نماز عید کی مشروعیت، وقت، تکبیرات اور اذان و اقامت کے مسائل

Read in English
فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عیدین کے مسائل

سوال:

نماز عید کب اور کہاں مشروع ہوئی؟

جواب:

نماز عید کس تاریخ کو مشروع ہوئی، اس کا علم تو نہیں، البتہ یہ ضرور ہے کہ نماز عید مدینہ میں مشروع ہوئی۔
❀ علامہ ابوعبداللہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
لَيْسَ بِمَكَّةَ صَلَاةُ عِيدٍ بِإِجْمَاعٍ.
”مکہ میں نماز عید نہیں تھی، اس پر اجماع ہے۔“ (تفسير القُرطبي: 219/20)

سوال:

عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن یا رات کی کوئی خاص عبادت ثابت ہے؟

جواب:

عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی راتوں کی فضیلت کے بارے میں کچھ بھی ثابت نہیں، فضیلت وہی ہوتی ہے، جو قرآن و حدیث سے ثابت ہو، اسی طرح ان کی راتوں کو عبادت کرنا ثابت نہیں۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
قَدْ رُوِيَتْ صَلَاةٌ لِلَيْلَةِ وَلِيَوْمِ الْعِيدِ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ يَثْبُتُ وَلَا يَصِحُّ، فَلِهٰذَا تَنَكَّبْنَا ذِكْرَهَا.
”عید کی رات اور دن میں خاص نماز بیان کی گئی ہے، مگر اس بارے میں کچھ ثابت نہیں، اس لیے ہم نے اسے ذکر کرنے سے اجتناب کیا ہے۔“ (التّبصرة: 107/2)
❀ نیز فرماتے ہیں:
أَمَّا الصَّلَوَاتُ الَّتِي تَذْكُرُهَا الْقُصَّاصُ مِنْ صَلَاةِ لَيْلَةِ الْفِطْرِ، وَلَيْلَةِ النَّحْرِ، وَلَيْلَةِ الرَّغَائِبِ، وَلَيْلَةِ نِصْفِ شَعْبَانَ، فَلَا صِحَّةَ لَهَا.
”عیدالفطر کی رات، عیدالاضحیٰ کی رات، رغائب کی رات اور نصف شعبان کی رات کی نمازیں، جو قصہ گو حضرات بیان کرتے ہیں، یہ ثابت نہیں۔“ (النِّساءُ وما يتعلق بهِنّ، ص 237)

سوال:

کیا عیدالفطر یا عیدالاضحیٰ کی نماز سے قبل کچھ کھانا مسنون ہے؟

جواب:

مسنون یہ ہے کہ عیدالفطر کی نماز سے پہلے کچھ کھا کر جایا جائے اور عیدالاضحیٰ کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھایا جائے، نماز کے بعد قربانی کی جائے اور اس کا گوشت کھایا جائے، یہ مستحب ہے۔ اگر کوئی عیدالاضحیٰ کی نماز سے پہلے کچھ کھا پی لے، تو کوئی حرج نہیں۔
❀ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتّٰى يَطْعَمَ وَلَا يَأْكُلُ يَوْمَ الْأَضْحٰى حَتّٰى يَرْجِعَ فَيَأْكُلَ مِنْ كَبِدِ أُضْحِيَّتِهٖ.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن (نماز کے لیے) نکلتے، تو کچھ کھا پی کر نکلتے تھے اور عیدالاضحیٰ کو بغیر کھائے نکلتے، پھر واپس آ کر قربانی کی کلیجی کھاتے تھے۔“ (مسند الإمام أحمد: 352/5، سنن التّرمذي: 542، سنن ابن ماجه: 1756، فضائل الأوقات للبيهقي: 215، واللّفظ لهٗ، وسندهٗ حسنٌ)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1426)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (2812) نے ”صحیح“ اور امام حاکم رحمہ اللہ (294/1) نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے۔
❀ حافظ ابن قطان فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عِنْدِي أَنَّهٗ صَحِيحٌ.
”میرے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔“ (بيان الوهم والإيهام: 356/5)
❀ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هٰذِهٖ سُنَّةٌ عَزِيزَةٌ مِنْ طَرِيقِ الرِّوَايَةِ مُسْتَفِيضَةٌ فِي بِلَادِ الْمُسْلِمِينَ.
”یہ سنت روایت کے اعتبار سے عزیز ہے اور (عمل کے اعتبار سے) مسلم علاقوں میں عام ہے۔“ (المُستدرك على الصّحيحين، تحت الرقم: 1088)

