قتلِ حجر بن عدیؒ پر سیدنا معاویہؓ کی مشاورت: عمرو بن اسود اور ابو مسلم خولانیؒ کی رائے

Read in English
فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

ہمارے دلائل، اور تصویر کا دوسرا رخ:

مرزا صاحب کے جھوٹے دعوے پر ان کے دیے گئے ریفرنسز کا حال تو آپ دیکھ چکے، کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق منفی تاثر پیدا کرنے اور طعن وتشنیع کے راستے ہموار کرنے کے لیے جو اس معاملے میں طرح طرح کے رنگ بھرے گئے، اور جھوٹے من گھڑت قصے کہانیاں بیان کر کے ایک افسانہ تیار کیا گیا۔ لیکن بڑی چالاکی اور ہاتھ کی صفائی کے ساتھ مثبت پہلو کو چھپا لیا گیا جو کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں تھا۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جناب حجر بن عدی کا قتل یوں ہی نہیں کر دیا بلکہ اس معاملے میں جلیل القدر تابعین کی رائے لی اور تمام بیانات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک فیصلہ صادر فرمایا۔ چنانچہ شرحبیل بن مسلم ثقہ تابعی فرماتے ہیں:
لما بعث بحجر بن عدي بن الأدبر وَأَصْحَابه من الْعرَاق إِلَى مُعَاوِيَة بن أبي سُفْيَان اسْتَشَارَ النَّاس فِي قَتلهمْ، فَمنهمْ المشير وَمِنْهُم السَّاكِت۔ فَدخل مُعَاوِيَة إِلَى منزله فَلَمَّا صلى الظّهْر قَامَ فِي النَّاس خَطِيبًا فَحَمدَ الله وَأثْنى عَلَيْهِ ثمَّ جلس على منبره۔ فَقَامَ الْمُنَادِي فَنَادَى أَيْن عَمْرو بن الْأسود الْعَنسِي؟ فَقَامَ فَحَمدَ الله وَأثْنى عَلَيْهِ ثمَّ قَالَ أَلا إِنَّا بحصن من الله حَصِين لم نؤمر بِتَرْكِهِ وقولك يَا أَمِير الْمُؤمنِينَ فِي أهل الْعرَاق أَلا وَأَنت الرَّاعِي وَنحن الرّعية أَلا وَأَنت أعلمنَا بدائهم وأقدرنا على دوائهم وَإِنَّمَا علينا أَن نقُول سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ فَقَالَ مُعَاوِيَة أما عَمْرو بن الْأسود فقد تَبرأ إِلَيْنَا من دِمَائِهِمْ وَرمى بهَا مَا بَين عَيْني مُعَاوِيَة ثمَّ قَامَ الْمُنَادِي فَنَادَى أَيْن أَبُو مُسلم الْخَولَانِيّ فَقَامَ فَحَمدَ الله وَأثْنى عَلَيْهِ ثمَّ قَالَ أما بعد فَلَا وَالله مَا أبغضناك مُنْذُ أحببناك وَلَا عصيناك مُنْذُ أطعناك وَلَا فارقناك مُنْذُ جامعناك وَلَا نكثنا بيعتنا مُنْذُ بايعناك سُيُوفنَا على عواتقنا إِن أمرتنا أطعناك وَإِن دَعوتنَا أجبناك وَإِن سبقتنا أدركناك وَإِن سبقناك نظرناك، ثمَّ جلس۔ ثمَّ قَامَ الْمُنَادِي فَقَالَ أَيْن عبد الله بن مخمر الشرعبي فَقَامَ فَحَمدَ الله وَأثْنى عَلَيْهِ ثمَّ قَالَ وقولك يَا أَمِير الْمُؤمنِينَ فِي هَذِه الْعِصَابَة من أهل الْعرَاق إِن تعاقبهم فقد أصبت وَإِن تَعْفُو فقد أَحْسَنت ۔ فَقَامَ الْمُنَادِي فَنَادَى أَيْن عبد الله بن أسد الْقَسرِي فَقَامَ فَحَمدَ الله وَأثْنى عَلَيْهِ ثمَّ قَالَ يَا أَمِير الْمُؤمنِينَ رعيتك وولايتك وَأهل طَاعَتك إِن تعاقبهم فقد جنوا أنفسهم الْعُقُوبَة وَإِن تعفوا فَإِن الْعَفو أقرب للتقوى………
”جب حجر بن عدی بن ادبر اور ان کے ساتھیوں کو عراق سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا گیا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے قتل کے متعلق لوگوں سے مشاورت کی۔ تو لوگوں میں سے بعض نے مشورہ دیا اور بعض خاموش ہی رہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے حجرے میں چلے گئے، اور جب ظہر کی نماز ادا کر چکے تو آپ رضی اللہ عنہ لوگوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد وثناء بیان کی، پھر آپ اپنے منبر پر بیٹھ گئے۔ پس ایک منادی اٹھا اور اس نے آواز لگائی: عمرو بن اسود العنسی کہاں ہیں؟ تو جناب عمرو بن اسود کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد وثناء بیان کی پھر فرمایا: بے شک ہم اللہ کے ایسے مضبوط قلعے میں ہیں کہ جسے چھوڑنے کا ہمیں بالکل حکم نہیں (یعنی اطاعتِ امیر)، اور اے امیر المومنین! رہی آپ کی ان اہل عراق کے متعلق بات، تو یقیناً آپ حکمران ہیں اور ہم رعایا، اور بے شک آپ ان کا قصور ہم سے بہتر جانتے ہیں اور آپ ہم سے زیادہ ان کے علاج پر قادر ہیں۔ اور ہم پر تو صرف یہی لازم ہے کہ ہم کہیں: ”سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ“ ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے (مراد یہ ہے کہ آپ جو فیصلہ کریں گے ہمیں قبول ہے)۔ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا: رہے عمرو بن اسود تو یہ ذمہ داری ہم پر پھینک کر خود بری ہو گئے۔
پھر منادی کھڑا ہوا اور آواز لگائی: ابو مسلم خولانی کہاں ہیں؟ تو جناب ابو مسلم خولانی کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد وثناء بیان کی، پھر (سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر) فرمایا: اللہ کی قسم ہم نے جب سے آپ سے محبت کی ہے تو آپ سے بغض نہیں رکھا، جب سے آپ کی اطاعت میں آئے ہیں کبھی آپ کی نافرمانی نہیں کی، جب سے آپ کے ساتھ جڑے ہیں جدا نہیں ہوئے، جب سے آپ کی بیعت کی ہے تو بیعت نہیں توڑی۔ ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں، اگر آپ ہمیں کوئی حکم کریں گے تو ہم حکم کی تعمیل کریں گے، اور اگر آپ ہمیں بلائیں گے تو ہم لبیک کہیں گے، اگر آپ ہم سے آگے نکل گئے تو ہم آپ کے پیچھے آئیں گے، اور اگر ہم آگے نکل گئے تو آپ کا انتظار کریں گے، پھر آپ بیٹھ گئے۔ پھر منادی اٹھا اور آواز لگائی: عبداللہ بن مخمر الشرعبی کہاں ہیں؟ تو عبداللہ بن مخمر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد وثناء کے بعد کہا: اے امیر المومنین! اس معاملے میں جو آپ کا ان عراقیوں کے متعلق فیصلہ ہے، تو اگر آپ انہیں سزا دیں تو یقیناً آپ درست کریں گے، اور اگر آپ معاف کرتے ہیں تو آپ احسان کریں گے۔ پھر آواز لگانے والا کھڑا ہوا اور آواز لگائی: عبداللہ بن اسد القسری کہاں ہیں؟ پس وہ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد وثناء بیان کی، پھر فرمایا: اے امیر المومنین! آپ کی حکمرانی ہے اور آپ ہی کی ولایت، اور آپ کے اہل اطاعت ہیں، اگر آپ نے انہیں سزا دی تو یہ اپنے جرم کی سزا پائیں گے، اور اگر آپ نے معاف کیا تو معاف کرنا تقوی کے زیادہ قریب ہے۔“ (مسائل امام احمد روایۃ ابی الفضل صالح:960، تاریخ دمشق:224/12)
مولانا غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا۔ (دفاع صحابہ:501)
اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور سند متصل ہے، اور یہ ایک روایت انجینئر صاحب کی تمام خود ساختہ اور جھوٹی کہانیوں کی حقیقت واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔ ان الفاظ پر توجہ فرمائیں: ”اسْتَشَارَ النَّاس فِي قَتلِهِمْ“ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے قتل کے متعلق لوگوں سے مشاورت کی۔ اور لوگ کون تھے؟ کیا صحابہ وتابعین کے علاوہ بھی لوگ تھے؟ اس واقعہ کے مطابق پہلے نمبر پر جن کی رائے لی گئی وہ عمرو بن اسود ہیں۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ ان کے متعلق لکھتے ہیں: ”من عباد أهل الشام وزهادهم“ یعنی آپ اہل شام کے بہت عابد اور زاہد انسان تھے۔ (الثقات: 171/5)
امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كان من فقهاء التابعين وكبارهم…….أجمعوا على أنه من العلماء الثقات۔
”یہ کبار اور فقہاء تابعین میں سے تھے، (اور) محدثین کا اجماع ہے کہ یہ علماء ثقات میں سے تھے۔“ (الاستغناء:860،859/2)
