جہاد میں اخلاص نیت ضروری ہے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

عن أبى موسى رضى الله عنه قال جاء رجل إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقال: الرجل يقاتل للمغنم والرجل يقاتل للذكر والرجل يقاتل ليرى مكانه فمن فى سبيل الله ، قال من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو فى سبيل الله.
”ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا ایک شخص (لاحق بن ضمیرہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہنے لگا: یا رسول اللہ! کوئی شخص لوٹ کے لیے لڑتا ہے، کوئی ناموری کے لیے، کوئی اپنی بہادری بتلانے کے لیے تو اللہ کی راہ میں (لڑتا ہوا) کون شمار ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اس نیت سے لڑے کہ اللہ کا دین بلند ہو (توحید پھیلے اور شرک مٹے) تو وہ اللہ کی راہ میں شمار ہو گا۔ “
(صحیح بخاری و مسلم) (رواه البخارى كتاب الجهاد و السير باب من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا الرقم: 2810 واللفظ له / مسلم كتاب الإمارة باب من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله، الرقم: 1904)

چند فوائد مستنبطہ

حدیث مذکور سے کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں جن میں سے چند حسب ذیل ہیں:

اخلاص نیت:

جہاد میں اصل نیت اعلاء کلمۃ اللہ ہونی چاہیے، یعنی جہاد سے مقصود صرف اور صرف اسلام کی سربلندی ہو کہ توحید دنیا میں پھیلے اور شرک مٹ جائے، اور یہ اخلاص نیت ہر عمل میں ضروری ہے۔

امور مشتبہ کے متعلق دریافت:

اگر کسی شخص پر دین کے متعلق کوئی چیز مبہم مخفی ہو تو اسے اہل علم حضرات سے بذریعہ سوال و جستجو کے دریافت کرنا چاہیے جیسا کہ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصل جہاد کے متعلق دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مختصر سے جملے میں حقیقت جہاد بتلا دی۔

مخلصین میں مغرضین کا ہونا:

حدیث مذکور سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاد فی سبیل اللہ میں یہ کوئی ضروری نہیں کہ سب لوگ ہمیشہ سے جہاد میں مخلص ہوں بلکہ ان مخلصین میں کہیں کبھی کبھی غرض والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔
اور حدیث فوق الذکر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غرض والے لوگوں کے غلط اعراض سے مخلص مجاہدین کے جہاد پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