کتاب الاحکام
خلیفہ کی بیعت کرنا
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، جب ہم سمع و طاعت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں فرماتے:
فيما استطعت – أو قال: استطعتم –
”اتنی جتنی تو استطاعت رکھتا ہے یا جتنی تم استطاعت رکھتے ہو۔“
بخاری، کتاب الاحکام 7202 ، 7203، 7200، مسلم، کتاب الامارة 1867، أبوداؤد، الخراج والامارة والفئ 2940، محدثین کی ایک جماعت نے اسے روایت کیا ہے، اور یہ مکمل باب قسم النواهى باب البهتان میں ہے۔
حکمرانوں کی اطاعت کرنا
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أطاعني فقد أطاع الله، ومن عصاني فقد عصى الله، ومن يطع الأمير فقد أطاعني، ومن يعص الأمير فقد عصاني
”جس شخص نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور جس نے امیر کی اطاعت کی تو اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی تو اس نے میری نافرمانی کی۔“
بخاري، كتاب الجهاد والسير 2957، مسلم، كتاب الامارة 1835۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اسمعوا وأطيعوا وإن استعمل عليكم عبد حبشي كأن رأسه زبيبة ما أقام فيكم كتاب الله
”سنو اور اطاعت کرو اگرچہ کوئی حبشی غلام بھی تمہارا امیر بنا دیا جائے جس کا سر کشمش کے دانے کی طرح ہو، تو جب تک وہ تم میں کتاب اللہ کا نفاذ کرے اس کی اطاعت کرو۔“
بخاری، کتاب الاحكام 7142، ابن ماجه، کتاب الجهاد 2860۔
③ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
على المرء المسلم السمع والطاعة فيما أحب أو كره إلا أن يؤمر بمعصية، فإن أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة
”مسلمان شخص پر لازم ہے کہ اگر اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے تو پھر وہ پسند و ناپسند میں سمع و طاعت کا مظاہرہ کرے، اور اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر سمع ہے نہ طاعت۔“
بخاری، کتاب الاحكام 7144، مسلم، كتاب الامارة 1839، ابوداؤد، كتاب الجهاد 2626۔
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عليك السمع والطاعة فى عسرك ويسرك ومنشطك ومكرهك وأثرة عليك
”تم پر تمہاری بدحالی و خوش حالی، تمہاری خوشی و ناگواری اور تمہاری ناپسند میں بھی اور دوسروں کو تجھ پر ترجیح دینے کی صورت میں بھی سمع و طاعت لازم ہے۔“
مسلم، کتاب الامارة 1836، نسائي، كتاب البيعة 140/7۔
قولِ حق کے متعلق احکامات
① سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے تنگی و فراخی، خوشی و ناخوشی اور اگر ہم پر دوسروں کو ترجیح بھی دی جائے تمام حالات میں سمع و طاعت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور ہم نے اس پر بھی بیعت کی کہ ہم سلطنت کی بابت حکمرانوں سے جھگڑا نہیں کریں گے، اور ہم ہر حال میں حق بات کہیں گے اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
بخاری، کتاب الفتن 7056، مسلم، كتاب الحدود 1709۔
امارت و سرداری طلب کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنكم ستحرصون على الإمارة، وإنها ستكون ندامة وحسرة يوم القيامة، فنعم المرضعة وبئست القاطمة
”عنقریب تم امارت و سرداری کی حرص کرو گے جبکہ روزِ قیامت وہ ندامت و حسرت کا باعث ہوگی، اس کا آغاز اچھا معلوم ہوگا لیکن انجام برا ہوگا (جس طرح دودھ پلانے والی دودھ پلاتے وقت اچھی ہوتی ہے مگر دودھ چھڑاتے وقت بری لگتی ہے)۔“
بخاری، کتاب الاحکام 7148.
② سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے عامل (حاکم) کیوں نہیں بنا دیتے؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے پر اپنا ہاتھ مار کر فرمایا:
يا أبا ذر إنك ضعيف، وإنها أمانة، وإنها يوم القيامة خزي وندامة إلا من أخذها بحقها وأدى الذى عليه فيها
”ابوذر! تم کمزور ہو جبکہ وہ ایک امانت ہے اور جس نے اسے اس کے حق کے مطابق قبول کیا اور جو اس کی اس پر ذمہ داری تھی اسے نبھایا تو ٹھیک، ورنہ قیامت کے دن یہ اس کے لیے رسوائی اور ندامت کا باعث ہوگی۔“
مسلم، كتاب الاحكام 1825/16۔ مسند احمد، مسند الانصار 206/5، حدیث 21569۔
③ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھوں پر مارتے ہوئے فرمایا:
أفلحت يا قديم إن مت ولم تكن أميرا ولا كاتبا ولا عريفا
”قدیم! اگر امیر، سیکرٹری اور منتظم بنے بغیر تمہیں موت آئے تو تم کامیاب ہو۔“
ابوداؤد، كتاب الخراج والامارة والفئ 2933، الترغيب 570،569/1 حدیث 24۔