مضمون کے اہم نکات
شہادت عثمان رضی اللہ عنہ
امیر المومنین، احد السابقین الاولین، ذوالنورین، صاحب الھجرتین، خلیفہ سوم، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت برحق ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو شہادت باسعادت کی کئی بار خوشخبری سنائی تھی۔ آپ کو سبائی باغیوں نے شہید کیا۔ آپ کی شہادت میں کوئی صحابی شریک نہیں، بلکہ جب بلوائیوں نے محاصرہ کیا، تو حتی المقدور صحابہ کی ایک بڑی جماعت آپ کا دفاع کرتی رہی۔ جہجاہ بن قیس غفاری رضی اللہ عنہ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو منبر سے نیچے اتارنا اور لاٹھی آپ کے گھٹنے پر مارنا ثابت نہیں۔ اسی طرح محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا آپ رضی اللہ عنہ کے قتل میں شریک ہونا یا آپ کی داڑھی کو پکڑنا ثابت نہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اجماع ہے۔ آپ بقیع میں مدفون ہیں۔ رضي الله عنه وارضاه.
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی ایک مسجد میں فرمایا :
لو أن أحدا انقض لما صنعتم بعثمان، لكان محفوفا أن ينقض .
”جو کچھ تم لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہے، اس کی وجہ سے اگر اُحد پہاڑ اپنی جگہ سے سرک کر ریزہ ریزہ ہو جائے، تو یہ اس کے لائق ہے۔“
(صحیح البخاری : 3867)
صحابی رسول نے دراصل خوارج کو مخاطب کیا ہے کہ تم نے خلیفہ راشد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون میں ہاتھ رنگ کر اتنا بڑا ظلم کیا ہے کہ اس سے اُحد پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوسکتا ہے۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی برحق خلافت :
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
يا عثمان إنه لعل الله يقمصك قميصا، فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعه لهم .
”عثمان ! یقینا اللہ تعالیٰ آپ کو (خلافت کا) کرتہ پہنائے گا، اگر (باغی) لوگ آپ سے وہ کرتہ اتروانا چاہیں، تو نہ اتارنا۔“
(سنن الترمذی : 3705 وسندہ حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (2915) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حق پر تھے :
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں رونما ہونے والے فتنوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔
سیدنا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان کرتے ہیں :
ذكر الفتن فقربها، فمر رجل مقنع فى ثوب فقال : هذا يومئذ على الهدى، فقمت إليه فإذا هو عثمان بن عفان، قال : فأقبلت عليه بوجهه، فقلت : هذا؟ قال : نعم .
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ بہت قریب ہیں، اسی اثنا میں منہ لپیٹے ہوئے ایک شخص گزرا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فتنوں کے دنوں میں یہ شخص ہدایت پر ہوگا۔ تو میں (مرہ رضی اللہ عنہ) اٹھ کر اس شخص کی طرف گیا، دیکھا کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں، تو میں نے ان کا چہرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف موڑ کر پوچھا : کیا یہی؟ فرمایا: جی ہاں۔“
(مسند الإمام أحمد : 115/2 ، سنن الترمذی : 3704 وسندہ صحیح)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ اور امام حاکم رحمہ اللہ (4552) نے بخاری ومسلم کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے۔
(فتح الباری : 38/7)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خبردار کر دیا تھا کہ فتنے کے دنوں میں عثمان رضی اللہ عنہ حق پر ہوں گے، تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ حدیث سننے اور یہ معلوم ہو جانے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حق پر ہیں، کے بعد بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس فتنے کا حصہ بنے ہوں؟ ہرگز نہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو حق پر سمجھتے تھے، اس لیے اس فتنے کا شکار نہیں ہوئے، بلکہ آپ رضی اللہ عنہ کا حتی الوسع دفاع کرتے رہے۔
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كنت مع عثمان رضى الله عنه وهو محصور فى الدار، وكان فى الدار مدخل كان من دخله سمع كلام من على البلاط فدخل عثمان رضى الله عنه ذلك المدخل فخرج وهو متغير لونه، فقال : إنهم ليتوعدوني بالقتل آنفا، قلنا : يكفيكهم الله يا أمير المؤمنين قال : ولم يقتلونني؟ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا يحل دم امرء مسلم إلا بإحدى ثلاث رجل كفر بعد إسلامه، أو زني بعد إحصانه، أو قتل نفسا، فوالله ما زنيت فى جاهلية ولا إسلام قط، ولا أحببت أن لي بديني بدلا منذ هداني الله له، ولا قتلت نفسا فيم يقتلونني؟
”جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ گھر میں محصور (قید) تھے، تو میں ان کے پاس تھا، گھر میں داخل ہونے کا ایک ایسا راستہ تھا، جو شخص اس میں سے داخل ہوتا، تو وہ بلاط (مدینہ میں ایک جگہ ہے) پر ہونے والی باتیں سن سکتا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس میں سے داخل ہوئے، جب باہر آئے، تو ان کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا، انہوں نے فرمایا: وہ تو مجھے ابھی ابھی قتل کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ہم نے کہا: امیر المومنین! آپ کو اللہ تعالیٰ ان سے کافی ہو جائے گا، آپ نے فرمایا: وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: صرف تین وجوہات کی بنا پر کسی مسلمان کو قتل کرنا جائز ہے۔ جو اسلام لانے کے بعد کفر کرے جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے جو کسی کو (ناحق) قتل کر دے۔ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں کبھی زنا کیا تھا اور نہ ہی اسلام میں اور جب سے مجھے اللہ تعالیٰ نے ہدایت (اسلام) سے نوازا ہے، میں نے کبھی دین بدلنے کے متعلق سوچا بھی نہیں اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، تو وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟“
(مسند أحمد : 61/1 ، سنن أبي داود : 4502 ، سنن النسائي : 4024 ، سنن الترمذي : 2158 ، سنن ابن ماجه : 2533 ، معرفة الصحابة للأصبهاني : 75/1 وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن الجارود رحمہ اللہ (836) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام حاکم رحمہ اللہ (350/4) نے بخاری و مسلم کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
شہادت عثمان رضی اللہ عنہ میں کوئی صحابی شریک نہیں :
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مصر کے چند اوباش اور فتنہ گرلوگوں نے شہید کیا، ان میں کوئی صحابی شریک نہیں۔
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں :
لم يشارك فى قتله أحد من الصحابة .