سوال:

عید سے پہلے اسپیکر پر باری باری تکبیرات پڑھی جاتی ہیں، بعض جگہوں پر اجتماعی تکبیرات پڑھی جاتی ہیں، کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب:

درست ہے۔
❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے:
كَانَ يُكَبِّرُ فِي قُبَّتِهٖ بِمِنًى، فَيَسْمَعُهٗ أَهْلُ الْمَسْجِدِ فَيُكَبِّرُونَ، فَيَسْمَعُهٗ أَهْلُ السُّوقِ فَيُكَبِّرُونَ حَتّٰى تَرْتَجَّ مِنًى تَكْبِيرًا وَاحِدًا.
”آپ رضی اللہ عنہ منیٰ میں اپنے خیمہ میں (بآواز بلند) تکبیرات کہتے تھے کہ حاضرین مسجد آپ کی تکبیر کو سن لیتے، وہ بھی تکبیرات کہنے لگتے، تو بازار والے سن لیتے، وہ بھی تکبیرات کہنے لگتے، یوں منیٰ ایک ساتھ تکبیر سے گونج اُٹھتا۔“ (السنن الكبرىٰ للبيهقي: 6267، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں ہے:
كَانَ يُكَبِّرُ بِمِنًى تِلْكَ الْأَيَّامَ خَلْفَ الصَّلَوَاتِ، وَعَلٰى فِرَاشِهٖ، وَفِي فُسْطَاطِهٖ، وَفِي مَمْشَائِهٖ تِلْكَ الْأَيَّامَ جَمِيعًا.
”آپ رضی اللہ عنہما ان دنوں (ایام تشریق) میں منیٰ کے اندر فرض نمازوں کے بعد، بستر پر، خیمے میں اور چلتے پھرتے تکبیرات کہتے تھے۔“ (الأوسط لابن المُنذر: 299/4، وسندهٗ حسنٌ)
❀ مجاہد بن جبر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا يَخْرُجَانِ أَيَّامَ الْعَشْرِ إِلَى السُّوقِ، فَيُكَبِّرَانِ، فَيُكَبِّرُ النَّاسُ مَعَهُمَا، لَا يَأْتِيَانِ السُّوقَ إِلَّا لِذٰلِكَ.
”سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عشرہ ذوالحجہ میں بازار کو نکلتے، تکبیرات پڑھتے، لوگ بھی آپ دونوں کے ساتھ تکبیرات کہتے، آپ بازار صرف اسی مقصد کے لیے جاتے تھے۔“ (كتاب الشافي لأبي بكر عبد العزيز بن جعفر، وكتاب العيدين لأبي بكر المروزي القاضي [كما في فتح الباري لابن رَجب: 8/9]، أخبار مكة للفاكهي: 1704، وسندهٗ صحيحٌ)

سوال:

اگر امام نماز عید میں زائد تکبیرات بھول جائے، تو کیا کرے؟

جواب:

سجدہ سہو کر لے۔ نماز دہرانے کی ضرورت نہیں۔

سوال:

نماز عید کا وقت کیا ہے؟

جواب:

