25- کیا یہ نظریہ درست ہے کہ انسان پہلے بندر تھا؟
یہ نظریہ قطعاً درست نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آدم کی تخلیق کے جتنے مراحل تھے، ان کو قرآن مجید میں مکمل طور پر ذکر فرمایا ہے:
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ [آل عمران: 59]
”بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی مثال کی طرح ہے کہ اسے تھوڑی سی مٹی سے بنایا۔“
اور اس کی حقیقت یہ بیان فرمائی کہ یہ لیس دار مٹی تھی جو ہاتھوں سے چپک جاتی ہے۔ ایک مقام پر یوں فرمایا:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ [المومنون: 12]
”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے انسان کو حقیر مٹی کے ایک خلاصے سے پیدا کیا۔“
نیز ارشاد فرمایا:
إِنَّا خَلَقْنَاهُمْ مِنْ طِينٍ لَازِبٍ [الصافات: 11]
”بے شک ہم نے انھیں ایک چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔“
پھر یہ بدبودار مٹی بن گئی اور فرمایا:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ [الحجر: 26]
”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے انسان کو ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے تھی۔“
پھر وہ مٹی خشک ہو کر ٹھیکری کی طرح بجنے والی بن گئی۔ فرمایا:
خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ [الرحمن: 14]
”اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو ٹھیکری کی طرح تھی۔“
پھر اللہ رب العٰلمین نے اپنی مشیت کے مطابق اس مٹی سے آدم علیہ السلام کی تصویر بنا کر اس میں روح پھونک دی اور فرمایا:
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ [الحجر: 29,28]
”اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا بے شک میں ایک بشر ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے ہوگی۔ تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤ۔“
مندرجہ بالا وہ مراحل ہیں جو آدم کی تخلیق میں گزرے ہیں اور ان کا تذکرہ قرآن نے فرمایا ہے۔ رہا معاملہ آدم کی اولاد کے ادوار کا تو اللہ فرماتے ہیں:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ [المومنون: 12 تا 14]
”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے انسان کو حقیر مٹی کے ایک خلاصے سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے ایک قطرہ بنا کر ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا۔ پھر ہم نے اس قطرے کو ایک جما ہوا خون بنایا، پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو ایک بوٹی بنایا، پھر ہم نے اس بوٹی کو ہڈیاں بنایا، پھر ہم نے ان ہڈیوں کو کچھ گوشت پہنایا، پھر ہم نے اسے ایک اور صورت میں پیدا کر دیا، سو بہت برکت والا ہے اللہ جو پیدا کرنے والوں میں سب سے اچھا ہے۔“
اور رہی بات آدم علیہ السلام کی بیوی حوا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً [النساء: 1]
”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی پیدا کی اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔“ (اللجنة الدائمة: 5167)