مضمون کے اہم نکات
وہابیت کے بارے میں ایک تاریخی غلطی کی اصلاح
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور درود و سلام نازل ہو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ حمد و صلاۃ کے بعد!
اہلِ حق کے خلاف نفرت انگیزی کا ماحول برپا کرنے کے لیے ہمیشہ سے باطل پرستوں کا دستور رہا ہے کہ وہ انہیں مختلف قسم کے حقارت آمیز و نفرت انگیز القابات سے موسوم کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ان کی دعوت کی اثر آفرینی سے دور رکھیں۔ ان ہی میں سے وہابیت کا لقب بھی ہے، جسے خواہش پرست اور اہلِ بدعت صفویوں (یہ شیعہ کا ہی ایک باطل فرقہ ہے) وغیرہ نے گھڑا اور اس کی نسبت شیخ الاسلام، امام و مجددِ وقت شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی طرف کی ہے۔
ستیزہ کار ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی
شیخ الاسلام کی پیدائش 1115 ہجری میں ہے، اور تاریخ وفات 1206 ہجری ہے۔ آپ ہی کی شخصیت ہے جن کے ذریعے بارہویں صدی ہجری کے نصف میں جزیرۂ عرب میں اللہ تعالیٰ نے دینِ حق کی تجدید کا کام لیا اور توحید کے آثار و نقوش کو زندہ فرمایا۔ آپ کی تائید و نصرت امام محمد سعود رحمہ اللہ نے کی، جن کے دم قدم سے پہلی سعودی حکومت کی داغ بیل پڑی۔
آپ کی دعوت بالکل صاف ستھری دعوت تھی جس پر کتاب و سنت اور منہجِ سلف کا رنگ غالب رہا ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اسے لوگوں کے درمیان کامیابی اور مقبولیت عطا فرمائی، مشرق سے مغرب تک اسلامی دنیا میں اس کے پاکیزہ اور روح پرور اثرات رونما ہوئے، لیکن باطل پرستوں نے امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی دعوت کو داغدار کرنے اور اسے لوگوں کے درمیان مشتبہ بنانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے اور اسالیب استعمال کیے، اور باور کرانے کی کوشش کی کہ بعض علمائے سنت نے لوگوں کو اس سے آگاہ کیا ہے اور اس سے دور رہنے کی تعلیم دی ہے، جس کا تذکرہ بعض علمائے مالکیہ رحمہم اللہ کے فتاویٰ میں موجود ہے۔ جبکہ یہ بالکل سفید جھوٹ، باطل اور لغو بات ہے۔
اس حقیقت سے انکار کی گنجائش نہیں کہ علمائے مالکیہ نے جس فرقہ سے لوگوں کو آگاہ اور خبردار کیا ہے، وہ گمراہ خارجی اور اباضی فرقہ ہے جو ماضی بعید میں افریقہ کے شمال میں ظاہر ہوا۔ یہ وہابیت کے نام سے مشہور ہوا، اس کی نسبت ایک ایسے آدمی کی طرف ہے جس کا نام عبدالوہاب بن رستم بن خارجی اباضی ہے۔
یہ فرقہ امام و مجدد شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی پیدائش سے دس صدی قبل دوسری صدی ہجری میں وجود پذیر ہوا۔
ڈاکٹر محمد شویعر حفظہ اللہ نے اپنی کتاب ”تصحيح خطأ تاريخي حول الوهابية“ (وہابیت کے بارے میں ایک تاریخی غلطی کی اصلاح) میں کافی وسیع انداز میں اس فرقہ کا رد کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دشمنوں نے اپنے مکر و فریب اور چالوں سے لوگوں کو اس زعم اور دھوکہ میں مبتلا کیا کہ امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے ائمہ اربعہ کے برخلاف ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالی، لیکن یہ بالکل جھوٹ اور دجل و فریب پہ مبنی ہے۔ واضح ہو کہ انہوں نے کسی نئے مذہب اور نئے عقیدہ کو پیش نہیں کیا۔ خود شیخ رحمہ اللہ اپنی دعوت کا تعارف ان الفاظ میں کراتے ہیں:
”میں اللہ عز و جل کی حمد و ثنا بیان کرتے ہوئے آپ کو بتا رہا ہوں کہ جس عقیدہ اور دین پہ عمل پیرا ہوں، وہ اہلِ سنت والجماعت کا مذہب ہے۔ جس پر آئمہ مسلمین، جیسے آئمہ اربعہ اور ان کے پیروکار قائم تھے۔ البتہ میں نے لوگوں کے سامنے اللہ کے خالص دین کو واضح کیا، انہیں انبیاء (علیہم السلام) اور فوت شدہ بزرگوں اور صالحین وغیرہ کو پکارنے سے منع کیا، نیز انہیں اللہ کی عبادت میں شرک کرنے سے روکا۔ جیسے غیر اللہ کے نام پر ذبح و نذر پیش کرنا، توکل اور سجود وغیرہ جیسی عبادتیں جو کہ خالص اللہ کا حق ہیں، جن میں کوئی مقرب فرشتہ اور نہ کوئی بھیجے ہوئے رسول شریک ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ دعوت ہے جس کی طرف تمام رسولوں (علیہم السلام) نے لوگوں کو بلایا اور اسی پر اہلِ سنت والجماعت قائم ہے۔“ (مجموع مؤلفات الشيخ الإمام محمد بن عبد الوهاب: 36/1)
اسی طرح شیخ رحمہ اللہ اپنی دعوت کے اصول واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”ہم جس دین پہ قائم ہیں وہ دینِ اسلام ہے، جس کے بارے میں اللہ عز و جل کا ارشاد ہے:
وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ (آل عمران: 85)
”جس نے بھی دینِ اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین تلاش کیا، اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں گھاٹا نقصان اُٹھانے والوں میں ہوگا۔“
ہم جس کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں وہ خالص توحید ہے جس کا حکم ربِ کریم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے، جیسا کہ آیتِ کریمہ میں ارشادِ ربانی ہے:
قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (یوسف: 108)
”اے نبی کہہ دو! میری راہ یہی ہے، میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلاتے ہیں اور پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ اور اللہ پاک ہے، اور مشرکوں میں سے نہیں۔“
اسی طرح ربِ کریم کا ارشاد ہے:
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا (الجن: 18)
”اور یہ کہ مسجدیں خالص اللہ ہی کے لیے ہیں، اس لیے اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو۔“
اِسی طرح ہم جس چیز سے لوگوں کو روکتے ہیں وہ شرک ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ (المائدة: 72)
”یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے، اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔“
نیز شیخ رحمہ اللہ سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
”آپ لوگوں نے جو اجتہاد کے بارے میں تذکرہ کیا ہے تو سن لیں کہ ہم کتاب و سنت اور اُمت کے سلفِ صالحین کی تقلید و اقتدا کرتے ہیں اور اسی شاہراہ پر گامزن ہیں جس پر آئمہ اربعہ ابو حنیفہ نعمان بن ثابت، مالک بن انس، محمد بن ادریس الشافعی اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ تھے۔“ (مصدر سابق: 96/1)
شیخ رحمہ اللہ کی دعوت کے واضح ہونے کے بعد بھی، جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی روشن شاہراہ کی تجدیدی دعوت تھی، جس کا مقصد عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرنا اور شرک سے بیزاری کا اعلان ہے۔ اس کے باوجود مخالفین کی طرف سے آپ کو باطل تہمتوں کا سامنا کرنا پڑا، جن کی پوری کوشش تھی کہ لوگوں کو آپ کی ایمان افروز دعوت سے دور و بیگانہ کر دیں۔
