مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

کھانے پینے کی چیزیں ادھار لینا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

خورد و نوش کی اشیاء ادھار لینا
سوال : کیا عام کھانے پینے کی چیزیں ادھار لینا اسلام میں جائز ہے؟
جواب : ایسی اشیاء کے ادھار لینے کا شریعت میں جواز موجود ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے اناج ادھار خریدا اور اپنی زرہ بطور رہن اس کے پاس رکھی۔“ [بخاري، كتاب الرهن : باب من رهن درعه 2509]
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے کی اشیاء ادھار لی جا سکتی ہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