نماز عید کا وقت طلوع آفتاب سے زوال تک ہے، البتہ اول وقت میں ہی ادا کرنی چاہیے۔ بلا وجہ تاخیر درست نہیں۔
❀ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں ارشاد فرمایا:
إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ مِنْ يَوْمِنَا هٰذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ، فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا.
”ہم اس (عید کے) دن سب سے پہلے نماز (عید) ادا کریں گے، پھر واپس جا کر قربانی ذبح کریں گے، جس نے ایسا کیا، اس نے ہماری سنت کو پا لیا۔“ (صحيح البخاري: 951، صحيح مسلم: 1961)
اس حدیث کے عموم سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نماز عید جلدی ادا کرنی چاہیے، بلا وجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
❀ یزید بن خمیر رحبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
خَرَجَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ بُسْرٍ، صَاحِبُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ، أَوْ أَضْحٰى، فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: إِنَّا كُنَّا قَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هٰذِهٖ، وَذٰلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ.
”صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ہمراہ عیدالفطر یا عید الاضحیٰ کی نماز کے لیے نکلے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے امام کی تاخیر پر نکیر فرمائی اور فرمایا: اس وقت تو ہم نماز عید پڑھ کر فارغ ہو چکے ہوتے تھے۔ نماز عید اس وقت پڑھی جاتی تھی، جب (طلوع آفتاب کے بعد) چاشت کا وقت ہوتا ہے۔“ (سنن أبي داود: 1135، سنن ابن ماجه: 1317، وسندهٗ صحيحٌ)
اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (1092) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
❀ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي الصُّبْحَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَغْدُو كَمَا هُوَ إِلَى الْمُصَلّٰى.
”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز فجر مسجد نبوی میں ادا فرماتے، پھر اسی حالت میں عیدگاہ کی طرف چلے جاتے۔“ (مصنّف ابن أبي شيبة: 5610، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ یزید بن ابی عبید اسلمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
صَلَّيْتُ مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ فَخَرَجْتُ مَعَهٗ حَتّٰى أَتَيْنَا الْمُصَلّٰى فَجَلَسَ وَجَلَسْتُ حَتّٰى جَاءَ الْإِمَامُ.
”میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مسجد نبوی میں نماز فجر ادا کی، پھر آپ رضی اللہ عنہ (نماز عید کے لیے) نکلے، میں نے آپ کے ساتھ ہو لیا، یہاں تک کہ ہم عیدگاہ پہنچ گئے، آپ رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے، میں بھی بیٹھ گیا، تا آنکہ امام (نماز عید پڑھانے کے لیے) آ گیا۔“ (أحكام العيدين للفِريابي، ص 104، 233، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ عبدالرحمٰن بن حرملہ رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
إِنَّهٗ كَانَ يَنْصَرِفُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ مِنَ الصُّبْحِ حِينَ يُسَلِّمُ الْإِمَامُ فِي يَوْمِ عِيدٍ، حَتّٰى يَأْتِيَ الْمُصَلّٰى عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، فَيَجْلِسُ عِنْدَ الْمِصْرَاعَيْنِ.
”آپ رحمہ اللہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے ہمراہ عید کے دن نماز فجر سے سلام پھیرنے کے بعد (عید پڑھنے کے لیے) نکل پڑتے، یہاں تک کہ کثیر بن صلت رحمہ اللہ کے گھر کے قریب عیدگاہ میں پہنچ جاتے اور دروازے کے کواڑ کے قریب بیٹھ جاتے۔“ (مصنّف ابن أبي شيبة: 5611، وسندهٗ صحيحٌ)

سوال:

گاؤں میں عیدین کا کیا حکم ہے؟

جواب:

گاؤں میں عیدین کی نماز بلا کراہت جائز ہے۔

تنبیہ:

