اللہ کی تدبیر سے بے خوفی، بہتان اور تکلیف پہنچانے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے بے خوف ہونے کی ممانعت

① سیدنا ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیس بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملاقات کی ہے، ان سب کو اپنے بارے میں نفاق کا اندیشہ تھا۔ اور وہ اپنے دین کے بارے میں مکر و تدبیر سے بے خوف نہیں تھے، اور ان میں سے کسی کا بھی یہ دعویٰ نہیں تھا کہ وہ جبریل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام کے ایمان کے درجے پر فائز ہے“۔
بخاری، کتاب الايمان: 135/1، 136.

بہتان کی ممانعت

① سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بايعوني على أن لا تشركوا بالله، ولا تسرقوا، ولا تزنوا، ولا تقتلوا النفس التى حرم الله إلا بالحق
تم میری بیعت کرو (اس بات پر) کہ تم اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرو گے، چوری اور زنا نہیں کرو گے اور جس جان کو قتل کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے ناحق قتل نہیں کرو گے“۔
اور ایک روایت میں ہے:
ولا تقتلوا أولادكم، ولا تأتوا ببهتان تفترونه بين أيديكم وأرجلكم، ولا تعصوني فى معروف، فمن وفى منكم فأجره على الله، ومن أصاب شيئا من ذلك فستره الله عليه فأمره إلى الله، إن شاء عفا عنه، وإن شاء عذبه
”تم اپنی اولاد کو قتل کرو گے نہ اپنی طرف سے بہتان طرازی کرو گے اور نہ ہی بھلائی کے کسی کام میں میری نافرمانی کرو گے؛ پس جس نے وفا کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جس نے اس بارے میں کوئی کمی کوتاہی کی تو اس کا معاملہ اللہ کے ذمہ ہے، اگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے۔
پس ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تمام معاملات پر بیعت کی“۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
إذا قلت باطلا فذلك البهتان، فذلك البهتان
”جب تم نے کوئی باطل بات کی تو یہی بہتان ہے، یہی بہتان ہے“۔
بخاری، کتاب الاحکام: 7213. مسلم، کتاب الاحكام: 1709/41.

تکالیف پہنچانے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والله لا يؤمن، والله لا يؤمن، والله لا يؤمن
”اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا“۔
عرض کیا گیا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کون؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الذي لا يأمن جاره بوائقه
”جس کا ہمسایہ اس کی تکلیفوں سے محفوظ نہ ہو“۔
بخاری، کتاب الادب: 6016. مسند احمد، اول مسند المدنيين اجمعين: 386/2 ، حدیث: 7897.
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يدخل الجنة من لا يأمن جاره بوائقه
”وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کی تکلیفوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو“۔
مسلم، كتاب الإيمان: 46. مسند احمد، باقی مسند المكثرين: 494/2، حدیث: 8877.