”شہادت عثمان رضی اللہ عنہ میں کوئی صحابی شریک نہیں ہوا۔“
(شرح النووي : 148/15)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
خيار المسلمين لم يدخل واحد منهم فى دم عثمان، لا قتل ولا أمر بقتله، وإنما قتله طائفة من المفسدين فى الأرض من أوباش القبائل وأهل الفتن .
”مسلمانوں کے بہترین لوگوں میں سے کوئی بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت میں شریک نہیں ہوا، نہ شہید کیا اور نہ شہید کرنے کا حکم دیا۔ بلکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والی تو فسادی، بدمعاش اور فتنہ گرلوگوں کی ایک جماعت تھی۔“
(منهاج السنة النبوية : 323/4)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں :
ليس فيهم صحابي، ولله الحمد.
”قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ میں کوئی صحابی شامل نہیں تھا، وللہ الحمد۔“
(البداية والنهاية : 451/10)
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
لو أعلم بني أمية يقبلون مني لنفلتهم خمسين يمينا قسامة من بني هاشم ما قتلت عثمان ولا مالأت على قتله .
”اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ بنوامیہ والے میری بات مان لیں گے کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید نہیں کیا اور نہ ان کی شہادت میں کسی کا ساتھ دیا، تو میں بنو ہاشم کی طرف سے مصالحت میں پچاس قسمیں اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔“
(تاريخ المدينة لابن شبة : 1269/4 وسنده صحيح)
چند روایات اور ان کا جائزہ :
عبدالرحمن بن حاطب بن ابی بلتعہ رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
أنا أنظر إلى عثمان يخطب على عصا النبى صلى الله عليه وسلم التى كان يخطب عليها وأبو بكر وعمر رضي الله عنهما، فقال له جهجاه : قم يا نعثل، فانزل عن هذا المنبر، وأخذ العصا فكسرها على ركبته اليمنى ، فدخلت شظية منها فيها، فبقي الجرح حتى أصابته الأكلة فرأيتها تدود، فنزل عثمان وحملوه وأمر بالعصا فشدوها، فكانت مضيبة، فما خرج بعد ذلك اليوم إلا خرجة أو خرجتين حتى حصر فقتل .
”میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ رہا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والی وہ لاٹھی پکڑ کر خطبہ دے رہے تھے، جس پر ٹیک لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد) سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما خطبہ دیا کرتے تھے۔ تو عثمان رضی اللہ عنہ سے جہجاہ رضی اللہ عنہ نے کہا نعثل ! (نعثل مصر کے ایک شخص کا نام تھا، جس کی لمبی داڑھی تھی، باغی لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر عیب جوئی کرتے ہوئے انہیں نعثل کہتے تھے) اٹھو اور منبر سے نیچے اترو جہجاہ رضی اللہ عنہ نے لاٹھی پکڑی اور ان کے داہنے گھٹنے پر مار کر لاٹھی توڑ دی۔ لاٹھی کا چورا گھٹنے میں داخل ہو گیا، تو اس سے زخم بن گیا، یہاں تک کہ اس میں خارش پڑ گئی اور میں نے دیکھا کہ اس میں کیڑے پڑ گئے۔ بہر کیف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ منبر سے اتر گئے، (باغی) لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر لے گئے۔ (بعد میں) لاٹھی کو جوڑ دیا گیا اور اس پر لوہا چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ صرف ایک یا دو بار باہر تشریف لائے، یہاں تک کہ محاصرہ کر کے شہید کر دیے گئے۔“
(تاريخ الطبري : 366/4)
روایت جھوٹی ہے۔ محمد بن عمر واقدی متروک وکذاب ہے۔
نافع مولی ابن عمر رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
إن جهجاها الغفاري أخذ عصا كانت فى يد عثمان فكسرها على ركبته، فرمى فى ذلك المكان بأكلة .
