مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز میں قضائے حاجت کا مسئلہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

اگر کسی آدمی کو حالت نماز میں پیشاب تنگ کر رہا ہو تو کیا ایسی صورت میں نماز ادا کرنا درست ہے ؟

جواب :

حالتِ نماز میں اگر پیشاب کی حاجت پیش ہو جائے تو نماز ترک کر کے قضائے حاجت کی جائے پھر نماز ادا کی جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
لا صلٰوة بحضرة الطعام ولا هو يدافعه الأخبثان [ مسلم، كتاب المساجد : باب كراهة الصلاة بحضرة الطعام 560]
”کھانے کی موجودگی میں اور جب دو خبیث ترین چیزیں تنگ کر رہی ہوں تو نماز نہیں ہوتی۔“
دو خبیث ترین چیزوں سے مراد پیشاب و پاخانہ ہیں۔
اسی طرح زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اذا اراد احدكم الغائط فليبدأ به قبل الصلٰوة [ مؤطا 159/1، أحمد 483/3 ]
”جب تم میں سے کوئی ایک پاخانہ کرنا چاہتا ہو تو وہ اسے نماز سے پہلے کر لے۔“
لہٰذا پہلے قضائے حاجت کر لی جائے پھر نماز پڑھی جائے تاکہ نماز اطمینان و سکون سے ادا کی جا سکے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