مضمون کے اہم نکات
کچھ بدعات کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے:
بدعات کی فہرست میں دی گئی بدعات میں سے اکثر ظاہر ہیں۔ اس کی غرض وغایت صرف یہ ہے کہ عوام بدعات سے آگاہ ہوں، دین کی سمجھ حاصل کریں، سنت سے آگاہی ہو، پھر بدعات سے اجتناب کرتے ہوئے سنتوں پر عمل پیرا ہوں۔
عرفه:
شب براءت سے دو دن پہلے عرفے کے نام سے نئے اور پرانے مردوں کی فاتحہ بڑی دھوم دھام سے حلوے اور روٹی پر دلائی جاتی ہے۔ پرانے مردوں پر عرفے کی فاتحہ واجبی طور پر دی جاتی ہے لیکن نئے مردے کی عرفہ کی فاتحہ میں پورا خاندان اور برادری کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔ تقریب میں نہ آنے والوں پر طعن کیا جاتا ہے۔ حلوہ اور روٹی نہ صرف کھلایا جاتا ہے بلکہ غریب غرباء میں تقسیم بھی کیا جاتا ہے اور یہ بدعت بھی نام نہاد اہل سنت ہی کے ہاں رائج ہے، باوجود یکہ وہ اس رسم کا احادیث صحیحہ اور سنت رسول ﷺ میں کوئی ثبوت نہیں پاتے ہیں۔
شرع محمدی مهر:
شرع محمدی مهر عوام میں اس قدر مشہور ہے کہ نہ صرف جاہل بلکہ پڑھے لکھے لوگ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جتنے نکاح فرمائے. سب میں اپنی ازاوج کا مہر ساڑھے بتیس روپیہ مقرر فرمایا، لہذا ہمیں بھی اتنا ہی مہر رکھنا چاہیے۔ عوام کو جاننا چاہیے کہ یہ سب عورتوں کے حقوق سلب کرنے والوں کے ڈھکوسلے اور بدعتی کام ہیں۔ کہ ان ناجائز کاموں کو کرتے ہیں اور پھر سمجھتے ہیں شاید اب یہ ثواب کے مستحق بھی ہو گئے ہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے کسی زوجہ کا مہر ساڑھے بتیس روپیہ نہیں رکھا۔ بلکہ ہر زوجہ کو بقدر استطاعت آپ ﷺ نے بڑھ چڑھ کر مہر عطاء کیا۔ چنانچہ تاریخی روایات اور احادیث سے یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی درج ذیل ازواج مطہرات کو کتنا کتنا مہر دیا:
[1]سیدہ خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ سونا تھا۔ (بحوالہ نور اليقين في سيرة سيد المرسلین)
[2]سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ سونا تھا۔
[3]سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ سونا تھا۔
[4]سیدہ حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ سونا تھا۔
[5]سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ سونا تھا۔
[مسلم، كتاب النكاح، باب الصداق و جواز كونه تعليم ….. الخ:1426 بغير أسماء أزواجهﷺ]
[6]سیده ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا کا مہر نجاشی شاہ حبشہ نے رسول اللہﷺ کی طرف سے چار ہزار درہم دیا۔
[سنن أبي داود، كتاب النكاح، باب الصداق:2108]
[7]سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا غزوہ خیبر میں قید ہوئی تھیں، آپ نے انھیں آزاد کر کے نکاح میں لے لیا تھا، یہی ان کا مہر تھا۔
[8]سیدہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کا مہر بارہ اوقیہ سونا و نصف اوقیہ تھا۔
[9] سیدہ جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا غزوہ مریسیع میں قید ہو کر ثابت بن قیس اور ان کے بھائی کے حصہ میں آئی تھیں اور نو اوقیہ سونے پر مکاتب بنی تھیں جسے رسول اللہﷺ نے ادا کر کے ان سے نکاح کر لیا تھا، یہی ان کا مہر تھا۔
