عزت و نصرت اخلاص و اطاعت میں مضمر ہے
ابتدائے اسلام میں شام کا بھی یہی حال تھا۔ یہ لوگ دین و دنیا کی سعادت اور سیادت سے مالا مال تھے۔ لیکن ان کی بدعملیوں کی وجہ سے فتنے اور فساد نے شام کو اپنا مسکن بنا لیا۔ حتیٰ کہ ملک و سلطنت بھی ان کے ہاتھ سے چھن گئی۔ یہودی، منافق اور نصاریٰ نے ان پر اپنا تسلط قائم کر لیا اور بیت المقدس اور قبر خلیل کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ بلکہ قبر خلیل کے گرد جو دیوار تھی اسے گرا کر کنیسا میں تبدیل کر دیا۔
کافی عرصہ بعد جب اہل شام نے اخلاص سے اسلام کو اپنا نصب العین بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی کھوئی ہوئی عزت واپس کر دی اور یہ لوگ اپنے دشمن پر غالب آ گئے۔ یہ نتیجہ تھا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری اور احکام الہی کو اپنے اندر سمو لینے کا۔
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ایک ایسا مرکز و محور ہے جس پر سعادت دنیا و آخرت کا دارو مدار ہے۔ ارشاد الہی ہے:
وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا ﴿٦٩﴾
”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔“
(4-النساء:69)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبات میں فرمایا کرتے تھے:
”من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولن يضر الله شيئا“
”جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے وہ رشد و ہدایت پر ہے اور جو ان کی مخالفت کرتا ہے وہ اپنی ہی ذات کو نقصان پہنچاتا ہے اور وہ اللہ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچا سکتا۔“
سنن ابی داؤد کتاب الصلاة: باب الرجل يخطب على قوس (حديث: 1097) و اسنادہ ضعیف
مکہ مکرمہ اہل مکہ کی تکالیف رفع نہیں کر سکتا اور نہ ہی ان کو رزق پہنچا سکتا ہے۔ ہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت فراخی رزق کا سبب بن سکتی ہے جیسا کہ سیدنا خلیل الرحمن علیہ السلام نے بارگاہ الہی میں عرض کی تھی:
رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ ﴿٣٧﴾
”پروردگار! میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگار! یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں۔ لہذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔“
(14-ابراہیم:37)
اہل جاہلیت بھی حرم مکی کی عظمت اور توقیر کرتے تھے۔ بیت اللہ کا طواف کرتے، حج کرتے۔ عام مشرکین سے مشرکین مکہ بہرحال بہتر تھے۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اسی وجہ سے اللہ ان کی وہ عظمت کرتا جو عام مشرکین کی نہ کرتا تھا اور ایسے ایسے انعامات کی بارش کرتا جو دوسرے شہر والوں پر نہ ہوتی کیونکہ اہل مکہ دین ابراہیمی کو دوسروں کی بہ نسبت زیادہ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔ وہ اسلام میں اگر دوسروں پر فضیلت لے گئے تو حسب فضیلت انہیں جزا ملے گی اور اگر ان کے اعمال دوسروں کی نسبت برے ہوئے تو ان کے برے اعمال کے مطابق ہی سزا ہوگی۔
پس مساجد ہوں یا کوئی اور اہم جگہ۔ اس کے رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی وجہ سے فائدہ پہنچتا ہے۔ صرف مقدس مقام کی وجہ سے ثواب ملتا ہے نہ عذاب۔ ثواب و عذاب کا دارومدار اعمال صالحہ اور سیئات سے اجتناب پر موقوف ہے۔