مردار، خون، سور اور غیر اللہ کے ذبیحہ کی حرمت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

مردار کی حرمت اور اس کی مصلحتیں :

قرآن کی آیات میں جہاں حرام کھانوں کا بیان ہوا ہے وہاں سب سے پہلے مردار کا ذکر کیا گیا ہے یعنی وہ حیوان یا پرندہ جو طبعی موت مرا ہو اور اس کی موت ذبح یا شکار کے ذریعہ واقع نہ ہوئی ہو۔
عصر حاضر کا ذہن سوال کرتا ہے کہ مردار کو حرام قرار دینے اور کھانے کے کام میں لانے کی بجائے رائیگاں جانے دینے میں کیا مصلحت پوشیدہ ہے؟ جواب میں ہم عرض کریں گے کہ مردار کی تحریم کئی وجوہات پر مبنی ہے :
(الف) طبع سلیم مردار سے نفرت کرتی ہے۔ عام طور سے اہل دانش مُردار کھانا باعث احتقار سمجھتے ہیں اور اسے انسان کے شایان شان خیال نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام کتابی مذاہب مردار کو حرام قرار دیتے ہیں اور ذبح شدہ جانور ہی کو کھانا پسند کرتے ہیں، گو کہ ذبح کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔
(ب) اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں کہ آدمی کوئی ایسی چیز کھائے جس کے حصول کا اُس نے قصد نہ کیا ہو۔ مردار کا معاملہ ایسا ہی ہے۔ البتہ جس جانور کو ذبح کیا جاتا ہے یا جس کا شکار کر لیا جاتا ہے اس میں انسان کے قصد اور اس کی سعی و عمل کا دخل ضرور ہوتا ہے۔
(ج) جو جانور اپنی موت آپ مرا ہو اس کے بارے میں یہ احتمال ہے کہ اس کی موت دائم المریض ہونے یا کسی حادثہ کا شکار ہونے یا زہریلی نباتات کھانے سے واقع ہوئی ہو ایسی صورت میں اسے کھانے سے ضرر کا اندیشہ ہے۔ اور یہ اندیشہ اس صورت میں بھی ہوتا ہے جب کہ شدتِ ضعف یا طبیعت کی خرابی کی وجہ سے وہ مر گیا ہو۔
(د) اللہ تعالیٰ نے مُردار کو حرام قرار دے کر چرند و پرند کے لیے اپنی رحمت سے غذا مہیا کر دی ہے کیونکہ وہ بھی ہماری طرح ایک اُمت ہیں۔
(ہ) ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ انسان اپنے مملوکہ جانوروں کو مرض کا شکار ہونے یا کمزور ہو کر تلف ہو جانے کے لیے نہ چھوڑ دے، بلکہ یا تو علاج کے لیے جلدی کرے یا آرام پہنچانے (ذبح کرنے) میں جلدی کرے۔

بہائے ہوئے خون کی حرمت :

محرمات میں سے دوسری چیز دم مسفوح ہے یعنی بہنے والا خون۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ تلی کا کیا حکم ہے؟ فرمایا : کھا سکتے ہو۔ لوگوں نے کہا وہ تو خون ہے، فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بہنے والے خون کو حرام کیا ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہ (86/8) – السنن الکبری للبیہقی (7/10) وسلسلہ سماک عن عکرمہ ضعیفہ ولکن لہ شاہد صحیح عند ابن ماجہ (3314، 3218) مرفوعاً۔
اس کی وجہ اس کا نجس ہونا ہے۔ انسان کی پاکیزہ طبیعت اس سے نفرت کرتی ہے اور اس میں مردار کی طرح مضرتوں کا بھی احتمال ہے۔ نیز خونخوار درندوں کی مشابہت سے بچانا بھی مقصود ہے۔
اہل جاہلیت کا طریقہ یہ تھا کہ اگر کسی شخص کو بھوک محسوس ہوتی تو ہڈی یا کوئی تیز چیز اونٹ وغیرہ کے جسم میں جھونک دیتا اور جو خون نکل پڑتا اس کو وہ پی لیتا۔ اس سے جانور کو بڑی تکلیف ہوتی اور وہ کمزور ہو جاتا اس لیے بھی اللہ تعالیٰ نے بہائے ہوئے خون کو حرام قرار دیا۔

