نماز کو خشوع و خضوع سے پڑھنے کے فضائل
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :
﴿إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا﴾
” بے شک مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے لیے، اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے، اور فرمانبردار مردوں اور فرمانبردار عورتوں کے لیے، اور سچے مردوں اور سچی عورتوں کے لیے ، اور صبر کرنے والے مردوں اور صبر کرنے والی عورتوں کے لیے، اور صدقہ کرنے والے مردوں اور صدقہ کرنے والی عورتوں کے لیے، اور روزہ دار مردوں اور روزہ دار عورتوں کے لیے، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مردوں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتوں کے لیے، اور اللہ کو خوب یاد کرنے والے مردوں اور اللہ کو خوب یاد کرنے والی عورتوں کے لیے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔“
(33-الأحزاب:35)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور عورتوں سے دنیا میں گناہوں کی مغفرت اور آخرت میں اجر عظیم یعنی جنت کا وعدہ فرمایا ہے ۔ اور ان صفات کا ذکر کیا ہے، جوان کی زندگی کا لازمہ ہوتی ہیں۔ وہ لوگ ( مرد ہوں یا عورتیں ) اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ ایمان کے تمام ارکان پر دل سے یقین رکھتے ہیں۔ اللہ کی عبادت و بندگی پر دوام برتتے ہیں، اپنے قول و عمل میں سچے ہوتے ہیں، یعنی ریا کاری سے دور رہتے ہیں، حادثات و مصائب ، اور اللہ کی بندگی میں جو تکلیف ہوتی ہے، اس پر صبر کرتے ہیں، ان کے دل اور ان کے اعضاء و جوارح اللہ کے جلال اور اس کی کبریائی کے لیے ہمیشہ جھکے ہوتے ہیں، فقیروں اور محتاجوں پر خرچ کرتے ہیں جن کے پاس روزی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا ، فرض اور نفلی روزے رکھتے ہیں، جو تقوی کا باعث ہوتے ہیں اور ان کے دلوں میں بھوکوں اور پیاسوں کے لیے جذبہ رحمت کو جگاتے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ، یعنی نہ ننگے ہوتے ہیں اور نہ ہی زنا کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور اپنے اللہ کو شب و روز اپنے دلوں میں اور اپنی زبانوں سے خوب یاد کرتے ہیں ۔“ (تيسير الرحمن : 2/ 1188)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ﴾
”اور مدد لو صبر اور نماز کے ذریعے، اور یہ (نماز ) بہت بھاری ہوتی ہے، سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔“
(2-البقرة:45)
یعنی نماز خشوع رکھنے والے بندوں پر قطعا باعث مشقت نہیں ہوتی ، بلکہ وہ تو اسے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا ذریعہ جانتے ہیں، اور قرب الہی کو پانے کی خاطر اس کے انتظار میں رہتے ہیں اور انتہائی خشوع و خضوع سے نماز ادا کرتے ہیں:
﴿فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ . الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ . الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ. وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ.﴾
”پس ویل (ہلاکت) ہے ان نمازیوں کے لیے۔ جو اپنی نمازوں سے غفلت برتتے ہیں، اور جو لوگوں کو دکھاتے ہیں ۔“
(107-الماعون:4 ۔7)
ان آیات میں ان لوگوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جن پر نماز گراں گزرتی ہے، اسے خشوع و خضوع سے ادا کرنا تو درکنار وہ ریاکاری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ہلاکت و بربادی ہے۔ اور فلاح وہی لوگ پائیں گے جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع کا خیال رکھتے ہیں ۔
چنانچہ ارشاد فرمایا:
﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ . الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ .﴾
”یقیناً ایمان داروں نے نجات حاصل کر لی جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔“
(23-المؤمنون:1،2)
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، جو شخص ان نمازوں کا اچھی طرح وضو کرے، اور ان کو مکمل رکوع اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرے تو اس کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اس کو معاف کرے گا اور جو شخص ایسا نہیں کرے گا تو اللہ کا اس سے بخشش کا کوئی وعدہ نہیں ۔ اگر چاہے تو اسے معاف کرے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے ۔
سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة، باب في المحافظة على وقت الصلوات، رقم: 425 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
امام طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جیسا کوئی نمازی نہیں دیکھا، جو اپنے چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کو مکمل قبلہ رخ کرنے کا اہتمام کرتے تھے ۔“
سیر اعلام النبلاء: 235/3
امام مجاہد فرماتے ہیں: سیدنا ابن الزبیر رضی اللہ عنہما جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یوں محسوس ہوتا گویا کہ ستون ہیں۔ ( یعنی مکمل اطمینان و توجہ سے نماز ادا کرتے ) اور فرماتے کہ میرے نانا سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح نماز ادا فرماتے تھے ۔“
سیر اعلام النبلاء: 368/3