نکاح کے موقع پر دف بجانے کے متعلق احکامات
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أعلنوا هذا النكاح واجعلوه فى المساجد واضربوا عليه بالدفوف
”اس نکاح کا اعلان کرو اور اسے مسجدوں میں کرو اور اس موقع پر (شادی کے موقع پر) دف بجاؤ“۔
ترمذی، کتاب النکاح 1089۔ روایت ضعیف ہے۔ کیونکہ اس کی سند میں عیسی بن میمون ضعیف ہے۔ ابن ماجہ، کتاب النکاح 1895 کی ایک روایت میں اس میں "اسے مسجدوں میں کرو” کے الفاظ نہیں۔ جہاں تک "نکاح کا اعلان کرو” کے الفاظ، تعلیق ہے تو یہ ٹھیک ہیں۔
② محمد بن حاطب جمحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فصل ما بين الحلال والحرام الدف والصوت فى النكاح
”حلال اور حرام میں جو فرق ہے وہ دف بجانا اور نکاح کے موقع پر آواز بلند کرنا ہے“۔
نسائی، کتاب النکاح 3369۔ ترمذى، كتاب النکاح 1088۔ روایت حسن ہے۔
عورتوں کے درمیان عدل کرنے کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كانت له امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط
”جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان عدل نہ کرے تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو ساقط ہوگا“۔
ابوداؤد، کتاب النکاح 2133۔ ترمذی، كتاب النكاح 1141 روایت صحیح ہے۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل
”جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے کسی ایک کی طرف میلان رکھتا ہو تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو ٹیڑھا ہوگا“۔
ابوداؤد 2133۔ روایت صحیح ہے۔
عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کے احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
استوصوا بالنساء خيرا فإن المرأة خلقت من ضلع أعوج وإن أعوج ما فى الضلع أعلاه فإن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل أعوج فاستوصوا بالنساء خيرا
”عورتوں سے اچھا سلوک کیا کرو اس لیے کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی کا سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر والا حصہ ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ بیٹھو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی، پس تم عورتوں سے اچھا سلوک کرو“۔
بخاری، کتاب احادیث الانبياء 3331۔ مسلم، كتاب الايمان 1468/58۔
ولیمے کے احکامات
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زرد نشان دیکھا تو فرمایا:
ما هذا؟
”یہ کیا ہے؟“
انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے مہر کے بدلے ایک عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بارك الله لك أولم ولو بشاة
”اللہ تجھے برکت عطا فرمائے، ولیمہ کرو خواہ ایک بکری کا ہو“۔
بخاری، کتاب المناقب 3937۔ مسلم ، كتاب النكاح 1427/79۔
② سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
طعام الوليمة أول يوم حق ، والثاني سنة ، وطعام يوم الثالث سمعة ، من سمع سمع الله به
”ولیمے کا کھانا پہلے دن حق ہے، دوسرے دن سنت اور تیسرے دن کا کھانا ریا کاری اور شہرت ہے اور جو شخص سنانے اور دکھلانے کے لیے کام کرتا ہے تو اللہ اس کے متعلق لوگوں کو سنا دکھا دے گا“۔
ترمذی، کتاب النکاح 1097۔