28- توحیدِ ربوبیت اور فضائلِ اعمال کو دعوت کا مرکز سمجھ لینا؟
صرف توحید ربوبیت کی دعوت دینا اور توحید الوہیت اور اسماء و صفات کو چھوڑ کر دعوت دینا نامکمل دعوت ہے، کیونکہ صرف توحید ربوبیت کے اقرار سے توحید الوہیت ثابت نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ اگر ایسی بات ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانے کے مشرکوں سے لڑائی نہ کرتے، کیونکہ توحید ربوبیت کو تو وہ بھی مانتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ [الزخرف: 87]
”اور یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ انھیں کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔“
ایک اور مقام پر یوں فرمایا:
وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ [لقمان: 25]
”اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔“
مشرکین توحید ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ ہی اکیلا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کے باوجود وہ توحید الوہیت نہیں مانتے تھے اور کہا کرتے تھے:
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ [صٓ: 5]
”کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا؟ بلاشبہ یہ یقیناً بہت عجیب بات ہے۔“
لہٰذا توحید کی تینوں اقسام کا اقرار ضروری ہے، اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔
رہا فضائل اعمال کا مسئلہ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اعمال کے فضائل بیان کرنے سے انسان میں عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، لیکن اگر توحید ہی نہ ہو تو اعمال کی بنیاد کس چیز پر ہوگی؟ توحید تو اساس اور بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
« وَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ » (صحيح البخاري، رقم الحديث [1458]، صحيح مسلم [19/31])
یعنی سب سے پہلے ان کو توحید کی دعوت دینا۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ توحید ربوبیت کے ساتھ توحید الوہیت بھی ضروری ہے۔ اگر ایک انسان توحید ربوبیت کو مکمل طور پر مانتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بتوں کو یا ولی کو سجدہ بھی کرتا ہے تو کیا اسے موحد کہا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ ایسا مشرک ہے جس پر اللہ نے جنت کو حرام کر دیا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ (ابن عثیمین: لقاء الباب المفتوح: 14/25)