کیا احادیث امت میں فرقہ بندی اور اختلاف کا سبب ہیں؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

پانچواں شبہ

حدیث فرقہ بندی کا سبب ہے۔ اس سلسلے میں پرویز صاحب نے لکھا ہے: ان احادیث کو دین مان لینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ امت میں سینکڑوں فرقے بن گئے اور ملت کا شیرازہ بکھر گیا۔ سنیوں کی حدیثیں الگ ہیں اور شیعوں کی الگ۔ ہر فرقے نے اپنے مذہب کی تعمیر اپنے حسب منشا روایات سے کی۔ وہ صرف اپنی ہی حدیثوں کو صحیح سمجھتا ہے اور دوسروں کی حدیثوں کو غلط، جبکہ فرقہ بندی قرآن کریم کی رو سے شرک ہے۔
مقام حدیث، ص : 14
حدیث کو دین ماننے کا نتیجہ پرویز صاحب نے یہ لکھا کہ سینکڑوں فرقے بن گئے، یعنی سو سے زائد فرقے بن گئے جبکہ وہ شیعہ اور سنی کے علاوہ تیسرے فرقے کا نام نہ لے سکے۔ ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ باقی فرقے کون سے ہیں؟
شیعہ اور سنی فرقہ بندی کا اصل سبب احادیث کا الگ الگ ہونا نہیں بلکہ شیعہ حضرات کے بدعت پر مبنی عقائد ہیں جو ابن سبا نے مسلمانوں میں داخل کر دیے۔ ان عقائد ہی کے اختلاف کی وجہ سے شیعوں نے صحت حدیث کے لیے اپنی طرف سے یہ شرط اضافی طور پر عائد کر دی کہ وہ حدیث ان کے کسی نہ کسی امام سے مروی ہو جبکہ اہل سنت والجماعت نے صحت حدیث کے لیے دو مشہور شرطوں کے علاوہ یہ شرط رکھی کہ وہ روایت کسی بدعت کی مؤید نہ ہو، خواہ وہ حدیث کسی امام سے منقول ہو یا کسی اور سے۔ حجیت حدیث کے بارے میں شیعہ وسنی دونوں متفق ہیں تو اختلاف و تفرق کا سبب احادیث نہیں بلکہ بدعی عقائد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہل تشیع میں سب سے زیادہ فرقے بن گئے۔ ابتدا میں اہل تشیع کے تین فرقے بنے۔ ① غالیہ ② زیدیہ ③ رافضیہ
پھر غالیہ کے بارہ، زیدیہ کے چھ اور رافضیہ کے چودہ فرقے بن گئے اور اس طرح شیعہ کل بتیس فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔
دیکھیے : کتاب الملل والنحل از شهرستانی
اسی طرح بدعی عقائد کی وجہ سے معتزلہ (منکرین حدیث) بھی چھ بڑے فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر حدیث کو حجت مان لینا اختلاف و تفرق کا سبب ہے تو پھر معتزلہ جو منکرینِ حدیث ہیں وہ اتنے فرقوں میں کیوں بٹ گئے ہیں؟ حقیقت میں انکار حدیث تفرق کا سب سے بڑا سبب ہے۔ موجودہ دور میں منکرینِ حدیث کے مختلف فرقے چکڑالوی کا فرقہ، علامہ مشرقی کا فرقہ، ڈاکٹر جیلانی برق کا فرقہ، سرسید احمد خان کے معتقدین اور پرویز صاحب کی جماعت موجود ہے اور ان کے آپس میں اختلافات ہیں اگرچہ انکار حدیث میں یہ سب متفق ہیں۔
اگر کوئی پرویزی اپنے شبہ کی تائید کے لیے مقلدین کے باہمی اختلاف کی مثال دیتا ہے تو اس کا بھی تحقیقی جواب یہ ہے کہ یہ اختلاف حدیث کو حجت ماننے سے پیدا نہیں ہوا بلکہ وہ ایک بدعت پر مبنی عقیدے سے پیدا ہوا ہے اور وہ ہے تقلید شخصی کا التزام، یعنی کسی نہ کسی امام کی تقلید کو واجب سمجھ کر دوسرے کو گمراہ سمجھنا، چنانچہ فرقہ بندی کا اصل سبب بدعی عقائد ہیں اور انکارِ حدیث بھی ایک بدعی عقیدہ ہے، اس وجہ سے منکرین حدیث اور فہم قرآن کے لیے اپنی عقل کو معیار سمجھنے والوں میں اختلاف عقل کی وجہ سے بے شمار اختلافات ہیں اور مزید اختلافات پیدا ہوتے رہیں گے۔