”سیدنا جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے لاٹھی پکڑی اور ان کے گھٹنے پر مار کر توڑ دی، اس جگہ پر (بعد میں) خارش پڑ گئی۔“
(تاريخ الطبري : 366/4)
روایت انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔ نافع رحمہ اللہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
ابو حبیبہ مولی عروہ رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
لما كان بعد ذلك خطب الناس، فقام إليه جهجاه الغفاري، فصاح : يا عثمان ألا إن هذه شارف قد جئنا بها عليها عباءة وجامعة، فانزل فلندرعك العباء ة، ولنطرحك فى الجامعة، ولنحملك على الشارف، ثم نطرحك فى جبل الدخان فقال عثمان : قبحك الله وقبح ما جئت به!
”اس کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا، تو جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور چیخ کر پکارا : اے عثمان! ہم یہ سواری (اونٹنی) لائے ہیں، اس پر ایک چوغہ اور طوق ہے، منبر سے نیچے اترو، ہم تمہیں وہ چوغہ پہنائیں گے، تمہاری گردن میں طوق ڈالیں گے اور اس سواری پر سوار کر کے جبل دخان پر پھینک دیں گے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تمہیں اور تمہارے اس عمل کو نیست و نابود کرے!“
(تاريخ الطبري : 366/4)
جھوٹی روایت ہے۔
محمد بن عمر واقدی متروک وکذاب ہے۔
ابوحبیبہ رحمہ اللہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
عقبہ بن مسلم مدنی رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
إن آخر خرجة خرجها عثمان يوم جمعة، فلما استوى على المنبر حصبه الناس ، فقال رجل من غفار يقال له الجهجاه : والله لنغرينك إلى جبل الدخان، فنزل، فحيل بينه وبين الصلاة، فصلى للناس يومئذ أبو أمامة بن سهل بن حنيف .
”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آخری مرتبہ جمعہ والے دن باہر تشریف لائے، منبر پر بلند ہوئے، تو باغیوں نے انہیں روک دیا۔ ایک غفاری جسے جہجاہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تجھے جبل دخان کی طرف لے جائیں گے، تو عثمان رضی اللہ عنہ منبر سے نیچے اتر آئے، آپ کو نماز سے بھی روک دیا گیا، تو اس روز لوگوں کو سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی۔“
(كشف المُشكِل لابن الجوزي : 167/1)
روایت سخت ضعیف ہے۔
علی بن محمد بن ابی قیس کے بارے میں محمد بن احمد بن ابی الفوارس رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كان ضعيفا جدا.
”یہ سخت ضعیف تھا۔“
(تاریخ بغداد للخطيب : 223/13)
عتبہ بن مسلم رحمہ اللہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
إن جهجاها الغفاري أخذ عصا النبى صلى الله عليه وسلم من عثمان فكسرها بركبته، فوقعت الأكلة فى ركبته .
”جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والی لاٹھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے پکڑی اور ان کے گھٹنے میں مار کر توڑ دی، جس سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھٹنے میں (زخم ہونے کے بعد) خارش پڑ گئی۔“
(كشف المُشكل لابن الجوزي : 167/1)
روایت سخت ضعیف ہے۔
علی بن محمد بن ابی قیس کے بارے میں محمد بن احمد بن ابی الفوارس رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كان ضعيفا جدا.
”یہ سخت ضعیف تھا۔“
(تاريخ بغداد للخطيب : 223/13)
امام بخاری رحمہ اللہ کی تاریخ اوسط (311) والی سند سخت ضعیف ہے۔
فلیح بن سلیمان کثیر الخطا راوی ہے۔
فلیح کی پھوپھی نامعلوم ہے۔
پھوپھی کا باپ اور چچا کا بھی علم نہیں۔
عبدالواحد بن ابی عون رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
ضرب كنانة بن بشر جبينه ومقدم رأسه بعمود حديد فخر لجنبه وضربه سودان بن حمران المرادي بعدما خر لجنبه فقتله وأما عمرو بن الحمق فوثب على عثمان فجلس على صدره وبه رمق فطعنه تسع طعنات وقال : أما ثلاث منهن فإني طعنتهن لله، وأما ست فإني طعنت إياهن لما كان فى صدري عليه.