سور کا گوشت :

تیسری چیز سور کا گوشت ہے جو طبع سلیم کے نزدیک نجس ہے اور اس سے اسے نفرت ہے کیونکہ خنزیر کی مرغوب غذا نجاست اور کوڑا کرکٹ ہے۔ طب جدید کی رُو سے اس کا کھانا ہر خطہ میں اور خاص طور پر گرم ممالک میں سخت مضر ہے۔ اور سائنسی تجربات نے ثابت کیا ہے کہ سور کا گوشت کھانے سے خاص قسم کے کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں جو بڑے مہلک ہوتے ہیں۔ اور معلوم نہیں آئندہ مزید کیا کیا اسرار منکشف ہوں گے! محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ سور کا گوشت ہمیشہ کھاتے رہنے سے غیرت کم ہو جاتی ہے۔

غیر اللہ کے لیے نامزد کردہ جانور :

محرمات میں سے چوتھی چیز وہ جانور ہے جو غیر اللہ کے لیے نامزد کر دیا گیا ہو یعنی جو بتوں وغیرہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ بت پرست اپنے ذبیحہ پر لات و عزیٰ وغیرہ بتوں کے نام لیا کرتے تھے۔ یہ غیر اللہ کے لیے تعبد و تقرب تھا۔ اس کی تحریم کا سبب دینی مصالح ہیں اور اس سے مقصود توحید کا تحفظ، عقائد کی تطہیر اور شرک و بت پرستی کے مظاہر کی مخالفت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی، اس کے لیے زمین کی ساری چیزیں مسخر کر دیں اور جانوروں کو بھی اس کے تابع کر دیا۔ نیز انسان کے فائدے کے لیے ان کی جان لینا بھی جائز کر دیا بشرطیکہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے۔ گویا اللہ کا نام لینا اس بات کا اظہار کرنا ہے کہ ایک جاندار مخلوق کو ذبح کرنے کا کام وہ اللہ ہی کی اجازت سے کر رہا ہے۔ لیکن اگر وہ ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام لیتا ہے تو اس اجازت کو عملاً باطل کر دیتا ہے اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے ایسے ذبیحہ کے استفادہ سے محروم کر دیا جائے۔

مردار کی قسمیں :

اجمالاً یہ چار چیزیں جن کا بیان اوپر گزر چکا حرام ہیں۔ ان کی تفصیل سورہ مائدہ کی آیت میں بیان ہوئی، جس کی رو سے محرمات دس ہیں :
منخنقه یعنی وہ جانور جو گلا گھٹ جانے سے مر گیا ہو۔
موقوذه یعنی وہ جو لاٹھی وغیرہ کی مار کھانے سے مر گیا ہو۔
مترديه یعنی وہ جو اوپر سے گر کر مر گیا ہو مثلاً : جو کنویں میں یا پہاڑ سے گر کر مر جائے۔
نطيحه یعنی وہ جو کسی جانور کے سینگ مارنے کی وجہ سے مر گیا ہو۔
وہ جسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو یعنی کسی درندے نے جانور کو پھاڑ کر اس کا کوئی جز کھایا ہو جس کی وجہ سے وہ مر گیا ہو۔
ان پانچ اقسام کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ
یعنی ان میں سے کسی جانور کو تم نے زندہ پا کر ذبح کر دیا ہو تو وہ حرمت سے مستثنیٰ ہے۔
سورۃ المائدہ: 3
ایسی صورت میں ذبح کرنے کے لیے رمق بھر زندگی کا ہونا کافی ہے۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے :
اگر تم منخنقه، موقوذه، مترديه اور نطيحه کو ذبح کرتے وقت اس حال میں پاؤ کہ وہ ہاتھ پاؤں ہلا رہا ہے، تو اسے کھاؤ۔
تفسیر طبری (503/9)
اور ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے : اہل جاہلیت ایسے زخمی جانوروں کو ذبح کیے بغیر کھاتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسلام میں ان کو اگر زخمی حالت میں مر جائیں تو حرام ٹھہرایا، البتہ ان میں سے جس کو ذبح کر لیا گیا ہو تو اس کو حرمت سے مستثنیٰ قرار دیا۔ لہذا جو جانور اس حال میں پایا جائے کہ اس کے پاؤں یا دم یا آنکھیں حرکت کر رہی ہوں اور اسے ذبح کر لیا جائے تو وہ حلال ہے۔
تفسیر طبری (504/9)
البتہ بعض فقہاء کے نزدیک اس میں قرار پذیر زندگی کا ہونا ضروری ہے۔ اور اس کی علامت یہ ہے کہ خون بہنے لگے اور ہاتھ پاؤں تیز حرکت کرنے لگیں۔