❀ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لَا تَشْرِيقَ وَلَا جُمُعَةَ إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعٍ.
”نماز عید اور نماز جمعہ صرف ان آبادیوں میں فرض ہے، جن کے باشندے مستقل رہائش پذیر ہیں۔“ (معرفة السّنن والآثار للبيهقي: 6330، وسندهٗ صحيحٌ)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دیگر اہل علم کے اقوال کا یہ مطلب نہیں کہ بستیوں میں جمعہ یا عید ادا نہیں ہوسکتی، بلکہ اہل علم نے اس کے دو مفہوم بیان کیے ہیں؛
① حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں:
اَلْأَشْبَهُ بِأَقَاوِيلِ السَّلَفِ وَأَفْعَالِهِمْ فِي إِقَامَةِ الْجُمُعَةِ فِي الْقُرَى الَّتِي أَهْلُهَا أَهْلُ قَرَارٍ لَيْسُوا بِأَهْلِ عُمُودٍ يَتَنَقَّلُونَ إِنَّ ذٰلِكَ مُرَادُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ.
”سلف کے اقوال و افعال سے درست بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان بستیوں میں جمعہ قائم کیا جائے گا، جہاں لوگ مقیم ہوں اور ان میں نہیں، جہاں لوگ مسافر ہوں اور انہوں نے وہاں سے کوچ کر جانا ہو، علی رضی اللہ عنہ کی یہی مراد ہے۔“
(المُهذّب في اختصار السّنن الكبير: 1109/3)
② علامہ ابن رجب رحمہ اللہ (795ھ) فرماتے ہیں:
إِنَّهٗ أَرَادَ بِذٰلِكَ الْقُرَى الَّتِي فِيهَا وَالٍ مِّنْ جِهَةِ الْإِمَامِ، فَيَكُونُ مُرَادُهٗ أَنَّهٗ لَا جُمُعَةَ إِلَّا بِإِذْنِ الْإِمَامِ فِي مَكَانٍ لَّهٗ فِيهِ نَائِبٌ يُقِيمُ الْجُمُعَةَ بِإِذْنِهٖ، وَبِذٰلِكَ فَسَّرَهٗ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ عَنْهُ.
”اس سے مراد وہ بستیاں ہیں، جن میں کوئی والی ہوتا ہے، جسے امام نے مقرر کیا ہوتا ہے، تو ان کی مراد یہ ہوگی کہ جمعہ صرف امام کی اجازت سے ہوتا ہے، ایسی جگہ میں، جہاں اس کا کوئی نائب ہو، وہ اس کی اجازت سے جمعہ پڑھائے گا۔ امام احمد نے یہی تفسیر کی ہے۔“
(فتح الباري لابن رجب: 140/8)

سوال:

مطلع ابر آلود تھا، چاند نظر نہ آیا، اگلے دن عید نہ پڑھی، رات کو معلوم پڑا کہ چاند دوسرے دن کا ہے، اب عید کی نماز ہوگی یا نہیں؟

جواب:

جی ہاں، ضرور۔

سوال:

عیدین کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب:

عیدین کی نماز فرض ہے۔ پانچ نمازوں کے فرض ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر روز جو نمازیں فرض ہیں، وہ پانچ ہیں، یہ مطلب نہیں کہ کوئی اور نماز فرض نہیں ہوسکتی۔
عیدین کی فرضیت پر پہلی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ و تابعین نے کبھی بھی نماز عید ترک نہیں کی۔
دوسری دلیل یہ کہ اگر جمعہ اور عید ایک دن جمع ہو جائیں، تو عید پڑھی جائے گی اور جمعہ کا اختیار ہے۔ (سنن ابی داود: 1070، وسندہ حسن)
ایک فرض ہی فرض سے کفایت کرسکتا ہے۔
تیسری دلیل یہ ہے کہ نماز عید کی قضا ضروری ہے۔
❀ ابو عمیر بن انس رحمہ اللہ کے چچا جو صحابی رسول ہیں، بیان کرتے ہیں:
”ہمیں شوال کا چاند نظر نہ آیا، تو ہم نے صبح کو روزہ رکھ لیا، پھر پچھلے پہر ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس دن روزہ افطار کرنے اور اگلے دن عید گاہ جانے کا حکم دیا۔“
(مسند الإمام أحمد: 86/5، سنن أبي داوٗد: 1157، سنن النّسائي: 1558، سنن ابن ماجه: 1653، سندهٗ صحيحٌ)
امام دارقطنی رحمہ اللہ (170/2) نے اس کی سند کو ”حسن“، امام ابن الجارود (266) اور امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الکبریٰ: 316/3) ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
اس حدیث کو علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (محلی: 307/3، مسئلہ: 552)، حافظ خطابی رحمہ اللہ (معالم السنن: 218/1)، حافظ نووی رحمہ اللہ (خلاصۃ الأحکام: 838/2) اور حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنیر: 95/2) نے ”صحیح“ اور حافظ ابن منذر رحمہ اللہ (الاوسط: 294/4) نے ”ثابت“ کہا ہے۔