”کنانہ بن بشر نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی پیشانی پر لوہے کے ہتھیار سے مارا، تو آپ رضی اللہ عنہ پہلو کے بل زمین پر گر گئے۔ اس کے بعد سودان بن حمران مرادی نے وار کیا اور شہید کر دیا، پھر عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ کود کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سینے پر چڑھ گئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ میں ابھی زندگی کی رمق باقی تھی، پھر عمرو رضی اللہ عنہ نے نو نیزے مارے اور کہا : تین نیزے اللہ کے لیے مارے ہیں اور باقی چھ نیزے اپنے سینے کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے مارے ہیں۔“
(طبقات ابن سعد : 74/3)
جھوٹی روایت ہے۔
محمد بن عمر واقدی متروک وکذاب ہے۔
عبدالواحد بن ابی عون رحمہ اللہ اس واقعہ کے شاہد نہیں ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے :
مر عثمان على جبلة بن عمرو الساعدي وهو بفناء داره، ومعه جامعة، فقال : يا نعثل والله لأقتلنك ولأحملنك على قلوص جرباء، ولأخرجنك إلى حرة النار، ثم جاءه مرة أخرى وعثمان على المنبر فأنزله عنه .
”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا جبلہ بن عمرو ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر ہوا، وہ گھر کے صحن میں تھے، اس کے پاس طوق تھا۔ اس نے کہا : اے نعثل! اللہ کی قسم میں ضرور تجھے قتل کروں گا، تیری لاش کو خارش زدہ اونٹنی پر رکھ کر حرۃ النار نامی جگہ میں پھینک دوں گا۔ پھر ایک مرتبہ آیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے، تو آپ رضی اللہ عنہ کو نیچے اتار دیا۔“
(تاريخ الطبري : 365/4)
روایت جھوٹی ہے۔
محمد بن عمر واقدی متروک وکذاب ہے۔
عبید اللہ بن رافع بن خدیج مجہول الحال ہے۔
عبید اللہ بن رافع رحمہ اللہ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں۔
عبد اللہ بن عبدالرحمن ہمدانی رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
دخل أبو الطفيل عامر بن وايلة الكناني على معاوية، فقال له معاوية : أبو الطفيل؟ قال : نعم، قال : أنت من قتلة عثمان؟ قال : لا ولكن ممن حضره فلم ينصره، قال : ما منعك من نصر؟ قال : لم ينصره المهاجرون، والأنصار، ولم تنصره أنت، قال معاوية : أما طلبي بدمه نصرة له؟
”سیدنا ابوطفیل عامر بن واثلہ کنانی رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : ابوطفیل؟ فرمایا: جی، معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والوں میں آپ بھی تھے؟ فرمایا: نہیں، البتہ وہاں موجود تھا، مگر ان کی مدد نہ کر سکا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: مدد کیوں نہ کی؟ فرمایا: ان کی مدد تو مہاجرین و انصار بھی نہ کر سکے، بلکہ آپ بھی تو مدد نہیں کر سکے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں جو عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کر رہا ہوں، کیا یہ ان کی نصرت نہیں ہے؟“
(تاریخ ابن عساکر : 117/26)
روایت سخت ضعیف ہے۔
عبد اللہ بن عبدالرحمن ہمدانی کا تعین نہیں ہوسکا۔
علی بن محمد مدائنی اور عبد اللہ بن عبد الرحمن کے درمیان انقطاع ہے، یا عبد اللہ بن عبد الرحمن ہمدانی اس واقعہ کا شاہد نہیں ہے۔
یہ روایت عبدالرحمن ہمدانی رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے۔
(تاریخ ابن عساکر : 117/26)
یہ سند بھی سخت ضعیف ہے۔
عبداللہ بن شبیب ربعی ابوسعید ضعیف و غیر ثقہ ہے۔
عبدالرحمن ہمدانی کا تعین درکار ہے!
محمد بن سلام جمحی اور عبد الرحمن ہمدانی کے درمیان انقطاع ہے، یا عبد الرحمن ہمدانی اس واقعہ کا شاہد نہیں ہے، واللہ اعلم!
صحابہ تو دفاع کرتے رہے :
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
قلت لعثمان رضى الله عنه : إن معك فى الدار عصبة مستنصرة، ينصر الله تعالى بأقل منها، فأذن لي فلأقاتل، فقال رضى الله عنه : أنشد الله رجلا أهراق فى دمه، أو قال : أهراق فى دما .
”میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: آپ کے ساتھ گھر میں مسلمانوں کی اتنی بڑی محافظ جماعت موجود ہے کہ اس سے کم لوگ بھی ہوں، تو اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ غلبہ عطا کر دے گا۔ پس آپ اجازت دیں کہ میں ان باغیوں سے قتال کروں، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کا واسطہ! ایک شخص کی خاطر کسی کا خون نہ بہایا جائے، یا فرمایا : میری وجہ سے کسی کا خون نہ بہایا جائے۔“
(تاريخ خليفة بن خياط ص : 173 ، المطالب لابن حجر : 4391 وسنده صحيح)
کنانہ مولیٰ صفیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
إنه شهد مقتل عثمان رضي الله عنه، قال : وأنا يومئذ ابن أربع عشرة سنة، قال : أمرتنا صفية بنت حيي أن نرجل بغلة بهودج فرحلناها، ثم مشينا حولها إلى الباب، فإذا الأشتر وناس معه، فقال الأشتر لها : ارجعي إلى بيتك فأبت، فرفع قناة معه، أو رمحا، فضرب عجز البغلة، فشبت البغلة، ومال الهودج حتى كاد أن يقع، فلما رأت ذلك قالت : ردوني، ردوني، وأخرج من الدار أربعة نفر من قريش مضروبين محمولين، كانوا يدرء ون عن عثمان، فذكر الحسن بن علي، وعبد الله بن الزبير، وأبا حاطب والصحيح : محمد بن حاطب ومروان بن الحكم، قلت : فهل ندي محمد بن أبى بكر بشيء من دمه، فقال : معاذ الله دخل عليه، فقال له عثمان : لست بصاحبه ، وكلمه بكلام فخرج ولم يند من دمه بشيء ، قلت : فمن قتله؟ قال رجل من أهل مصر يقال له : جبلة بن أيهم فجعل ثلاثا يقول : أنا قاتل نعثل قلت : فأين عثمان يومئذ؟ قال : فى الدار .
