلا رہے ہیں اور اس سے مراد مشرکینِ مکہ تھے۔ صحیح بخاری کے اصل نسخوں میں تقتله الفئة الباغية کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، کے الفاظ نہیں ہیں۔ صحیح بخاری کے شارح حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ یعنی تقتله الفئة الباغية صحیح بخاری میں ادراج یعنی اضافہ ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے انہیں صحیح بخاری میں درج کرنے کے بعد نکال دیا تھا۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس حدیث کے راوی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خود کہا تھا کہ انہوں نے یہ الفاظ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنے جبکہ بقیہ روایت سنی ہے۔
وَلَفْظُهُ وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ يَدْعُوهُمُ الْحَدِيثَ وَاعْلَمْ أَنَّ هَذِهِ الزَيَادَةَ لَمْ يَذْكُرْهَا الْحُمَيْدِيُّ فِي الْجَمْعِ وَقَالَ إِنَّ الْبُخَارِيَّ لَمْ يَذْكُرْهَا أَصْلًا وَكَذَا قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ وَلَعَلَّهَا لَمْ تَقَعُ لِلْبُخَارِيَ أَوْ وَقَعَتْ فَحَذَفَهَا عَمْدًا قَالَ وَقَدْ أَخْرَجَهَا الْإِسْمَاعِيلِيُّ وَالْبَرْقَانِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قُلْتُ وَيَظْهَرُ لِي أَنَّ الْبُخَارِيَّ حَذَفَهَا عَمْدًا وَذَلِكَ لِنُكْتَةٍ خَفِيَّةٍ وَهِيَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ اعْتَرَفَ أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ هَذِهِ الزَيَادَةَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَكَ عَلَى أَنَّهَا فِي هَذِهِ الرَّوَايَةِ مُدْرَجَةٌ وَالرَوَايَةُ الَّتِي بَيَّنَتْ ذَلِكَ لَيْسَتْ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيَ وَقَدْ أَخْرَجَهَا الْبَزَارُ مِنْ طَرِيقِ دَاوُدَ بنِ أَبِي هِنْدٍ عَنِ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ وَحَمْلِهُمْ لَبِنَةَ لَبِنَةً وَفِيهِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَحَدَّثَنِي أَصْحَابِي وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَا بن سميَّة تقتلك الفئة الباغية أه وبن سُمَيَّةَ هُوَ عَمَّارٌ وَسُمَيَّةُ اسْمُ أُمِهِ وَهَذَا الإِسْنَادُ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَقَدْ عَيَّنَ أَبُو سَعِيدٍ مَنْ حَدَّثَهُ بِذَلِكَ فَفِي مُسْلِمٍ وَالنَّسَائِيَ مِنْ طَرِيقِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنَي أَبُو قَتَادَةَ فَذَكَرَهُ فَاقْتَصَرَ الْبُخَارِيُّ عَلَى الْقَدْرِ الَّذِي سَمِعَهُ أَبُو سَعِيدٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ غَيْرِهِ وَهَذَا دَالٌ عَلَى دِقَةِ فَهْمِهِ وَتَبَحُرِهِ في الاطلاعِ عَلَى عِلَلِ الْأَحَادِيثِ (ابن حجر العسقلاني، أحمد بن علي، فتح الباري شرح صحيح البخاري، دار المعرفة بيروت، 1379ھ، 543/1)
یہاں مرزا صاحب اور ان کے اندھے معتقدین دوسروں پر ”منکرینِ حدیث“ کا فتویٰ لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ بخاری و مسلم کی حدیثوں کو نہیں مانتے، وہی پروپیگنڈا مہم جوئی، جس میں دلیل کی بجائے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کا کام زیادہ ہوتا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات کی صحت پر اجماع ہے، ہم بھی یہی کہتے ہیں اور ہم اس موضوع پر ”کیا صحیحین کی صحت پر اجماع ہے؟“ کے عنوان سے مستقلاً لکھ چکے ہیں کہ جسے گوگل کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات پر جرح نہیں ہوئی یا جس نے جرح کی وہ منکرِ حدیث ہو گیا، تو اس طرح تو سب سے پہلے منکرِ حدیث تو امام الدارقطنی رحمہ اللہ ہوئے۔