انہی تہمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ تمام مسلمانوں پر کفر کے فتوے صادر کرتے ہیں اور عام گناہوں کی بنیاد پر بھی لوگوں کو کافر گردانتے ہیں۔ (حاشیہ: شیخ رحمہ اللہ سلف کے اصول کے مطابق تکفیرِ مطلق اور تکفیرِ معین کے اصول پر گامزن تھے یعنی کفریہ عمل کی بنیاد پر کسی معین شخص پر بغیر حجت قائم کیے کفر کے فتوے صادر نہیں کیا کرتے تھے۔)
شیخ رحمہ اللہ نے اس بہتان تراشی کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے:
”یہ تمام باتیں سفید جھوٹ اور ہم پر بہتان تراشی ہے، محض اس کے ذریعے وہ لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس شخص کو بھی کافر نہیں گردانتے جو عبدالقادر جیلانی کی قبر پہ رکھے گئے بت کی پوجا کرے، اسی طرح جو احمد بدوی کی قبر پہ آویزاں بت کی پوجا میں گرفتار ہے، (حاشیہ: ان قبروں پر بظاہر تو کوئی بت نہیں لیکن ان قبروں کو ہی درحقیقت بت بنا لیا گیا ہے جن کی پوجا ہو رہی ہے۔) کیونکہ وہ جاہل ہے اور نہ ہی ایسے لوگوں کی دعوت اسے پہنچی جو اس فتنے سے اسے آگاہ کریں تو بھلا ہم کیسے اس شخص کو کافر گردانیں جو شرک نہ کرتا ہو محض اس وجہ سے کہ وہ ہماری طرف ہجرت نہ کرے اور کفر کرنے والوں کو کافر نہ کہے اور نہ اس کے خلاف قتال کرے۔
سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ (النور: 16)
اسی طرح آپ کے فرمودات میں سے ملاحظہ ہو:
”جس کا تذکرہ ہمارے دشمنوں نے کیا ہے اور ہم پر کیچڑ اُچھالا گیا ہے کہ میں ظن و گمان اور موالات و محبت کی بنیاد پہ کافر قرار دیتا ہوں۔“ (حاشیہ: شیخ رحمہ اللہ کا اشارہ اہلِ سنت کے اصول ولاء و براء کی طرف ہے یعنی ایمان والوں سے دوستی و محبت کرنا اور کافروں سے بغض و دشمنی رکھنا اہلِ ایمان پہ واجب ہے لیکن اس کے برعکس اگر کافروں سے دوستی و محبت رکھتا ہے تو بلاشبہ یہ حرام ہے، لیکن اس کا مرتکب کافر نہیں ہوگا جب تک اس پہ حق واضح نہ ہو اور حجت قائم نہ ہو۔ واللہ اعلم)
یا اسی طرح اس جاہل کو بھی کافر نہیں کہتا ہوں جس پر حجت پوری نہ ہو۔ یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ وہ لوگ اس کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے لوگوں کو برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔“ (الدرر السنية: 113/1)
گزشتہ سطور سے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی ہے کہ آپ رحمہ اللہ کتاب و سنت کے پابند اور منہجِ سلف کے پاسبان تھے۔ لیکن اہلِ بدعت نے آپ کے خلاف نفرت انگیزی، شکوک و شبہات اور تلبیس کا ماحول برپا کر کے آپ کی سلفی دعوت پہ وہابیت کا لیبل چسپاں کیا اور لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ: آئمہ اربعہ کے برخلاف یہ پانچواں نیا مذہب ہے۔ یہ کتاب و سنت اور آئمہ اسلام کے طریقے سے الگ ہے۔
سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ سے لقبِ وہابیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:
”اس لقب کو بہت سارے لوگ شیخ امام محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان التمیمی رحمہ اللہ کی دعوت پر چسپاں کرتے ہیں اور انہیں اور ان کے پیروکاروں کو وہابی کے نام سے موسوم کرتے ہیں جبکہ ہر وہ شخص جسے شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی تحریک و دعوت سے ادنیٰ واقفیت اور آگاہی حاصل ہے وہ جانتا ہے کہ آپ نے توحیدِ خالص کی دعوت کو عام کیا اور شرک کی تمام قسموں سے بچنے کی تلقین کی، جیسے مُردوں وغیرہ سے روحانی تعلق، درختوں اور پتھروں سے نفع و نقصان کا عقیدہ وغیرہ۔
آپ عقیدہ میں سلف صالحین کے مذہب پر قائم تھے اور فروعی مسائل میں امام احمد بن حنبل شیبانی رحمہ اللہ کے مذہب پر عمل پیرا تھے، جیسا کہ آپ کی کتابیں، فتاویٰ اور آپ کے متبعین کی کتابیں دلالت کرتی ہیں جن میں سے سرفہرست آپ کے بیٹے اور پوتے وغیرہ ہیں۔ یہ تمام کتابیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر نمودار ہو چکی ہیں۔
امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ ایسے وقت میں دعوت کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے جب اسلام کی غربت ہر طرف سر پیٹتی اور ماتم کر رہی تھی۔ (ارضِ الٰہی کا کونہ کونہ چیخ چلا رہا تھا) الا ماشاء اللہ چند جگہوں کو چھوڑ کر پورے جزیرۂ عرب پہ جہالت کے گھٹا ٹوپ بادل چھا چکے تھے، شرک و بت پرستی کا ہر طرف دور دورہ تھا۔
ان ہی سنگین حالات میں شیخ رحمہ اللہ نے اپنی کمر کسی، ضلالت و گمراہی کے راستوں کو بند کرنے میں اپنے تن، من اور دھن کی قربانی پیش کی، اس راہ میں آپ نے مختلف قسم کے وسائل استعمال کیے تاکہ خرافات کے ماحول میں توحید کی پاکیزگی نکھر کر لوگوں کے سامنے آ جائے۔
ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہوا کہ اس نے امام محمد بن سعود امیرِ درعیہ کو اس دعوت کے قبول کرنے کی توفیق ارزاں فرمائی۔ چنانچہ اس راہِ خیر میں وہ، ان کی اولاد اور ان کے زیرِ قیادت بسنے والے تمام طبقات کے لوگوں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کی آواز میں آواز ملائی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کا خوب خوب صلہ اور بدلہ عطا فرمائے۔ ان سب کی مغفرت و بخشش فرمائے اور ان کی آل و اولاد کو ہر اس چیز کی توفیق بخشے جس میں اس کی رضامندی اور بندوں کی بھلائی ہو۔
چنانچہ اس وقت سے لے کر آج تک جزیرۂ عرب کے تمام خطے، اس پُربہار اور خوشگوار دعوت کی ٹھنڈی چھاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ کی دعوت اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہے۔ یہ وہابیت پانچواں مذہب نہیں جیسا کہ جاہلوں اور فتنہ پردازوں کا خیال ہے۔ یہ ایک سلفی عقیدہ کی دعوت ہے۔ سلف صالحین کے منہج کے آئینے میں اسلام اور توحید کے آثار و نقوش کو زندہ و تابندہ کرنے والی دعوت ہے۔“ (مجموع فتاویٰ ابن باز: 374/1)
امام و مجدد شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی دعوت سے بغض و عناد رکھنے والوں کا جواب دیتے ہوئے سماحۃ الشیخ ابن باز رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
”آپ سے عداوت و دشمنی رکھنے والوں کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم:
جو شرک پہ گامزن ہے، یہ گمراہ مشرکوں کا گروہ ہے، جن کی دشمنی کی بنیاد آپ کی دعوتِ توحید ہے۔
دوسری قسم:
ایسے جاہلوں کا گروہ ہے جنہیں باطل پرستوں کی دعوت نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ یہ بیچارے جاہل ہیں، جنہوں نے اپنے ہی جیسے جاہلوں اور نادانوں کی تقلید اور روش کو اپنایا یا کیچڑ اُچھالنے والے فتنہ پردازوں کے دامِ فریب میں پھنس گئے۔ مشرکین نے رسولوں علیہم السلام
