مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

وکیل کا مؤکل کے مال سے کچھ لینا

فونٹ سائز:
تحریر : فتاویٰ سعودی فتویٰ کمیٹی

وکیل کا مؤکل کے مال سے کچھ لینا
سوال : ایک آدمی کسی دوسرے آدمی کا مال بیچتا ہے، یعنی وہ اس کو مال دیتا ہے کہ وہ اپنی جان پہچان کی وجہ سے اسے فروخت کر دے، یہ آدمی (وکیل) قیمت زیادہ کر دیتا ہے اور اضافہ خود رکھ لیتا ہے، کیا یہ سود ہے ؟ ایسا کرنے والے کے متعلق کیا حکم ہے ؟
جواب : جو آدمی سامان بیچتا ہے، وہ سامان کے مالک کا وکیل سمجھا جاتا ہے، لہٰذا اس پر مال اور اس کی قیمت کے متعلق اعتماد کیا جاتا ہے، اگر وہ مالک کے علم میں لائے بغیر اس کی قیمت سے کچھ لے تو خیانت کرنے والا شمار ہوگا اور جو اس نے لیا ہے، وہ اس پر حرام ہے۔
[اللجنة الدائمة : 17670]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