امام ذہبی رحمہ اللہ ان کے متعلق لکھتے ہیں: ”كان من سادة التابعين دينا وورعا“ دین وورع کے معاملے میں آپ کا شمار بہت عظیم تابعین میں ہوتا ہے۔ (سیر اعلام النبلاء:79/4)
اور فرمایا: ”وكان من عباد التابعين وأتقيائهم“ اور یہ تابعین میں بڑے عبادت گزار اور ان میں سب سے زیادہ متقی شخص تھے۔ (تاریخ الاسلام:277/4)
اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: ”ثقة عابد من كبار التابعين“ کہ آپ ثقہ اور عابد تھے، اور کبار تابعین میں سے تھے۔ (تقریب:4989)
تو انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے یہ بالکل نہیں کہا کہ امیر المومنین! آپ تو قتلِ ناحق کرنے جا رہے ہیں۔ اور اگر آپ ایسا کریں تو ظلم کا ارتکاب کریں گے۔ بلکہ آپ نے تو فرمایا: ”سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا“ یعنی جو آپ کہیں گے ہم سنیں گے اور جو فیصلہ فرمائیں گے ہم قبول کریں گے۔ تو اگر یہ قتل ویسا ہی تھا کہ جیسے یہ روافض اور ان کی ہمنوائی میں جناب انجینئر صاحب بیان کرتے ہیں تو اتنے عظیم تابعی کو اس کی مخالفت کرنی چاہیے تھی یا حمایت؟ نافرمانی کرنی چاہیے تھی یا اطاعت؟
دوسرے نمبر پر جناب ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ کا نام آتا ہے، ان کے متعلق چند علماء کے اقوال ملاحظہ فرمائیں:
امام ابوالحسن العجلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”من كبار التابعين وعبادهم“ آپ کبار اور بہت عبادت گزار تابعین میں سے ہیں۔ (الثقات للعجلی:2043)
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے فرمایا: ”كان من عباد أهل الشام وزهادهم“ آپ اہل شام کے بڑے عبادت گزار اور زاہد انسان تھے۔ (الثقات لابن حبان:18/5)
امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ ان کے متعلق لکھتے ہیں: ”فهو معدود في كبار التابعين…..كان فاضلا ناسكا عابدا، وله كرامات وفضائل۔“ ان کا شمار کبار تابعین میں ہوتا ہے، آپ فاضل، زاہد اور عابد شخص تھے آپ کے فضائل وکرامات بھی ہیں۔ (الاستیعاب:3175)
امام ذہبی رحمہ اللہ نے: ”سید التابعین بالشام“ یعنی شام کے رہنے والے تابعین کا سردار قرار دیا ہے۔ (تاریخ الاسلام:292/5)
تو اگر یہ ناجائز قتل تھا، اور حجر بن عدی کو صرف سیدنا جناب علی رضی اللہ عنہ کی محبت کی وجہ سے قتل کیا گیا، یا اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ناخلف جانشین اور جابر اور ظالم حکمران تھے تو کیا سید التابعین ابو مسلم خولانی کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہی تبصرہ ہوتا؟
ان کا قول انجینئر صاحب کے لیے کسی تھپڑ سے کم نہیں ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ انسان میں شرم اور غیرت ہونی چاہیے، کہاں اتنے کبار تابعین کی جناب معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس قدر عقیدت اور محبت، اور ان کے لیے دل میں اتنی عزت، اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کا ایسا جذبہ ہے، اور کہاں یہ نیچ سوچ کے مالک حضرات کا ان کے متعلق گستاخانہ اور انتہائی غیر مناسب رویہ ہے۔
بہر حال جناب ابو مسلم خولانی نے بھی معاملہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد فرما دیا، کہ اگر آپ انہیں قتل کر دیں تو بھی درست ہے۔ آپ رحمہ اللہ کا قول، کہ ”ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں، اگر آپ ہمیں کوئی حکم دیں گے تو ہم حکم کی تعمیل کریں گے“ سے یہی مقصود ہے۔ انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ امیر المومنین! یہ سراسر قتلِ ناحق ہے، آپ صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ٹسل میں انہیں قتل کروانا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ہم اس میں آپ کی مخالفت کریں گے اور اطاعت نہیں کریں گے، (کیوں کہ امیر کی اطاعت صرف بھلائی کے کاموں میں ہے، برائی کے کام میں کوئی اطاعت نہیں)۔ (صحیح بخاری:7257)