تو محدثین ہی کی جماعت کی طرف سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم پر جو نقد ہوئی ہے اور اس کے جو جوابات محدثین ہی کی ایک دوسری جماعت کی طرف سے دیے گئے ہیں، تو اس ساری رد و قدح سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے وہ چند ایک مقامات متعین ہو گئے ہیں کہ جن میں کچھ علل یا اوہام ہیں۔ اب بعد میں آنے والے، محدثین کی اس نقد کو نقل کریں تو اس کی تو گنجائش آج بھی ہے لیکن کسی نئی جرح یا نقد کا دروازہ کھولیں تو یہ درست منہج نہیں ہے۔ تو ہم نے تو صرف محدثین کو نقل کیا ہے، کوئی ایسی بات نہیں کی جو پہلوں نے نہ کی ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ محدثین کی اس نقد سے صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی کوئی مکمل روایت ضعیف نہیں ہوتی بلکہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بقول ان روایات میں موجود کچھ کلمات (Phrases) علل اور اوہام کی وجہ سے درجہ ثبوت کو نہیں پہنچ پاتے، بقیہ روایت صحیح ہوتی ہے۔
یہ الفاظ یعنی تقتله الفئة الباغية صحیح بخاری کے علاوہ بھی کتبِ حدیث میں منقول ہیں تو سوال یہ ہے کہ ان کے بارے میں ہماری رائے کیا ہے؟ تو اس بارے میں ہمارا کہنا یہ ہے کہ اس روایت کے متنوع طرق کو جب ہم جمع کرتے ہیں تو ان کے متون میں ہمیں باہمی تضاد (Self-contradiction) نظر آتا ہے کہ جسے محدثین کی اصطلاح میں ”اضطراب“ کہتے ہیں اور جس روایت کے متن میں اضطراب ہو تو وہ روایت محدثین کے نزدیک اس وقت تک ثابت نہیں ہوتی جب تک کہ اس کا اضطراب دور نہ ہو جائے اور ایسی روایت کو وہ ”مضطرب“ روایت کہتے ہیں اور اس کا اضطراب دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ چار طریقوں سے ہوتا ہے کہ جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔
یہ روایت جب ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں نقل ہوئی ہے تو اس کے متن میں یہ موجود ہے کہ یہ واقعہ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مٹی جھاڑنا اور انہیں یہ الفاظ کہنا کہ تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا، مسجدِ نبوی کی تعمیر کا واقعہ ہے اور مسجدِ نبوی کی تعمیر ایک معروف امر ہے کہ 1 ہجری میں ہوئی ہے۔ لیکن یہی روایت جب صحیح مسلم میں ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل ہوتی ہے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ غزوہ خندق کا واقعہ ہے جو 5 ہجری میں ہوئی۔ اور دونوں روایات، یعنی صحیح بخاری میں بھی اور صحیح مسلم میں بھی، یہ الفاظ موجود ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے کپڑوں سے مٹی جھاڑ رہے تھے، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں روایات میں مراد ایک ہی واقعہ ہے نہ کہ دو علیحدہ علیحدہ واقعات۔ تو اب سوال یہ پیدا ہوا کہ صحیح بخاری کی روایت صحیح کہہ رہی ہے کہ یہ مسجدِ نبوی کی تعمیر کا واقعہ ہے یا صحیح مسلم کی روایت صحیح ہے کہ یہ غزوہ خندق کے موقع کا واقعہ ہے؟ تو اسی کو اضطراب کہتے ہیں۔ اور اس میں یوں کہہ کر جمع کرنا درست نہیں ہے کہ دو مرتبہ ایسا ہوا ہو گا۔ دو مرتبہ بالکل ایک ہی جیسا واقعہ ہونا کہ اس میں منظر بھی ایک ہی جیسا ہو، محال ہے۔