[10]سیده زینب بنت خزیمہ ام المساکین رضی اللہ عنہا کو آپ ﷺ نے ایک تولہ سونا اور دس تولہ چاندی مہر دیا تھا۔
[11]سیدہ ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ سونا تھا۔
[12]سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کنیز تھیں، بطور ہدیہ مقوقس شاہ روم کی طرف سے ملی تھیں۔
علاوہ ازیں مہر کے سلسلے میں کچھ لوگ مبالغہ بھی کرنے لگے ہیں، شاید نام آوری کی خاطرآج کل لاکھ دو لاکھ کا مہر رکھنا ایک رواج بنتا جا رہا ہے۔ جب کہ صحیح حدیث میں امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ارشاد موجود ہے، کہ عورتوں کے حق مہر میں مبالغہ نہ کرو۔ اگر زیادہ حق مہر باندھنا دنیا میں عزت والی چیز ہوتی تو اللہ کے نزدیک اللہ کے نبی ﷺ زیادہ لائق تھے، کہ زیادہ حق مہر مقرر کرتے۔ میں نہیں جانتا کہ رسول اللہﷺ نے ساڑھے بارہ اوقیہ سونے سے زائد پر اپنی بیویوں سے نکاح کیا ہو اور بیٹیوں کا نکاح کیا ہو۔
دعاؤں میں اضافے:
وہ تمام دعا ئیں جو احادیث صحیحہ میں مرقوم ہیں ہمارے لیے کافی وشافی ہیں۔ لیکن ہمارےبر صغیر کے نام نہاد اہل سنت جن میں بریلوی اور دیوبندی دونوں ہی شامل ہیں، انھوں نے ان مسنون دعاؤں میں بھی اپنی جانب سے کلمات بڑھا دیے ہیں۔ ان اضافوں کا یہی مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ان حضرات کے نزدیک زبان رسالت مآب ﷺ سے نکلی ہوئی دعائیں ناقص اور ادھوری ہیں، اسی لیے ان حضرات نے دعاؤں میں اضافے کیے ہیں۔ ان اضافوں کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:
نماز کے بعد کے اذکار جو احادیث صحیحہ میں درج ہیں، ان میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ سلام پھیرتے تو نہ بیٹھتے مگر اتنی مقدار کہ اس میں کہتے: (اللهم أنت السلام و منك السلام تباركت يا ذا الجلال و الإكرام)
[مسلم، کتاب المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة و بيان صفته:592]
لیکن یہ دعا ہمارے برادران ان کلمات کے اضافے کے ساتھ پڑھتے ہیں: (اللهم أنت السلام ومنك السلام و إليك يرجع السلام حينا ربنا بالسلام و أدخلنا دار السلام تباركت ربنا وتعاليت يا ذا الجلال والإكرام)
(مترجم نماز محمدشفیع اوکاڑوی)
علاوہ ازیں اذان کے بعد کی دعا احادیث شریفہ میں ان کلمات کے ساتھ وارد ہوئی ہے: [اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته]
[بخاری، كتاب الأذان، باب الدعاء عند الأذان:614]
جب کہ احناف کے دونوں گروہ اس دعا کو ان کلمات میں اضافوں کے ساتھ پڑھتے ہیں: (اللهم رب هذه الدعوة التامة و الصلوة القائمة ات محمد الوسيلة و الفضيلة و درجة الرفيعة وبعثه مقاما محمود الذي وعدته وارزقنا شفاعته يوم القيامة إنك لا تخلف الميعاد برحمتك يا ارحم الرحمين) (نماز مترجم اوکاڑوی)
مذکورہ بالا مثالوں کے علاوہ ایسی اور بھی بیسیوں مثالیں ہیں لیکن بخوف طوالت انھیں درج نہیں کر رہا، صرف انھی مثالوں کو بیان کیا ہے جو روز مرہ پڑھنے کی دعا میں کہلاتی ہیں۔
برادران اسلام!
