24- کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ بھی کسی کو اولاد اور رزق دینے کا اختیار حاصل ہے؟
جس انسان کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ بھی کوئی اولاد دے سکتا ہے اور رزق میں کمی و زیادتی کا اختیار رکھتا ہے تو وہ عرب کے مشرکوں سے بھی بڑا مشرک ہے، کیونکہ جب مکہ کے مشرکوں سے پوچھا جاتا: بتاؤ زمین و آسمان میں رزق کون دیتا ہے؟ مردے سے زندہ اور زندے سے مردہ کو کون پیدا کرتا ہے؟ تو جواب سب کا ایک ہی ہوتا تھا کہ یہ کام تو اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے، رہی یہ بات کہ وہ بتوں کو اپنے معبود مانتے تھے تو اس کی حقیقت وہ خود ہی بیان کرتے تھے کہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کا ذریعہ، واسطہ اور وسیلہ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ [یونس: 31]
”کہہ دے کون ہے جو تمھیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ یا کون ہے جو کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے؟ اور کون زندہ کو مردہ سے نکالتا اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے؟ اور کون ہے جو ہر کام کی تدبیر کرتا ہے؟ تو ضرور کہیں گے ”اللہ“ تو کہہ پھر کیا تم ڈرتے نہیں؟“
اور ارشاد فرمایا:
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ [الزمر: 3]
”اور وہ لوگ جنھوں نے اس کے سوا اور حمایتی بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں، اچھی طرح قریب کرنا۔ یقیناً اللہ ان کے درمیان اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا ہو، بہت ناشکرا ہو۔“
نیز ارشاد ربانی ہے:
أَمَّنْ هَذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ [الملك: 21]
”یا وہ کون ہے جو تمھیں رزق دے، اگر وہ اپنا رزق روک لے؟“
اور یہی بات حدیث میں بھی ثابت شدہ ہے کہ کسی کو کچھ دینا اور نہ دینا یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے، جیسا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب سے مروی ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو جو خط لکھا، اس میں اس دعا کا بھی ذکر تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
« لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ، اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ » (صحيح البخاري، رقم الحديث [844]، صحيح مسلم [593/137])
”اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود (برحق) نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ساری کائنات کا مالک وہی ہے اور ہر قسم کی تعریف اسی کے لائق ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو چیز تو دینے پر آئے، اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جو تو نہ دینا چاہے، وہ کوئی عطا نہیں کر سکتا اور تیرے سامنے کسی کو اس کی بزرگی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔“
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ کسی کو اولاد بھی عطا کرتا ہے اور اس کی دعا کی وجہ سے وسیع رزق بھی دیتا ہے، جیسا کہ سورت ابراہیم میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ اسی طرح سورت مریم، انبیاء اور دیگر سورتوں میں حضرت زکریا علیہ السلام کے دعا مانگنے کا ذکر ہے جسے اللہ رب العٰلمین نے شرفِ قبولیت سے نوازا۔ اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:
« مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُّبْسَطَ لَهُ فِيْ رِزْقِهِ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِيْ أَجَلِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ » (صحيح البخاري، رقم الحديث [2067]، صحيح مسلم [2557/20])
”جو یہ پسند کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے رزق اور عمر میں اضافہ فرما دے تو اسے صلہ رحمی سے کام لینا چاہیے۔“