ایک اور روایت جو کہ صحیح مسلم میں ہی ہے، وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے لیکن اس روایت پر بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ مسجدِ نبوی کی تعمیر کا واقعہ ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے، تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا تو 4 ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقدِ نکاح میں آئیں، تو یہ کیسے ممکن ہو گیا کہ 1 ہجری کا کلام انہوں نے 4 ہجری میں سن لیا؟ اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ بطور صحابیہ بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر سکتی ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی ہجرت مسجدِ نبوی کی تعمیر کے بعد مدینہ کو ہوئی کیونکہ ان کے گھر والوں نے انہیں ایک سال تک ہجرت سے روکے رکھا تھا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ خندق کے موقع کا کلام ہے، تو غزوہ احزاب کے موقع پر ازواجِ مطہرات اور صحابیات وغیرہ خندق کھودنے میں شریک نہیں تھیں بلکہ انہیں مدینہ میں ہی حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قلعہ نما گھر میں رکھا گیا تھا جیسا کہ سیرت ابن اسحاق اور سیرت ابن ہشام وغیرہ کی روایت میں ہے۔
(ابن هشام، السيرة النبوية، مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، الطبعة الثانية، 1375هـ، 228/2)
ایک اور روایت جو کہ سنن الترمذی میں ہے، وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے۔ ایک تو اختلاف یہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو یہ الفاظ کہتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا گویا کہ اسے ایک سانحہ قرار دیا، جبکہ سنن ترمذی کی روایت میں ہے کہ یہ الفاظ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوش ہونے کو کہا اور اسے ان کے حق میں ایک بشارت شمار کیا۔ اور اظہارِ افسوس اور بشارت دینے میں بہت فرق ہے۔ (سنن الترمذي، أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَابُ مَنَاقِبِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، 669/5) دوسری بات یہ کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ 7 ہجری میں اسلام لائے جبکہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق یہ واقعہ پہلی ہجری (مسجدِ نبوی کی تعمیر) کا ہے اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق 5 ہجری غزوہ احزاب کے موقع کا ہے۔
ایک اور روایت جو کہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے، اس کے راوی عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں۔ ( ابن أبي شيبة، عبد الله بن محمد بن إبراهيم الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، كِتَابُ الْجَمَلِ، بَابُ مَا ذُكِرَ فِي صِفِّينَ، مكتبة الرشد الرياض، الطبعة الأولى، 1409هـ، 552/7) عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تو اسلام ہی 8 ہجری میں لائے ہیں، تو وہ کیسے مسجدِ نبوی کی تعمیر یا غزوہ خندق کے موقع کی روایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن سکتے ہیں؟ ایک اور روایت جو مسند احمد میں ہے، وہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (مسند الإمام أحمد بن حنبل: 96/11) اور وہ بھی اگرچہ اپنے والد سے پہلے اسلام لا چکے تھے لیکن ان کی بھی مدینہ کی طرف ہجرت 7 ہجری کے بعد ہی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ صحابہ سے روایات موجود ہیں جیسا کہ المعجم الاوسط میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور مستدرک حاکم میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لیکن ان کے راویوں پر کلام ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین رحمہما اللہ جیسے جلیل القدر محدثین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں 28 کے قریب روایات مروی ہیں لیکن ان میں کوئی ایک بھی صحیح نہیں ہے۔
ابو بکر الخلال لکھتے ہیں:
أخبرني إسماعيل بن الفضل، قال: سمعت أبا أمية محمد بن إبراهيم يقول: سمعت فى حلقة أحمد بن حنبل ويحيى بن معين وأبا خيثمة والمعيطي ذكروا: (يقتل عمارا الفئة الباغية) فقالوا: ما فيه حديث صحيح.