انصاف سے کہیے کہ کیا ان دعاؤں میں اضافہ کرنا اس امر کی نشاندہی نہیں کر رہا کہ اضافہ کرنے والوں کے نزدیک یہ دعائیں ناقص اور ادھوری تھیں، جبھی تو یہ اضافے کیے گئے۔ اس طرح دانستہ طور پر رسول الله ﷺ کی تعلیم کردہ دعاؤں میں تحریف اور اضافے کیے گئے۔ کیا ان حضرات پر وحی اتری تھی کہ انھوں نے اپنی جانب سے یہ کلمات بڑھائے یا پھر یہ لوگ تعلیمات رسول اللہ ﷺ کو ناقص و ادھورا سمجھتے ہیں۔ کہ اپنے اضافوں سے اس کی تکمیل کر رہے ہیں۔ (نعوذ باللہ من ذالک) پھر یہ لوگ کس دیدہ دلیری سے اس منہ سے عاشق رسول ﷺ بنے پھرتے ہیں جس سے نبیﷺ کی تعلیم کردہ دعاؤں کو پڑھنے کی بجائے اضافہ شدہ دعاؤں کو پڑھتے ہیں، جبکہ یہ اضافے بدعت ہیں اور بدعتی دعاؤں کا پڑھنا رسول کریم ﷺ کی تعلیم کردہ دعاؤں کو ناقص اور ادھورا سمجھنا ہے۔ اس سے زیادہ نبی ﷺ کی اور کیا گستاخی ہو سکتی ہے جو آج کل کے نام نہاد اہل سنت کر رہے ہیں۔
نماز ، روزے اور وضو کی زبان سے نیت کرنا:
ہمارے نام نہاد سنی بھائیوں سے اگر کوئی یہ پوچھتا ہے کہ سنی کسے کہتے ہیں تو اکثریت یہ جواب دیتی ہے کہ جو لوگ سن کر مسلمان ہوئے ہیں، وہ سنی کہلاتے ہیں۔ اسی لیے ان بے چاروں کے ہاں قرآن و حدیث پر عمل کی بجائے ہمیشہ سنی سنائی باتوں پر عمل ہوتا ہے۔ جو باپ دادا سے سن لیا اور مولویوں اور ملاؤں سے سن لیا وہ عمل کے لیے کافی ہے۔ اس کی ایک مثال زبان سے نماز اور روزے کی نیت کرنا ہے۔ ہمارے یہ بھائی بہن جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو نماز پڑھنے سے پہلے یہ کلمات زبان سے ادا کرتے ہیں: نیت کی میں نے چار رکعت فرض نماز ظہر واسطے اللہ تعالیٰ کے منہ میرا کعبہ شریف کی طرف پیچھے اس امام کے اگر نماز کوئی اور ہو تو اس کی وضاحت بصورت الفاظ ان کلمات نیت میں کی جاتی ہے۔ میں نے احادیث شریفہ میں ایک ایک حدیث کو چھان مارا مگر صحیح تو کیا ضعیف سے ضعیف حدیث میں بھی مجھے یہ الفاظ یا ان سے ملتے جلتے الفاظ نہیں ملے۔ نہ کسی صحابی کے عمل سے ثابت ہے کہ وہ نماز سے قبل اس قسم کے الفاظ میں نیت باندھا کرتے تھے، صرف ان دو باتوں ہی سے ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ کلمات نیت جو زبان سے ادا کیے جاتے ہیں وہ سراسر بدعت ہیں۔ اور یہ کلمات زبان سے ادا کرنے والے سو فیصد بدعتی اور غضب الہی کے مستحق ہیں۔ نیت در حقیقت دل کے ارادے کو کہتے ہیں اور اس کے بارے میں حق تعالیٰ نے فرمایا: [اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ] بے شک وہ سینوں میں چھپی باتوں کو جانتا ہے۔ (سورة الملك:12)
جب یہ واضح ہے کہ وہ ہماری نیتوں سے باخبر ہے تو پھر ان کلمات کی ادائیگی عبث اور بے فائدہ ہے۔ اسی باعث رسول اللہﷺ نے نہ تو خود کبھی زبان مبارک سے اس قسم کے کلمات نیت ادا کیے اور نہ آپ نے اپنے پیروکاروں کو ایسی کوئی تعلیم دی۔
نماز کی اس نیت کی مانند ان نام نہاد اہل سنت نے ایک خود ساختہ روزے کی نیت بھی بنالی ہے جو نہ تو رسول اللہﷺ سے ثابت ہے اور نہ کسی صحابی کے قول سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ الفاظ نیت یہ ہیں: [وبصوم غد نويت من شهر رمضان] ان کلمات کو بدعت کہنے میں مجھے کوئی باک نہیں، اس لیے کہ یہ خود ساختہ کلمات ہیں۔ افصح العربﷺ کی زبان مبارک سے ایسی گلابی عربی نہ تو کبھی سنی گئی اور نہ با سند صحیح و حسن نقل کی گئی۔
کچھ لوگ وضو کے موقع پر یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ میں نیت کرتا ہوں واسطے نماز فلاں فلاں کے الغرض یہ تمام نیتوں کے کلمات مسنون نہیں ہیں، انھیں ان جاہلوں نے ایجاد کیا ہے جو عرف عام میں صوفیاء کہلاتے ہیں۔ وجہ ایجاد بدعت یہ ہے کہ صحیح حدیث میں ہے:
