عن أنس بن مالك رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: لغدوة فى سبيل الله أو روحة خير من الدنيا وما فيها.
”انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ (جہاد) میں ایک صبح یا ایک شام (وقت دینا) دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ “
(صحیح بخاری و مسلم) (رواه البخاري كتاب الجهاد و السير باب الغدوة والروحة فى سبيل الله وقاب قوس احدكم من الجنة واللفظ له، الرقم: 2792 / مسلم كتاب الامارة باب فضل الغدوة والروحة في سبيل الله، الرقم: 1880)
تشریح
اگرچہ فى سبيل الله (اللہ کی راہ میں) سے خلوص سے کی جانے والی ہر نیکی مراد لی جا سکتی ہے مگر قرآن و حدیث میں یہ لفظ زیادہ تر جہاد کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس کی تشریح جہاد سے کی ہے۔ دنیا و مافیہا سے مراد دنیا میں موجود تمام دولت اور خزانے ہیں، یعنی جس طرح ایک دنیا کے طالب کے لیے یہ سب کچھ انتہائی محبوب اور قیمتی ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں جہاد اس سے بھی بڑھ کر محبوب اور قیمتی ہے۔ بعض علماء نے یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ دنیا بھر کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کر دینے کا جتنا ثواب ہو سکتا ہے جہاد میں صرف کیا ہوا تھوڑا سا وقت اس سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