”میری عمر چودہ برس تھی، میں مقتل عثمان رضی اللہ عنہ میں حاضر تھا، ہمیں ام المومنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے خچر پر کاٹھی ڈالنے کا کہا، تو ہم نے خچر پر کاٹھی رکھی۔ پھر ہم آپ رضی اللہ عنہا کے اردگرد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے دروازے تک چلتے رہے، وہاں دیکھا کہ اشتر مالک بن حارث اور اس کے ساتھی کھڑے تھے، اشتر نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ اپنے گھر واپس چلی جائیے، مگر سیدہ نے انکار کیا، تو اشتر نے نیزہ اٹھایا اور خچر کی پیٹھ پر دے مارا، خچر بدکا اور اس نے اگلی ٹانگیں اٹھا لیں، کاٹھی سرک گئی، قریب تھا کہ نیچے گر جاتی، جب سیدہ نے یہ سلوک دیکھا، تو فرمایا: مجھے واپس لے جائیں، مجھے واپس لے جائیں۔ میں نے دیکھا قریش کے چار نوجوانوں کو گھر سے اٹھا کر باہر لایا گیا، جو خون میں لت پت تھے، یہ چاروں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا دفاع کرتے رہے، وہ یہ تھے، حسن بن علی رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم۔ راوی محمد بن طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے کنانہ رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت میں شریک تھے؟ فرمایا: معاذ اللہ! وہ تو عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تھے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: آپ مجھے قتل کرنے والے نہیں ہیں، اس کے علاوہ بھی گفتگو ہوئی۔ تو محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نکل آئے اور دم عثمان رضی اللہ عنہ میں شریک نہ ہوئے۔ راوی محمد بن طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کنانہ رحمہ اللہ سے پوچھا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کس نے شہید کیا؟ فرمایا: عثمان رضی اللہ عنہ کو ایک مصری نے شہید کیا، جس کا نام جبلہ بن ایہم تھا، پھر اس نے مدینہ کی گلیوں میں تین چکر لگائے اور تین بار یہ پکارا: میں نعوذ باللہ نعثل کا قاتل ہوں۔ میں نے پوچھا: شہادت والے دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہاں تھے؟ فرمایا: اپنے گھر میں۔“
(مسند إسحاق بن راهويه : 2088 وسنده حسن)
محمد بن ابی بکر صدیق رحمہ اللہ کا داڑھی پکڑنا ؟
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد رحمہ اللہ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ میں شریک نہیں تھے۔ وہ تمام روایات غیر ثابت ہیں، جن میں ہے کہ محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑ کر جھٹکا دیا اور ان کی داڑھیاں گرا دیں یا ان کی گردن پر نیزوں سے وار کیے۔ اس بارے میں وارد روایات اور ان کا تحقیقی جائزہ پیش خدمت ہے:
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے شمشیر زن سے منسوب ہے :
دخل عليه محمد بن أبى بكر فقال : أنت قاتلي، قال : وما يدريك يا نعثل؟ قال : لأنه أتي بك النبى صلى الله عليه وسلم يوم سابعك ليحنكك ويدعو لك بالبركة فخريت على رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : فوثب على صدره وقبض على لحيته، فقال : إن تفعل كان يعز على أبيك أن تسوءه، قال : فوجأه فى نحره بمشاقص كانت فى يده .
”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ آئے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھے قتل کرنے والے ہو۔ محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نے کہا: تم کیسے جانتے ہو نعثل! فرمایا: کیونکہ تجھے پیدائش کے ساتویں دن گھٹی دلانے اور برکت کی دعا کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تھا، تو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پاخانہ کر دیا تھا۔ یہ سن کر محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سینے پر کود پڑے اور داڑھی کو پکڑ لیا، عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے والد زندہ ہوتے تو تمہاری یہ حرکت تمہارے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بہت بری لگتی۔ تو محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نے چوڑے پھالے والے نیزے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گلے پر مارے۔“
(المعجم الكبير للطبراني : 83/1 ، تاریخ ابن عساکر : 409/39)
سند ضعیف ہے۔
مبارک بن فضالہ کا عنعنہ ہے۔
عثمان رضی اللہ عنہ کا شمشیر زن کون ہے؟ معلوم نہیں۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذا غريب جدا وفيه نكارة .