کی مخالفت کی اور ان کی دعوت سے برسرِ پیکار رہے، جبکہ دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا کہ جنہوں نے یہودیوں یا ان کے ہم روش لوگوں کی طرح علم و یقین کے باوجود رسولوں علیہم السلام سے بغض و عناد رکھا۔ حسد و دشمنی اور خواہشاتِ نفس کے شکار ہو کر رسولوں علیہم السلام کی دعوت کو ٹھکرایا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔“ (مصدر سابق: 234/1)
سماحۃ الشیخ ابن باز رحمہ اللہ کے زیرِ صدارت دائمی بحوث و افتاء کمیٹی کے متعدد علمائے کرام کے سامنے لقبِ وہابیت کے بارے میں سوال آیا۔ چنانچہ فتویٰ نمبر (9450) کے تحت کبار علماء کا جواب ملاحظہ فرمائیں:
”وہابیت“ یہ ایسا لفظ ہے جسے شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے مخالفین نے پھیلایا جب آپ نے تمام قسم کے شرکیہ امور کے خلاف خالص توحید کی آواز لگائی اور تمام پگڈنڈیوں کو چھوڑ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شاہراہ کی طرف لوگوں کو چلنے کی دعوت دی۔ مخالفین چاہتے تھے کہ اس کے ذریعے لوگوں کو آپ کی دعوت سے برگشتہ کر دیں اور راہِ حق میں سنگِ گراں بن کر حائل ہو جائیں۔ لیکن اس سے آپ کی دعوت کو کچھ بھی نقصان لاحق نہیں ہوا۔“
راہِ حق میں ہزار شیطان ملتے رہے ہیں، ملا کریں گے:
بلکہ مزید آپ کی دعوت کو قوت و استحکام نصیب ہوا۔ آپ کی دعوت دنیا کے کونے کونے اور چپے چپے میں پھیلنے لگی۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی انہیں یہ شوق دامن گیر ہوا کہ اس دعوت کی حقیقت، اس کے عزائم اور کتاب و سنتِ صحیحہ کی روشنی میں اس کی مزید تحقیق و جستجو کریں۔
چنانچہ اس دعوت کے ساتھ ان کا رشتہ مضبوط ہوا اور اسے اپنے گلے لگایا اور اور اسے انہوں نے دانتوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑ لیا اور اس کی طرف بلانے والے بن گئے۔
علامۂ شام شیخ محمد بہجت بیطار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”وہابیت اور امام محمد بن عبدالوہاب کا کوئی خاص مذہب نہیں ہے، البتہ آپ رحمہ اللہ اسلامی دعوت کے مجدد اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مذہب کے پابند تھے۔“ (حياة شيخ الإسلام ابن تيمية: 200)
فضیلۃ الشیخ علامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ سے اہلِ توحید کو وہابیت کے لقب سے موسوم کرنے سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا:
”رہا اہلِ توحید کو وہابیت کے لقب سے ملقب کرنا تو دراصل دعوتِ توحید کو داغدار کرنے اور اس کی شبیہ بگاڑنے کے لیے یہ نام دیا گیا۔ ورنہ وہابیت مسلمانوں کے مذاہب سے الگ کوئی مستقل مذہب نہیں، بلکہ ان علمائے کرام کی چھوٹی بڑی کتابیں، رسالے اور تالیفات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ ان لوگوں نے اپنا منہج کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کیا ہے۔ یہ حضرات حنبلی مسلک کے محققین علمائے کرام جیسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امام ابن القیم رحمہ اللہ کے منہج اور طریقے سے جدا اور الگ نہیں ہوئے۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اللہ کے فضل و کرم سے اس دعوت کو عروج و اقبال مندی نصیب ہوئی۔ پھر آلِ سعود کے فرمانرواؤں اور سلاطین کی اسے تائید و حمایت حاصل ہوئی، جنہوں نے اسے بامِ عروج تک پہنچایا۔ لیکن جیسے ہی اس دعوت کو قوت و تائید حاصل ہوئی تو اس میں سیاست کا مرض داخل ہو گیا، جس کے نتیجے میں ایسے علماء پیدا ہوئے جو علمائے ملت کی بجائے علمائے حکومت کے مصداق ٹھہرے، انہی لوگوں نے اس دعوت کو بدنام اور داغدار کرنے کی نامسعود کوششیں کیں اور لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ یہ ایک وہابی دعوت ہے جس کا مسلمانوں کے مشہور و معروف مذاہب سے کوئی تعلق نہیں تاکہ اس طرح لوگوں کو اس سے متنفر کر دیں۔ ان کی مثال کفارِ قریش کی سی ہے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ساحر، کذاب (جادوگر، جھوٹا) جیسے الفاظ کہے۔ ورنہ جو شخص بھی اسے علم و انصاف کی میزان پہ پرکھے گا تو اس کے سامنے یہ حقیقت آشکارا ہو جائے گی کہ یہ دعوت حنبلی مذہب اور ان کے علاوہ اہلِ سنت والجماعت کے مذہب کی حقیقی آئینہ دار ہے اور اس اُمت کے سلف کے منہج سے ذرہ برابر جدا نہیں ہے۔“
علامہ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ کا وضاحتی بیان:
”منجملہ ان چالبازیوں اور مکاریوں کے جو دشمنانِ اس مبارک دعوت کے بارے میں اختیار کرتے ہیں وہ یہ کہ: یہ پانچواں مذہب ہے جس میں خوارج کے منہج کی روح کارفرما ہے۔ اس کی نسبت انہوں نے وہابیت کی طرف کی، شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے نام سے، جو اس دعوت کے حامل تھے۔ اس کے ذریعے یہ گروہ لوگوں کو اس خام خیالی میں ڈالنا چاہتا ہے کہ یہ دعوت ائمہ اربعہ سے الگ ایک نیا اور مستقل مذہب ہے۔ کتاب و سنت اور سلفِ اُمت کے منہج سے اسے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
دراصل شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اس دعوت کے موجد ہیں، اس پرفتن دور میں یہ گروہ اس دعوت کو ارہابی (دہشت گرد) دعوت کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
بعض اشخاص اور مشتبہ جماعتوں کی طرف سے، جو زیادتیاں، تخریب کاریاں اور خود کش حملے ہو رہے ہیں ان تمام جرائم کا الزام اس جماعت پہ ڈال رہے ہیں اور یہ دندناتے پھر رہے ہیں کہ ان تمام جرائم کے ذمہ دار وہابی لوگ ہیں۔ جو لوگ ان مجرمانہ اور سنگین کارروائیوں کا ڈانڈا اس دعوت سے ملاتے ہیں، اس سے ان کا مقصد اس دعوت کو مشتبہ بنانا اور لوگوں کو متنفر کرنا ہے۔ وہ لوگ کہتے پھر رہے ہیں کہ ان مجرمانہ کارروائیوں کو انجام دینے والے وہابی لوگ ہیں۔
یہ (خطرناک) فکر بعض لوگوں پہ اثر انداز ہو گئی۔ اس لیے وہ لوگ اس دعوت سے اور اس کے علمبرداروں سے دور ہونے لگے۔ ان بیچاروں کو کیا پتہ کہ ان اندھیر نگری میں دیوار کے پیچھے کیا مکاری اور عیاری ہو رہی ہے؟ اور دعوت سے روکنے کی سازشوں کا کیا جال بچھایا جا رہا ہے؟ یہ دعوت ہر قسم کی دہشت گردی اور تخریب کاری سے بالکل بری اور پاک ہے۔ کیونکہ یہ خیر و اصلاح اور امن و ایمان کی دعوت ہے۔ اتباع کا علمبردار ہے نہ کہ بدعت اور زمین میں فساد کی۔
مخالفین نے نہ صرف اس دعوت کو اس لقب سے موسوم کرنے کی سازش کی بلکہ سعودی حکومت پہ اس لقب کو چسپاں کیا، جس نے امام اور مجدد شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی دعوت کے آغاز سے لے کر اب تک بھرپور تائید و حمایت کی۔ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہر تعریف اور اسی کا فضل و احسان ہے۔ انہوں نے اس کے صاف و شفاف منہج سے دور کرنے کے لیے اسے وہابی حکومت کے نام سے بدنام کرنا شروع کیا۔“