”ہمیں اسماعیل بن فضل نے خبر دی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن ابراہیم سے سنا ہے کہ میں نے امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین، ابو خیثمہ اور معیطی رحمہ اللہ کے حلقے میں یہ بات سنی ہے کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، اس حوالے سے کوئی ایک روایت بھی صحیح نہیں ہے۔“
(أبو بكر الخلال، أحمد بن محمد بن هارون السنة، دار الراية الرياض، الطبعة الأولى، 1410هـ، 463/2)
امام ابو بکر الخلال ایک اور قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
سمعت محمد بن عبد الله بن إبراهيم، قال: سمعت أبى يقول: سمعت أحمد بن حنبل، يقول: روي في: تقتل عمارا الفئة الباغية ثمانية وعشرون حديثا، ليس فيها حديث صحيح.
میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو یہ کہتے سنا کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، اس حوالے سے اٹھائیس روایات مروی ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک روایت بھی صحیح نہیں ہے۔
(ایضاً)
اگرچہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ہی سے ایک قول امام ابو بکر الخلال رحمہ اللہ نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے یہ کہا ہے کہ اس بارے میں بعض روایات صحیح ہیں لیکن اس قول کی نسبت ابو بکر الخلال رحمہ اللہ نے ابن الفراء کی طرف کی ہے کہ ابن الفراء یہ کہتے ہیں کہ یعقوب بن شیبہ نے مسندِ عمار کی پہلی جلد میں یہ لکھا ہے (ایضاً) اور یہ کتاب مفقود ہے۔
تو ہماری نظر میں یہ روایت ”متوقف فیہ“ ہے۔ متوقف فیہ اس روایت کو کہتے ہیں جس پر نہ تو صحت کا حکم لگایا جائے گا اور نہ ہی ضعف کا۔ محدثین کا قاعدہ یہ ہے کہ جب روایات میں تعارض پیدا ہو جائے تو وہ اس تعارض کو دور کرنے کے لیے پہلے انہیں جمع کرتے ہیں۔ بعض لوگوں نے ان روایات کو یوں جمع کرنے کی کوشش کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ ایک سے زائد مواقع پر بیان فرمائے ہوں گے لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔ ایک تو یہ کہ پھر یہ ماننا پڑے گا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی جملے کو بار بار دہراتے رہے، اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج نہیں تھا۔ دوسرا یہ کہ روایات کے متون جن مواقع کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، ان میں زمانی بعد بہت زیادہ ہے۔ دوسرایوں جمع کیا گیا کہ یہ ”مرسل صحابی“ ہو سکتی ہے یعنی ممکن ہے کہ بعد میں ایمان لانے والے صحابہ نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہو لیکن کسی دوسرے صحابی سے سنا ہو اور اس میں حرج نہیں ہے کہ سب صحابہ عادل ہیں۔ تو ہم نے یہ بھی کر کے دیکھ لیا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے تو انہوں نے وضاحت بھی کر دی لیکن متن میں پھر بھی تضاد باقی رہا۔ تو مرسل صحابی بنانے سے بھی مسئلہ حل نہیں ہو رہا کیونکہ متون میں تضادات ہیں، وہ تضادات اس جمع سے رفع نہیں ہو رہے ہیں۔ سند کے تضادات تو اس طریقے سے جمع سے رفع ہو رہے ہیں لیکن متون کے نہیں ہو رہے ہیں۔