مردار کی ان قسموں کو حرام کرنے کی مصلحتیں :

مردار کی ان قسموں کی حرمت میں وہی مصلحتیں ہیں جن کا ذکر ہم اس سے پہلے مردار کی حرمت کے سلسلہ میں کر چکے ہیں۔ اور خاص طور سے مقصود یہ ہے کہ انسان کے اندر جانوروں پر مہربان ہونے اور اُن کی محافظت کا احساس پیدا ہو۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ جانوروں کو بے پرواہی کے ساتھ چھوڑ دیں کہ کوئی گلا گھٹ کر مر جائے اور کوئی اونچائی سے گر کر۔ اور نہ انہیں لڑنے کے لیے چھوڑ دیں کہ سینگ مار کر ایک دوسرے کو ہلاک کریں۔ جانور کو اتنا مارنا بھی جائز نہیں ہے کہ وہ مر جائے جس طرح بعض سنگدل چرواہے مارتے ہیں۔ اسی طرح جانوروں کو جو انسانوں سے لڑایا جاتا ہے مثلاً: بل فائیٹ (Bull Fighting) کہ بیلوں کو سینگ مارنے کے لیے اکسایا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان زخمی یا ہلاک ہو جاتے ہیں، تو یہ صورت بھی جائز نہیں۔
رہی درندے کے پھاڑ کھائے ہوئے جانور کی حرمت تو اس معاملہ میں انسان کی بزرگی ملحوظ رہی ہے اور اسے درندے کے پس خوردہ سے پاک رکھا گیا ہے۔ اہل جاہلیت درندوں کے پھاڑ کھائے ہوئے اونٹ، گائے وغیرہ کھا لیا کرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کا پس خوردہ مؤمنوں پر حرام کر دیا۔

استھان کا ذبیحہ :

محرمات میں سے دسویں چیز نصب یعنی استھان کا ذبیحہ ہے۔ استھان وہ بت یا پتھر ہے جو طاغوت کے نشان کے طور پر قائم کر دیا گیا ہو یعنی جس سے غیر اللہ کی پرستش مقصود ہو۔ خانہ کعبہ کے اطراف میں استھان بنائے گئے تھے اور اہلِ جاہلیت اپنے معبودوں اور بتوں کے تقرب کے لیے ان پر جانور ذبح کرتے تھے۔ یہ استھان کا ذبیحہ غیر اللہ کے ذبیحہ کے قبیل ہی کی چیز ہے کیونکہ دونوں ہی میں طاغوت کی تعظیم پائی جاتی ہے فرق صرف یہ ہے کہ غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا جانور کے اطلاق کے لیے ضروری نہیں کہ ذبح کرتے وقت بت سامنے موجود ہو بلکہ حرام ہونے کے لیے بت کے نام پر ذبح کرنا کافی ہے، لیکن استھان کا ذبیحہ استھان ہی پر کیا جاتا ہے خواہ غیر اللہ کا نام نہ لیا جائے۔ گویا پہلی صورت میں مقام متعین نہیں ہوتا، لیکن دوسری صورت میں مقام متعین ہوتا ہے۔
خانہ کعبہ کے اطراف میں استھان موجود تھے اور گمان کرنے والا یہ گمان کر سکتا تھا کہ ان استھانوں پر ذبح کرنے سے بیت اللہ کی تعظیم ہوگی، اس لیے قرآن نے اس توہم کا ازالہ کر دیا اور اس فعل کو صراحت کے ساتھ حرام قرار دیا ورنہ غیر اللہ کے ذبیحہ کے مفهموم میں استھان کا ذبیحہ شامل ہی ہے۔