سوال:

جو عیدین میں باجے گانے کے ساتھ جاتا ہے، اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟

جواب:

جائز نہیں۔

سوال:

اگر امام نماز عید میں زائد تکبیرات بھول جائے، تو کیا کرے؟

جواب:

سجدہ سہو کرلے۔ نماز دہرانے کی ضرورت نہیں۔

سوال:

امام عیدین کی تکبیرات بھول گیا، یا کم کہیں، تو کیا حکم ہے؟

جواب:

سجدہ سہو کرے۔

سوال:

کیا عیدین کی تکبیرات بآواز بلند پکاری جائیں گی؟

جواب:

جی ہاں۔
❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے:
كَانَ يُكَبِّرُ فِي قُبَّتِهٖ بِمِنًى، فَيَسْمَعُهٗ أَهْلُ الْمَسْجِدِ فَيُكَبِّرُونَ، فَيَسْمَعُهٗ أَهْلُ السُّوقِ فَيُكَبِّرُونَ حَتّٰى تَرْتَجَّ مِنًى تَكْبِيرًا وَاحِدًا.
”آپ رضی اللہ عنہ منیٰ میں اپنے خیمہ میں (بآواز بلند) تکبیرات کہتے تھے کہ حاضرین مسجد آپ کی تکبیر کو سن لیتے، وہ بھی تکبیرات کہنے لگتے، تو بازار والے سن لیتے، وہ بھی تکبیرات کہنے لگتے، یوں منیٰ ایک ساتھ تکبیر سے گونج اُٹھتا۔“
(السنن الكبرىٰ للبيهقي: 6267، وسندهٗ صحيحٌ)

سوال:

کیا عید گاہ میں بآواز بلند تکبیرات کہہ سکتے ہیں؟

جواب:

کہہ سکتے ہیں۔

سوال:

نماز عید کے لیے نکلتے وقت تکبیرات پڑھنا کیسا ہے؟

جواب:

عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن نماز عید کے لیے نکلتے وقت تکبیرات پڑھنا مستحب ہے۔ صحابہ و تابعین کے عمل سے ثابت ہے۔ نماز عید کے لیے نکلتے ہوئے بلند آواز سے تکبیرات پڑھنی چاہییں۔
❀ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَغْدُو إِلَى الْعِيدِ مِنَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهٗ بِالتَّكْبِيرِ حَتّٰى يَأْتِيَ الْمُصَلّٰى، وَيُكَبِّرُ حَتّٰى يَأْتِيَ الْإِمَامُ.
”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (نماز فجر کے بعد) مسجد سے ہی نماز عید کے لیے چلے جاتے، (راستے میں) عید گاہ پہنچنے تک بآواز بلند تکبیرات پڑھتے رہتے، پھر جب تک امام تشریف نہ لاتا، (وہاں بیٹھ کر) تکبیرات پڑھتے رہتے۔“
(أحكام العيدين للفِريابي: 46، السّنن الكبرىٰ للبيهقي: 394/3، الرقم: 6129، المَطالب العالية لابن حَجَر: 755، وسندهٗ صحيحٌ)
اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے، اسے مرفوع بیان کرنا خطا ہے۔
❀ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ إِذَا خَرَجَ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحٰى.
”آپ رحمہ اللہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن جب نماز عید کے لیے نکلتے، تو (بآواز بلند) تکبیرات پڑھتے تھے۔“
(أحكام العيدين للفِريابي: 49، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كَانَ النَّاسُ يُكَبِّرُونَ مِنْ حِينِ يَخْرُجُونَ مِنْ بُيُوتِهِمْ حَتّٰى يَأْتُوا الْمُصَلّٰى، حَتّٰى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ سَكَتُوا، فَإِذَا كَبَّرَ كَبَّرُوا.
”لوگ (صحابہ و تابعین) جب (نماز عید پڑھنے کے لیے) گھروں سے نکلتے، تو عید گاہ پہنچنے تک تکبیرات پڑھتے تھے، یہاں تک کہ امام تشریف لے آئے، جب امام آ جائے، تو خاموش ہو جاتے تھے، پھر جب امام تکبیرات پڑھنا شروع کرے، تو لوگ بھی پڑھنا شروع کر دیتے تھے۔“
(مصنّف ابن أبي شيبة: 5629، أحكام العيدين للفِريابي: 59، وسندهٗ صحيحٌ)