البتہ جمع کی ایک تیسری صورت ممکن ہے اور وہ یہ کہ تقتله الفئة الباغية کے الفاظ مرفوعاً درست نہیں ہیں بلکہ موقوفاً درست ہیں، یعنی یہ الفاظ ثابت ہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے نہیں بلکہ صحابی کی نسبت سے یعنی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہیں۔ اور صحابہ میں کسی ایسے صحابی کا، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ہو، ایسا کہنا بعید از قیاس نہیں ہے۔ کہ عمار رضی اللہ عنہ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ پس اس سے اتنا تو ثابت ہوتا ہے کہ ان صحابی کی نظر میں دوسرا گروہ باغی تھا، لیکن یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں دوسرا گروہ باغی تھا، تو یہ ثابت نہیں ہوتا۔ آسان الفاظ میں، ہماری تجویز کردہ جمع کے مطابق روایت کے یہ الفاظ موقوف روایت کے طور پر ثابت ہیں نہ کہ مرفوع روایت کے طور پر۔اور غالب امکان یہی ہے کہ صحابی کی یہ رائے حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے اختلافات کے بعد سامنے آئی اور پھر ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں پھیل گئی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی تھے، کیونکہ اس روایت کے اکثر راوی صحابہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ہیں۔
اور اگر جمع ممکن نہ ہو تو پھر ان روایات میں نسخ تلاش کر کے ان کے باہمی تضاد کو دور کرتے ہیں کہ ایک روایت دوسرے کی ناسخ بن جائے۔ تو نسخ تو احکام میں ہوتا ہے اور یہ روایت احکام سے متعلق نہیں بلکہ فتن کے باب میں بیان ہوئی ہے، لہذا اس میں نسخ کا احتمال نہیں ہے۔ تیسری صورت ترجیح کی ہے اور وہ ہمارے نزدیک یوں ممکن ہے کہ صحیح بخاری کی روایت کو بقیہ روایات پر ترجیح دی جائے اور یہ مان لیا جائے کہ یہ واقعہ مسجدِ نبوی کی تعمیر کا ہے اور اس میں تقتله الفئة الباغية کے الفاظ ثابت نہیں ہیں اور وہ الفاظ کسی صحابی کا قول ہیں یعنی موقوف روایت ہے۔
چوتھی صورت توقف کی ہے اور امام احمد رحمہ اللہ کے قول کا ہمیں یہی معنی معلوم ہوتا ہے کیونکہ بڑے ائمہ اتنی آسانی سے کسی حدیث پر ضعف کا حکم نہیں لگا دیتے۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے تو ان کے اس قول میں اور اس میں کہ یہ حدیث ضعیف ہے، فرق ہوتا ہے۔ ہم بھی بعض روایات کے بارے میں اپنی تحریروں میں یوں لکھتے ہیں کہ وہ ثابت نہیں ہے تو اس سے ہماری مراد صرف اتنی ہوتی ہے کہ وہ صحیح نہیں ہے۔ اب جو روایت صحیح نہیں ہے، وہ ضعیف بھی ہو سکتی ہے اور نہیں بھی۔ اور اگر ہم اس پر ضعف کا حکم نہ لگائیں تو اس صورت میں اسے ”متوقف فیہ“ روایت کہا جاتا ہے، یعنی ایسی روایت کہ جس کے تضاد ختم ہونے تک اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل علم کی ایک بڑی جماعت نے تقتله الفئة الباغية کے الفاظ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت مانا ہے، اگرچہ ہماری رائے ان سے مختلف ہے۔ تو اگر ہم ان الفاظ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت مان لیں تو بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ باغی ثابت نہیں ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ”بغی“ کا اصل معنی ”چاہت“ ہے جیسا کہ قرآن مجید کی آیات ﴿ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ﴾ یعنی ”اللہ کی رضا چاہنے کے لیے“ اور حدیث کے الفاظ ”يا باغي الخير“ یعنی ”اے خیر کو چاہنے والے“ میں یہی معنی مراد ہے۔ مرزا صاحب عربی کے اس لفظ کو اردو کے ”باغی“ کے معنی میں مراد لے رہے ہیں جبکہ عربی زبان میں ”باغی“ کا اصل معنی ”چاہنے والا“ ہے۔