(إنما الأعمال بالنيات) (یعنی) اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔ [بخاری، کتاب الإيمان، باب ما جاء أن الأعمال بالنية والحسبة:54]
لہذا ہر عمل سے پہلے اس کی نیت کرنا واجب ہوا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر تقاضائے حدیث یہی ہے تو صاحب حدیث نے ایسا عمل پیش کیوں نہیں کیا۔ حدیث شریف کے معنی یہ ہیں کہ زبان سے اور ظاہری عمل ہے جو کچھ کہا جائے اور کیا جائے وہ عنداللہ ماجور نہیں بلکہ ارادہ قلب بوقت عمل باعث اجر و ثواب ہے نہ کہ قول زبان۔ پس اس حدیث سے بھی اس امر کی تردید ثابت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔
سلسلہ ہائے طریقت:
یہ حکایت بھی ہمارے برصغیر میں بہت مشہور ہے کہ شریعت اور طریقت دونوں سے مل کر اسلام بنتا ہے، گویا اسلام نہ ہوا بھان متی کا کتبہ ہوا کہ شریعت میں چار امام مقلدوں کے اور بارہ امام رافضیوں کے جب تک شامل نہ ہوں شریعت ادھوری ہے۔ اصطلاح میں شریعت اور طریقت تقریبا ہم معنی اور مترادف الفاظ ہیں مگر مذہبی جغادریوں نے ان دونوں کو جدا جدا کر دیاہے۔ تقلید کے باب میں شریعت کے ناخداؤں کا ذکر آ کے آئے گا۔ اس باب میں طریقت سے اور اس کے سلسلوں سے متعلق عرض کرنا مقصود ہے۔ اس وقت جو سلسلے ہمارے درمیان پائے جاتے ہیں ان میں سے چند مشہور سلسلوں کے نام یہ ہیں: نقش بندی، چشتی، قادری، سہروردی، نظامی، گولڑی، رضوی، اشرفی، قلندری، کچھوچھوی، صابری، گونڈلوی الوری، راشدی، وارثی، واسطی، براری وغیرہ وغیرہ۔
ان سلسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ ان سلسلوں میں شامل ہونا اور کسی بزرگ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مدارج روحانیت کا طے کرنا سنت ہے۔ لیکن قرآن اور حدیث میں اس بات کا کوئی اشارہ تک نہیں ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا کوئی حکم فرمایا ہو۔ کہا جاتا ہے ان تمام روحانی سلسلوں کی انتہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی پر ہوتی ہے مگر احادیث شریفہ سے اس کا ثبوت بھی نہیں ملتا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تمام سلسلے بدعتی سلسلے ہیں، ان کے امام اور خلیفہ وغیرہ سب کے سب پکے بدعتی اور گمراہ لوگ ہیں۔ یہ سلسلے اولیاءاللہ سے بھی ثابت نہیں ہیں۔ مثلاً قادری سلسلہ کا کوئی ثبوت شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ سے اور آپ کی سوانح مبارکہ سے نہیں ملتا۔ یہی حال دوسرے سلسلوں کا ہے۔ باقی جو روایات ہیں وہ سب جھوٹی ہیں اور حقیقت سے کوسوں دور۔ ان سلسلوں کے ذریعے بدعت کی تعلیم دی جاتی ہے، قوالیاں اور گانے وغیرہ کی تعلیم ساز و آواز کے ساتھ اس کے علاوہ ہے۔ جس خانقاہی سلسلہ میں یہ سلسلہ ہائے طریقت پھل پھول رہے ہیں یہ بھی ایک لعنت اور بدعت ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے امتیوں کی تعلیم کے لیے خانقاہ نہیں بلکہ مسجد تعمیر فرمائی تھی، اسلام میں اصل مرکز مسجد ہے مگر خانقاہی سلسلوں نے عوام کو مساجد سے دور اور مقبروں سے قریب کر دیا ہے۔
برادران اسلام! یہ خانقاہی ڈاکو آپ کی دولت ایمانی پر شب و روز ڈاکے ڈال رہے ہیں، آپ کو اصل ایمان باللہ اور ایمان بالرسول سے دور کر کے شرک و بدعات کی ظلمتوں میں غرق کر رہے ہیں۔ بلکہ ان میں سے کچھ دولت ایمانی پر ڈاکے ڈالنے کے ساتھ ساتھ دولت دنیاوی پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ ابھی خانقاہ چشتیہ والے حاجی عثمان کو نہ بھولے ہوں گے جس نے الائنس موٹرز کے نام پر اہل کراچی کے اربوں روپے اپنے باپ کا مال سمجھ کر ہڑپ کر لیے۔ اب بھی اگر آپ نہ سمجھیں تو پھر اللہ ہی آپ کو سمجھائے اور آپ ان بدعتی پیروں اور ان کے سلسلوں سے جان چھڑائیں۔