”یہ انتہائی عجیب و غریب روایت ہے، اس میں نکارت ہے۔“
(البداية والنهاية : 194/7)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے :
ضربه ابن أبى بكر بمشاقص فى أوداجه .
”محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی رگ جاں پر نیزوں کے وار کیے۔“
(تاریخ خلیفه بن خیاط ص : 175)
سخت ضعیف ہے۔
ابوزکریا عجلانی مجہول ہے۔
وثاب مولیٰ عثمان رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
جاء محمد بن أبى بكر فى ثلاثة عشر رجلا فأخذ بلحيته فقال بها حتى سمعت وقع أضراسه .
”محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ تیرہ لوگوں کے ہمراہ آئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی کو پکڑا اور اسے بھینچا، یہاں تک کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے ڈاڑھوں کے گرنے کی آواز سنی۔“
(مصنف ابن أبي شيبة : 37079 ، تاريخ خليفة بن خياط ص : 174)
سند ضعیف ہے۔ وثاب کی توثیق معلوم نہیں۔
حسن بصری رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
إن ابن أبى بكر أخذ بلحيته فقال عثمان : لقد أخذت مني مأخذا أو قعدت مني مقعدا ما كان أبوك ليقعده فخرج وتركه .
”محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑی، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے میری وہ چیز پکڑی ہے یا فرمایا: آپ میرے اس حصہ پر بیٹھے ہیں کہ آپ کے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوتے، تو اس پر ہرگز نہ بیٹھتے، تو محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ چھوڑ کر گئے۔“
(تاريخ خليفة بن خياط ص : 174 ، تاريخ الطبري : 384/4)
سند ضعیف ہے۔
حسن بصری رحمہ اللہ اس واقعہ کے شاہد نہیں۔
ریطہ مولاۃ اسامہ بن زید رحمہا اللہ سے منسوب ہے :
جاء محمد بن أبى بكر الصديق وعليه ثوب قطن مصبوع فأخذ بلحية عثمان فهزها حتى سمع صرير أضراسه بعضها على بعض فقال : يا ابن أخي دع لحيتي فإنك لتجذب ما يعز على أبيك أن يؤذيها فرأيته كأنه استحيا فقام فجعل بطرف ثوبه هكذا : ألا ارجعوا ألا ارجعوا .
”محمد بن ابی بکر صدیق رحمہ اللہ آئے، انہوں نے رنگا ہوا اون کا کپڑا پہنا ہوا تھا، انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ریش مبارک کو پکڑا اور اسے جھٹکا دیا، یہاں تک کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے ڈاڑھوں کے ایک دوسرے پر گرنے کی آواز سنائی دی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بھتیجے! میری داڑھی کو چھوڑ دیجئے، آپ نے ایسی چیز کو پکڑا ہے، آپ کے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ اسے تکلیف پہنچانے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ راوی کہتے ہیں میں نے محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ کو دیکھا کہ گویا انہیں حیا آئی اور اپنے کپڑے کا پلو پکڑے لوگوں سے کہنے لگے: واپس چلے جاؤ، واپس چلے جاؤ۔“
(تاریخ ابن عساکر : 406/39)
روایت سخت ضعیف ہے۔
ریطہ مولاۃ اسامہ کے حالات زندگی نہیں ملے۔
شیخ من اہل الشام ابو جناب نامعلوم ہے۔
معمر بن عقیل کے حالات زندگی نہیں ملے۔
یحییٰ بن میمون ہدادی کی توثیق معلوم نہیں۔
ابو حرب رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
دخل على عثمان محمد بن أبى بكر وهو جالس يقرأ فى المصحف فأخذ بلحيته فقال : لو كان أبوك لم يقبض على ما قبضت .
”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ آئے، عثمان رضی اللہ عنہ بیٹھے مصحف سے دیکھ کر تلاوت کر رہے تھے۔ محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑی، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ کے والد زندہ ہوتے، تو آپ میری داڑھی کبھی نہ پکڑتے۔“
(المحن لأبي عرب ص : 79)
جھوٹی روایت ہے :
ابو عرب کے شیوخ مجہول و نامعلوم ہیں۔
زیاد بن عبداللہ بکائی ضعیف ہے۔
مجالد بن سعید جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
ابوحرب کون ہے؟ معلوم نہیں۔
قتادہ بن دعامہ رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
أخذ ابن أبى بكر بلحيته .
”محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑی۔“
(تاريخ خليفة بن خیاط ص : 175)
سند ضعیف ہے۔
سعید بن ابی عروبہ مدلس و مختلط ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بہت عرصہ بعد پیدا ہوئے۔
خنساء مولاۃ اسامہ بن زید رحمہا اللہ سے منسوب ہے :
دخل إليه محمد بن أبى بكر فأخذ لحيته وأهوى بمشاقص معه ليجأ بها فى حلقه .