اس سلسلے میں امام و مؤسس شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن الفیصل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”دشمنانِ دعوت ہمیں وہابی کے نام سے بدنام کرتے ہیں اور ہمارے مذہب کو وہابیت کے نام سے مطعون کرتے ہیں، اس اعتبار سے کہ یہ ایک مذہب اور فکر ہے۔ واضح ہو کہ یہ ایک واضح جھوٹ اور بھیانک غلطی ہے، جس کی بنیاد افواہوں اور جھوٹے پروپیگنڈوں پہ قائم ہے، یہ ان ہی فتنہ پردازوں کی دسیسہ کاریوں کا نتیجہ ہے۔
ہم لوگ کسی نئے مذہب اور عقیدہ کے حامل اور پرچارک نہیں اور نہ ہی شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے کوئی نئی چیز پیش کی۔ ہمارا عقیدہ سلف صالحین کا عقیدہ ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں موجود ہے، جس شاہراہ پہ سلف صالحین گامزن رہے ہیں۔ ہم چاروں ائمہ کرام کا برابر احترام کرتے ہیں، ہمارے نزدیک امام مالک، شافعی، احمد اور ابوحنیفہ رحمہم اللہ کے درمیان کچھ بھی فرق نہیں۔“ (مختارات من الخطب الملكية: 42/1)
خادم الحرمین الشریفین مقالہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز حفظہ اللہ کا وضاحتی بیان وہابیت کے سلسلے میں جو کہ میگزین ”الحیاۃ“ میں مؤرخہ 1431/5/14 ہجری میں اس عنوان کے ساتھ شائع ہوا:
”محققین اصلاحِ وہابیت کے جال سے بچیں۔“
خادم الحرمین الشریفین حفظہ اللہ نے فرمایا:
”بے شک شیخ محمد بن عبدالوہاب کی دعوت کسی نئے منہج اور فکر کی دعوت نہیں۔ میں بار بار آواز دیتا ہوں کہ جو شخص بھی شیخ کی کتابوں اور ان کے رسالوں میں کتاب و سنت اور سلف صالحین کے عمل کے خلاف کوئی چیز پائے وہ ہمارے سامنے کھلم کھلا واضح اور ظاہر کر دے۔
اس لیے میں اربابِ قلم اور مضمون نگار حضرات کو آواز دیتا ہوں کہ وہ ان لوگوں کی رو میں ہرگز نہ بہہ جائیں جو اصطلاحِ وہابیت کے جال کے شکار ہیں، ان کا خیال ہے کہ یہ محض ایک اصطلاح ہے لیکن اس اصطلاح کے پیچھے دشمنوں کا حقیقی مقصد پاکیزہ، صاف ستھری اور سلفی دعوت کو بدنام کرنا ہے۔
اس دعوت کے مضامین قرآنِ کریم اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات سے قطعاً مختلف نہیں۔
خاص طور سے متعدد اور مختلف جہتوں اور زاویوں سے اس دعوت کو داغدار کرنے اور اس کی حقیقت کو مسخ کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ یہ دعوت اپنے کارناموں اور خدمات کے آئینے میں کسی بھی طرح ان چیزوں کا مصداق نہیں بن سکتی، کیونکہ اسی دعوت کا ثمرہ ہے کہ ایک ایسی اسلامی حکومت کی داغ بیل پڑی جس کی اساس دین ہے جو لوگوں کے حقوق کی محافظ ہے اور جسے حرمین شریفین کی خدمات کا شرف حاصل ہے۔ یہ واحد سعودی حکومت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین پہ اقتدار بخشا جو تمام مسلمانوں کی خدمت کرنے والی اور اس کے دین کی محافظ ہے۔ یہ دین کی بنیاد پہ قائم اور صدا بہار رہے گی۔“ (ان شاء اللہ)
دائرہ معارف برطانیہ کا بیان:
دائرة المعارف البريطانية (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا) کی طرف سے امام مجدد شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی دعوت سے متعلق قابلِ ذکر بیان:
”وہابی تحریک ایک ایسا نام ہے جس کا مقصد اسلام کو پاک صاف اور ستھری شکل میں رکھنا ہے۔ وہابی حضرات صرف رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامات کے پیروکار ہوتے ہیں اور ان کے علاوہ تمام چیزوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ وہابیت کے دشمن دراصل صحیح اسلام کے دشمن ہیں۔“
اسپینی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاسبان بن گئے:
”بلاشبہ وہابیت پر جو الزامات اور جھوٹ کا طومار باندھا گیا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہابی لوگ اسلام کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانے کی طرف لانے کے خواہش مند ہیں۔“
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
اسی طرح جرمنی مؤرخ ڈاکٹر ڈاکبرٹ اپنی کتاب ”عبد العزيز سبب نجاح الدولة السعودية أدام الله عزها“ ”عبدالعزیز سعودی حکومت کی کامیابی کا سبب و سرخیل ہے۔“ (اللہ اس کی عزت کو ہمیشہ برقرار رکھے) میں لکھتا ہے:
”آلِ سعود کے پاس ظاہری ہتھیار تلوار کے علاوہ ایک دوسرا معنوی ہتھیار بھی ہے جسے وہ اپنی فتح و کامرانی کے لیے استعمال کرتے ہیں اور وہ معنوی ہتھیار جس میں ان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز پوشیدہ ہے، وہ شیخ محمد عبدالوہاب رحمہ اللہ کا بنایا ہوا ہتھیار ہے جو دین کا پابند ہے، جو اپنے عقیدہ کی راہ میں دھتکارا ہوا، آلِ سعود کے پایۂ تخت درعیہ میں پناہ گزین ہوا، اسے ان کے پاس حمایت اور امن و سلامتی کا پروانہ ملا۔“
آخر میں مَیں پورے وثوق اور یقین کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ جو صاحبِ عقل، تعصب و تنگ نظری سے پاک ہو کر عقل و انصاف کے ساتھ شیخ امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی دعوت پہ غور و خوض کرے گا اور ان کی تالیفات اور کتابوں کو بغور پڑھے گا تو اس کے سامنے یہ بات بالکل واضح اور نمایاں ہو کر آ جائے گی کہ یہ ایک صاف ستھری اور اسلامی دعوت ہے جو کتاب و سنت اور سلفِ صالحین اُمت کے فہم کے مطابق ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے بہت دور ہے، اور ان تمام منحرف افکار سے پاک ہے جن پر دہشت گرد جماعتیں قائم ہیں۔ جیسے داعش، جبہۃ النصرہ اور القاعدہ کی تنظیم وغیرہ۔
اللہ رحم کرے امام ابن القیم رحمہ اللہ پر جنہوں نے ان حقائق کی نقاب کشائی ان الفاظ میں کی ہے:
”یہ تعجب خیز بات ہے کہ ان دشمنوں نے قرآن و سنت کے آثار سے تمسک کرنے والوں کے بارے میں کہا، تم خوارج کی طرح ہو کیونکہ ظواہر نصوص پر عمل پیرا ہوئے، انہیں معانی کی گہرائی و گیرائی کی معرفت حاصل نہ ہو سکی، یہ وہ تمام نام ہیں جن کے ذریعے تم نے اہلِ حدیث اور قرآن و ایمان کے حاملین کو موسوم کیا ہے۔ تم لوگوں نے ان الفاظ کے ذریعے انہیں بُرا بھلا کہا تاکہ ان سے لوگوں کو متنفر کرو جس طرح شیطان صفت جادوگر دوسروں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کا گناہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی اور فرمان کو گلے لگایا اور حدیث و قرآن کے تقاضا کے خلاف کسی بات کی طرف مائل نہ ہوئے اور نہ جانبداری کی۔“
اللہ تعالیٰ ہی سیدھے راستہ کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے، وہی ہمارے لیے کافی اور وہی بہتر کارساز ہے۔
ڈاکٹر عمر بن عبدالرحمٰن العمر
عضو هيئة التدريس بالمعهد العالي للقضاء، الرياض