سوال:

کیا حائضہ عورت تکبیرات عیدین کہے گی؟

جواب:

تکبیرات عیدین ذکر ہیں۔ حائضہ قرآن کریم کی تلاوت کے علاوہ تمام اذکار کرسکتی ہے۔
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
”مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جنبی اور حائضہ کے لیے سبحان اللہ، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، الحمد للہ کہنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا اور تلاوت قرآن کے علاوہ دیگر اذکار کرنا جائز ہیں۔ اجماع کے ساتھ ساتھ اس کے دلائل صحیح احادیث میں مشہور ہیں۔“
(المَجموع شرح المهذب: 164/2)
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ (319ھ) فرماتے ہیں:
قَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلٰى أَنَّ لَهُمَا أَنْ يَذْكُرَا اللّٰهَ وَيُسَبِّحَاهُ.
”اہل علم کا اجماع ہے کہ حائضہ اور جنبی اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کر سکتے ہیں۔“
(الإشراف على مَذاهب العلماء: 434/3)
ثابت ہوا کہ جنبی، حیض اور نفاس والی عورت تکبیرات عیدین کہہ سکتی ہے، ذکر کے لیے باوضو ہونا شرط نہیں۔ بعض الناس خوامخواہ ذکرِ الٰہی سے منع کرتے ہیں۔

سوال:

کیا خطبہ عیدین کی ابتدا تکبیرات عیدین سے کرسکتے ہیں؟

جواب:

کرسکتے ہیں۔

سوال:

جس نے عید الفطر کے دن روزہ رکھنے کی نذر مانی، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:

عید الفطر کے دن روزہ رکھنا ممنوع ہے اور ممنوع کام کی نذر ماننا بھی ممنوع ہے، لہٰذا جس نے عید الفطر کے دن روزے کی نذر مانی، وہ نذر توڑ دے اور بدلے میں کفارہ ادا کرے۔

سوال:

امام عیدین کی تکبیرات بھول گیا، یا کم کہیں، تو کیا حکم ہے؟

جواب:

سجدہ سہو کرے۔

سوال:

کیا عیدین کی نمازوں میں عورت عورتوں کی امامت کراسکتی ہے؟

جواب:

نہیں کراسکتی۔ عیدین اور جمعہ کی جماعت صرف مرد امام کرا سکتا ہے۔ عورتیں ان نمازوں میں مرد امام کی اقتدا کریں گی۔

سوال:

جمعہ و عیدین میں سجدہ سہو ہے یا نہیں؟

جواب:

ہر سجدہ والی نماز میں سہو پر سجدہ سہو ہے۔

سوال:

خطبہ جمعہ یا عیدین میں تعوذ و تسمیہ بلند آواز سے پڑھی جائے گی؟

جواب:

جی ہاں۔

سوال:

کیا عیدین کی تکبیرات بآواز بلند پکاری جائیں گی؟

جواب:

جی ہاں۔
❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے:
كَانَ يُكَبِّرُ فِي قُبَّتِهٖ بِمِنًى، فَيَسْمَعُهٗ أَهْلُ الْمَسْجِدِ فَيُكَبِّرُونَ، فَيَسْمَعُهٗ أَهْلُ السُّوقِ فَيُكَبِّرُونَ حَتّٰى تَرْتَجَّ مِنًى تَكْبِيرًا وَاحِدًا.
”آپ رضی اللہ عنہ منیٰ میں اپنے خیمہ میں (بآواز بلند) تکبیرات کہتے تھے کہ حاضرین مسجد آپ کی تکبیر کو سن لیتے، وہ بھی تکبیرات کہنے لگتے، تو بازار والے سن لیتے، وہ بھی تکبیرات کہنے لگتے، یوں منیٰ ایک ساتھ تکبیر سے گونج اُٹھتا۔“
(السنن الكبرىٰ للبيهقي: 6267، وسندهٗ صحيحٌ)

سوال:

کیا عید گاہ میں بآواز بلند تکبیرات کہہ سکتے ہیں؟

جواب:

کہہ سکتے ہیں۔

سوال:

کیا عید کا خطبہ اور نماز الگ الگ شخص پڑھا سکتا ہے؟

جواب:

عید کی نماز ایک شخص پڑھائے اور خطبہ دوسرا شخص دے، تو ایسا کرنا جائز ہے، مگر بہتر یہی ہے کہ نماز اور خطبہ ایک ہی شخص پڑھائے۔

سوال:

عید الفطر کے دن بوجہ بارش نماز نہ ہوسکی، کیا دوسرے دن نماز پڑھی جاسکتی ہے؟

جواب:

اگر اتنی زیادہ بارش ہے کہ عید گاہ اور مسجد میں پہنچنا ممکن نہ ہو، تو اگلے دن نماز عید پڑھی جاسکتی ہے۔

سوال:

ایک شخص نے دو جگہ عید کی نماز ادا کی، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب:

جائز ہے، پہلی جگہ فرض ہو جائے گی اور دوسری جگہ نفل۔

سوال:

عید کی نماز کے لیے اعلان کرنا کیسا ہے؟

جواب:

عید کی نماز کہاں پڑھنی ہے، کس وقت پڑھنی ہے؟ اس کا اعلان کرنا درست اور جائز ہے، تاکہ لوگ بروقت جماعت میں شریک ہو جائیں۔

سوال:

نماز عید کے لیے اذان اور اقامت کہنا کیسا ہے؟

جواب:

نماز عید کے لیے اذان اور اقامت مشروع نہیں، عہد نبوی اور خیر القرون میں اس کا کوئی وجود نہیں، لہٰذا عیدین کے لیے اذان اور اقامت کا اجرا بدعت ہے۔ البتہ اعلان کیا جاسکتا ہے۔
❀ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَيْنِ، غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ، بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ.
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی مرتبہ عیدین کی نماز ادا کی، اس میں نہ اذان تھی اور نہ اقامت۔“
(صحيح مسلم: 887)
❀ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ہی بیان کرتے ہیں:
”عید کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (نماز عید) میں شرکت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ کے بجائے نماز سے ابتدا کی، اس میں نہ کوئی اذان تھی اور نہ اقامت۔“
(صحيح مسلم: 885)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحٰى.
”(عہد نبوی میں) عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے لیے اذان نہیں کہی جاتی تھی۔“
(صحيح البخاري: 960)
❀ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ (795ھ) فرماتے ہیں:
اِتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ عَلٰى أَنَّ الْأَذَانَ وَالْإِقَامَةَ لِلْعِيدَيْنِ بِدْعَةٌ وَمُحْدَثٌ.
”اہل علم کا اتفاق ہے کہ عیدین کے لیے اذان اور اقامت کہنا بدعت اور (دین میں) ایجاد ہے۔“
(فتح الباري لابن رجب: 447/8)