البتہ بعض اوقات اس لفظ میں ”چاہت“ کے ساتھ کسی معنی کا اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ آیت مبارکہ ﴿تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ﴾ اور ﴿فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى﴾ میں وہ چاہنا مراد ہے جو اپنے حق سے زائد ہو جبکہ ﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ﴾ اور ﴿وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ﴾ میں ”بغی“ سے مراد وہ چاہت ہے جو آپ کا حق نہ ہو۔ یہ گہرا نکتہ ہے جسے سطحی ذہن کے لیے سمجھنا ممکن نہیں اور دوسرا جذباتی مزاج کے لیے بھی۔ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ کو اس معنی میں ”باغی“ کہا گیا ہے کہ وہ اپنا حق تو چاہ رہے ہیں یعنی قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ لیکن اس سے زیادہ چاہ رہے ہیں جتنا ان کا بنتا ہے یعنی ان حالات میں قصاص چاہ رہے ہیں کہ جن حالات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے وہ قصاص لینا ممکن نہ تھا۔
تو ”باغی“ اگر ”متاول“ یعنی تاویل کرتا ہو تو غلطی، اجتہادی ہوتی ہے۔ تو ”بغی“ دو قسم کی ہے: اپنے حق سے زیادہ مانگنا اور دوسرا جو حق نہیں ہے، وہ مانگنا۔ پہلے میں اجتہادی خطا ہوتی ہے اور دوسرے میں خطا ہی خطا ہے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ”بغی“، اجتہادی تھی اور اس کے دلائل یہ ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے قتل پر راضی نہ ہونا بلکہ اس کا انکار کرنا کہ ”ہم نے تو کیا ہی نہیں بلکہ انہوں نے کیا ہے جو انہیں میدانِ جنگ میں لائے ہیں“ تو یہی اجتہادی خطا ہے۔ بھلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جواب درست ہو لیکن امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا قتلِ عمار رضی اللہ عنہ کا عقیدہ بھی نہیں ہے اور رضا بھی نہیں ہے۔ تو یہ تو کم از کم ثابت ہو گیا کہ اسی لیے تو تاویل کی ہے، چاہے دوسروں کے نزدیک ان کی تاویل غلط بھی ہو، یہ گہری بحث ہے جو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کی ہے۔
(ابن تيمية، أحمد بن عبد الحليم مجموع الفتاوى، مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة النبوية المملكة العربية السعودية، 1416هـ، 77/35)
دوسرے صحابہ کی ایک جماعت حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما میں سے کسی کی طرف سے بھی نہیں لڑی، اس حدیث کے معلوم ہونے کے بعد بھی۔ تو انہوں نے اس مسئلہ کو اجتہادی سمجھا، جیسا کہ سعد بن ابی وقاص، محمد بن مسلمہ، عبد اللہ بن عمر اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنهم بلکہ اکثر کبار صحابہ کسی طرف سے بھی نہیں لڑے۔ تو یہ ان کے لیے جواب ہوا کہ جو تقتله الفئة الباغية کو روایت کا صحیح جز سمجھتے ہیں۔
تیسری بات یہ کہ صحیح بخاری کی روایت میں ہے:
لا تقوم الساعة حتى تقتتل فئتان دعواهما واحدة
” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ دو جماعتیں آپس میں نہ لڑیں اور ان دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا۔“
(صحيح البخاري، كِتَابُ المَنَاقِبِ، بَابُ عَلامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الإِسْلامِ ، 200/4 )
امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دو جماعتوں سے مراد حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی جماعتیں ہیں اور ان کے دعویٰ سے مراد ”اسلام“ ہے کہ دونوں ”اسلام“ کے نام پر لڑیں گے یا پھر ان کے دعویٰ سے مراد یہ ہے کہ وہ دونوں حق پر ہونے کے دعویدار ہوں گے۔ (فتح الباري: 616/6) صحیح بخاری ہی کی ایک اور روایت میں دعوتهما واحدة کے الفاظ ہیں (صحيح البخاري كِتَابُ الفِتَنِ، بَابُ خُرُوجِ النَّارِ، 59/9 ) اور ان الفاظ سے ان معانی کی تائید ہوتی ہے جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔
اسی طرح صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ مسلمان تین گروہوں میں بٹ جائیں گے جن میں ایک خوارج ہوں گے اور مسلمانوں میں سے بقیہ دو گروہوں میں سے جو زیادہ حق پر ہو گا، وہ ان خوارج سے قتال کرے گا۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج سے قتال کیا جبکہ حدیث کے الفاظ ہیں: يقتلها أولى الطائفتين بالحق (صحيح مسلم ، كِتَاب الزَّكَاةِ، بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ ، 745/2 ) یعنی مسلمانوں کے دو گروہوں میں جو گروہ حق سے زیادہ قریب ہو گا، وہ ان خوارج سے قتال کرے گا۔ یہ نہیں کہا کہ جو حق پر ہو گا بلکہ دونوں کو حق پر کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو ”احق“ یعنی زیادہ حق پر کہا ہے اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گروہ ہے۔
تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ باغی یعنی اپنا حق چاہنے والا گروہ ہے، اگرچہ احق نہیں ہے۔ تو تمام احادیث کو سامنے رکھنے سے جو تطبیقی معنی سمجھ میں آتا ہے، وہ یہ ہے۔ اگر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ کو اس معنی میں باغی لے لیا جائے جیسا کہ خوارج باغی تھے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث کا انکار ہو جائے گا کہ جن میں یہ ہے کہ وہ دونوں گروہ حق پر ہوں گے یا دونوں کا دعویٰ حق ہو گا۔ تو حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی لڑائی ”حق“ اور ”باطل“ کی لڑائی نہیں تھی بلکہ ”احق“ اور ”حق“ کی لڑائی تھی۔ پہلا موقف اہل تشیع کا ہے جبکہ دوسرا اہل سنت والجماعت کا ہے۔ تو اہل تشیع اور اہل سنت میں دو بنیادی ترین فرق ہیں:
ایک یہ کہ اہل سنت کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے افضل شخصیت ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی ہے جبکہ اہل تشیع کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہے۔ تو جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر ترجیح دے تو وہ شیعیت میں داخل ہو گیا البتہ اسے تفضیلی شیعہ کہتے ہیں جیسا کہ زیدیہ ہیں اور یہ اہل سنت کے کافی قریب ہیں کہ خلفائے ثلاثہ یعنی ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت کو مانتے ہیں اور ان کا احترام بھی کرتے ہیں لیکن صرف اتنا کہتے ہیں کہ خلافت کے اصل حقدار حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ آج کل یمن میں پائے جاتے ہیں اور یمن کے حوثی قبائل اسی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک مفضول (junior) کی امامت یعنی خلافت و حکومت، افضل (senior) کی موجودگی میں جائز ہے۔
دوسرا جو حضرت علی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کی لڑائی کو ”حق“ اور ”باطل“ کی لڑائی قرار دے تو یہ پکا شیعہ ہے یعنی ان دونوں باتوں کا اقرار کرنے والا۔ اور جو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لعن طعن اور گالم گلوچ بھی کرے، انہیں غاصب قرار دے، ان کے ایمان کا انکار کرے تو یہ رافضی شیعہ ہے۔ متقدمین میں شیعیت یہی تھی، باقاعدہ فرقہ تو یہ بہت بعد میں بنا ہے۔ اور شروع میں یہ تصورات ہی ہوتے تھے کہ جن کی بنیاد پر محدثین کسی پر حکم لگاتے تھے کہ اس میں شیعیت ہے، یا وہ شیعہ ہے یا وہ کٹر شیعہ ہے وغیرہ۔ تو یہ اہل تشیع اور اہل سنت کے مابین عقائد کے بنیادی اختلافات میں سے ہے، کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