لوگوں کا کسی آدمی کے لیے کھڑا ہونا منع ہے
① ابو مجلز لاحقی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، سیدنا معاویہ، سیدنا ابن زبیر اور سیدنا ابن عامر رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لائے تو سیدنا ابن عامر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیٹھے رہے۔ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: بیٹھ جائیں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من أحب أن يتمثل له الرجال قياما فليتبوأ مقعده من النار
”جو شخص یہ پسند کرے کہ لوگ اس کے سامنے باادب کھڑے رہیں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 5229، مسند احمد، مسند الشاميين 114/4، حدیث 16836۔
② سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے تشریف لائے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھڑے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تقوموا كما يقوم الأعاجم يعظم بعضها بعضا
”جس طرح مجھی ایک دوسرے کے لیے تعظیماً کھڑے ہوتے ہیں تو ویسے نہ کھڑے ہوا کرو۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 5230، مسند احمد، باقی مسند الانصار 299/5، حدیث 22243۔
③ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر انہیں کوئی اور شخص زیادہ محبوب نہیں تھا، لیکن جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھڑے نہیں ہوا کرتے تھے کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند کرتے تھے۔
ترمذی، کتاب الادب 2754۔
حلقے کے وسط میں بیٹھنے کی ممانعت
① ابو مجلز لاحقی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حلقے کے وسط میں بیٹھ گیا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایسا شخص ملعون ہے۔ یا فرمایا: اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر حلقے کے وسط میں بیٹھنے والے شخص پر لعنت فرمائی ہے۔
ابوداؤد، کتاب الادب 4826، ترمذی، کتاب الادب 2753۔
اپنے مومن بھائی سے ایسی بات کہنے کی ممانعت جو اس میں نہیں ہے
① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من قال فى مؤمن ما ليس فيه أسكنه الله ردغة الخبال حتى يخرج مما قال
”جس نے کسی مومن کے بارے میں ایسی بات کی جو اس میں نہیں، تو اللہ اسے دوزخیوں کی پیپ میں ٹھہرائے گا حتیٰ کہ وہ اس سے نکل آئے جو اس نے کہا ہے۔“
ابوداؤد، کتاب الاقضية 3597، مسند احمد، مسند المكثرين من الصحابة 96/2، حدیث 5384۔