پھر ان کے بعد والوں نے بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بھرپور حمایت کی، اور ان کے قتل کو درست قرار دیا۔ تو بھئی یہ کیسا قتلِ ناحق ہے جس کی مشاورت میں عظیم تابعین موجود ہیں؟ وہ اس کی مذمت نہیں کرتے، الٹا اس قتل کو درست قرار دیتے ہیں؟ لہٰذا اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ قتل ایسا بالکل بھی نہیں تھا کہ جیسا انجینئر صاحب بتا رہے ہیں۔ ورنہ کسی ایک آدمی نے تو ایسی کوئی بات کہی ہوتی جس سے مرزا صاحب کے ان افسانوں کی تائید ہوتی ہو۔
اور اسی طرح مستدرک للحاکم کی روایت میں ہے کہ حجر بن عدی کے قتل کرنے کے متعلق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حاضرین مجلس سے مشورہ طلب کیا، اور سب نے با یک زباں ہو کر قتل کرنے کا کہا:
عَنْ بِشْرِ بْنِ عَبْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ زِيَادٌ بِحُجْرِ بْنِ عَدِيٍّ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بِحَبْسِهِ بِمَكَانٍ يُقَالُ لَهُ: مَرْجُ عَذْرَاءَ، ثُمَّ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِيهِ قَالَ: فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: الْقَتْلُ الْقَتْلُ. قَالَ: فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسَدٍ الْبَجَلِيُّ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْتَ رَاعِينَا وَنَحْنُ رَعِيَّتُكَ، وَأَنْتَ رُكْنُنَا وَنَحْنُ عِمَادُكَ، إِنْ عَاقَبْتَ قُلْنَا: أَصَبْتَ، وَإِنْ عَفَوْتَ قُلْنَا: أَحْسَنْتَ وَالْعَفْوُ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى، وَكُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، قَالَ: فَتَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ قَوْلِهِ۔
”بشر بن عبداللہ الحضرمی کہتے ہیں۔ جب زیاد نے حضرت حجر بن عدی کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو ”مرج عذراء“ نامی جگہ پر قید کرنے کا حکم دیا۔ پھر لوگوں سے ان کے بارے میں مشورہ کیا تو لوگ کہنے لگے: قتل کریں، قتل کریں۔ پھر عبداللہ بن زید بن اسد بجلی اٹھے اور کہا: اے امیر المومنین! آپ ہمارے حکمران ہیں اور ہم آپ کی رعایا ہیں، آپ ہماری بنیاد ہیں اور ہم آپ کے ستون ہیں۔ اگر آپ سزا دیں گے تو ہم کہیں گے کہ آپ نے درست کیا اور اگر آپ معاف کر دیں گے تو ہم کہیں گے کہ آپ نے اچھا کیا، اور معاف کرنا تقویٰ کے قریب تر ہے۔ اور ہر ذمہ دار سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال ہوگا۔ تو عبداللہ بن زید کے اس بیان (کہ معاف کرنا اچھا ہے) سے سب لوگوں نے اختلاف کیا۔“ (مستدرک للحاکم:5977)
کیا اس کے بعد بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جناب حجر کو ظلماً شہید کروایا، اور یہ محض سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ٹسل کی بنا پر تھا؟
کیا یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنا فیصلہ تھا؟ انہوں نے تو حاضرینِ مجلس سے مشورہ مانگا تو چند ایک کو چھوڑ کر سب نے قتل کرنے کا ہی مشورہ دیا۔ تو کیا اب بھی جناب معاویہ رضی اللہ عنہ ہی قابل طعن ہیں؟ مرزا صاحب نے جاہل ذاکرین کی طرح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر جھوٹے الزامات تو لگائے ہیں، لیکن کیا یہ حقائق بھی عوام کے سامنے بیان کیے ہیں؟ یہ مستدرک للحاکم کی روایت تو انہی تیرہ روایات میں سے ایک ہے کہ جن کا حوالہ دے کر مرزا صاحب نے دھوکا دیا ہے۔