فحش کلامی کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الحياء من الإيمان، والإيمان فى الجنة، والبذاء من الجفاء، والجفاء فى النار
”حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان کا انجام جنت ہے، جبکہ فحش کلامی سخت دلی اور لوگوں سے دوری کا باعث بنتی ہے اور اس کا انجام جہنم ہے۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 2009، حدیث حسن صحیح ہے۔
② سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الحياء والعي شعبتان من الإيمان، والبذاء والبيان شعبتان من النفاق
”حیاء اور قلتِ کلام ایمان کے دو حصے ہیں، جبکہ فحش کلامی اور کثرتِ کلام نفاق کے دو شعبے ہیں۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 2027۔
ضرورت سے زائد تعمیر کرنے کی ممانعت
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز باہر تشریف لائے اور ہم آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بلند قبہ دیکھا تو فرمایا:
ما هذا؟
”یہ کیا ہے؟“
آپ کے ساتھیوں نے کہا: یہ ایک انصاری صحابی کا ہے۔ آپ خاموش ہو گئے اور اسے اپنے دل میں رکھا۔ اتنے میں قبے کا مالک آ گیا۔ اس نے لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا، لیکن آپ نے اس سے اعراض کیا، اس نے کئی مرتبہ ایسے کیا، حتیٰ کہ اس آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی محسوس کر لی اور آپ کا اس سے اعراض کرنا بھی اسے معلوم ہو گیا۔ اس آدمی نے آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے شکایت کی اور کہا: اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہِ ناراضی نہیں جان سکا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: آپ باہر تشریف لائے اور انہوں نے تمہارا قبہ دیکھا (اور تو کوئی وجہ نہیں)۔ پس وہ آدمی اپنے قبے کی طرف آیا اور اسے گرا کر زمین کے برابر کر دیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی روز دوبارہ باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قبہ نہ دیکھا تو فرمایا:
ما فعلت القبة؟
”قبے کو کیا ہوا؟“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اس کے مالک نے اپنے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا سبب پوچھا تو ہم نے اسے بتا دیا تو اس نے اسے گرا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أما إن كل بناء وبال على صاحبه إلا ما لا، إلا ما لا
”جس عمارت کی ضرورت نہ ہو اگر وہ بنائی جائے تو وہ اپنے مالک کے لیے وبال ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الادب 5237۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
النفقة كلها فى سبيل الله إلا البناء ولا خير فيه
”تعمیر کے سوا ہر قسم کا خرچہ اللہ کی راہ میں ہے، اس (تعمیر کے خرچے) میں کوئی خیر و بھلائی نہیں ہے۔“
ترمذی 2842۔
③ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں چونے سے اپنی دیوار کی لپائی کر رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما هذا يا عبد الله؟
”عبد اللہ! یہ کیا ہے؟“
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اس دیوار کی مرمت و اصلاح کر رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الأمر أيسر من ذلك
”معاملہ تو اس سے کہیں آسان ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الادب 5235، ترمذی، کتاب الزہد 2335۔
تجسس اور تحسس، مقابلہ بازی، باہم حسد کرنے، بغض رکھنے اور باہم قطع تعلقی رکھنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث، ولا تجسسوا ولا تحسسوا ولا تباغضوا ولا تنافسوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا كما أمركم، المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يخذله ولا يحقره، التقوى هاهنا التقوى هاهنا – ويشير إلى صدره – بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم، كل المسلم على المسلم حرام دمه وعرضه وماله، وإن الله لا ينظر إلى أجسادكم ولا إلى صوركم وأموالكم، ولكن ينظر إلى قلوبكم
”بدگمانی کرنے سے بچو اس لیے کہ بدگمانی کرنا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ جاسوسی نہ کرو، نہ ٹوہ لگاؤ، باہم بغض نہ رکھو، نہ مقابلہ بازی کرو، باہم حسد نہ کرو، نہ قطع تعلقی کرو اور جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے – اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سینے کی طرف اشارہ فرماتے تھے – کسی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ مسلمان کا مسلمان پر خون، اس کی عزت اور اس کا مال حرام ہے۔ بے شک اللہ تمہارے جسموں، تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کو نہیں دیکھتا، لیکن وہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔“
بخاری، کتاب النکاح 5143، مسلم، کتاب النکاح 32 / 2564، الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