”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ آئے اور ان کی داڑھی پکڑی، پھر نیزوں کے وار سے عثمان رضی اللہ عنہ کی رگ جاں کاٹ دی۔“
(تاریخ ابن عساکر : 405/39)
جھوٹی روایت ہے :
غصن بن قاسم رحمہ اللہ کون ہے؟ معلوم نہیں، اگر قاسم بن غصن ہے تو ضعیف ہے۔
رجل مبہم ہے۔
سیف بن عمر کوفی بالاتفاق ضعیف و متروک ہے۔
شعیب بن ابراہیم کوفی مجہول ہے۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے :
دخل محمد بن أبى بكر على عثمان، فأخذ بلحيته ، فقال : أرسل لحيتي، فلم يكن أبوك ليتناولها فأرسلها .
”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ آئے اور ان کی داڑھی پکڑی، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری داڑھی چھوڑ دو، آپ کے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوتے، تو اسے ہرگز نہ پکڑتے تو محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نے داڑھی کو چھوڑ دیا۔“
(تاريخ الطبري : 393/4)
جھوٹی روایت ہے :
سیف بن عمر کوفی بالاتفاق ضعیف و متروک ہے۔
شعیب بن ابراہیم کوفی مجہول ہے۔
مجالد بن سعید جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
عبدالرحمن بن محمد بن عبدالقاری رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
أخذ بلحية عثمان، فقال : قد أخزاك الله يا نعثل، فقال عثمان : لست بنعتل، ولكن عبد الله وأمير المؤمنين .
”محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑی اور کہا: نعثل! اللہ نے تجھے ذلیل کر دیا ہے۔ تو عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نعثل نہیں ہوں، میں اللہ کا بندہ اور مومنوں کا امیر ہوں۔“
(طبقات ابن سعد : 73/3)
سند جھوٹی ہے۔
محمد بن عمر واقدی متروک و کذاب ہے۔
عبدالرحمن بن محمد بن عبدالقاری نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
اللهم اغفر لأبي ذنبه فى عثمان رضى الله عنه .
”اے اللہ! میرے والد کا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں گناہ معاف فرما۔“
(الثقات لابن حبان : 41/8 ، المطالب العالية لابن حجر : 4388)
سند ضعیف ہے۔
سعید بن مسلم باہلی کی توثیق نہیں۔
تنبیہ :
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منسوب ہے :
لعن الله قتلته، أفاد الله ابن أبى بكر .
”اللہ تعالیٰ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں پر لعنت کرے، اللہ تعالیٰ محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ سے عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ لے۔“
(المعجم الكبير للطبراني :88/1 ، تاريخ المدينة لابن شبة : 1244/4)
سند ضعیف ہے۔
طلق بن خشاب مجہول الحال ہے، اسے صرف ابن حبان رحمہ اللہ نے (الثقات : 396/4) میں ذکر کیا ہے۔
بعض سندوں میں طلق بن خشاب کی طلق بن حبیب سے تصحیف ہو گئی ہے۔
جنازہ اور تدفین کے متعلق روایات :
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
أرادوا أن يصلوا على عثمان رضى الله عنه فمنعوا، فقال رجل من قريش أبو جهم بن حذيفة : دعوه، وقد صلى الله عز وجل عليه، وصلى رسوله صلى الله عليه وسلم.
”مسلمانوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھنا چاہی تو انہیں باغیوں کی طرف سے روک دیا گیا۔ تو ایک قریشی آدمی ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عثمان رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیجئے، ان کی نماز جنازہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی پڑھ دیں گے۔“
(الاستیعاب لابن عبد البر : 1048/3)
سند ضعیف ہے۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اس واقعہ کے شاہد نہیں۔
تابعی کبیر مالک بن ابی عامر رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
كنت أحد حملة عثمان بن عفان حين توفي، حملناه على باب، وإن رأسه ليفرع الباب لإسراعنا به، وإن بنا من الخوف لأمرا عظيما حتى واريناه فى قبره فى حر كوكب .
”سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کی نعش کو اٹھانے والوں میں سے ایک میں بھی تھا۔ ہم نے انہیں اٹھا کر دروازے پر پہنچے، جلدی جلدی میں عثمان رضی اللہ عنہ کا سر دروازے پر لگا۔ ہمیں خوف کی وجہ سے بڑی پریشانی لاحق تھی، یہاں تک کہ ہم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نعش کو ”حش کوکب“ نامی باغ میں قبر کھود کر دفن کر دیا۔“
(طبقات ابن سعد : 79/3)
سند ضعیف ہے۔ ربیع بن مالک بن ابی عامر مجہول الحال ہے۔
ابو بشیر عابدی رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (کی نعش) تین دن تک پڑی رہی، اسے دفن نہیں کیا گیا، پھر حکیم بن حزام قرشی رضی اللہ عنہ نے، اس کے بعد بنو اسد بن عبدالعزیٰ کے ایک شخص اور جبیر بن مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دفن کرنے کے متعلق بات کی اور مطالبہ کیا کہ وہ ان کے گھر والوں کو اس کی اجازت دیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مطالبہ پورا کر دیا اور دفن کرنے کی اجازت دے دی۔ جب یہ بات باغیوں کو معلوم ہوئی، تو وہ پتھر لے کر راستے پر بیٹھ گئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے کچھ افراد ان کی نعش لے کر نکلے، وہ جنازے کو مدینہ کے ایک حش کوکب نامی باغ میں لے جا رہے تھے، جس میں یہود اپنے مردے دفن کیا کرتے تھے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نعش کو باغی لوگوں کے سامنے سے گزارا گیا، تو انہوں نے جنازے پر پتھراؤ کیا اور جنازہ گرانے کا ارادہ کیا۔ یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے باغیوں کو سخت حکم جاری کیا کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نعش کو کچھ نہ کہیں، تو باغیوں نے بات مان لی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی میت کو لایا گیا اور حش کوکب نامی باغ میں دفن کر دیا گیا۔“
(تاريخ الطبري : 412/4)
سند سخت ضعیف ہے۔
جعفر بن عبداللہ محمدی کے حالات زندگی نہیں ملے۔
حسین بن عیسی بن زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب اور اس کے والد کی توثیق ثابت نہیں۔
ابو میمونہ کا تعین و توثیق ثابت نہیں ہوسکی۔
ابو بشیر عابدی کون ہے؟ معلوم نہیں ہوسکا۔
ایک روایت ہے :
انتهوا به إلى البقيع، فدفنوه فيه مما يلي حشان كوكب .
”مسلمان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نعش کو بقیع میں لے گئے اور انہیں وہاں حش کوکب نامی باغیچے سے ملحق جگہ پر دفن کر دیا۔“
(تاريخ الطبري : 414/4 ، تاریخ ابن عساکر : 526/39)
جھوٹی روایت ہے :
سیف بن عمر کوفی بالاتفاق ضعیف و متروک ہے۔
شعیب بن ابراہیم کوفی مجہول ہے۔
سیدنا عبداللہ بن ساعدہ رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے :
”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہادت کے بعد دو راتوں تک ایسے ہی پڑے رہے، مسلمان انہیں دفن نہیں کر سکے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نعش کو چار بندوں نے اٹھایا، جن کے نام حکیم بن حزام، جبیر بن مطعم، نیار بن مکرم اور ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہم ہیں۔ جب میت کو نماز جنازہ پڑھنے کے لیے رکھا گیا، تو انصار قبیلہ کے کچھ لوگ آئے اور مسلمانوں کو جنازہ سے روک دیا، ان لوگوں میں اسلم بن اوس بن بجره ساعدی اور ابوحیہ مازنی رضی اللہ عنہم وغیرہ شامل تھے، نیز انہیں بقیع میں دفن کرنے سے بھی روک دیا، تو ابوجہم رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ایسے ہی دفن کر دیں، ان پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں نے نماز جنازہ پڑھ دی ہے۔ باغیوں نے کہا: ہم انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں ہرگز دفن نہیں ہونے دیں گے تو مسلمانوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو حش کوکب نامی باغ میں دفن کر دیا، جب بنو امیہ کی حکومت آئی، تو انہوں نے حش کوکب کو بقیع الغرقد قبرستان میں شامل کر دیا، آج یہ بنو امیہ کا قبرستان ہے۔“
(تاريخ الطبري : 413/4)
محمد بن عمر واقدی کی گھڑنتل ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان رحمہ اللہ سے منسوب ہے :
دفن ليلة السبت بين المغرب والعشاء فى حش كوكب بالبقيع فهي مقبرة بني أمية اليوم.
”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ہفتہ کی رات مغرب اور عشاء کے درمیان بقیع کے ساتھ حش کوکب نامی باغ میں دفن کیا گیا، جو آج بنو امیہ کا قبرستان ہے۔“ (طبقات ابن سعد : 77/3)
جھوٹی روایت ہے۔
محمد بن عمر واقدی متروک و کذاب ہے۔
عمرو بن عبداللہ بن عنبسہ لا پتہ ہے۔
تاریخ شہادت :
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ذوالحجہ کی بارہ تاریخ کو شہید ہوئے۔
ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
إن عثمان قتل فى أوسط أيام التشريق .
”سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ایام تشریق کے وسط بارہ ذوالحجہ کو شہید ہوئے۔“
(طبقات ابن سعد : 79/3 ، زوائد مسند الإمام أحمد : 546 وسنده صحيح)
اظہار افسوس!
راز دان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو فرمایا :
اليوم نزل الناس حافة الإسلام، فكم من مرحلة قد ارتحلوا عنه .
”اس وقت لوگ اسلام کے آخری کنارے پر پہنچ چکے ہیں۔ ہائے لوگ اسلام سے کتنے ہی مرحلے دور ہٹ چکے ہیں!“
(مصنف ابن أبي شيبة : 516/7 وسنده حسن)